جمیل جالبی:تہذیب کی ایک صدی ہم سے رخصت ہوئی

تین روز قبل ڈاکٹر جمیل جالبی اپنی بھرپور ادبی زندگی کا ایک عہد گزار کر ہم سے رخصت ہو ئے۔ یہ کسی شخصیت کی نہیں بلکہ تہذیب کی ایک پوری صدی کی رخصتی ہے۔ کل رات بوجھل ہاتھوں سے جب ان کی کتاب ”ارسطو سے ایلیٹ تک“ بک شیلف سے اٹھا کر اپنے سامنے رکھی تو جالبی صاحب کی موت کا یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ علی اکبرناطق کے بقول ایسی علمی شخصیات ہرگز فوت نہیں ہوتیں کیونکہ فوت تو وہ تب ہوں جب ہم نے انہیں کسی وقت طبعی زندگی میں دیکھا ہو۔ ہماری ان سے راہ و رسم ان نایاب تحریروں سے ہوتی ہے جو ہمیشہ کے لئے دل میں راہ پا جاتی ہیں۔ ایسی شخصیات سے ایک روحانی رشتہ ہوتا ہے اور روحانیت نے آب حیات پی رکھا ہے۔ لہذا ظاہری موت کے باوجود علمی و د ادبی شخصیات نہ فقط خود زندہ رہتی ہیں بلکہ دیگر علم دوست افراد کے لئے بھی منبع حیات بن جاتی ہیں۔

Read more

صادق ہدایت: افسانوی کرداروں کی موت سے اپنی خودکشی تک

4 اپریل صادق ہدایت کا یوم وفات ہے ؛ اسی مناسبت سے یہ تحریر حاضر خدمت ہے۔ صادق ہدایت فارسی ادب کا بڑا ناول نگار سمجھا جاتا ہے۔ فارسی ادب میں اسے وہی مقام حاصل ہے جو اردو ادب میں سعادت حسن منٹو کو حاصل ہے۔ ہدایت فارسی ادب میں پہلا باقاعدہ قنوطی ہے جس نے ایران جیسے امیدپرست معاشرے میں بھی خودکشی جیسے موضوعات کو جمالیاتی لباس پہنایا۔ اس کی تحریریں مایوسی اور نا امیدی پر مبنی ہونے کے باوجود ایران میں بیحد مقبول ہیں۔

آج بھی ہدایت کی کتابیں بکثرت چھپتی ہیں اور ہاتھوں ہاتھ بکتی ہیں۔ اس کی بعض کتابوں کا ترجمہ متعدد زبانوں بشمول اردو میں ہو چکا ہے۔ منٹو کی طرح صادق ہدایت بھی ہمیشہ الزامات کی زد میں رہا۔ گمراہی، تاریکی اور مایوسی پھیلانے کا الزام۔ یہی وجہ ہے کہ اسے فارسی ادب میں قنوطیت (Nihilism) کا بانی تصوّر کیا جاتا ہے۔

Read more