آشیانہ ڈھونڈتا ہے
پرانے محلّے بچپن کے دوستوں کی طرح یاد آنے، بلانے لگے۔ لیکن میں نے ان کے بارے میں سوچنے سے پہلے، اور علاقوں کے بارے میں سوچا۔ موقع اچھا ہے، میں اپنی دیرینہ خواہش پوری کر سکتا ہوں۔ لالو کھیت میں گھر دیکھ لوں یا صدر میں اور وہاں رہ کر گہرے مشاہدے اور دل بستگی کے ساتھ حال احوال لکھوں کہ ان علاقوں کے مکین کیسے زندگی گزارتے ہیں۔ ان کے روز و شب کیسے ہیں۔ مجھے وہ علاقے بہت دلکش معلوم ہوتے ہیں جن کا ایک مخصوص کردار اور مزاج ہوتا ہے۔ لیکن شاید اب ان علاقوں میں رسنے بسنے کی خواہش کرنا محض ایک رومانوی خواہش کے علاوہ کچھ نہیں۔ اب یہ تمنّا خیال خام ہے۔
قریبی عزیزوں کے مکان جن محلّوں میں ہوا کرتے تھے، وہاں کا رخ کرنے کے لیے بھی میں تیار نہ ہوسکا۔ الہلال سوسائٹی کی گلی گلی میں انور چچا کی یادیں بچھی ہیں، پیر الٰہی بخش کالونی کی سڑکوں پر آتے جاتے میرے چچا اور پھپھیّاں راستہ روکنے لگیں گے، اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ اس دنیا میں ہیں یا نہیں۔ ناظم آباد کی ایک ایک سڑک پر مکانوں سے زیادہ وہ ہیولے دکھائی دیتے ہیں جو پہلے کبھی مکان ہوا کرتے تھے، وہ اب ڈبّے نما فلیٹ بن گئے ہیں۔ بہادر آباد کے دونوں طرف میں یہ آثار دیکھتا رہا کہ کشاہ مکانوں کو ڈھا کر دو، چار منزلہ فلیٹ بنا دیے گئے ہیں۔ ان میں سیکورٹی زیادہ ہے، چار دیواری ہے۔ ایجنٹ مجھے بار بار سمجھاتے تھے اور ان کے فائدے گنواتے تھے۔ میں خاموشی سے سر ہلاتا رہتا اور کسی ایسے مکان کو پسند کرنے سے اپنے آپ کو قاصر پاتا۔
اس طرح تو ملنے سے رہا مکان، مجھے باور کرا دیا گیا۔ زیادہ خواب نہ دیکھیں اور عملی صورت حال پر غور کریں۔ مانا کہ عمل سے جنّت بنتی ہے اور جہنّم بھی، لیکن آدمی مکان کے بھی خواب نہ دیکھے تو کیا کرے؟ مکاں تلاش کرنے والوں کا سب سے بڑا جرم یہی تو ہے، خواب دیکھنا! اب یہی ٹوٹے پھوٹے خواب دیکھنا متاعِ حیات ہے، باقی اور کیا بچا ہے؟
مگر ہاتھ خالی نہیں ہیں! گلشن اقبال میں ایک مکان کی نچلی منزل کا سامنے والا حصّہ، گلستان جوہر میں ایک نئی تعمیر شدہ عمارت کی چھٹی منزل اور فلیٹ اور طارق روڈ کے قریب تکونے پلاٹ پر بنگلہ۔ یہ سب مجھے دعوت دیتے ہیں کہ ان کی طرز تعمیر اور ساخت کے حساب سے اپنی باقی ماندہ زندگی کو ڈھال لوں۔ میں ان میں سے ہر ایک میں ڈھل سکتا ہوں۔ لیکن ایک وقت میں ایک۔ بیک وقت ان سب میں کیوں نہیں؟ ایک کیوں، بہت کیوں نہیں؟ پھر مجھے گھر یاد آتا ہے جو ابھی تک میرے اندر سے منسوخ نہیں ہوا۔ اتنے بہت سے مکان دیکھنے کے باوجود اس کی کسک باقی ہے۔ بار بار ایسا لگتا ہے وہ مکان بھی مجھے یاد کرتا تو ہوگا۔ شاید یہ ایک اور خوش گمانی ہے۔ شاید دل سنگ و خشت بن گئے ہیں اور سنگ و خشت وہ دل جو اب بھی میرے لیے دھڑکتا ہوا محسوس ہوتاہے۔
ضرور ہوتا ہوگا مگر صرف احساس کی بنیاد پر مکان کی تلاش نہیں کی جاسکتی۔ جہاں میرا دفتر واقع ہے اور میری امّی کا گھر، میں نے ان دونوں کو مرکز بناکر ان سے باہر کی طرف دائرے بنانا شروع کیے اور اسی حساب سے مکان کی تلاش کی حدود متعیّن کیں۔ یہ تو میرا خیال تھا، اسٹیٹ ایجنٹ کا اس سے متفّق ہونا ضروری نہیں۔ ایک صاحب نے اصرار کیا کہ وہ مجھے ”زیرو میٹر“ دکھائیں گے۔ میں نے دبی زبان میں کہا کہ بھائی، مجھے فلیٹ چاہیے۔ ایجنٹ نے میری پیٹھ پر زور سے ہاتھ مارا۔ ”آپ مکان میں تو اُتریں۔ باقی سب اس کے بعد سیٹ ہو جائے گا! “
یہ سُن کر میں لرز اٹھا۔ مگر پیٹھ پر پڑنے والے ہاتھ کی وجہ سے نہیں۔ آئندہ کے ڈر سے۔ نہیں، گزشتہ کے ڈر سے۔ خیر، ہوگا۔ یہ آئندہ اور گزشتہ مجھے بہت کنفیوز کرتے رہتے ہیں کہ ان میں سے کون آیا اور کون گیا۔ مکان کی تلاش میں شاید دونوں ہی گئے۔
جو گیت شروع میں یاد آیا تھا، اس کا ایک اور روپ بھی ہے۔ جس میں اداسی کے بجائے خوشی ہے کہ دو دیوانے شہر میں۔ سمجھ میں آگیاکہ دوسرا دیوانہ کون ہے۔ اسٹیٹ ایجنٹ۔ اور اس کے ساتھ تلاش کرنے والے سب لوگ بھی دیوانے ہوئے جاتے ہیں۔ تلاش ہی ایسی ہے۔
ایک اسٹیٹ ایجنٹ صاحب ہم سے زیادہ کشتۂ تیغِ ستم نکلے۔ انہوں نے جگہ ہی نہیں قیام کی مدّت بھی طے کر دی۔ فلیٹ سے باہر آتے ہوئے کہنے لگے، آپ کو دو تین سال گزارنے ہیں، اس کے لیے بہت مناسب ہے۔
دو تین سال بعد میں کہاں جاؤں گا؟ میں نے سہم کر پوچھا۔ اس تلاش کے دوبارہ شروع کرنے کے خیال سے جھُرجھُری آگئی۔
امریکا۔ انہوں نے قطعی طور پر کہا۔ پھر وضاحت کر دی۔ آج کل وہیں جا رہے ہیں۔ آپ جیسے لوگ!
یہ جُملہ مجھے گالی کی طرح لگا۔ بڑے آرام سے بتایا کہ میری اگلی منزل جہاں ہوگی، وہاں فلیٹ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ دو گز زمین کافی ہوگی۔ مگر ایجنٹ صاحب، گز کے بجائے اسکوائر فٹ سے سوچنے کی عادی نکلے۔ اس لیے بات وہیں کی وہیں رہ گئی۔ یعنی تلاش جاری ہے۔ آخری خبریں آنے تک۔
مکان تو نہیں ملا لیکن اس بہانے شہر بھی دیکھ لیا اور دُنیا کے لوگ بھی۔ مکان کی تلاش میں اندازہ ہوا کہ کراچی میں ایک اکیلا مرد ہونا بھی کتنا مشکل ہے۔ ہر نگاہ سوال کی طرح اٹھتی ہے اور پتھر کی طرح لگتی ہے۔ روک سکتے ہو تو روک کر دکھاؤ! مکان کی تلاش بھی گھومتا پہیّہ ہے۔ ایک دفعہ اس پر چڑھ گئے تو اُترنا مشکل۔ سوچتا ہوں، اس سے بہتر تھا کہ مکان کے بجائے لامکان کی تلاش کرتا۔ بلندی کا ایک منظر بنانے کے لیے چھٹی منزل کے فلیٹ پر منتقل ہونا ضروری تو نہیں۔
یہ تو غالب کے الفاظ یاد آنے لگے۔ مگر اس صورت حال میں صرف منور ظریف کو یاد کرنا چاہیے۔ ایک فلم میں وہ اپنی چارپائی سر پر اٹھا کر ہر ایک سے پوچھتا پھرتا ہے : میں منجھی کتھے ڈھانواں؟

