تباہی آ نہیں رہی تباہی آ گئی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد سٹاک ایکسچینج میں آٹھ ماہ قبل 127 بروکرز تھے اور آج پانچ اپریل کو اسلام آباد حصص بازار میں صرف 21 بروکر کام کر رہے ہیں۔ پیر کے روز حصص بازار میں چار سو پوائنٹ کی کمی ہوئی اور منگل کو تین سو جبکہ آج بدھ کے روز ایک مرحلہ پر مارکیٹ تین سو پوائنٹ تک گر چکی تھی یعنی تین دن میں حصص انڈکس میں ایک ہزار پوائنٹ کی کمی ہو چکی ہے۔

تمام بروکرز مسلسل نقصان اٹھا رہے ہیں اسلام آباد حصص بازار میں جو 21 مجاہد مورچے پر ڈٹے ہوئے ہیں وہ اپنے دفاتر کے مالک ہیں یعنی انہیں اپنے بروکریج ہاؤس کا ڈھائی لاکھ روپیہ کرایہ نہیں دینا ہوتا باقی جو 107 بروکر کرایہ کے دفاتر میں کام کر رہے تھے وہ نادہندہ ہو گئے، وہ مسلسل نقصان برداشت کرنے کی ہمت نہیں کر پائے، وہ اپنے بروکریج ہاؤس بند کر گئے ہیں اور انہوں نے اپنی ممبر شپ سرینڈر کر دی ہے اور تمام عملہ فارغ کر دیا ہے۔

مارکیٹ کا والیم یا حجم آٹھ ماہ قبل 75 کروڑ حصص روزانہ تھا یہ خرید و فروخت بروکرز کو زندہ رکھے ہوئے تھی آج پانچ اپریل 2019 کو مارکیٹ کا حجم 25 کروڑ تھا اور گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران مسلسل کم ہوتے ہوئے یہ 25 کروڑ کی اوسط پر پہنچا ہے۔ ملک کے تینوں حصص بازاروں میں اب 300 بروکر بچے ہیں 25 کروڑ حصص کی خرید و فروخت کے کمیشن کو سامنے رکھیں تو سب کے سب خسارے میں جا رہے ہیں کیونکہ انہیں تمام ٹیکس ادا کرنا ہیں اور ان کا کمیشن کم ہو چکا ہے مارکیٹ میں اب چھوٹے سرمایہ کار نہیں ہیں اس لئے بروکر بھاگ رہے ہیں اور حصص بازار ویران ہو رہا ہے۔

رئیل اسٹیٹ کے شعبہ میں پراپرٹی کی قدر 50 فیصد کم ہو چکی ہے فائلر کی شرط اور ملک ریاض کے خلاف کارروائی نے پراپرٹی کا کاروبار برباد کر دیا ہے۔ بحریہ ٹاون، ڈی ایچ اے یا دیگر مہنگی ہاؤسنگ سکیموں میں اگر کوئی پلاٹ آٹھ ماہ قبل دو کروڑ کا تھا وہ ایک کروڑ کا رہ گیا ہے جس طرح حصص بازار میں 100 ارب روپیہ کے حصص 25 ارب کے رہ گئے ہیں اور 75 ارب روپیہ آنے والی تبدیلی کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں اسی طرح ایک ہزار ارب روپیہ کی پراپرٹی 500 ارب روپیہ کی رہ گئی ہے پراپرٹی کی نصف یعنی پچاس فیصد قدر تبدیلی کا شکار ہو گئی ہے۔ پلاٹ بیچنے والے لگتا ہے سارے ہیں لیکن خریدنے والے محسوس ہوتا ہے مریخ پر چلے گئے ہیں ہم نے ایٹم بم اور میزائل بنا لئے لیکن ایسا کوئی خلائی جہاز نہیں بنایا جو سرمایہ کاروں کو مریخ سے واپس زمین پر لا سکے۔

ہم نے دشمن قوتوں کو تو شکست دے دی لیکن ہم سٹاک مارکیٹ میں ہار گئے ہزاروں چھوٹے سرمایہ کار جو روز یہاں کام کرتے تھے اور ہر روز کمائے منافع سے اپنے بچوں کے لئے خریداری کرتے تھے کھانا کھاتے تھے اور روپیہ کی نقل و حمل کے ضامن تھے وہ سب بھاگ گئے ہم انہیں روکنے میں ناکام ہو گئے۔

ہم عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے پر یقین کرتے تھے لیکن جو ذلت بے روزگار ہونے والے برداشت کر رہے ہیں۔ جس طرح بے روزگاری کی وجہ سے اور کاروبار ختم ہونے کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے، لوگ بچوں کو بھوک کے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں۔ لوگ اپنی بیویوں کو زندہ جلا رہے ہیں خودکشیاں کر رہے ہیں ہم ان پر یقین نہیں کرتے۔

گدون انڈسٹریل اسٹیٹ میں 98 فیصد صنعتی یونٹ بند ہو چکے ہیں۔ حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں 70 فیصد صنعتی یونٹ بند ہو گئے ہیں۔ بنگلادیش سے جو پاکستانی صنعتکار اپنی صنعتیں واپس منتقل کر رہے تھے وہ سب اپنے آپ کو کو ستے ہوئے واپس بنگلادیش چلے گئے ہیں۔ ایک ماچس فیکٹری کا مالک کہتا ہے میں 10 سال سے فیکٹری چلا رہا تھا تین ماہ سے میرا بجلی کا بل 50 لاکھ ماہانہ سے 75 لاکھ ماہانہ ہو گیا ہے گیس کا بل 25 لاکھ سے 40 لاکھ پر پہنچ گیا ہے اور چین سے آنے والی ماچس اچھی بھی ہے پچاس فیصد کم قیمت بھی چناچہ گزشتہ ہفتے میں نے فیکٹری بند کر دی اور 70 ملازمین فارغ کر دیے ہیں۔

مری روڈ صرافہ مارکیٹ کے ایک بڑے جیولر کا کہنا ہے سونے کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے اور خریدار مسلسل کم ہو رہے ہیں ایسا لگتا ہے ہر کوئی بیچنے آرہا ہے پورے دن میں دکان میں 50 لوگ داخل ہوتے ہیں ان میں صرف تین خریدنے والے اور 47 بیچنے والے ہوتے ہیں اب ہماری اپنے بیچے ہوئے زیور خریدنے کی سکت بھی ختم ہو گئی ہے۔ منی مارکیٹ کے ایک ڈیلر کا کہنا ہے ڈالر بیچنے والے ناپید ہیں ہر شخص لگتا ہے ڈالر خریدنے آرہا ہے ہم دوبئی سے بھی ڈالر منگوا رہے ہیں اور بلیک مارکیٹ سے بھی خرید رہے ہیں لیکن ڈیمانڈ بڑھتی جا رہی ہے اور ڈالر غائب ہوتے جا رہے ہیں جو عام لوگ ڈالر خرید رہے ہیں وہ اصل میں چھوٹے سرمایہ کار ہیں جو اب اپنی سرمایہ کاری محفوظ کرنے کے لئے کاروبار چھوڑ کر ڈالر خرید رہے ہیں۔

جیولرزمارکیٹ کے دکاندار نے ایک اور بات بھی کی تھی کہ سونے کے خریدار ہیں لیکن وہ زیورات نہیں بلکہ سونے کے بسکٹ خریدنے والے ہیں اور اس میں ہمیں ایک تولہ پر صرف ایک ہزار ملتے ہیں جو روزانہ کے خرچہ کے تناسب سے گھاٹے کا سودا ہے۔
جو تبدیلی لائی گئی تھی وہ آگئی ہے اور ہم تبدیلی لانے والوں کو ایک زوردار سلوٹ کرتے ہیں۔ پاکستان زندہ باد۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •