بھٹو کا عدالتی قتل و شخصیت کو داغدار کرنے کی گھٹیا سازش

قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید کے خلاف عالمی گماشتے کی ہدایت پہ اس کے ایجنٹوں نے جھوٹا بے بنیاد مقدمہ قتل بنا کر کٹھپتلی عدالتوں سے سزائے موت دلوائی گئی۔ سپریم کورٹ نے 3۔ 4 کی اکثریت سے لاھور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ تو اس کے بعد مارچ سے 4 اپریل تک سزائے موت پر عملدرآمد ہونے تک کے اخباری تراشے ان کی ترتیب وار شہہ سرخی بھی لکھی گئی ہے۔
مارچ 3۔ 1979 عبدلحفیظ پیرزادہ نے صدر ضیا الحق سے طویل اور اھم ملاقات کی۔
مارچ 4۔ 1979 صدر ضیا الحق سے حفیظ پیرزادہ کی ملاقات مصالحتی کوشش نہیں ہے۔ ظہور الہی
مارچ 6۔ 1979 بھٹو کے معاملے میں میرے موقف میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ ضیا الحق
مارچ 17۔ 1979 سپریم کورٹ نے بھٹو کی نظرثانی کی درخوادت پہ فیصلہ مفوظ رکھا۔
مارچ 20۔ 1979 بھٹو کی کتاب پھانسی کی کوٹھڑی سے سمگل ہو کر برطانیہ کس طرح پہنچی۔ مرتضی بھٹو کا بی بی سی کو انٹرویو
مارچ 24۔ 1979 سپریم کورٹ نے بھٹو کی نظر ثانی کی درخواست مسترد کر دی
مارچ 24۔ 1979 بھٹو کے مقدمے کا تمام ریکارڈ سپریم کورٹ نے بذریعہ طیارہ لاھور بھیج دیا۔ سپریٹنڈنٹ جیل کو چند روز میں بلیک وارنٹ ہائیکورٹ سے موصول ہو جائے گا۔
مارچ 26۔ 1979 بھٹو کا بلیک وارنٹ جیل حکام کو موصول ہوگیا۔ سزائے موت پر عمل درآمد کے لئے عارضی تاریخ مقرر کر لی۔
مارچ 30۔ 1979 بھٹو خاندان کے کسی فرد نے رحم کی اپیل نہیں کی۔ آج آخری دن ہے۔ رحم کی دیگر تمام اپیلیں مسترد ہونے پر 9۔ اپریل کو پھانسی دی جا سکتی ہے۔
مارچ 31۔ 1979 پیپلز پارٹی نے بھٹو کے لئے صدر ضیا الحق سے رحم کی اپیل کر دی۔
اپریل 1۔ 1979 بھٹو کی ہمشیرہ منورالاسلام نے صدر ضیا الحق سے رحم کی اپیل کردی۔ شہر بانو۔ شبنم رخسانہ۔ بے نظیر بھٹو اور نصرت بھٹو آج بھٹو سے ملاقات کریں گی۔
اپریل 3۔ 1979 بھٹو کے مکانات سے انتہائی خفیہ دستاویزات برآمد۔ دستاویزات کا تعلق مملکت کی سلامتی۔ دفاع اور امور خارجہ سے ہے۔ ان کاغذات کو بیرون ملک سمگل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید کے دشمنوں نے ان کو سزائے موت سنوانے کے بعد بھی کلیجہ ٹھنڈا نہ ہوا بلکہ ان کو حسب سابق جیسے محترمہ فاطمہ جناح کو بھارتی ایجنٹ قرار دیا گیا۔ پھر جنگ کشمیر 1947 کے ہیرو جنرل اکبر خان کو روسی ایجنٹ قرار دیا گیا اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو کی عوام کی نظروں سے گرانے کے لئے گھٹیا کوشش کی۔ وہ کدھر گیا پھر معاملہ ختم۔ دشمنان پاکستان و عوام نے 4۔ اپریل کو بھٹو صاحب کو جسمانی طور پہ ہم سے جدا تو کر دیا۔ لیکن ذوالفقار علی بھٹو آج بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا انمٹ ستون ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا پائندہ رہے گا۔ جیئے بھٹو سدا جیئے

