زندہ جلانے پر مستعد شوہر اور بے نیاز تھانیدار
اخبار میں خبر لگی کہ ملتان میں دیور کے ہاتھوں سونیا بی بی جھلس کے جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ ایس ہی خبریں اکثر و بیشتر سننے کو ملتی ہیں۔ کئی بار تو ایسا ہوتا ہے کہ کچن میں سلنڈر پھٹ جاتا ہے جس میں بدقسمت گھر کی بہو جل جاتی ہے اور کسی کو کانوں کان خبر نہی ہوتی کہ سلنڈر پہلے پھٹا کہ موت پہلے واقع ہوئی۔ بہت سوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ خواتین جبر تلے دبی رہتی ہیں، شوہر قسم کے لوگوں کا ظلم سہنے میں ان کا اپنا بھی ہاتھ ہوتا ہے جن کے خلاف یہ آواز نہیں اٹھاتیں۔
قانون کا دروازہ کیون نہی کھٹکھٹاتیں۔ جب گھر والے اور رشتہ دار بات نہی سنتے تو من پہ پتھر رکھ کہ تھانے کچہری کا رخ بھی کرتی ہیں۔ لیکن ہوتا وہی ہے جو یہاں کا دستور ہے۔ دھکے اور دھتکاریاں۔ پولیس والوں کی بولیاں کہ بی بی کی کیتا سی کہ شوہر ماردا اے۔ ان گناہگار آنکھوں نے ایک مظلوم کو رسوا ہوتے دیکھا ہے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ایک تھانے جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں ایک خاتون اپنے کمسن بیٹے کا ہاتھ تھامے روتی پھر رہی تھی کہ اسے ایک بھیڑیے نما شوہر سے بچالو۔
”صاحب مجھے بچالو، میرا گھرا والا مینوں ساڑن لگا اے۔ “ الفاظ کیا تھے، دہائی تھی جو کلیجہ چیر گئی۔ کیسی لاچار تھی وہ ماں جو گھر کی دہلیز پار کرگئی کہ اپنی اور بچوں کی جان بچاسکے۔ کیا اس نے باپ بھائیوں کو نہی بتایا ہوگا؟ کیا ہمسائیوں نے اس کا چیخنا چلانا نہی سنا ہوگا؟ سنا ہوگا، ضرور سنا ہوگا لیکن تماشائی ہیں، تماش بینی کا شوق رکھتے ہیں۔ کسی نے کہدیا ہوگا کہ بی بی تیرا مرد ہے، حق رکھتا ہے تجھ پر۔ کیا ہوا جو نشہ کرکے تھوڑی مارپیٹ کربھی لے۔ گھر والے تو پہلے ہی یہ کہہ کہ بھیجتے ہیں کہ شوہر کے گھر سے جنازہ ہی اٹھتا ہے۔ اچھے سے رسم نبھانا۔
بات یہیں پر ختم نہی ہوجاتی۔ یہاں سے تو اصل مسئلہ شروع ہوتا ہے۔ اس بے چاری کو لگتا کہ ملک میں قانون ہے جو مجھے بچالے گا۔ جس کے آگے اپنی بپتا رووں گی تو شفقت کی چادر سر پہ آئے گی۔ لیکن اسے کیا خبر کہ قانون بس اندھا ہی نہی بلکہ کھڑوس بھی ہے کہ کمزور کو الٹا پڑجاتا ہے۔ جس ملک میں چارہزار کی سائیکل چوری کی درخواست دینے کے لیے پانچ ہزار تفشیشی مانگ لے ایک اکیلی مظلوم عورت کی کون سنتا ہے۔ ہوتا کیا ہے وہ یہ کہ تھانیدار نے کہا بی بی اپنی درخواست دے کے گھر جا تو کہتی کہ ”صاحب جی او میری گل سندے نئی۔ کہندے نے اوتھے چلی جا۔ ”تھاندار کا ردعمل ہماری اجتماعی سوچ کا بہترین عکاس تھا۔ ایک جملے میں معاشرے کو سمو کے رکھ دینا صاحب بہادروں سے ہی سیکھا جاسکتا ہے کہ یہی تو ہیں جو بھانت بھانت کے لوگوں سے نت نئی بولیاں سیکھتے ہیں۔ کہتا بی بی جدوں تیرا گھر والا تیری نئی سندا تے پولیس کیوں سنے۔ “ بات تو کسی حد تک درست تھی لیکن یہ الفاظ کسی طور ایٹم بم سے کم نہ تھے جو اس شدت سے پھٹا کہ انسانیت بھسم ہوکے رہ گئی۔
ایک عجیب کیفیت تھی جسے ہوشیار صاحب بہادر نے بھانپتے ہوئے فورا سٹیٹمنٹ بدلی کہ ماردا تینوں تیرا شوہر اے تے پولیس دا کی قصور۔ اے ساری سماجی خرابیاں نیں۔ نشہ کردا ہووے گا۔ ہوں گی سماجی خرابیاں، کرتا ہوگا نشہ، لیکن کیا یہ جواز کافی ہے کسی پر ظلم کرنے کے لیے۔ کیا اسی لیے ادارے نہیں بنائے گئے کہ ایسی خرابیوں کو درست کیا جائے۔
اس کے بعد اس کی ریپورٹ لکھی بھی گئی ہوگی، لیکن کیا اس پر کارروائی کی جائے گی؟ ہرگز نہی۔ پہلے تو پولیس نے ایسے فضول معاملات میں سر نہی کھپانا۔ اگر پولیس نے کچھ کرنے کا سوچنا بھی تو کوئی چیئرمین، ممبر اسمبلی، یا اثر رسوخ والا یہ کہہ کر معاملہ نبٹا دے گا کہ جی گھر کی بات ہے، بڑے بیٹھ کے طے کرلیں گے۔ بڑوں نے کیا کرنا وہ تو ہیں ہی تماشبین کہ مرد کی حمیت و صلاحیت ہر واہ واہ کر نے کے لیے ضروری ہے کوئی سسکنے بلکنے والی بھی موجود ہو۔
اخلاقی زوال افراد سے سماجی روویوں کے راستے اداروں کے ڈسپلن تک میں سرایت کرگیا ہے۔ من حیث القوم تماش بین ہوچکے ہیں۔ جب ظلم ہورہا ہوتا ہے تو تماش بینی کرلتے ہیں اور جب ہوچکا ہوتا ہے تو اس پہ تبصرے۔ کل کلاں کسی اخبار میں خبر لگی ہوگی کہ پہلوانوں کے شہر میں کوئی اسماء یا سونیا برن سینٹر میں موت کی آغوش میں راحت کی نیند سوگئی کہ یہ دنیا تو اس مخلوق کے لیے دوزخ سے کسی طور کم نہیں۔
گھر گھر کی یہ بپتا ہے اور گھر گھر کا یہ روگ
لٹ پٹ گئی حوا کی بیٹی نے کسے منایا سوگ


