عمران خان کے نو رتن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مغل بادشاہ اکبر ان پڑھ تھا۔ اس پر ستم یہ ہوا کہ اسے 14 برس کی عمر میں تاج و تخت سنبھالنا پڑا۔ بلا کا ذہین و فطین تھا۔ بیرم خان اتالیق مقرر ہوئے مگر جلد انہیں مکہ مکرمہ بھجوا دیا۔ اپنے اردگرد ایسے گہرِنایاب جمع کئے۔ کون نہیں جانتا کہ اکبر کے نورتن کون تھے۔ بیربل، فیضی ابوالفضل، تان سین عبدالرحیم، مان سنگھ، مُلا دو پیازہ، کوکلتاش اورٹوڈر مل جیسے لوگوں کو تاریخ کیسے بھلا سکتی ہے۔ اکبر نے یہ لوگ اتنی آسانی جمع نہیں کر لئے تھے۔ ٹوڈر مل چونیاں کا رہنے والا تھا۔ شیر شاہ سوری کا مشیر ہوتا تھا، اکبر آگرہ سے اور کئی دن کا سفر کرکے خود چونیاں پہنچا اور راجہ ٹوڈر مل اپنے ساتھ لے گیا، کتنی حیرت انگیز بات ہے برصغیر پاک و ہند میں زمین کی پیمائش کا نظام، تقسیم کا طریقہ کار، لگان کا قانون اورملکیت کے کاغذات ٹوڈرمل کے بنائے ہوئے ہیں اور وہی اصطلاحات اور الفاظ آج بھی رائج ہیں۔ نظام حکومت کو چلانے میں مشیروں، وزیروں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ یہی وزیر اعظم کی آنکھیں، کان، ہاتھ اور پاوں ہوتے ہیں مگر عمران خان کے رتنوں سے پہلے خود عمران خا ن۔ اُن میں بہت سی خوبیاں ہیں مگر ایک کمی بہت چبھتی ہے کہ شاید انہیں علم و قلم سے کوئی رغبت نہیں، ابھی 23  مارچ کو ہر شعبہ زندگی میں سول ایوارڈز دیے گئے مگر لکھنے پڑھنے والوں نہیں۔ ایوارڈ لینے والوں میں گانے بجانے والوں کی لمبی فہرست تھی۔ کسی شاعر یا ادیب کا نام نہیں تھا۔ یہ نہیں کہ انہیں ایوارڈ نہیں ملنے چاہئے تھے، کہنے کا مقصد یہ ہےکہ لکھنے پڑھنے والے اُن کے گرد و نواح میں دکھائی ہی نہیں دیتے۔

عمران خان کے نو رتنوں میں سب سے اہم نعیم الحق ہیں، انکا کینسر دوسری سٹیج پر ہے، اللہ انھیں صحت سے نوازے۔ فنِ تعریف و توصیف میں انہیں بے پناہ کمال حاصل ہے۔ افتخار درانی میڈیا مینجمنٹ میں خاصی مہارت رکھتے ہیں، کسی زمانے میں فردوس عاشق اعوان کے میڈیا مینجر تھے اب عمران خان کے ہیں۔ ندیم افضل چن نو رتنوں میں نئے نئے شامل ہوئے ہیں، بے شک سیاسی امور میں ان سے بہتر مشورے کو ئی نہیں دے سکتا۔ عثمان ڈار بھی خاصے متحرک ہیں، فیصل جاوید بھی اکثر و بیشتر وزیر اعظم سیکریٹریٹ میں پائے جاتے ہیں، وزارت اطلاعات کی تلاش میں۔

دوسری طرف پی ٹی وی کے معاملات کی خرابی اپنی انتہا پر ہے۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے خودعمران خان سے کہا کہ میرا قلمدان بدل دیجئے مگر سنا ہے عمران خان انھیں وزیر اطلاعات ہی رکھنے پر بضد ہیں۔ ایک اور سرمایہ دارنوجوان زلفی بخاری بھی نو رتنوں میں شامل ہیں بلکہ اب تو وہ فیملی کا حصہ ہیں۔ یوسف بیگ مرزا بھی کچھ دنوں سے ان کے مشیر ہیں وہ بڑے با صلاحیت آدمی ہیں مگر ابھی تک انہیں اپنے جوہر دکھانے کا موقع نہیں ملا۔ پی ٹی وی کے معاملات میں وزیر اعظم ضرور اُن سے مشورہ لیتے ہوں گے۔

کہا جاتا ہےکہ پی ٹی وی کی جنگ فواد چوہدری جیت چکے ہیں۔ ارشد خان دو چار دن کے مہمان ہیں۔ چند دنوں میں نئے ایم ڈی کے لئے انٹرویوز ہونگے۔ یونین کے دھرنے کے سبب پچھلے باون دن سے ارشد خان پی ٹی وی ہیڈکواٹر کی عمارت میں داخل نہیں ہو سکے۔ کام رکا ہوا ہے، ملازمین کے تنخواہوں کے معاملات تاخیر کا شکار ہیں۔ فواد چوہدری سمجھتے ہیں کہ پی ٹی وی کے ملازمین کو اتنا ہی حق ملنا چاہیے جتنا کسی اور محکمے میں ملتا ہے۔ مگر ارشد خان کے خیال کے مطابق پی ٹی وی کا مسئلہ یہ نہیں، پی ٹی وی کا مسئلہ یہ ہے کہ ملازمین ماہانہ 70 کروڑ روپے کی تنخواہ لیتے ہیں اور کچھ کام نہیں کرتے۔

عمران خان کے جتنےنو رتنوں کا ذکر ہواہے ان میں سے شاید کوئی کتاب سے کوئی رغبت رکھتا ہو۔ یہ انفارمیشن کے لوگ ہیں، علم کے نہیں۔ عمران خان کو اہل علم کی ضرورت کیوں ہے؟۔ وہ صرف اس لئے کہ مشورے صائب الرائے لوگ ہی دے سکتے ہیں۔ یہ میٹھی کھیر پکانی ہوتی ہے اس کے لئے خواص چاہئے ہوتے ہیں۔ ابھی چند دن پہلےعمران خان بلوچستان گئے تھےمگر عمران خان کے پاس کوئی ایسا نہیں جوبلوچستان کی تاریخ پر اتھارٹی ہو۔ جو وہاں کی تہذیب و تمدن کی بنیادیں جانتا ہو، جو وزیر اعظم کو بتاتا کہ وہاں اصل مسائل کیا ہیں، کس چیز کی کوکھ سے نکلے ہیں اور ان کا حل کیا ہے۔ بلوچستان کے لوگ کیوں ناراض ہیں۔ ناراضی کا مداوا کیا ہے۔ کیسے ان لوگوں کےدل جیتے جا سکتے ہیں۔ یہ بات سمجھانے والا عمران خان کے پاس کوئی نہیں کہ کوئٹہ سے گوادر تک ریلوے ٹریک بنانے سے کوئی بلوچ خوش نہیں ہو سکتا۔

یہ جو بے نظیر انکم سپورٹ کا نام بدلا جا رہا ہے۔ یہ بھی ایک احمقانہ عمل ہے۔ اس پروگرام کے تحت ہر سال دو سال ارب ضائع چلے جاتے ہیں۔ چاہئے تو یہ کہ یہ پروگرام مکمل طور ختم کردیا جائے اور ’’اخوت ‘‘ کی طرز پر غریبوں کو بغیر سود کے چھوٹے قرضے دئیے جائیں جن سے وہ اپنے کھڑے ہو سکیں۔ یہ پراجیکٹ غریبوں کو بھکاری بنانے میں لگا ہوا ہے۔ ان کے اندر کچھ کرنے کی صلاحیت ہے جو اہلیت ہے اسے تباہ کر رہا ہے۔ مگر تصویر کا درست رخ عمران خان کو کوئی صاحب  نگاہ، کوئی اہل علم، کوئی نبض شناس زمانہ ہی دکھا سکتا ہے۔

یہ جو پٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ بے شک حکومتی معاشی مسائل کا سب سے آسان حل ہے مگراس سے مہنگائی اضافہ ہوتا ہے، غریب کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔ معیشت کو بہتر کرنے اور بھی بہت طریقے ہیں مگرذرا سے مشکل ہیں۔ ادھر توجہ دلانے والا کوئی نہیں۔ گورنمنٹ کے پاس لاکھوں ایکٹر زمین پڑی ہے۔ حکومت کہیں بھی نیا شہر بسا کر کھربوں جمع کرسکتی ہے۔ اقبال نے کہا تھا ’’کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد‘‘۔ بہر حال عمران خان کے نو رتنوں میں مجھے تو کوئی اہل نظر نہیں دکھائی دیتا۔ میرا تو بس یہی مشورہ ہے کہ. عمران خان کو اپنے ارد گرد ابو الفضل اور فیضی جیسے صاحب علم نو رتن جمع کرنے کی ضرورت ہے۔ جنہوں نے ہمایوں کے چودہ سالہ بیٹے اکبر کو اکبر اعظم بنا دیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •