رٹّا اور لارڈ کرزن کا آئینہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لارڈ کرزن کی شہرت 1905 کی تقسیم بنگال سے ہے۔ یہ وہ وائسرائے ہے جسے ہندوستان و کانگریس دشمنی سے جانا جاتا ہے اور اس کی پالیسیز میں مسلمانوں کے لئے نرم گوشہ تصور کیا جاتا ہے۔ شاہانہ طور پہ سرزمین ہند میں حکومت کرنے والے اس وائسرائے کی ایک اور وجہ شہرت ہونی چاہیے تھی مگر تاریخ کی ستم ظریفی کہ نہیں بن سکی۔ وہ ہے لارڈ کرزن کے نام سے پاکستان میں ایک شہر کا آباد ہونا اور وہ شہر ہے میرا جنم بھومی پسنی جس کا سابقہ نام کرزن آباد تھا۔

یہ 1901 کی بات تھی جب لارڑ کرزن یہاں پہ تشریف لائے تھے تو مقامی لوگوں نے خاطر عزت شہر کا نام لارڈ کرزن کے نام سے منسوب کیا اب کرزن صاحب کتنے صحیح و کتنے غلط تھے یہ تاریخ دان اور ہر صاحب نظر کا اپنا مسئلہ ہے لیکن آج وہ مجھے اپنے ایک تقریر کی وجہ سے یاد آئے جس کو ہم نے کرزن کے ساتھ دفن کیا۔ یہ تقریر ہماری تعلیمی خامیوں کا وہ آئینہ ہے جس کو ایک سو بیس سال گزرنے کے بعد بھی ہم دیکھنے کے لئے راضی نہیں۔ جس کے کچھ موٹے نکات درج ذیل ہیں۔

آپ نے عرض کیا تھا کہ ہندوستانی کالجوں اور تبت کے بھکشوؤں میں کوئی فرق نہیں کہ جو عبادت کے پہیے کو مسلسل گھماتے جارہے ہیں۔ ان آوازوں کی تکرار کے ساتھ جن کے مطالب کا مفہوم انھیں خود بھی نہیں۔ اسی طرح طالب علم امتحان میں بس نمبروں کے لئے رٹے مارکر پسے جارہے ہیں۔ مزید برآں آپ فرماتے ہیں کہ رٹے کی عادت پیدا کرکے لوگ کسی بھی طور ذہانت کے پیمانے کو عبور نہیں کرسکتے۔ یاداشت بذات خود دماغ نہیں بلکہ یہ دماغ کی ایک خاصیت و صلاحیت ہے۔ لیکن ہم پھر بھی طلبا کی یاداشت کو تیز کیے جارہے ہیں۔ یہ پانی پر پڑی وہ لکیر ہے جس سے ہمیں ہندوستانی تعلیم کو اٹھانا ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ دلدل میں دھنس جائے۔

لارڑ کرزن کی سو سال پہلے والی تشویش کم و بیش ہمارے ملک میں حقیقت کا روپ دھار چکی ہے۔ ہماری تعلیم دلدل میں اتنی دھنسی ہوئی ہے کہ اسے نکالنے کے لئے پانچ سو سال اور لگیں گے وہ بھی نیک نیتی کے ساتھ۔

آج بھی ہمارا استاد یاداشت کو دماغ ہی سمجھتا ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ لمبی لمبی سطریں رٹا لگواتا ہے یا املا کرواتا ہے جس میں 80 % بچے ناکام ہوتے ہیں اور ان پہ نکماپن، نالائقی اور کند ذہنی کا لبل چسپادیا جاتا ہے بیچارہ طالب علم بھی اسے خدائی نا انصافی سمجھ کر من و عن تسلیم کرتا ہے اور اس کا ذہنی ارتقاء مرکر گم ہوجاتا ہے۔ جن کی ذہانت و یاداشت کے قصے زبان عام ہوتے ہیں وہ بھی فقط رٹو طوطے ہوتے ہیں۔ پریکٹکل و تخلیقی صلاحیتوں سے بے بہرہ۔

اسی طرح آپ سکول سے مدرسے کی طرف آجائیں۔ تعداد مدارس دن بہ دن بڑھ رہی ہے، تلاوت قرآن اور درس قرآن دن بہ دن بڑھ رہا ہے۔ لیکن عملی لحاظ سے قرآن و قرآنی تعلیمات عام زندگی میں دکھائی نہیں دیتے بلکہ لادینیت اور غیر انسانی رویے معاشرے میں بڑھتے جارہے ہیں۔ ظاہر ہے کئی نہ کہیں مسئلہ ہے۔ کیونکہ بچے ہمارے بھی نو مہینے والے انسانی بچے ہیں اور قرآن پاک کی سہل پن کی تو شہادت رب العالمین نے خود دی ہے کہ ہم نے قرآن کو آسان بنایا ہے کوئی سمجھنے والا؟

میرے خیال میں بات رٹے اور یاداشت کی ہے جس کی نشاندہی قرآن نے بھی کی ہے۔ “ ہے کوئی سمجھنے والا؟ ”لیکن ہمارا تعلیمی ڈھانچہ سمجھ اور ذہانت کے دوسرے سرے پہ کھڑا ہے۔ طالب چاہے سکول کا ہو یا مدرسے کا سیدھی سی بات ہے جس طرح کتابیں رٹنے سے آج تک کوئی گھر بیٹھے پائلٹ اور ڈرائیور نہ بنا تو اس سے ہم کیوں یہ امید رکھ سکیں کے وہ ایک سائنسدان یا کوئی اور مفید تخلیق کار بن جائے گا؟

علم حاصل کرنے اور رٹے میں زمیں آسمان کا فرق ہے۔ ”عالِم“ کے رویے علمی ہوتے ہیں جب کے رٹا صرف اور صرف پڑھے لکھے ”ابوجہل“ ہی تخلیق کریگا جن کا وجود معاشرے کے لئے ناخواندہ سے بھی زیادہ باعث نقصان ہے۔ حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے فرمایا تھا۔ ”علم بغیر عمل کے جہالت ہے“ تو کیا ہمارے معاشرتی رویے اسی دینیات کے عکاس ہیں جسے ہم پڑھتے ہیں؟ اگر نہیں تو ہمیں جواب کھوجنا ہوگا بجائے بے سوز و واہی تقریریں جھاڑنے سے۔

ہمیں کرزن سے ہزاروں اختلاف کے باوجود اس کے دکھائے گئے آئینے کو دیکھنا ہوگا اپنے اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے وگرنہ تعلیم کے نام پہ یہ دقیانوسیت ہمیں بحر جہالت میں ڈبو دیگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •