عقلی کاپی پیسٹ کا طوفان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موجودہ کائنات میں بے شمار مخلوقات خدائی ترتیب کے زیرِسایہ اپنے اپنے دائرہ کار کے مطابق فرائض کی انجام دہی میں مصروفِ عمل ہیں اور اِن لا محدود تخلیقاتِ خدا میں انسان واحد مخلوق ہے جس کو سوچنے کی خوبصورت اور انمول صلاحیت سے نوازا گیا ہے۔ جس کی بدولت یہ اپنے حال اور آنے والے کل کے بارے میں منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔ جن و بشر، شجرو حجر، برگ و ثمر الغرض کائنات کا ذرا ذرا ہر وقت انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور انتہائی درجہ پر دعوتِ فکر کا بیش بہا سامان مہیا کرتا ہے کہ اپنی سوچوں کو جھنجھوڑو اور خوابِ غفلت سے جگاؤ اور غور کرو کہ رینگنے والے حشرات الارض سے لے کر آسمان پر پرواز کرتے ہوئے پرندے، سمندر کی گہری آغوش میں تیرنے اور رہنے والی رنگ برنگی مختلف الماہیت مخلوقات سے لے کر فلک پر جگمگاتے ہوئے ستارے، زمین کی تہوں میں چھپے میٹھے پانی کے انمول تحفوں سے لے کر بے شمار معدنیات کے خزانے، ادنیٰ سی مخلوق کا پھولوں سے رس چوسنا اور پھر رس کا شہد کی صورت اختیار کرنا، انسان کی پیدائش کے حیران کن نظام سے لے کر انسان کے اختتام تک کی خودکار میکانیکی قدرتی ترکیب اور اِس طرح کے ان گنت معجو باتِ فطرت ابنِ آدم کوکائناتی ترتیب وتدویر پر مدبرانہ مشاہداتی ترغیب دلاتے ہیں۔

یہ تمام تر باتیں نظری مشاہدہ کے اعتبار سے موجودہ زندگی کی معمولی حقیقتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ہاں البتہ اگر اِن سب حقیقتوں کو نظری مشاہدہ کے ساتھ ساتھ عقلی و فکری مشاہدات کے فلٹر سے بھی گزارا جائے تو کائنات کی بناوٹی ترتیب عصرِحاضر کے سبھی اکتشافات کے مقابلہ میں ایک مکمل معجزاتی اور سبق آموز رہنمائے حیات محسوس ہوگی۔ راقم کی قطعی رائے کے مطابق خداوند کریم کے بنائے گئے کائناتی نظام کو عقلی و فکری مشاہداتی عمل سے گزار کر غیر متوازن اور افراتفری سے بھرپور انسانی معاملات کو یقینی طور پر معیاری اور معتدل شکل دی جا سکتی ہے۔

القرآن: بیشک آسمانوں اور زمین کی بناوٹ میں، رات اوردن کے آنے جانے میں اور ان کشتیوں میں جو انسانوں کے کام آنے والی چیزیں لے کر سمندر میں چلتی ہیں اور اس پانی میں جس کو اللہ نے آسمان سے اُتاراپھر اس سے مردہ زمین کو زندگی بخشی اور اس نے زمین میں سب طرح کے جانور پھیلا دیے اور ہواؤں کی گردش میں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان حکم کے تابع ہیں۔ اُن لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ ( 2 : 164 )

قرآن کی اس آیت کے تحت ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ فاطرِارض وسماں کا اتارا گیا اسکرپٹ ان لوگوں کو عقلیت کی اسناد فراہم کر رہا ہے جو کائناتی بناوٹ کو مشاہداتی نظر سے گزار کر مسلسل تحقیقاتی عمل تک پہنچاتے ہیں۔ بیشمار مخلوقاتِ ربانی میں سے عقل جیسی انمول خاصیت سے نوازے گئے حضرتِ انسان کے لئے یہ ایک ایسی ضروری ترین مشق ہے جس کے ذریعے ہم موجودہ اور آنے والی زندگی میں درپیش تمام تر معاملات کے ساتھ بہترین انداز میں کامیابی کی حد تک نبردآزما ہو سکتے ہیں۔

خدا کے قائم کردہ اس فارمولے پر جو قوم بھی عمل پیرا ہوئی وہ باقی دنیا کو پیچھے چھوڑ کر ترقی کے زینے طے کرتی گئی اور جس قوم نے اس خدائی سکیم سے انحراف کیا رفتہ رفتہ وہ تنزلی میں جکڑتی گئی اور بلآخرصفحہ ہستی سے مٹ گئی۔ اس فارمولے کو ہم ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کمپیوٹر میں کاپی پیسٹ کا ایک آپشن استعمال کیا جاتا ہے جس کے ذریعے ہم کسی بھی فائل کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پر شفٹ کرتے ہیں کمپیوٹر میں موجود اس طریقہء کار میں ایک پہلے سے موجود چیزکوبغیر نئی دریافت کے کسی دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے۔

کمپیوٹر کی دنیا کے اس عمل کے مصداق امتِ مسلمہ مجموعی طور پر عقلی کاپی پیسٹ کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ ہم سب دماغی طور پر اپنے آپ کو مفلوج کر چکے ہیں۔ کمپیوٹر کے کاپی پیسٹ کے عمل کو ہم اپنی زندگی کے معاملات میں بھی استعمال کر رہے ہیں۔ ذہنی و عقلی کاپی پیسٹ کا یہ استعمال اسکول، کالج، مدرسے اور یونیورسٹی کے طالبِ علموں سے لے کر مذہبی معاملات سے وابستہ اندھی تقلید تک اپنی جڑیں مضبوط کر چکا ہے۔ یہ کاپی پیسٹ ہمارے معاشرے کا ایسا ناسور بن چکا ہے جس نے من حیث القوم ہماری ذاتی ذہنی اِختراع کو یرغمال بنا لیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہم عصرِحاضر کے جدید تقاضوں پر مبنی مذہبی، معاشی، معاشرتی، سماجی اور عقلی معاملات کو سلجھانے سے قاصر ہیں۔ چونکہ ہم کاپی پیسٹ کے مضبوط عادی بن چکے ہیں اس لیے ہم ہر معاملے میں پکی پکائی کھیر کو کھا لینا ہی دنیا کا سب سے بڑا معرکہ سمجھتے ہیں۔ اور اس کا قطعی نتیجہ کمزور معاملہ فہمی، مجموعی شعور کا ناپید ہو جانا، ذہنی جمود کا پروان چڑھنا کی صورتوں میں نکلتا ہے۔ مذکورہ بالا کلمات الفاظ کے روپ میں دکھائی نہ دینے والی ایسی بیماریاں ہیں کہ اگر یہ کسی قوم کے اندر پیدا ہو جائیں تو یہ اس قوم کا ترقی کرنا تو درکنار صفحہء ہستی میں اپنا وجود برقرار رکھنا بھی مشکل بنا دیتی ہیں۔

میرے نزدیک اِن سب بیماریوں کی جڑ عقلی کاپی پیسٹ کا اندھا دھن استعمال اور غیر ضروری طور پررواج کے درجہ تک ہمارے معاشرے میں موجود ہونا ہے لہذٰا سوچ بچار کو آخری حد تک پروان چڑھا کر ہی عقلی کاپی پیسٹ جیسی بیماری کا قلع قمع کیا جا سکتا ہے۔ اور ہم معاشرے کو بہترین تحقیقاتی بنیادوں پر قائم کرنے کا آغاز کر سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •