جیسابیج ویسی فصل تو ماتم کیسا؟
عام طور پر ہمارے معاشرے میں بچوں کو قوم کے معمار کی حیثیت دی جاتی ہے۔ بد قسمتی سے یہ حیثیت صرف باتو ں کی حد تک ہی نظر آتی ہے۔ قوم کے معمار کا مطلب ہے قو م کو تعمیر کرنے والے لوگ! یعنی فی الحقیقت کسی بھی قوم کی تعمیر کا آغاز بچوں سے ہوتا ہے اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ قوم کی تعمیر بچوں کی مذہبی، ذہنی، معاشرتی اور سماجی تعلیم کے طریقوں پر منحصر ہوتی ہے۔ ہمارا معاشرہ تعلیم و تدریس کو لیکربے شمارپا ئیدار و ناپائیدارطبقات میں بٹا ہوا ہے۔تعلیم کے یہ مختلف طبقات مدرسہ، گورنمنٹ اسکولز، درمیانے درجے کے پرائیویٹ اسکولز، ہائی کلاس پرائیویٹ اسکولز کی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہیں۔ اگر ہم اپنے بچوں کی تعلیمی زندگی کا گہرائی سے مشاہدہ کریں تو ہم اس نتیجے پر آسانی سے پہنچ سکتے ہیں کہ ہمارے بچے جن کے ہاتھوں میں ہمارے ملک وقوم کی تعمیری اُمید بندھی ہوئی ہے وہ بیک وقت تین طرح کے ماحول سے وابستہ ہوتے ہیں۔ پہلا ماحول جو سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے وہ بچے کو ملنے والا گھریلو ماحول ہوتا ہے۔
Read more
