جیسابیج ویسی فصل تو ماتم کیسا؟

عام طور پر ہمارے معاشرے میں بچوں کو قوم کے معمار کی حیثیت دی جاتی ہے۔ بد قسمتی سے یہ حیثیت صرف باتو ں کی حد تک ہی نظر آتی ہے۔ قوم کے معمار کا مطلب ہے قو م کو تعمیر کرنے والے لوگ! یعنی فی الحقیقت کسی بھی قوم کی تعمیر کا آغاز بچوں سے ہوتا ہے اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ قوم کی تعمیر بچوں کی مذہبی، ذہنی، معاشرتی اور سماجی تعلیم کے طریقوں پر منحصر ہوتی ہے۔ ہمارا معاشرہ تعلیم و تدریس کو لیکربے شمارپا ئیدار و ناپائیدارطبقات میں بٹا ہوا ہے۔تعلیم کے یہ مختلف طبقات مدرسہ، گورنمنٹ اسکولز، درمیانے درجے کے پرائیویٹ اسکولز، ہائی کلاس پرائیویٹ اسکولز کی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہیں۔ اگر ہم اپنے بچوں کی تعلیمی زندگی کا گہرائی سے مشاہدہ کریں تو ہم اس نتیجے پر آسانی سے پہنچ سکتے ہیں کہ ہمارے بچے جن کے ہاتھوں میں ہمارے ملک وقوم کی تعمیری اُمید بندھی ہوئی ہے وہ بیک وقت تین طرح کے ماحول سے وابستہ ہوتے ہیں۔ پہلا ماحول جو سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے وہ بچے کو ملنے والا گھریلو ماحول ہوتا ہے۔

Read more

عقلی کاپی پیسٹ کا طوفان

موجودہ کائنات میں بے شمار مخلوقات خدائی ترتیب کے زیرِسایہ اپنے اپنے دائرہ کار کے مطابق فرائض کی انجام دہی میں مصروفِ عمل ہیں اور اِن لا محدود تخلیقاتِ خدا میں انسان واحد مخلوق ہے جس کو سوچنے کی خوبصورت اور انمول صلاحیت سے نوازا گیا ہے۔ جس کی بدولت یہ اپنے حال اور آنے والے کل کے بارے میں منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔ جن و بشر، شجرو حجر، برگ و ثمر الغرض کائنات کا ذرا ذرا ہر وقت انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور انتہائی درجہ پر دعوتِ فکر کا بیش بہا سامان مہیا کرتا ہے کہ اپنی سوچوں کو جھنجھوڑو اور خوابِ غفلت سے جگاؤ اور غور کرو کہ رینگنے والے حشرات الارض سے لے کر آسمان پر پرواز کرتے ہوئے پرندے، سمندر کی گہری آغوش میں تیرنے اور رہنے والی رنگ برنگی مختلف الماہیت مخلوقات سے لے کر فلک پر جگمگاتے ہوئے ستارے، زمین کی تہوں میں چھپے میٹھے پانی کے انمول تحفوں سے لے کر بے شمار معدنیات کے خزانے، ادنیٰ سی مخلوق کا پھولوں سے رس چوسنا اور پھر رس کا شہد کی صورت اختیار کرنا، انسان کی پیدائش کے حیران کن نظام سے لے کر انسان کے اختتام تک کی خودکار میکانیکی قدرتی ترکیب اور اِس طرح کے ان گنت معجو باتِ فطرت ابنِ آدم کوکائناتی ترتیب وتدویر پر مدبرانہ مشاہداتی ترغیب دلاتے ہیں۔

Read more

ضمیر دوست کتاب کی دُہائیاں

مذہبِ اسلام کے پیرو کار ہونے کے ناطے ہماری زندگی کے آغاز کی بنیاد فاطرِ ارض وسماں کے اتارے گئے صحیفۂ فطرت کی پہلی آیت میں کلی طور پر موجود ہے۔ کائنات میں موجود مختلف مخلوقات کی نقل و حرکت پر غور کرنے سے ایک حقیقت سے پردہ اٹھتا ہے۔ کہ خالق عرض و سماں کی پیدا کردہ اس کائنات میں ”ترجیحات“ کا واضح اور دائمی استعمال یقینی بنایا گیا ہے۔ موجودہ کائنات کے جس حصہ میں زندگی کو پیدا کیا گیا وہ زمین ہے۔ استشنائی طور پر صرف زمین ہی ایسے تمام اوصاف اور وسائل کی جگہ ہے جو زندگی کی نشوونما کے لئے آخری حد تک ضروری ہوتے ہیں۔

Read more

ریسکیو سروس سے مذاق: ذرا نہیں! پورا سوچیے

فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ فوراً ایک نوجوان ٹیلی فون کی طرف بڑھتا ہے۔ رسیور اٹھا کر نرم اور دھیمے لہجے میں چند مخصوص الفاظ بولتا ہے۔”السلام علیکم! ریسکیو 1122 ہم آپ کی کیا مدد کر سکتے ہیں“کالر ہنستے ہوئے جواب دیتا ہے کہ سر ہم روٹیاں پکا رہے ہیں اور ہمارے چولہے میں آگ لگی ہوئی ہے براہِ مہر بانی ہماری مدد کو آئیں اور چولہے میں لگی آگ کو بجھائیں۔

Read more

ذاتی انانیت میں پیامِ اصلاح

اگر بات علم کی حد تک ہی کی جاے توہم سب من حیث القوم غیر معمولی عقل و دانش پر اپنے وجود کی عمارت کو تعمیر کرتے ہوے دِکھائی دیتے ہیں اور اپنی فانی و ناپا ئیدار شخصیت کے ساتھ نا انصافی کرتے ہوئے اپنے منہ سے نکلی ہر بات کو آ خری حد تک درست مانتے ہیں اور درستگی کا بھی وہ انتہائی درجہ اپنانے کی کوشش کرتے ہیں جس میں غلطی کرنے کی ذرا سی بھی گنجائش باقی نہ ہو۔ اِس مفلوک الحال فکری انداز کے پیچھے جو چیززیادہ شدت سے کارفرما ہوتی ہے میرے نزدیک اُسے۔ ”ذاتی انانیت“ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ یہ لفظ اپنے حجم کے اعتبارسے تو بالکل مختصر وجود رکھتا ہے البتہ یہ ایک لفظ پوری بشری معاشرت کے عروج و زوال پر گہرے اثرات مرتب کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

Read more