قیادت کا فقدن اور قومی بحران

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان داخلی اور خارجی محاذ پر ایک بڑے بحران سے گزررہا ہے۔ یہ بحران آج کا پیدا کردہ نہیں بلکہ کئی دہائیو ں سے جاری سیاسی، سماجی اور معاشی پالیسیوں سمیت قیاد ت کے طرز عمل کا بھی ہے۔ قیادت سے مراد محض سیاسی قیادت ہی نہیں بلکہ تمام اداروں سمیت ہر شعبہ کی قیادت اس بحران کی براہ راست ذمہ دار ہے۔ سیاسی اور فوجی قیادتوں نے ماضی میں جس انداز سے ملک چلایا وہ ظاہر کرتا ہے کہ مسئلہ ملک کو قانون کی حکمرانی کے تابع بن کر چلانا مقصود نہیں تھا۔

سب فریقین جب ذاتی مفادات پر مبنی سیاست کاطرز عمل اختیار کرلیں گے تو اس سے ملک کا قومی مفاد ہمیشہ پس پشت چلا جاتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم کسی ایک فریق پر ناکامی کی ذمہ داری ڈال کر باقی فریقین کو بچانے کی کوشش کریں، یہ رویہ حالات کی درست نشاندہی اور مسائل کو سمجھنے او رحل کی طرف بڑھنے سے روکتی ہے۔

جمہوریت میں سیاست او راس سے جڑی قیادت کی اہمیت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ کیونکہ جو سیاسی، انتظامی، سماجی او رمعاشی بگاڑ ہے اس کو حل کرنے کی بڑی ذمہ داری سیاسی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ ہم عملی طو رپر قومی سطح پر سیاسی بونوں کے شکنجے میں ہیں۔ جس قسم کا سیاسی طرز عمل ہماری سیاسی قیادت پیش کررہی ہے بشمول حکمران اور حزب اختلاف کی جماعتیں او ران کی قیادت وہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ بحران کی سنگینی کی نوعیت کیا ہے۔

ہماری سیاسی بحث ومباحثہ نظام، مسائل اور مسائل کی درجہ بندی کی بجائے شخصیات او ران کے ذاتی مسائل کے گرد گھوم رہی ہے۔ سیاست دان ہوں یا اہل دانش یا میڈیا کا محاذ سب ہی افراد کی جنگ لڑرہے ہیں۔ اس لڑائی میں الزام تراشی، وشنام تراشی، محازآرائی، عدم برداشت، کردار کشی او ر ایک دوسرے کو قبول نہ کرنے کی روش غالب ہے۔

عمومی طور پر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ قیادت بڑے سے بڑے مسائل اور بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرتی ہے اور اس کے سامنے چھوٹے چھوٹے مفاد ات کے مقابلے میں بڑی سوچ غالب ہوتی ہے۔ وہ عملی طور پر اپنے طرز عمل سے لوگوں میں مایوسی کی بجائے ایک امید کا پہلو اور یقین پیدا کرتی ہے کہ ہم مسائل سے نمٹ بھی سکتے ہیں اور ایک بہتر خوشحالی بھی۔ لیکن جب قیادت کے سامنے اہداف ذاتی ہوں تو پھر یہ سوال اہم ہوگا کہ قومی مفاد کی جنگ کون لڑے گا۔ یہ جو لوگوں میں قومی سطح پر بداعتمادی کا مسئلہ ہے یہ ایسے ہی پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے قیادت کا وہ طرز عمل ہے جو اس نے کئی دہائیوں سے اختیار کیا ہوا ہے۔

ایک طرف سیاسی قیادت جمہوریت کی جنگ لڑنا چاہتی ہے۔ اس جنگ میں جمہوریت وقانون کی حکمرانی ان کے لیے محض ایک سیاسی ہتھیار ہے۔ کیونکہ ساری قیادت جمہوریت کا درس تو دیتی ہے لیکن اپنی اپنی جماعتوں کی داخلی سطح پر جمہوریت کو مضبوط کرنا ان کا ایجنڈا نہیں۔ یہ عملی طور پر سیاسی جماعتوں کو ایک ذاتی پراؤیٹ کمپنی کے طور پر چلانا چاہتے ہیں جو ان کی خاندانی جاگیر کے سوا کچھ نہیں۔ جب سیاسی جماعتوں کا اپنا داخلی نظام غیر جمہوری ہوگا تو ان سے یہ توقع رکھنا کہ یہ لوگ حقیقی جمہوریت کی جنگ لڑنا چاہتے ہیں، محض خوش فہمی ہوگی۔

اسی طرح ہماری قیادت سیاست اور جرائم کے درمیان بنیادی نوعیت کے فرق کو بھی سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ سیاست اور جرائم کا جو گٹھ جوڑ ہے اس نے عملی جمہوریت یا صاف ستھری سیاست کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں میں اچھے پڑھے لکھے لوگوں کے مقابلے میں جرائم پیشہ افراد بالادست ہیں یا ان کا مقصد سیاست کی مدد سے دولت کا حصول ہے۔ یہ جو عالمی سطی پر کارپوریٹ جمہوریت کا مسئلہ ہے جس میں پیسے کو بنیادی فوقیت حاصل ہوگئی ہے اس کی وجہ سے سیاست اور جمہوریت دولت مند افراد کے قبضہ میں ہے۔ اس قبضہ سے کیسے سیاست او رجمہوریت کو بچایا جاسکتا ہے، یہ سوال توجہ طلب ہے۔

پارلیمنٹ کے مسئلہ کو ہی لے لیں۔ کیا پارلیمانی جمہوری نظام میں پارلیمنٹ کو ایسے چلایا جاتا ہے جیسے یہاں چلائی جارہی ہے۔ حکومت ہو یا حزب اختلاف دونوں کا کردار مایوس کن ہے۔ پارلیمنٹ قومی اور علاقائی سیاسی، سماجی، معاشی اور داخلی و خارجی بحران سے نمٹنے کا ایسا فورم ہے جس نے متبادل حل پیش کرنا ہوتا ہے۔ لیکن یہاں تو وزیر اعظم، وفاقی کابینہ، حزب اختلاف، اسٹینڈنگ کمیٹیاں، پارلیمانی سیکرٹری ہوں یا ممبران اسمبلی سب کی پارلیمانی عدم دلچسپی نے پارلیمانی نظام کی افادیت کو ختم کردیا ہے۔

یہ جو سیاسی نظام کے بارے میں بداعتمادی پائی جاتی ہے اس کی دیگر وجوہات کے علاوہ قومی قیادت کا طرز عمل بھی ہے۔ قومی سطح پر ہر طبقہ کی قیادت کی کامیابی کی کنجی افراد کے مقابلے میں ادارہ سازی یا اداروں کی مضبوطی کا ایجنڈا ہوتا ہے۔ لیکن یہاں ہر شعبہ کی قیادت اداروں کو بالادست بنانے سے گریز کرتی ہے۔ کیونکہ ان کی سوچ یہ ہے کہ اگر ادارے مضبوط ہوں گے تو ان کو ان اداروں کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ اس کے برعکس ان کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ وہ اداروں کے تابع ہونے کی بجائے اپنی پالیسی سے اداروں کو مجبور کریں کہ وہ ہمارے تابع ہوں۔ یہ ہی وہ بنیادی مسئلہ ہے جو قومی سطح پر ادارہ سازی میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔

قیادت کا کمال یہ ہوتا ہے کہ یہ معاشرے میں موجود ہر سطح کی تقسیم کو ختم کرکے ان میں یکجہتی کو پیدا کرنے کا کام کرتا ہے۔ لیکن جب قیادت خود اپنے طرز عمل سے لوگوں کی تقسیم کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرے اور یہ ثابت کرے کہ بس وہی محب وطن ہے او رباقی سب غدار۔ یہ عمل بلاوجہ نہ صرف لوگوں میں تقسیم کی سیاست کو پیدا کرتا ہے بلکہ اس کا ایک عملی نتیجہ نفرت، تعصب کی صورت میں پیدا ہوتا ہے او ربعض دفعہ یہ عمل پرتشدد سیاست کو بھی جنم دیتا ہے۔

اسی طرح قوم میں ایک مسئلہ طبقاتی نظام بھی ہے۔ ایک اچھی او ربہتر قیادت طبقاتی مسئلہ کے خاتمہ کو اہمیت دیتی ہے اور یہ مسئلہ ان کی ترجیحات کا ہوتا ہے۔ لیکن آج ہماری سیاست، معیشت، سماجیات سمیت ہر شعبہ میں طبقاتی مسئلہ غالب اور انصاف بھی طبقوں میں بٹ کر رہ گیا ہے۔ کمزور یا طاقت ور کی بنیاد پر انصاف پر مبنی نظام معاشرے کو تقسیم کرنے کا سبب بنتا ہے اور لوگوں میں لاتعلقی کا احساس بھی۔

اس وقت سیاسی او رمعاشی سطح پرجو بحران ہے اس سے نمٹنے کا ایک طریقہ باہمی اشتراک یا مفاہمت کی سیاست سے جڑا ہے۔ مفاہمت سے مراد یہ نہیں ایک دوسرے کے جرائم پر پردہ ڈالا جائے بلکہ قومی معاملات پر یکسوئی درکار ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو قبول نہ کرنے یا ایک دوسرے کو ناکام بنانے کے کھیل کا حصہ بن جائے تو بحران حل نہیں ہوتے بلکہ یہ اور زیادہ بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔ مسائل سے نمٹنے کا ایک طریقہ دنیا نے عدم مرکزیت پر مبنی نظا م میں تلاش کیا ہے۔ یعنی اختیارات و وسائل کو زیادہ سے زیادہ نچلی سطح پر لوگوں کے ساتھ جوڑا جائے۔ لیکن ہماری قیادت عدم مرکزیت کی بجائے مرکزیت پر کھڑی ہے۔ یعنی اختیارات کا مرکز وہ اپنی ذات یا چند اداروں تک ہی محدود کرکے نظام کو چلانا چاہتی ہے، جو ممکن نہیں۔

ہمیں عملی طور پر ایسی قیادت درکا رہے جو ہجوم کو ایک قوم میں تبدیل کرے۔ یہ کام مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ جب قیادت کے سامنے قومی اہداف واضح ہوں اور قوم کا اس پر اتفاق ہو تو یہ مل کر اس جنگ میں جیت بھی سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ قیادت خود بھی شفاف اورجوابدہی پر مبنی نظام پر یقین بھی رکھتی ہے۔ سیاست او رجمہوریت کی کامیابی کی ایک بڑی شرط خود احتسابی پر مبنی نظام ہے او ریہ ہی ہماری بڑی ترجیح بھی ہونی چاہیے۔

اس وقت ہمیں بحران سے نکلنے کے لیے روایتی طور طریقوں کی بجائے غیر معمولی اقدامات کو فوقیت دینی ہوگی یعنی کڑوی گولیا ں کھانی ہوں گی۔ لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ہم داخلی سطح پر یہ اعتراف کریں کہ ہم سے غلطیاں ہورہی ہیں اور ہم بھی برے حالات کے ذمہ دار ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم بطور قوم یا افراد سیاسی قیادتوں کی پوجا پاٹ یا شخصیت پرستی یا اندھا دھند اعتماد یا محبت کرنے کے جنون سے باہر نکلیں اور قیادت پر دباؤ بڑھائیں کہ ہمیں ان کا روایتی اور ذاتی مفاد پر مبنی کھیل قبول نہیں۔ اگر ہمیں یہ جنگ جیتنی ہے تو سیاسی قیادت کو قانون، سیاست، جمہوریت او راحتساب کے دائرہ کار میں لانا ہوگا، وگرنہ سیاست کا تماشا ختم نہیں بلکہ اور زیادہ بگاڑ پیدا کرے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •