عارفانہ حکومت اور معرفت کی باتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس میں شک و شبے کی کوئی گنجائش نہیں کہ موجودہ حکومت ایک عارفانہ حکومت ہے اور غیبی طاقتوں سے براہ راست رہنمائی حاصل کر رہی ہے۔ اس کی پہلی دلیل یہ ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا میں پہلی بار مختلف وزارتوں کے لئے جب جواہر نایاب کے چناؤ کا وقت آیا تو غیبی طاقتوں سے مدد لی گئی اور پھر سب نے دیکھا کہ ہر ایک اپنے کام میں ایسا فٹ بیٹھا ہے جیسے انگلی میں انگوٹھی اور انگوٹھی میں نگینہ۔ اس کے باوجود اگر کچھ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ حکومت کے نام پر مذاق ہو رہا ہے اور کچھ لوگ حکومت کو حکومتِ مخولیہ بھی کہہ رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ عارفانہ مشکل ہے کہ عارفوں کی بات علامتی، تمثیلی اور استعاراتی ہونے کے ناطے اور حقائق کے بطن البطون سے جنم لینے کی بنا پر صرف عارفوں کو ہی سمجھ آ سکتی ہے۔ اسی لئے اقبال نے بھی کہا تھا کہ ہو دیکھنا تو دیدہ دل وا کرے کوئی۔

ویسے تو ہر ایک کو اپنی دیدہ دل خود وا کرنی پڑتی ہے، عارف صرف اشارہ کرسکتا ہے اور گرہ اوہام میں جکڑے ہوئے انسان کو خود کھولنی پڑتی ہے لیکن بھر بھی ہم اس مختصر تحریر میں رمز کشائی کی یہ کوشش کریں گے تاکہ ان لوگوں کا بھی کچھ بھلا ہو جائے جن کی خارجی نگاہ موجودہ حکومت کی عارفانہ و عمیق بصیرت تک رسائی حاصل نہیں کر پائی اور دھوکے میں پٹوار خانے کا ایسے رُخ کر رہی جیسے نعوذ بااللہ نگاہ نہ ہو غالب کا دلِ ناداں ہو جو طوافِ کوئے ملامت کی ضد کررہا ہو۔

ہمیں یہ رمز کشائی کرنے کے لئے کوئی زیادہ دور جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ابھی چند روز پہلے حکومت کے اس مشورے پر غور کر لیتے ہیں کہ ’روٹیاں دو نہیں ایک ہی کافی ہے‘۔ ہم سب کو علم ہے کہ کچھ پٹواری الصفت لوگ اس حکمت کا مذاق اُڑا رہے ہیں مگر جیسے شہد گدھوں کے منہ کے لئے نہیں ہوتا ویسے ہی اتنی گہری بات پٹواریوں کے سمجھنے کی نہیں ہوتی۔

اگر آپ آزمانا چاہتے ہیں تو یاد رکھیں کہ آپ ایک بسیار خور انسان ہیں ورنہ صدیوں سے آزمودہ اس نسخے کو آزمانے کی آج تک کوئی ضرورت نہیں پڑی۔ پھر بھی پیٹ کے ہاتھوں مجبور ہوکر اگر آپ کو ضد سی پڑی ہے تو آزمائش کے لئے کبھی دو کی بجائے ایک روٹی کھانے کی کوشش کریں اور آپ پر راز منکشف ہونا شروع ہوجائیں گے۔ آپ دیکھیں گے کہ جو نوالے پہلے آپ تیزی سے ، بے دھیانی سے منہ میں ٹھونستے چلے جاتے تھے اب آرام آرام سے کھا رہے ہیں۔ ہر نوالہ پوری طرح چبا رہے ہیں۔ کھانے کے دوران آپ کی پوری توجہ کھانے پر ہے۔ آپ کسی کو نظر اٹھا کر دیکھ رہے ہیں اور نہ ٹکٹکی باندھ کر۔ آپ نہ یادِ ماضی سے غمگیں ہیں اور نہ دہشتِ فردہ سے نڈھال ، بس کھانے کے وقت کھانا کھا رہے ہیں۔ اس سے قبل کھانا آپ کو کھاتا تھا مگر اب پہلی بار آپ کھانا کھا رہے ہیں۔ آپ لمحہ موجود میں جی رہے ہیں۔

لمحہ موجود میں جینے کی حکمتیں بھی کوئی عارف ہی جان سکتا ہے تاہم سردست اتنا ہی کہ اگر نیوٹن سیب کے گرتے سمے لمحہ موجود میں نہ جی رہا ہوتا تو سیب گرنا معمول کا واقعہ تھا۔ روز سیب گرتے تھے اور وہ یہ سوال کبھی نہ کرتا کہ سیب نیچے کیوں گرا ہے اُڑ کر میرے منہ پر کیوں نہیں لگا۔ اسی طرح یہ بھی ہمارا روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ جب ہم کوئی کام کرتے وقت وہ کام نہیں کر رہے ہوتے اور ہمارا دھیان کسی دوسری جانب بٹا ہوتا ہے تو وہ کام کر کے بھی ہمیں یوں لگتا ہے جیسے ہم اس کا حق ادا نہیں کر سکے۔

مثلاً جب ہم گھر میں رہتے ہوئے پوری طرح گھر پر نہ ہوں دفتر پہنچتے ہی ہم گھر پہنچ جاتے ہیں کیونکہ گھر میں رہتے ہوئے ہم دفتر میں تھے اور اب دفتر میں رہ کر ہم گھر پر ہوں گے۔ ہم جہاں ہوتے ہیں وہاں پر نہیں ہوتے اس لئے کہ ہم نے لمحہ موجود کا حق ادا نہیں کیا ہوتا۔ یہ بھی ہمارا روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ جس کام کی ہم نیت کرلیتے ہیں وہ کام اس وقت تک ہمارا پیچھا کرتا ہے جب تک ہم اس کا حق ادا نہ کردیں۔ ہم حق صرف اسی کام کا ادا کر پاتے ہیں جسے کرتے ہوئے ہمارا رُواں رُواں وہ کام کر رہا ہو۔

اب خود سوچیں کہ جب دو روٹیاں کھانے والے بسیار خور صرف ایک روٹی کھانے لگیں گے تو قوم پر اس کے کس قدر گہرے اثرات مرتب ہوں گے؟ ہر ایک لمحہ موجود میں پوری طرح بیدار ہوگا تو نیوٹن کی طرح سوال اٹھائے گا۔ جب سوالات اٹھیں گے تو جواب تلاش کئے جائیں گے۔جب جواب تلاش ہوں گے تو قوم کو جرات تحقیق ملے گی اور اس سے جڑی ایک ہمت بھی۔ اس طرح اور بھی لاکھوں معجزے ہوں گے اور پاکستان ترقی کی شاہراہ پر روشنی کی رفتار سے چلنے لگے گا۔ ایسے معجزات جن کا ظہور ہنوز باقی ہے۔ میں انہیں معجزات اس لئے کہہ رہا ہوں کہ ان واقعات کی وجہ بننے والی یہ باتیں اس تقویم میں وقوع پذیر ہوتی ہیں جہاں عصررواں کے علاوہ بھی ایسے کئی زمانے ہیں جن کا نام نہ کسی قاموس میں ہے اور نہ کسی وبسٹر کو اس کا علم تھا۔ ایسے میں حکومتِ رواں کے بارے میں بات کرے تو کون کرے؟ اس باب میں بڑے بڑے بحر العلوم بھی گونگے ہو کر دانتوں میں انگلیاں دبائے بیٹھے ہیں اور اگر کچھ کہہ پاتے ہیں تو صرف یہی: عارف دی گل عارف جانے !

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>