لڑکی کا اغوا یا رضامندی سے فرار
بیان ازاں مسمات عذراشاہین دختر چوہدری شاہین علی قوم آرائیں سکنہ گلی نمبر 6 مکان نمبر 1595، رحمانیہ سٹریٹ گڑھی شاہومین بازار، لاہور بابت مقدمہ نمبر 131 / 16 تھانہ گڑھی شاہو زیر دفعہ 365 بی، تعزیر اتِ پاکستان.
بر حلف بیان لیا کہ عاقلہ، بالغہ اور تعلیم یافتہ ہوں۔ شریف گھرانے سے تعلق ہے۔ والدصاحب زمیندارہ کرتے ہیں۔ والدہ دینی معلم ہیں۔ محلے کے بچوں کو سپارہ پڑھاتی ہیں۔ میں بھی صوم و صلوٰۃ کی پابند ہو ں اور اپنا نفع نقصان خوب سمجھتی ہوں۔ 3 جنوری 2016 کا وقوعہ ہے۔ منگل کا دن تھا۔ تقریباً ساڑھے آٹھ بجے کا وقت تھا۔ گھر پر کوئی نہ تھا۔ میں باورچی خانے میں ناشتہ تیار کر رہی تھی۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے سو چا گوالا ہو گا۔
دودھ کا برتن اٹھا کر باہرآئی۔ گوالا تودکھائی نہ دیا البتہ دروازے سے کچھ فاصلے پر ایک پک اپ وین کھڑی تھی۔ میں ابھی گلی میں دیکھ ہی رہی تھی کہ اچانک کسی نے میرے منہ پر ہاتھ رکھا اور مجھے ایک نشہ آور رومال سونگھا دیا۔ ہوش میں آئی تو میرے ہاتھ رسیوں میں بندھے ہوئے تھے۔ ایک داڑھی مونچھوں والا آدمی (جس کا نام نہ جانتی ہوں مگر سامنے آنے پر شناخت کرسکتی ہوں ) رائفل اٹھائے مجھے گھور رہا تھا۔ میں نے واویلا کرنے کی کوشش کی تو اُس نامعلوم فرد نے میری ناک پر رومال رکھ دیا اور میں دوبارہ بے ہو ش ہو گئی۔
کافی دیر بعد ہوش آیا تو منہ پر سلوشن ٹیپ چپکی ہوئی تھی اور میں ایک بڑے سے ہال نما کمرے میں قید تھی۔ میں نے اِس کمرے میں تین دن اور چار راتیں گزاریں۔ اِس دوران افضل صادق ولد صادق محمد نامی شخص میرے ساتھ فحش کلامی اور بد فعلی کرتا رہا۔ چوتھے روز افضل صادق کچھ کاغذات لے کر آیا اوراُن پر دستخط کرنے اور انگوٹھا لگانے کے لیے مجبور کرنے لگا۔ میں نے انکارکیا اور مزاحمت کی کوشش کی تو وہ غصے سے آگ بگولاہو گیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے لگا۔
میں سہم گئی اور تمام کاغذات پر دستخط کر دیے۔ انگوٹھو ں کے نشان لے چکنے کے بعد افضل صادق اور اُس کے نامعلوم ساتھی نے مجھے سفید رنگ کی ایک پک اپ وین میں بٹھایا اور آنکھوں پر پٹی باندھ دی۔ بعد ازاں وہ مجھے چلتی گاڑی سے فٹ پاتھ پر پھینک کے فرار ہو گئے۔ میرے بازو اور گھٹنے چھل گئے تا ہم کوئی سنگین چوٹ نہ آئی۔ بڑی مشکل سے پٹی اتاری۔ مغرب اور عشاء کا درمیانی وقت تھا۔ سٹرک پر زیادہ ٹریفک نہ تھی۔ کافی دیر تک فٹ پاتھ پہ پڑی کراہتی رہی۔ آخر ایک راہ گیر کو ترس آگیا اور اُس نے مجھے بتایا کہ میں اِس وقت رینالہ خورد ضلع اوکاڑہ میں ہو ں۔ اُسی کے فون سے میں نے اپنے والد صاحب کا نمبر ملا یا جو تقریباً تین گھنٹوں بعد بہ ہمراہ پولیس جائے مذکورہ پر پہنچ گئے۔
××× جرح بربیان مسمات عذرا شاہین بہ جانب ملزم افضل صادق بذریعہ فاضل کونسل ذوالفقار گھمن ایڈوکیٹ ہائی کورٹ ×××
میری والدہ کا نام شازیہ شاہین ہے۔ دو بھائی ہیں۔ دونوں مجھ سے چھوٹے ہیں۔ بھائیوں کے نام اصغر شاہین اور اکبر شاہین ہیں۔ اصغر شاہین نویں جماعت میں پڑھتا ہے۔ اکبر شاہین پانچویں جماعت کا طالب علم ہے۔ دونوں گورنمنٹ ہائی سکول مزنگ میں زیر تعلیم ہیں۔ یہ جھوٹ ہے کہ میرے دونوں بھائی بہ روز وقوعہ سکول سے غیر حاضر تھے۔ یہ سچ ہے کہ میری والدہ وقوعے سے ایک یوم قبل اپنے میکے بہ مقام پاکپتن شریف گئی ہوئی تھی۔
یہ جھوٹ ہے کہ میں افضل صادق کے عشق میں مبتلا تھی اور اُس سے فون پر رازو نیاز کی باتیں کرتی تھی۔ مجھے علم نہ ہے کہ افضل صادق کس پیشے سے منسلک تھا۔ (از خود کہا میں ملزم افضل صادق کو وقوعہ مذکورہ سے پہلے بالکل نہ جانتی تھی) ۔ یہ سچ ہے کہ میں کڈز گرامر سکول اچھرہ میں ملازمت کرتی رہی ہوں۔ میں وہاں چھٹی اور ساتویں جماعت کے بچوں کو انگریزی، اردو اور اسلامیات پڑھاتی تھی۔ سکول کا رقبہ تقریباً ایک کنال ہو گا۔
مجھے علم نہ ہے کہ اِس وقت کڈز گرامر سکول میں کتنے بچے زیر تعلیم ہیں۔ (از خود کہا میں نے وہاں محض ساڑھے تین ماہ نوکری کی) ۔ یہ سچ ہے کہ کڈ ز گرامر سکول میں مخلوط طرز ِتعلیم رائج تھا۔ یہ بھی سچ ہے کہ وہاں پر مرد اور خواتین اساتذہ ایک ہی چار دیواری کے اندر درس و تدریس کا فریضہ سر انجام دیتے تھے۔ یہ جھوٹ ہے کہ افضل صادق بھی متذکرہ بالا سکول میں درس و تدریس کے فرائض سر انجام دیتا تھا (از خود کہا میرے سکول چھوڑنے سے قبل یا اس کے بعد ایسا ہوا ہو تو کچھ نہ کہہ سکتی ہو ں ) ۔
یہ جھوٹ ہے کہ افضل صادق کے ساتھ میرا معاشقہ وہیں پروان چڑھا اور ایک بار مجھے احاطہ سکول میں اس کے ساتھ گلچھرے اڑاتے ہوئے پکڑا بھی گیا۔ یہ جھوٹ ہے کہ پرنسپل گڈز گرامر سکول نے میرے مشکوک اخلاق و کردار کو جواز بنا کر مجھے نوکری سے برخاست کر دیا تھا۔ (از خود کہا مجھے نوکری سے بر خاست نہ کیا گیابلکہ میں نے خوداستعفٰی دیا) ۔ میں نے کڈز گرامر سکول سے ذاتی مصروفیات کی بنا پراستعفٰی دیا۔ ذاتی مصروفیات سے مراد، امور ِخانہ داری اور دیگر گھریلو معاملات ہیں۔
یہ سچ ہے کہ آسیہ رحمان نامی ایک خاتون متذکرہ بالا سکول میں میری کولیگ تھی۔ مجھے علم نہ ہے کہ آسیہ رحمان نے میرے نوکری سے مستعفٰی ہونے کے ضمن میں دیگر اساتذہ کو کیا وجوہات بتلائیں۔ یہ سچ ہے کہ مذکورہ سکول چھوڑنے کی ایک وجہ پرنسپل نعیم الرحمان کا غیر اخلاقی اور ناروا سلوک بھی تھا۔ یہ جھوٹ ہے کہ تہمت سازی، بہتان طرازی اور جعلسازی میرا شیوہ اور وتیرہ ہے۔ یہ جھوٹ ہے کہ میں نے دوران جرح عدالت ہٰذا کے رو برو غلط بیانی سے کام لیا اور حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی۔
یہ سچ ہے کہ وقوعے سے چند ایام قبل میرے لیے چوہدری نور علی کا رشتہ آیا تھا۔ مجھے علم نہ ہے کہ چوہدری نور علی پہلے سے شادی شدہ تھا یا نہیں۔ یہ جھوٹ ہے کہ میرے والدین میری رضا مندی کے بغیر میری شادی کرنا چاہتے تھے (از خود کہا میں ایک مشرقی لڑکی ہوں اور والدین کی رضا میں ہی میری رضا ہے ) ۔ یہ جھوٹ ہے کہ میں نے اپنی آزاد مرضی کا استعمال کرتے ہوئے افضل صادق سے کورٹ میرج کی اور اب عدالت میں جھوٹا بیان دے کر ایک بے گناہ فرد کو نا حق پھنسوا رہی ہوں۔ یہ جھوٹ ہے کہ میرے والد نے افضل صادق کے خاندان سے دس لاکھ روپے نقد بہ عوض صلح نامہ طلب کیے ہیں۔ یہ بھی جھوٹ ہے کہ میرا بیان آزاد مرضی پر مبنی نہ ہے اور اگر میں نے افضل صادق کے حق میں گواہی دی ہوتی تو میرے والد اور چچا مجھے جان سے مار دیتے۔
خالد اختر کچھی
مجسٹریٹ درجہ اول
15۔ 04۔ 2016


