میرے چارہ گر کو نوید ہو!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گذشتہ دنوں فضا میں خان صاحب کی تیسری عقد ریزی پر خطرات منڈلا نے کی خبریں بڑی شدُو مد سے پردہ سیمیں پر نمودار ہوئیں اور ساتھ ہی ان کو حکومت کی روانگی کی بھی صدائیں سرسراہٹ کرتی محسوس کی گئیں۔ چونکہ ان واقعات کی بابت احباب کی نظرین ہر دو کو ابتدا کو ہی سے تر چھویں زاویوں دیکھ رہیُ ہیں لہذا ان خبروں کو حقیقت مان لینے میں کچھ بھی تساہل نہ کیا گیا۔ شوشل میڈیا کے علاوہ چند تجزیہ نگاروں نے بھی اس رائے کا اظہار کر دیا کہ یقینا ایسا ہی کچھ ہونے والا ہے۔

خان صاحب کی حکومت اور شادی دونوں کا آپس میں گہرا تعلق مانا جاتا ہے اور ہر دو ایک دوسرے کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں لہذا ایک گئی تو دوسری بھی نہ بچ سکے گی ایسا کچھ گمان کیا جاتا رہا ہے۔ یک دم شادی اور پھر حکومت کا ملنا خان صاحب اور بشری بیگم کے شب و روزانہ طویل چلوں استخاروں اور ستاروں کی نکل و حرکت کو طلسماتی قوت سے اپنی من مرضی چالوں پر مامور کرنے سے ہی ممکن گمان کیا جاتا ہے۔ کہا یہ بھی جاتا رہا ہے کہ جناب عمران خان محترمہ ریحام خان سے رشتہ ازواج مین بندھنے سے پہلے ہی بشری بیگم کے حصارِ طلسمِ پیری میں آ چکے تھے اور ان سے اپنی اور اپنے ستاروں کی ممکنا چالوں کی بابت راہنمائی لیتے رہتے تھے شاید یہ بھی ممکن ہے کہ جب ریحام خان نے بڑی شد و مد کے ساتھ سیاسی میدان میں اپنے جوہر دکھانے کی کوشش کی تو خان صاحب نے انہیں منع کردیا کہ ستارے ایسا نہ چاہتے ہوں کہ ریحام پی ٹی آئی کے فورم سے سیاست کریں۔

اور پھر بات جب حد سے بڑھی تو دونوں میں علیحدگی ہوگئی اور یوں خان صاحب پیر و مرید کے تعلق سے باہر نکلے اور اسیرِ زلف ِ پیر کے مرید ہو گے۔ اسی اثناء میں بشری بی بی اور مانیکا میں علیحدگی ہوئی اور بمطابق شریعت بشری بی بی نے عدت مکمل ہوتے ہی عقد ثانی میں قدم رنجاء فرما دیا اور یوں بشری اور خان رشتہ ازدواج میں بندھ گے۔ اب عمران خان ان کے ستاروں اور سیاست کی چالوں پر بشری بی بی کا براہ راست قبضہ ہوگیا اور خان صاحب بشری بی بی کی ہدایات پر سیاست کی اور حکومت بھی حاصل کی۔

مگر ایک بات جو ہماری ملکی سیاست میں بہت اہم ہے وہ یہ کہ جو بھی سیاسی جماعت انتخابات کے بعد جیت اور حکومت کی حقدار ٹھہرائی جاتی ہے اس کو ہمارے ملک کے خاص حلقے یعنی اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد بھی حاصل کرنا ضروری ہوتی ہے۔ اب ان پہ بشری بی بی کا جادو چلا کہ نہیں مگر اگر چلا ہے تو پھر سع چڑھ کر بول رہا ہے۔ باوجود اس امر کے کہ عمران حکومت گذشتہ آٹھ ماہ میں اپنے غیر معمولی انتخابی وعدوں دعوؤں اور منشور پر عمل کرنے میں تا دم تحریر ناکامیاب ہی دکھائی دے رہی ہے اور جس طرح کے اس نے عوام سے وعدے کیے ہیں موجودہ ملکی معاشی صورت حال روز بروز بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے عوام کی حالت زار دگر گوں و بدحال ہے مگر خان صاحب کا کہنا ہے کہ انہیں ملک شدید ترین معاشی بحرانی صورت میں ملا لہذا ہم تو سارا بوجھ عوام پر ہی ڈالیں گے کیونکہ شاید روحانی پیغام یہی ہے کہ ایسا کیا جائے تاکہ عوام اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا سیکھیں۔ اب تک کی خان حکومت کارکردگی خان اور ہی ٹی آئی کے منشور سے کہیں کوسوں دور ہے وزراء صرف پچھلی حکومتوں کی چتہ پر ماتم کے علاوہ ابھی تک کچھ اور کارکردگی دکھانے میں ناکام ہیں۔ اسمبلی ہال مچھلی منڈی اور جگت بازی کا اڈا بن چکی ہے۔ کوئی قانون سازی نہ ہوسکی ہے۔

گمان غالب ہے کہ شاید کسی نئے چلے کی تیاری ہو رہی ہے کہ عوام کو ایک نئے ٹرک کی کون سی بتی کے پیچھے لگایا جائے مگر تاحال وہ بتی کہیں ستاروں کی چال میں گم گئی معلوم ہوتی ہے

ایک بات کی وضاحت خان صاحب نے دے دی ہے کہ دشمنوں کے منہ میں خاک ان کا اور بشری بی بی کا ساتھ کہیں چھوٹنے والا نہیں ہے اور یہ کہ وہ دونوں اک دوجے کے لئے بنے ہیں کسی اینکر نے مزید وضاحت چاہی تو خان صاحب نے فیصدی حدوں کو بھی پار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اور بشری بی بی کے بارے میں خبریں من گھڑ ت اور بے بنیاد ہیں اور ان میں د و سو فیصد کوئی سچائی نہیں ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوگی کہ جناب عمران خان محترمہ بشری بی بی سب تا حال ایک ہی پیج پر ہیں اور ان میں ربط و رابطہ قائم ہے تو پھر غم کس بات کا ہے حکومت اور حکومتی کارکردگی ثانوی ہے اصل شے ربط جے رابطہ ہے اسے درست جگہ اور مضبوط ہونا چاھیے۔

ایک اور خبر ہوا میں اڑتی ہوئی پہنچی کہ خان صاحب نے فرمایا ہے کہ یہ پارلیمانی نظام ہی دراصل غلط ہے اور وہ اسلامی صدارتی نظام کی نئی اصطلاح کے ساتھ کسی ایسے نظام کے خواہاں ہیں جو انہیں مکمل خودمختاری دے اور وہ جو چاہیں کر سکیں اور انہیں کسی اپوزیشن کا سامنا نہ ہو یہ درحقیقت اپوزیشن ہی ہر راہ میں رکاوٹ ہے لہذا وہ مائینس اپوزیشن فارمولا چاہتے ہیں۔ خان صاحب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایسا ہی کچھ خواب ایک سابق وزیر اعظم امیر المومنین بننے کے روپ میں بھی دیکھا تھا تو اس کا انجام سب کے سامنے ہوا۔ عوام نے 73 ء کے آئین کو اتفاق رائے سے اپنا راہبر مانا ہے اس کے برعکس ہر نظام کی عوام نے بھر پور مخالفت کی ہے لہذا آئین کی خد و خال کو بگاڑنے کی کوشش آئین سے غداری ہے اور آئین سے غداری ملک سے غداری ہوتی ہے

ہم خان صاحب سے یہی عرض کریں گے کہ وہ اپنی صفوں کی نئی منصوبہ بندی کریں وزراء کو کام پر لگائیں نواز و زرداری مرثیہ گوئی سے منع کریں۔

خان صاحب کا اپنی روحانی پیشوا و شریک حیات کا رشتہ مضبوط ہے اور مقتدر حلقائی رابطہ بھی اپنی جگہ کھڑا ہے اور من چاہے روحانی فیصلوں کو روبعمل کرنے اور ان کی تائید کرتے رہنے کا بھروسا بھی دلا دیا ہے۔
ہم سب ایک پیج پر ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •