ایک ملاقات

کل کی شام ایک یادگار اور امید افزا شام بنکر ابھری۔ جب میں اور بینا گوئندی قریب شام سات بجے قدر تاخیر سے یعنی ایک گھنٹہ ٹریفک کے بے ہنگم ہجوم سے زگ زیگ کرتے برادر فکر و نظر جناب وجاہت مسعود صاحب کے دولت خانہ پر حاضر ہو گئے بہن تنویر اور بیٹی کامنی نے فقید المثال خوش آمدید کہا۔ نیلم احمد بشیر پہلے تشریف لا چکی تھیں۔ وجاہت بھائی سے یہ ملاقات گو عرصہ دراز کے بعد ہوئی

Read more

گرینڈ ڈائیلاگ

پاکستان کا سیاسی ماحول تو ہمیشہ کی طرح گرم ہی ہے اور یہ ایسا ہی رہے گا جس کی دو نہایت بنیادی وجوہات ہیں۔ اول انتخابات میں نامعقول مداخلت اور انتخابی نتائج پر سیاسی جماعتوں کا عدم اعتماد آج ایک جماعت پسندیدہ ہے تو کل دوسری، چلیں ایسا ہی سہی مگر یہ جو باری باری ان جماعتوں کی قیادت کو زیر عتاب لانا بھی تو ایک ریت بن چکا ہے۔ مگر صاحب اس کی ذمہ دار بھی سیاسی قیادت ہی

Read more

عمران خان کا نظریہ کیا ہے؟

عمران خان نوے کی دہائی کے آخری حصے میں سیاسی میدان میں داخل ہوئے اور اپنی ایک سیاسی جماعت تحریک انصاف کے نام سے بنائی۔ سابق وزیراعظم جناب عمران خان پاکستان کے سیاسی افق پر باقاعدہ طور پر جنرل پرویز مشرف کے دور میں ابھر کر سامنے آئے اور انہوں نے پرویز مشرف کے غیر آئینی اقدامات کا ناصرف خیرمقدم کیا بلکہ ان کے اقدامات کو سراہا۔ بقول ذرائع انہیں حکومت میں شمولیت کی دعوت بھی دی گئی۔ وہ اپنی

Read more

وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد یا ہائبرڈ نظام کی ناکامی اعتراف!

  یہ محض ایک اتفاق ہے یا اس کے پیچھے بھی کوئی سازش یا دانش چھپی ہے کہ پاکستان تاریخ میں واحد کامیاب ہونے والی تحریک عدم اعتماد واقع ہو ہی گئی۔ معاملہ کچھ اس طرح سے ہے کہ 2018ء کے انتخابات کے نتائج کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت جناب عمران خان کی سربراہی میں قائم کرائی گئی۔ ریاست کے مقتدر اداروں کا خیال تھا کہ اب تک جو دو سیاسی جماعتیں یک بعد دیگر حکومتیں بناتی رہی

Read more

عوام کا فیصلہ

ملک کے حالات جوں کے توں ہیں لہذا قریبا ایک سال کا عرصہ بیت گیا کوئی مضمون کوئی کالم نہیں لکھا مگر کب تک خاموش رہیں ایک کے بعد ایک تماشا ایک ظلم برپا ہے مملکت خداداد پاکستان میں۔ ایک حساس شخص یا تو مر جائے یا پھر شور مچا دے۔ اب گزشتہ دنوں کا واقعہ لے لیں ایک فرض شناس افسر جو بدقسمتی سے سری لنکا سے ایک فیکٹری کا منیجر تھا دین کے نام پر ”ایمان پرور“ ہجوم

Read more

دعا کی ضرورت ہے

واصف علی واصف صاحب سے اپنی پہلی ملاقات اور ان کے دو ارشادات کے حوالے سے ایک ”خون کے رشتے خونی ہوتے ہیں“ میری گزشتہ تحریر کا عنوان تھا۔ آج انہیں کے فرمائے ہوئے دوسرے جملے کو موضوع تحریر بنا رہا ہوں۔ واصف صاحب مملکت خداداد پاکستان کی حالت زار پر فرمایا تھا ”دعا کریں دعا کی ضرورت ہے“ پاکستان کی تہتر سالہ عمر میں ایک بھی لمحہ ایسا نہیں ملتا کہ ہمارے ملک یا اس کے باسیوں نے آزادی

Read more

خون کے رشتے خونی ہوتے ہیں!

ہماری جناب محترم اشفاق احمد خان صاحب سے ملاقات محترمہ بینا گوئندی کے توسط سے اس وقت ہوئی جب خان صاحب اردو سائنس بورڈ کے سربراہ تھے اور بینا گوئندی وہاں شعبہ حیاتیات میں سکالر تھیں۔ چونکہ میں اور بینا گوئندی رشتہ ازواج سے منسلک تھے لہذا مجھے اپنے آفس سے واپسی پر بینا کو اردو سائنس بورڈ سے پک کرنا ہوتا تھا چونکہ بینا گوئندی کا نام علمی اور ادبی حلقوں میں اس وقت تک بہت نمایاں ہوچکا تھا۔

Read more

جمال حق میں جلوے ہی جلوے ہیں

خود شناسی کا سفر سر سے شروع ہوتا ہے۔ وہ جو اقبال نے کہا۔

”اپنی خودی پہچان او غافل افغان“ اب اگر یہاں ”افغان“ کی جگہ ”انسان“ کا لفظ لکھ رکھئے تو جس پہچان کا سفر ہم شروع کریں گے وہی سفر خود شناسی کا سفر کہلائے گا۔ خود شناسی کو اگر عام فہم الفاظ میں بیان کیا جانا ہے تو اوپر لکھے گئے اقبال کے مصرعے سے بہتر تعریف شاید ممکن نہ ہو۔

Read more

حقیقت موت و حیات

موت برحق ہے اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا یہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ مگر موت ہے کیا؟ بعض کے نزدیک یہ ایک ناقابل حل معمہ ہے تو چند اس کا سراغ لگانے میں بھی لگے ہیں۔ بعض اسے انسانی حیات کا ایک پروسیس مانتے ہیں کہ یہ ایک واقعہ ہے جیسے جلد یا با دیر رونما ہونا ہی ہے۔ کون کیا سوچتا ہے کیا سمجھتا ہے موت کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ موت و حیات نظام

Read more

شہادت (گواہی) امانت ہے اسے حقدار تک پہنچائیں!

امام علی علیہ السلام کی ایک زرہ گم ہو گئی یا یوں کہئے کہ چوری ہو گئی۔ خلیفہ وقت حضرت علی رض نے وہ زرہ بازار میں ایک دکان پر دیکھ لی اور اس کا مطالبہ کر دیا۔ دکاندار کے انکار پر معاملہ قاضی تک جا پہنچا۔ قاضی نے علی مرتضی علیہ السلام سے پوچھا کہ آپ کا دعوی اس زرہ پر ہے! کیا آپ کے پاس کوئی گواہ ہے جو یہ گواہی دے کہ آپ کا اس زرہ پر دعوی درست ہے، امام علی نے اپنے بیٹے حضرت حسن علیہ السلام کو گواہی کے لئے ہیش کیا تو قاضی نے امام حسن کی گواہی قبول کرنے سے انکار کر دیا حضرت علی علیہ السلام نے قاضی سے سوال کیا کہ کیا تم حسن کی گواہی کو جھوٹا مانتے؟

Read more

سہیل وڑائچ اور میرے چند دوست

سجاد حیدر یلدرم نے اپنے دوستوں کا ذکر نہایت ہی دلفریب انداز میں اپنے مضمون ”مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ“ میں کیا ہے۔ دوستوں کا ساتھ دوستی قائم رہنے تک نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک دائم حقیقت لازوال ہے۔ سجاد حیدر یلدرم کے ایک زمیندار دوست جو ان کی ادبی تخلیق کے بڑے معتقد تھے یا نہیں مگر ایک بات وہ بخوبی جانتے تھے کہ یلدرم جیسے وسیع المتخیل ادبا ہی کو یہ مقام امتیاز حاصل ہے کہ وہ خیال و گیان کے سمندر میں غوطہ زن ہو کر تخلیق فن و ادب کے بیش بہا موتی چن سکتے ہیں اور پھر انہیں قلم و قرطاس سے ہم آہنگ و ہمکلام کر کے الفاظ کا ایسا پیرہن پہنا سکتے ہیں کہ زندگی عمر رفتہ کی بندشوں سے نکل کر حیات جاویداں کی بلندیوں کو چھو لے۔

Read more

فلائٹ 8303 کراچی کریش

میں گزشتہ دو دہائیوں سے ائر کریش انوسٹگیشنز پر ریسرچ کر رہا ہوں اور اس بابت میں نے کئی رئیل اور سیمولیٹڈ فلمز اور آرٹیکل دیکھ اور پڑھ رکھے ہیں اور اس موضوع پر کچھ آرٹیکلز بھی لکھے ہیں۔ اس بنیاد پر میرے پاس بہت سی بنیادی معلومات کا ذخیرہ موجود ہے جس کی بنیاد پر میں جہاز میں ہونے والی ایمرجنسی کا کسی حد تک اندازہ لگا سکتا ہوں۔

اب تک جو معلومات مہیا ہیں۔ ان کی بنیاد پر میں اپنا تجزیہ ضرور پیش کرنا چاہتا ہوں۔ یہ جہاز A 320 ائر بس تھا۔ ائربس فرانس کی کمرشل جہاز بنانے والی کمپنی ہے اور اب تک اس کا کمرشل جہازوں کا ریکارڈ بہت مناسب رہا ہے۔ مگر کئی ایک مہلک حادثات بھی ہوئے ہیں۔ چند سالوں میں ان جہازوں کے ساتھ کچھ غیر معمولی واقعات ہوئے ہیں جن کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے۔ ایک ائر بس 330 A فلائٹ اے ایف 447 جو برازیل کے کیپٹل ریو ڈی جینرو سے پیرس آ رہی تھی۔ جہاز اپنی مکمل اونچائی پر معمول کے مطابق کروز کر رہا تھا کہ اچانک جہاز کی رفتار کا میٹر فالس ریڈنگ دینے لگا اور جہاز اپنی رفتار اور اٹھان میں توازن برقرار نہ رکھ سکا اور سٹال یعنی بے جان ہو کر بحر اوقیانوس میں گر کر تباہ ہوگیا بد قسمتی سے مسافر اور عملے کا کوئی بھی رکن زندہ نہ بچ سکا۔ کمپیوٹر سافٹ وئیر میں تکنیکی خرابی جہاز کی تباہی اور عملے سمیت مسافروں کی جان جانے کا باعث بنی۔

Read more

وائے ٹو کے۔ سے کووڈ 19 تک

اکیسویں صدی کی ابتدا بیسویں صدی کی آخری دو دہائیوں میں انفارمیشن ٹیکانالوجی کی بام عروج سے مزین تھی اور یہ سفر اپنی انتہائی بلندیوں کو پہنچ جانے کو بیتاب بھی تھا۔ تبھی 1999 ء میں ماہرین کمپیوٹر و انفارمیشن ٹیکنالوجی ایک ایسے آئی ٹی بگ کی وجہ سے پریشان تھے جو نئے ہزاریے کی ابتدا کے ساتھ تاریخ میں تبدیلی کی وجہ سے کریش ہونے کے خدشے سے دوچار تھا کہ جونہی اکیسویں صدی کی ابتدا ہوگی تو ہمارا

Read more

بلاول بھٹو اور شہباز شریف بہت برے ہیں: آپ تو کچھ کر کے دکھائیں

کیا ہم واقعی کرونا کے خلاف تیار ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں۔ حکومت لاک ڈاؤن کیا جانا چاہیے یا نہیں کیا جانا چاہیے اور اگر کیا جائے تو لاک ڈاؤن کی کون سی قسم ہونی چاہیے وفاق اور صوبے ایک جیسا لاک ڈاؤن کریں یا مختلف۔ غرضیکہ حکومت بمہ حکومتی ادارے جنہوں نے عوام کے لئے کرونا جنگ لڑنا ہے وہ جنگ کے ابتدائی مرحلے پر اس ہتھیار کا انتخاب ہی

Read more

اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل

کرونا وائرس کو لے کر آج پوری دنیا میں ایک سراسمیگی سی پھیلی ہوئی ہے آج تک بہت کچھ اس وبائی وائرس کے بارے میں لکھا اور رپورٹ کیا جا چکا ہے اس کی تفصیل میں جانا ضروری نہیں ہاں مگر کچھ اہم معلومات اور معروضات یہاں تحریر کرنا آج کی اہم ضرورت ہے سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا ضروری ہے کہ وائرس کیا ہوتا ہے؟ تو اس بابت عرض ہے کہ حیاتیاتی زبان میں وائرس ایک ایسا جرثومہ

Read more

اردو زبان کا مختصر تاریخی جائزہ

انسان کا علم سے وہی رشتہ ہے جو روح کا جسم سے ہے۔ اس بات کا اندازہ اس حکم خدا وندی سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالی نے علم کی بابت انبیا علیہ السلام کو بڑی وضاحت اور سراحت سے علم حاصل کرنے کی ہدایت و ترغیب دی گئی ہے اور اللہ تعالی نے نبی ص کو خصوصی طور پر یہ دعا سکھائی اور فرمایا کہ اے نبی ؔ یہ دعا کرتے رہا کریں ”و قل ربی زندنی علما“

Read more

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

اللہ تعالی نے تخلیق انسانی کو اپنی شاہکار تخلیق کہا ہے اور اُس نے اپنی اس تخلیق عظیم پر فخر بھی کیا اور اس کا برملا اظہار بھی۔ یہی فخر تھا جس نے ایک انسان کو مسجود ملائک کے اعلی ترین مقام پر براجمان کردیا اور اللہ تعالی نے اپنی تمام مخلوقات کو انسان کے سامنے سجدہ ریز کرادیا۔ ابلیس منکر ہوا اور سجدہ سے انکار کردیا وہ رجیم ہوا مگر اپنا موقف بھی اس نے اپنے معبود کے سامنے

Read more

ستمبر اور جنرل اسمبلی۔ وزیراعظم کا خطاب اور خطبہ

ستمبر کا مہینہ امریکہ کے شہر نیویارک میں سربراہان مملکت کے سالانہ اجتماع کا مہینہ ہے۔ اقوام متحدہ کا سالانہ اجلاس ہر سال یہیں منعقد ہوتا ہے اور دنیا بھر سے تمام ممبر ممالک سے ان کی ترجمانی زیادہ تر ان ممالک کے سربراہان ہی کرتے ہیں۔ یہ سالانہ سربراہی اجتماع سربراہان کو آپس میں ملنے بات چیت کرنے اور براہ راست سفارتکاری کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ چونکہ اقوام متحدہ کا صدر دفتر نیویارک میں ہے لہٰذا روایتی

Read more

انگریز ہندوستانی پولیس کی تربیت کیسے کرتا تھا؟

پاکستان میں پولیس نظام کو لے کر ایک بحث جاری ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں پولیس کا نظام برٹش انڈیا پولیس ایکٹ کی پیداوار ہے۔ مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے جو محترم جناب آغا بابر نے، جن کا اصل نام سجاد حسین بٹالوی تھا اور وہ مشہور قانون دان اعجاز حسین بٹالوی کے بڑے بھائی تھے، اپنی یادداشتوں میں بھی تحریر کیا ہے کچھ یوں ہے کہ وہ جب برٹش انڈیا میں سول سروسز میں آئے اور پولیس افسر مقرر ہوئے تو انہیں ٹریننگ کی لئے ایک تھانہ کے تھانیدار کے پاس بھیجا گیا تاکہ پولیس کی عملی تربیت کا تجربہ حاصل کریں۔

Read more

سفارت خانوں میں کشمیر خانہ

پڑھ پڑھ علم ہزار کتاباں عالم ہوگے سارے ہو اک حرف عشق دا ناں پڑھ جانن بھلے پھرن بچارے ہو جنگل میں شیر ہی بادشاہ ہوتا رہا ہے لہذا جنگل میں موجود کچھ جمہوریت کے دیوانوں کو یہ گوارا نہ ہوا تو انہوں نے ایک ایسے جانور کو شیر کے مقابل امیدوار نامزد کر دیا جو بہت پھرتیلا اور چوکس بھی تھا اور اپنی وضع قطع میں ان سب سے قدر مختلف بھی نظر آتا تھا لہذا جنگل میں تبدیلیوں

Read more

ونڈو آف اپرچنٹی (امید کی ایک کرن)۔

گیڈر کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف دوڑتا ہے۔ بھارت کے حالیہ اقدامات نے کشمیر کے مسئلے کو ایک مرتبہ پھر دنیا بھر میں نئی جہت کے ساتھ اجاگر کر دیا ہے۔ پاکستان کی بہتر سفارتی حکمت عملی کی بدولت کشمیر کے مسئلے کو لے کر سلامتی کونسل کی سیکیورٹی کونسل نے کشمیر کی صورت حال پر غور کرنے کے لئے ایک غیر رسمی مگر ہنگامی اجلاس بلایا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ اس اجلاس کے

Read more

امریکہ ایران کشیدگی اور درمیان میں ہم!

ایران اور امریکہ کے درمایان اوباما حکومت نے ایک نیوکلئیر معاہدہ کیا تھا جس کے بعد ایران پر سے امریکی پابندیاں ختم ہوئیں اور ایران کے تعلیقات امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کے ساتھ تجارتی سطح پر بحال ہوئے مگر جونہی ٹرمپ امریکی صدر بنے انہوں نے اس معاہدے کو یکسر نامنظور کرتے ہوئے اسے یک طرفہ طور پر ختم کردیا اور ایران پر واپس امریکی پابندیاں عائد کردیں جبکہ ایران کے حوالے سے دیگر یورپی ممالک نے امریکی پابندیوں

Read more

وزیر اعظم کا دورہ امریکہ: پس منظر اور پیش بندی

پاکستان کے وزیر اعظم جناب عمران خان ماہ رواں کے تیسرے ہفتے امریکہ کا سرکاری دورہ کرنے والے ہیں یہ دورہ امریکہ کی دعوت پر کیا جارہا ہے۔ یہ دورہ کئی ایک حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے۔ موجودہ امریکی صدر ڈوملڈ ٹرمپ جو ہر حال میں رواں سال دسمبر تک ہر حال میں افغانستان سے اپنی فوجوں کا مکمل انخلا چاہتے ہیں تاکہ اگلے سال امریکی صدارتی انتخابات سے قبل اپنی سیاسی برتری کو قائم رکھتے ہوئے اپنی انتخابی

Read more

میرے چارہ گر کو نوید ہو!

گذشتہ دنوں فضا میں خان صاحب کی تیسری عقد ریزی پر خطرات منڈلا نے کی خبریں بڑی شدُو مد سے پردہ سیمیں پر نمودار ہوئیں اور ساتھ ہی ان کو حکومت کی روانگی کی بھی صدائیں سرسراہٹ کرتی محسوس کی گئیں۔ چونکہ ان واقعات کی بابت احباب کی نظرین ہر دو کو ابتدا کو ہی سے تر چھویں زاویوں دیکھ رہیُ ہیں لہذا ان خبروں کو حقیقت مان لینے میں کچھ بھی تساہل نہ کیا گیا۔ شوشل میڈیا کے علاوہ

Read more

مولانا تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ کیوں؟

چند برس قبل پاکستان گیا تو ہمارے ایک دیرینہ دوست نے فون کیا اور خوشخبری دی کہ آج ان کے یہاں حضرت مولانا تقی عثمانی تشریف لا رہے ہیں ملنا چاہو تو آ جاؤ۔ میرے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا تھا کہ حضرت کی صحبت میسر ہوتی واضح رہے کہ جب ہم پاکستان میں رہتے تھے تو میں آپ سے متعدد مرتبہ ملاقاتوں کا شرف حاصل کر چکا تھا مگر ایسی نیک و صالح اور سراپا فکر عمل

Read more

انسانیت انسانوں سے پناہ مانگتی ہے

آج صبح نہیں بلکہ رات کے آخری پہر آنکھ کھلی اور غیر سردی طور پر میرا ہاتھ ٹی وی کے ریموٹ پر جا پڑا سی این این پہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں ہونے والے اندہناک واقع کی خبر تھی بس اب کیا سونا تھا دل مضطرب ہو گیا اور میرے ذہن میں آج تک ہونے والے دہشت گردی کے واقعات فلم کی طرح چلنے لگے۔ پاکستان میں اگر بم دھماکوں کی آوازیں معصوم انسانوں کی چیخوں میں ڈھل کر انسانیت کا منہ چڑھاتی رہیں وہیں ویسٹ میں ماس مرڈر اور فائیرنگ سپری جیسے واقعات تواتر سے رونما ہوتے رہے اور ہر دو نے مل کر انسانی زندگیوں کا چیونٹیوں اور کیڑوں مکوڑوں سے بھی کم تر سمجھنا اور نظام قدرت و فطرت میں اپنی حد بندیوں کی پرواہ تک نہ کرنا انسانیت کی سب سے بڑی شکست ہے۔

Read more

پاک بھارت امن وقت کی ضرورت

پلوامہ حملے سے پیداُ ہونے والی صورت حال کے بعد پاک بھارت تعلقات جو پہلے ہی سرد مہری کا شکار تھے ان میں جیسے آگ بھڑک اٹھی ہے۔ بھارت نے اس حملے کا تمام تر الزام حسب معمول اور حسب روایت پاکستان پر عائد کیا اور ایسا کرنے میں بھارتی حکومت نے اتنی جلد بازی دکھائی کہ ابھی جائے وقوعہ پر امدادی عملہ بھی نہیں پہنچا تھا۔ یہ بھارت کا ایک پرانہ وتیرہ ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو پاکستان پر تھوپ دیا جاتا ہے۔پاکستانی حکومت فوری طور پہ اپنا تعاون بڑھانے کا فیصلہ کر لیتی ہے۔پلوامہ واقعہ کے بعد اس مرتبہ بھارت کا رویہ بہت جارحانہ ہے اور مودی سرکار نے خطہ کو جنگ کی دلدل میں پھینکنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ موجودہ مگر بہت ہی کشیدہ سرحدی صورت حال کو ہمیں تین مختلف زاویوں دیکھنا ہو گا۔اوّل جنگ اگر ہوتی ہے تو اس کا دائرہ کس حد تک وسیع ہو سکتا ہے

Read more