حکمران قیادت نے معیشت ڈبو دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مان لیں کہ ایک اور کارگل ہو گیا ہے۔ وہاں بھارت نے بقول جنرل مشرف اوور ریکٹ کیا تھا یہاں معیشت نے اوور ریکٹ کیا ہے۔ بھارت والے کارگل میں بقول سابق جنرل شاہد عزیز، جنرل جمشید گلزار کیانی اور جنرل ضیا الدین بٹ وزیراعظم میاں نواز شریف نے فوج کی درخواست پر امریکی صدر کلنٹن کو مداخلت کے لئے کہا اور پاکستان کو مشکل صورتحال سے نکالا۔ موجودہ کارگل میں بھی میاں نواز شریف سے ہی درخواست کرنا ہو گی کہ وہ پاکستان کو معیشت کے اوور ری ایکشن سے بچائیں۔

کراچی حصص بازار کا ہنڈرڈ انڈکس 36 سو کی نفسیاتی حد پر پہنچ گیا ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں پاکستانی معیشت آئی سی یو سے نکل آئی ہے وہ پھر فراڈ کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دھوکہ دیا تھا 200 بہترین ماہرین معیشت کی ٹیم ان کے پاس موجود ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو برطانیہ میں سزا یافتہ انیل مسرت کو ساتھ ساتھ لئے پھرتے تھے اور فوجی افسران سے ملاقاتیں کراتے تھے۔ 50 لاکھ گھروں کے لئے سرمایہ کاری کرے گا اور معیشت گیسی غبارے کی طرح آسمان کی وسعتوں تک پہنچ جائے گی۔ 40 صنعتوں کا پہیہ اتنا تیز چلے گا کہ دنیا بھر سے لوگ نوکریوں کے لئے پاکستان آیا کریں گے۔

حصص بازار کے موجودہ کریش کی حقیقی ذمہ داری اگر کسی پر عائد ہوتی ہے تو وہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ہے۔ بھارتی حملے سے شاید معیشت تین دن میں اتنی کریش نہ ہوتی جتنی بھارتی حملے کے بیان سے ہوئی تھی۔ ڈالر خریدنے والے غدار نہیں کیونکہ خود وزیرخزانہ گزشتہ تین ماہ میں کبھی صحافیوں کو خصوصی ملاقات میں اور کبھی کھلے عام ڈالر کی قیمت میں اضافہ کی خبریں سناتا تھا۔ اس کے بعد سرمایہ کار چھوڑیں، عام لوگ بھی ڈالر خریدیں گے اور اس کی قیمت بھی بڑھے گی۔ جو لوگ پہلے ڈالر کی قیمت 160 روپے تک ہونے کی خبریں پھیلاتے ہیں اور مارکیٹ میں افراتفری پھیل جانے پر اسٹیٹ بینک کو اپنے ڈالر مارکیٹ میں پھینکنے کی ہدایات جاری کرتے ہیں وہی اس بحران کے ذمہ دار ہیں۔

جن لوگوں نے پراپرٹی کی خریداری پر فائلر کی شرط لگائی اور بحریہ ٹاون کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا وہی رئیل اسٹیٹ کی تباہی کے ملزم ہیں۔ ٹیکسوں میں شارٹ فال 400 ارب روپیہ کا ہونے جا رہا ہے۔ ان نااہلوں سے کیوں نہیں پوچھا جاتا کہ کیا کر رہے ہو۔ ان بقراطوں کو کیوں نہیں سمجھایا گیا کہ سرمایہ کار بھاگ جاتے ہیں۔ ایف بی آر کو کیوں ڈنڈہ پکڑا کر صنعت کاروں، درآمد اور برامدکنندگان پر چھوڑ دیا۔ پاکستان کی تاریخ میں ٹیکسوں کا کا سب سے بڑا شارٹ فال ہونے جا رہا ہے جو دفاعی بجٹ اور سالانہ ترقیاتی پروگرام پر اثرانداز ہو گا۔

کیا اب تک پتہ نہیں چلا کہ یہ فراڈ ہیں اور کچھ بھی نہیں۔ اطلاعات کے مطابق انیل مسرت نے کسی کو لندن دورے کے دوران ایک فلیٹ کا تحفہ دیا تھا لیکن کایاں سرمایہ کار نے صرف چابی دی ملکیت کی۔ منتقلی کے کاغذات نہیں دیے۔ اب انیل مسرت کہاں غائب ہو گیا ہے۔ اب پچاس لاکھ گھر کہاں اڑن چھو ہو گئے ہیں؟

معاشی ارسطو سے کم از کم اتنا پوچھ لیں کہ میاں روپیہ کی قدر میں کمی سے جو برآمدات میں اضافے کا جھانسا دیا تھا، وہ اضافہ کیوں نہیں ہوا۔ ان سے کیوں نہ پوچھا جائے کہ شرح سود میں اضافہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ مقامی قرضوں کے حجم میں اضافہ کرنا تھا، سرمایہ کاروں کو کاروباری سرگرمیاں روکنے پر راغب کرنا تھا کہ کاروبار چھوڑو اور بینکوں میں پیسے جمع کرا کے سود کھاو، یا یہ مقصد تھا بینکوں کے مہنگے قرضے لے کر خبردار کوئی کاروبار کیا۔ یا تو یہ لوگ جان بوجھ کر معیشت برباد کر رہے ہیں یا پھر اعلی ترین سطح کے نا اہل، جھوٹے اور فراڈیے ہیں۔ غضب خدا کا، یہ اب بھی دھوکہ دے رہے ہیں کہ معیشت آئی سی یو سے نکل آئی ہے۔

برآمدات میں کیسے اضافہ ہو، جب بجلی اور پٹرول مہنگا کر کے پیداواری لاگت بڑھا دی۔ جب روپیہ کی قدر 45 فیصد کم کر کے تمام درآمدی خام مال مہنگا کر دیا پاکستانی برآمدات کیسے عالمی مارکیٹ میں مسابقت کر سکتی ہیں۔ حصص بازار 53 ہزار پر تھا اب 36 ہزار پر ہے۔ مارکیٹ کا حجم 98 کروڑ تھا، اب حصص کی خرید و فروخت 25 کروڑ کی اوسط پر پہنچ گئی ہے۔ تمام تیزی سے ترقی کرتی لسٹڈ کمپنیوں کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا ہے۔ پی پی ایل کا حصص 224 کا تھا اب 145 کا ہے۔

پی ایس او میں لوگ روز منافع کماتے تھے 289 کا حصص اب 196 کا ہے۔ پی او ایل 713 روپیہ سے کم ہو کر 405 کا رہ گیا ہے۔ او جی ڈی سی کا حصص 178 سے کم ہو کر 125 پر پہنچ گیا ہے حالانکہ آپ نے سمندر میں عظیم ترین گیس ذخائر کی ہوائی بھی چھوڑی لیکن سرمایہ کار جھانسے میں نہیں آئے او جی ڈی سی کا حصص یتیم ہی رہا۔ اینگرو 324 سے کم ہو کر 280 کا رہ گیا ہے۔ یہ تو حصص بازار کی نمایاں کمپنیاں ہیں۔ تباہی ہمہ گیر ہے اور یہ کہتے ہیں معیشت آئی سی یو سے نکل آئی ہے۔

زبردست طریقے سے ٹیکس دہندگان کو بھگا دیا ہے جو چند بچے ہیں انہیں نوٹس پہ نوٹس۔ اب وہ بھاگ رہے ہیں موسم گرما کی چھٹیوں کے بہانے یورپی ممالک کی طرف۔ بڑے لوگوں نے بینکوں میں پیسے رکھنے بند کر دیے ہیں۔ ایف بی آر والے اٹیچ نہ کر لیں ان کے اکاونٹ۔ سرمایہ کار پرندے ہیں، انہیں دانہ ڈالا جاتا ہے، ترغیبات دے کر پکڑا جاتا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک سرمایہ کاروں کو ترغیبات دیتے ہیں دانہ ڈالتے ہیں اور ہمارے معاشی لال بجھکڑ پتھر مار کر پرندوں کو آڑا رہے ہیں، اور پھر جھوٹ بولتے ہیں معیشت آئی سی یو سے نکل آئی ہے۔

ملک میں سیاسی بے یقینی پیدا کر دی ہے۔ ایک وزیر لاٹھی لے کر آصف علی زرداری کو چور پکارتا ہے دوسرا ڈنڈہ لے کر شریف خاندان کی طرف بھاگتا ہے۔ کوئی افسر ان نااہلوں کے فیصلوں کو روکنے پر تیار نہیں۔ آج ٹیکسوں میں چار سو ارب روپیہ کی کمی سے آئندہ بجٹ بری طرح متاثر ہو گا۔ ہمیں جان لینا چاہیے کہ موجودہ حکمران صرف اپنی پراپرٹی پاک صاف کرنے کے لئے ایمنسٹی اسکیمیں لا سکتے ہیں اور دوسروں کو کرپٹ کہہ سکتے ہیں، ملکی معیشت کا استحکام ان کے بس کی بات نہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •