بھارتی انتخابات کی مختصرتاریخ
بھارت میں 2019 کے انتخابات کا انعقاد 11 اپریل سے شروع ہو گیا ہے جو سات مراحل میں مکمل ہوگا۔ بھارتی لوک سبھا کے سترہویں عام انتخابات میں 70 کروڑ سے زائد ووٹرزحق رائے دہی استعمال کریں گے۔ 19 مئی تک ہونے والے انتخابات میں 543 نشتوں پر ووٹنگ ہوگی جس میں 272 یا زائد پر کامیابی حاصل کرنے والی جماعت فاتح قرارپائے گی۔
بھارتی انتخابات میں ویسے تو ہر بار آگ اور خون کی سیاست کی جاتی ہے۔ مقبوضہ وادی میں کشمیری عوام کے حقوق ختم کرنے کے لئے آرٹیکل 35 اے کا معاملہ ہو یا گاؤکشی پر مسلمانوں کو قتل کرنے کے واقعات، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعوی ٰ کرنے والاملک اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنے میں مکمل طورپرناکام رہا۔ 2019 کے انتخابات میں تمام جماعتیں اقلیتوں سے کس بنیاد پر ووٹ مانگیں گی یہ تو وقت آنے پر ہی پتہ چلے گا مگر اس سے قبل بھارتی انتخابات میں کس جماعت نے کب حکومت سازی کی اس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
1947 ء میں برطانوی سامراج سے آزادی کے بعد 46 ءکی قانون ساز اسمبلی کو ہی معمولی ردوبدل کے بعد بھارت کے معاملات سونپ دیے گئے۔ یہ اسمبلی تقریباً تین سال تک اپنے فرائض سرانجام دیتی رہی۔ 1952 میں پہلے الیکشن سے لے کر 1967 تک کے تین انتخابات میں انڈین نیشنل کانگریس نے فتح کے جھنڈے گاڑے۔ اس دوران جواہرلال نہرو تین بار وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1964 میں جواہرلال نہروکے گزرنے کے بعد گلزاری لال نند کو عبوری وزیراعظم بنایا گیا جس کے بعد 1966 سے اندراگاندھی نے ملک کی باگ ڈورسنبھالی۔
1967 کے چوتھے عام انتخابات میں اندراگاندھی دوسری بار وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ لوک سبھا کے پانچویں عام انتخابات 1971 میں ہوئے جس میں اندرا گاندھی کی سربراہی میں کانگریس کا نیا دھڑاتشکیل ہوا۔ نیو کانگریس نے 518 میں سے 352 نشستوں پر کامیاب سمیٹی اور نہرو کی بیٹی تیسری بار وزیراعظم بنیں۔ 1977 میں بھارت کی تاریخ کے چھٹے الیکشن میں پہلی بار کئی جماعتوں کے اشتراک سے بننے والی بھارتیہ لوک دل نے کانگریس کو شکست دی۔
مختلف جماعتوں کا یہ اتحاد زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا اور 1979 میں حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ 1980 سے 1989 تک ایک بار پھر کانگریس بھارت میں برسراقتدار رہی۔ 1989 کے نویں عام انتخابات میں کرپشن اسکینڈلز کی وجہ سے کانگریس کی ساکھ کو شدید دھجکا لگا۔ ان انتخابات میں کوئی بھی جماعت بھاری اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ جنتادل نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت تو بنا لی مگر دوسال بعدنئے انتخابات کروانے پر مجبور ہوئی۔
1991 سے 98 تک ایک با رپھر بھارت کی باگ ڈورکانگریس کے ہاتھ میں رہی۔ 1998 میں ہونے والے بھارتی تاریخ کے بارہویں انتخابات میں بی جے پی نے بھاری اکثریت سے جیت کر کچھ جماعتوں کو ساتھ ملایا اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس تشکیل دیا۔ جلد ہی یہ الائنس بھی ناکام ہوا اور نئے انتخابات کا اعلان کردیا گیا۔ 1999 سے 2004 تک لوک سبھا کے تیرہویں انتخابات میں بی جے پی برسراقتداررہی۔ اس کے بعد 2014 تک چودہویں اور پندرہویں انتخابات میں کانگریس عام انتخابات کا معرکہ جیتی اور حکومت تشکیل دی۔ 2014 کے سولہویں انتخابات میں بی جے پی نے 282 نشستوں پر فتح سمیٹی جبکہ کانگریس کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا اور صرف 44 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی۔


