میں اس عورت کو کیا نام دوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”ایکسکیوزمی! کیا میں آپ سے ایک سوال کر سکتی ہوں بیٹا؟ “

میں جو کسی سوچ میں گم تھا چونک اٹھا۔ سامنے ایک خوش شکل عورت کھڑی تھی۔ اس کی عمر پچاس کے لگ بھگ ہوگی لیکن وہ خاصی دبلی پتلی تھی اس لئے اپنی عمر سے کم دکھائی دیتی تھی۔ اس کے سیاہ بال کندھوں پر لہرا رہے تھے اور وہ نفیس کپڑے پہنے ہوئے تھی۔ فوری طور پر میں کوئی جواب نہ دے پایا میں سوچ رہا تھا کہ یہ اجنبی عورت مجھ سے کیا چاہتی ہے۔

میں بلیو ایریا کے اس مشہور ریسٹورانٹ میں شامی صاحب کے ساتھ آیا تھا۔ کھانے کا آرڈر دینے کے بعد شامی صاحب واش روم میں گئے تھے۔ تب وہ عورت آ گئی۔

”آپ بیٹھیے ناں! پوچھیں کیا پوچھنا ہے؟ “ میں نے ہاتھ سے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔

”آپ کی والدہ کا نام عائشہ تو نہیں ہے۔ “ اس نے بیٹھتے ہوئے پر خیال لہجے میں کہا۔

”جی نہیں ان کا نام کچھ اور ہے۔ “

”اوہ! سوری۔ میں نے آپ کو تکلیف دی۔ اصل میں تقریباً دس سال پہلے وہ میری کولیگ تھیں اور ان کا بیٹا انہیں روز دفتر چھوڑنے اور لے جانے کے لئے آتا تھا۔ اس میں اور آپ میں رتی برابر بھی فرق نہیں ہے۔ وہ ریٹائر ہو گئیں اور اس کے بعد ان سے رابطہ ہی نہیں رہا لیکن وہ مجھے شدت سے یاد آیا کرتی تھیں۔ آج آپ کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ ان کی خیریت معلوم کروں مگر آپ تو وہ ہیں ہی نہیں۔ “ عورت نے وضاحت کی۔

”آپ کی بات بجا ہے اس دنیا میں ہر شخص کا کوئی نہ کوئی ہمشکل ہوتا ہے لیکن جس طرح سے آپ بتا رہی ہیں یہ حیرت انگیز ہے۔ “ میں نے تبصرہ کیا۔

”واقعی وہ سو فیصد آپ جیسا تھا۔ خیر افسوس تو اس بات کا ہے کہ میں عائشہ کے حالات نہیں جان سکی۔ ویسے آپ کیا کرتے ہیں؟ “ عورت نے پوچھا۔ میں نے اپنا تعارف کرایا۔ وہ کہنے لگی۔

”میں نے بھی وہ جاب چھوڑ دی تھی۔ اب میں ایک این جی او چلا رہی ہوں۔ میری بیٹی ایم ایس سی کر رہی ہے۔ میں اس ٹیبل پر بیٹھی اسی کا انتظار کر رہی تھی۔ مہینے میں ایک بار ہم باہر کھانا کھاتے ہیں۔ میری ایک میٹنگ تھی اسی لئے ہم نے طے کیا تھا کہ اس ریسٹورانٹ میں ملیں گے۔ پتا نہیں کیوں وہ لیٹ ہو گئی ہے، بس آتی ہی ہو گی۔ “ عورت نے وضاحت کی۔ میں حیران تھا کہ وہ یہ سب مجھے کیوں بتا رہی ہے۔ وہ جس کے دھوکے میں میری طرف آئی تھی میں وہ نہیں تھا پھر بھی وہ باتیں کیے جا رہی تھی۔ اسی اثنا میں شامی صاحب واپس آ گئے۔ انہوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں مجھ سے اس عورت کی بابت دریافت کیا۔ میں نے دونوں کا تعارف ایک دوسرے سے کرایا۔ عورت نے بڑی خوش اخلاقی سے ان کا احوال دریافت کیا۔ پھر معذرت کرتے ہوئے موبائل فون نکالا اور کسی کو کال کرنے لگی۔

”اوہو۔ میری بیٹی کی سہیلی کے ساتھ کوئی مسئلہ ہو گیا ہے۔ وہ ابھی نہیں آ رہی ہے۔ “ عورت نے کسی قدر پریشانی سے کہا۔

”ہماری مدد کی تو ضرورت نہیں۔ “ میں نے پوچھا۔ ”نہیں نہیں۔ وہ ہینڈل کر لے گی۔ “ اس نے جلدی سے کہا۔ اتنے میں ویٹر کھانا لے آیا۔ چکن بوٹی، سیخ کباب اور تازہ روٹیوں کی اشتہا انگیز خوشبو نے ہمیں متوجہ کر لیا۔ اچانک مجھے خیال آیا کہ وہ عورت بھی ہمارے ساتھ بیٹھی ہے۔

”آنٹی آپ بھی کھائیے ناں ؛ اب آپ کی بیٹی تو آ نہیں رہی۔ یہ کھانے کا وقت ہے اور بھوک تو آپ کو بھی لگ رہی ہوگی۔ “ میں نے اخلاقاً کہا۔

”نہیں بیٹا یہ مناسب نہیں لگتا۔ میں ادھر بیٹھ کر اپنی بیٹی کا انتظار کر لیتی ہوں۔ “

”آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں۔ ویسے بھی کھانا ہماری ضرورت سے زیادہ ہے اگر ایک مہمان شامل ہو جائے تو ہمیں خوشی ہو گی۔ البتہ اگر آپ اس طرح اٹھ کر چلی گئیں تب یقیناً غیر مناسب بات ہو گی۔ “

”اچھا۔ اگر یہ بات ہے تو تھوڑا چکھ لیتی ہوں۔ “ عورت نے مسکرا کر کہا۔ کھانا شروع کیا گیا۔ ویسے تو اس عورت نے صرف چکھنے کا کہا تھا لیکن ہمارے برابر ہی کھایا۔

کھانے کے دوران بھی باتیں کرتی رہی۔ اپنی امارت کے بارے میں، اپنے گھر کے بارے میں اور اپنے خاوند کے بارے میں جو کسی دوسری عورت کے چکر میں اسے طلاق دے چکا تھا۔

کھانے کے بعد میں نے چائے منگا لی۔ ”بیٹا اب تو میری بس ایک ہی خواہش ہے کہ میں اپنی بیٹی کی شادی کسی نیک اور صالح نوجوان سے کر دوں۔ “ عورت نے کہا۔

”تو کوئی ملا ایسا نوجوان؟ “ میں نے پوچھا۔

”اتنا آسان کام نہیں ہے۔ ویسے میری بیٹی ماشا اللہ بہت خوبصورت ہے۔ رشتے تو بہت آتے ہیں لیکن ابھی تک مطلوبہ رشتہ مل نہیں سکا۔ “

”اگر ہماری نظر میں کوئی ہوا تو آپ کو ضرور بتائیں گے۔ “ میں نے خوشگوار لہجے میں کہا۔ کیونکہ وہ عورت اتنی بے تکلفی سے ہمارے ساتھ باتیں کر رہی تھی جیسے برسوں کی شناسا ہو۔ بار بار اپنی بیٹی کی تعریفوں کے پل باندھنے لگتی تھی۔ مجھے تو اشتیاق تھا کہ اس کی بیٹی سے مل سکوں پتا تو چلے اتنی خوبیوں کی مالک لڑکی کیسی ہوتی ہے۔

”میں آپ کو اپنا پتا دے دوں گی اور فون نمبر بھی۔ آپ کبھی میرے گھر آئیے۔ ان کو بھی ساتھ لائیے گا۔ “ عورت نے مجھ سے کہا۔ ”ضرور“ میں نے کہا اور شامی صاحب نے بھی سر ہلا دیا۔

چائے پیتے ہوئے بے تکلفی کچھ اور بڑھ گئی۔ ایک دو لطیفوں کا تبادلہ بھی ہو گیا۔ یونہی ہنسی مذاق چل رہا تھا کہ ویٹر بل لے کر آ گیا۔ میں نے بل ادا کیا اور اس عورت سے سلام و دعا کے بعد باہر جانے کے لئے قدم بڑھا دیے۔ اچانک اس عورت کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمودار ہو گئے۔

”بیٹا ایک منٹ رکنا ایک بہت ضروری بات کرنی ہے۔ “

”جی فرمائیے۔ “ میں نے چونک کر کہا۔

”بیٹا دراصل وہ این جی او بھی اب نہیں رہی اور جب سے نوکری چھوڑی ہے کوئی اور نوکری بھی نہیں ملی۔ بیٹی کی شادی کرنی ہے اور میں ہیپا ٹائٹس سی کی مریضہ ہوں۔ اب کیا کروں اپنا علاج کرواؤں یا بیٹی کی شادی کروں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ ہو سکے تو پانچ دس ہزار روپے دے دو۔ “ اس نے کہا۔

میں حیران رہ گیا۔ ایسی کسی بات کی توقع نہیں کر رہا تھا۔ میرے اپنے حالات بھی ایسے نہیں تھے کہ زیادہ مدد کر سکتا۔

جیب میں ہاتھ ڈالا تو صرف ایک ہزار کا نوٹ نکلا۔ ”سوری میں آپ کی مدد نہیں کر سکتا میرے پاس یہ ایک ہزار ہے۔ “ میں نے شرمندگی سے کہا۔

”خیر کوئی بات نہیں۔ ہزار ہی سہی۔ “ اس عورت نے جیسے میرے ہاتھ سے وہ نوٹ جھپٹ لیا اور شکریہ کہہ کر تیزی سے ریسٹورانٹ سے نکلتی چلی گئی۔ میں اور شامی صاحب بس دیکھتے رہ گئے۔ میں ابھی تک نہیں سمجھ پایا کہ اس عورت کو کیا نام دوں۔ مجھے یقین ہے کہ اس نے مجھ سے جتنی باتیں کی تھیں ان میں سے ایک بھی سچ نہیں تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •