جرنیل کی بیٹی اور بھٹو کی بیٹی کا سچ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے یہاں پورا سچ بولنے اور لکھنے کی روایت نہیں ہے۔ ایسے بہت کم لکھاری اور مصنف ہیں جو مکمل سچ تو نہیں پھر بھی آدھے سے زیادہ سچ لکھتے اور بولتے ہیں جن میں مرد و خواتین ادیب مصنف شاعر اور صحافی شامل ہیں۔ ایسے لکھاریوں کی جرئت کو ہزارہا بار سلام پیش کرنے کو جی چاہتا ہے۔ پورا یا مکمل سچ لکھنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس میں بہت سی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ بولتے اور لکھتے وقت کچھ باتیں کہنا لکھنا اور کچھ چھپانا کسی مجبوری یا مصلحت کا تقاضا ہوتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ اس میں مکاری مفاد پرستی اور منافقت کا عمل دخل نہ ہو۔ سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی نے جس طرح کا سچ اپنے افسانوں میں لکھا ہے ایسے سچ کو ہمارا معاشرہ ہضم نہیں کر سکتا۔ علامہ اقبال کے فرزند جسٹس جاوید اقبال کے سچ پر مبنی “اپنا چاک گریباں” کے نام سے ان کی آپ بیتی نے بڑی شہرت حاصل کی تھی۔

گزشتہ دنوں سابق آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ کی بیٹی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور پاورٹی ایلیویشن کوآرڈینیشن کونسل کی چیئر پرسن ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے تخفیف غربت پروگرام احساس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں سچ کے نشتر چلا دیے تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کسی پر الزام لگائے بغیر کہا تھا کہ ہمارے وطن عزیز پاکستان میں ہر چوتھا فرد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ 25 فیصد شہریوں کو 2 وقت کی روٹی میسّر نہیں ہے۔ 40 فیصد آبادی زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔ مسائل کی سب سے بڑی جڑ ٹھیکوں میں کرپشن ہے۔ وسائل پر اشرافیہ کی گرفت مضبوط ہے۔ ٹیکس کا نظام بہتر بنانے لیبر قوانین پر عمل درآمد اور فصلوں کی کاشت کے متعلق اہم فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ 41 فیصد بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے اس تلخ حقیقت کا بھی اعتراف کیا کہ چاغی کی بچی اور سیالکوٹ کے بچے میں واضح فرق ہے۔

ہمارے یہاں یہ روایت ہے کہ جو بھی جماعت اقتدار میں آتی ہے وہ اپنی تمام تر نااہلیوں ناکامیوں عوامی مسائل اور مشکلات کی ذمہ دار سابقہ حکومت کو قرار دیتی ہے۔ لیکن ڈاکٹر ثانیہ مرزا نے نہ صرف اس روایت کو نہیں دہرایا بلکہ سب کچھ سچ کہہ کر بلوچستان اور پنجاب کے بچوں کے طرز زندگی کو بھی واضح کر دیا۔ آفرین ہے ڈاکٹر ثانیہ کو جنہوں نے سچ کا علم بلند کیا ورنہ پی ٹی آئی کے وزراء کی باتیں اور دعوے سنیں تو غصہ بھی آتا ہے اور طبیعت اداس بھی ہو جاتی ہے۔ میرے خیال میں اگر اس طرح کی باتیں بلوچستان سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص کرے تو اس کو حسب دستور غدار قرار دیا جائے گا۔ حالانکہ وطن سے وفاداری کا تقاضا یہ ہے کہ سچ بولا جائے سچ لکھا جائے سچ سنا جائے اور سچ برداشت کیا جائے اس سے ملک اور ریاست کو فائدہ ہوتا ہے۔

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی محترمہ بینظیر بھٹو کی بھتیجی اور میر مرتضیٰ بھٹو کی صاحبزادی فاطمہ بھٹو جو کہ بہترین ادیبہ شاعرہ اور کالم نگار ہیں۔ فاطمہ بھٹو نے سانگس آف بلڈ اینڈ سورڈ کے نام سے ایک انگریزی کتاب لکھا ہے۔ اس تصنیف میں انہوں نے اپنے خاندان یعنی بھٹو خاندان کی تاریخ لکھی ہے۔ جس میں انہوں نے جہاں بھٹو خاندان کی تاریخی جدوجہد اور قربانیوں کا ذکر کیا ہے وہاں انہوں نے اپنے اجداد کی عیاشیوں اور رنگینیوں کا بھی بیباکی سے پردہ اٹھایا ہے۔ فاطمہ بھٹو کے مطابق بھٹو خاندان کے بزرگ خدا بخش بھٹو جو کہ ذوالفقار علی بھٹو کے پر دادا تھے 2 صدی قبل راجستھان بھارت سے نقل مکانی کر کے سندھ کے شہر لاڑکانہ کے قریب ایک چھوٹے سے گاٶں میں آباد ہوئے۔ اب وہی گاٶں اس خدابخش سے منسوب گڑھی خدا بخش بھٹو کے نام سے مشہور ہے۔ بھٹو خاندان کے افراد کی زیادہ تر موت غیر طبعی اور غیر فطری واقع ہوئی ہے۔ ان کا پہلا فرد مرتضیٰ بھٹو جو کہ ذوالفقار بھٹو کے دادا تھے غیر طبعی موت کا شکار ہوئے۔ ان کو برطانوی حکومت نے بھارت میں تعینات اپنے ایک برطانوی سفیر کی اہلیہ کے ساتھ معاشقے کے الزام کے تحت زہر دے کر ہلاک کیا تھا۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ برٹش گورنمنٹ نے مرتضیٰ بھٹو کو غیرت کے نام پر کارو قرار دے کر قتل کیا۔ قتل کا یہ طریقہ جاگیرداروں کا ہے جو عام طور پر اپنی خواتین کو بدنامی کے خوف سے قتل نہیں کرتے بس ان کے آشناٶں کو زہر دے کر یا کسی اور طرح سے قتل کرا دیتے ہیں۔ تاہم کچھ جاگیردار اپنی خواتین کو بھی خاموشی کے ساتھ قتل کر کے رات کی تاریکی میں بغیر غسل بغیر کفن اور بغیر جنازہ نماز کے دفن کرا دیتے ہیں۔ بعض اوقات ایسے مرد اور خواتین کو بے دردی کے ساتھ قتل کر کے ان کی لاشوں کوگڑھوں میں پھینک دیتے ہیں جن کو حیوانات اپنی خوراک بنا لیتے ہیں۔

بڑے مرتضیٰ بھٹو کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو سیاسی بنیادوں پر پھانسی دے دی گئی جس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا۔ بھٹو کے چھوٹے فرزند میر شاہنواز بھٹو کو فرانس میں زہر دے کر قتل کرایا گیا۔ میر مرتضیٰ بھٹو کو کراچی میں اپنی بہن وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی حکومت میں اپنے گھر کے قریب ہی گولیوں سے فائر کر کے قتل کیا گیا۔ بعد ازاں 27 دسمبر 2۔۔ 7 کو محترمہ بینظیر بھٹو کو راولپنڈی میں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔ فاطمہ بھٹو نے لکھا ہے کہ بھٹو کے والد سر شاہنواز بھٹو رنگین مزاج کے حامل تھے جنہوں نے بمبئی میں ایک غریب خاندان کی خوبصورت لڑکی لکھی بائی عرف خورشید بیگم سے عشق کی شادی کی تھی جو ان کی دوسری شادی تھی۔ جبکہ خود ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ایرانی نژاد نصرت بھٹو سے عشق کی شادی کی تھی یہ ان کی دوسری شادی تھی۔ سر شاہنواز بھٹو کی پہلی اہلیہ کے بطن سے دو بیٹے سکندر علی اور امداد علی بھٹو پیدا ہوئے دونوں بہت خوبصورت اور رنگین مزاج تھے۔ جبکہ ان کا چھوٹا اور سوتیلا بھائی ذوالفقار علی بھٹو کوچہ سیاست میں داخل ہو کر دنیا بھر میں مشہور ہو گیا۔ فاطمہ کے والد میر مرتضیٰ بھٹو بھی رومینٹک مزاج کے تھے جنہوں نے 2 شادیاں کی تھیں۔ انہوں نے دمشق میں غنویٰ بھٹو سے عشق کی شادی کی۔ غنویٰ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک معروف رقاصہ تھیں جنہوں نے میر مرتضیٰ بھٹو کو اپنی اداٶں کے ذریعے تسخیر کر لیا تھا۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور محترمہ فاطمہ بھٹو سے سچ سن کر اس لئے زیادہ خوشی محسوس ہوتی ہے کہ ہمارے ملک میں خواتین کی بھی ایک کثیر تعداد موجود ہے جو سچ کہنے لکھنے اور سننے کا حوصلہ رکھتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •