ہماری موت ابدیت سے ہمارا بیاہ ہے۔ رومی کی ایک نظم کا نثری ترجمہ
ہماری موت ابدیت سے ہمارا بیْاہ ہے۔
ایک انگریز فلسفی سر فرانسس بیکن نے کہا تھا کے ”مرنا اتنا ہی فطری ہے جتنا کے پیدا ہونا۔ “
مرزا غالب صاحب بھی فرما گئے ہیں کے ”موت کا ایک دن معین ہے“ اب موت کا دن معین تو ہے پر یہ معین دن کب آنے والا ہے؟ موت کب کس گھڑی یا لحمے ایک ناگہانی آفت کی طرح نازل ہو گی کوئی نہیں جانتا؟
پیدائش کی تو پیش گوئی اکثر کی جاتی ہے کی اس دن یا تاریخ کو بچے کی پیدائش متوقع ہے۔ مگر موت کی پیش گوئی کرنا ایک ناممکن بات ہے۔ جو شاید رہتی دنیا تک ایک بھید ہی رہے گی۔
آرٹ اور لٹریچر حتی کے مذہبیات میں بھی موت کا زیادہ تر تصور بھیانک اور اذیت سے بھرا ہوا ملتا ہے۔ محمد جلال الدین رومی جو فارسی کے ایک مشہور صوفی شاعر تھے۔ جنہوں نے ہزاروں کی تعداد میں نظمیں اور رباعیات لکھی۔ اُن کی ایک نظم جو موت کے بارے میں ہی ہے۔ وہ اس نظم میں موت کو الگ ہی رنگ میں پیش کرتے ہیں۔ موت اُن کے لئے ایک بشارت سے کم نہیں لگ رہی۔
اُن کی اُسی نظم کا سادہ سا نثری ترجمہ پیشِ خدمت ہے۔ ترجمے میں ہوئی فنی اور لسانی کوتاہی پہلی کوشش سمجھ کر نظر انداز کریں۔
ہماری موت ابدیت سے ہمارا بیْاہ ہے۔
بھید کیا ہے؟ ”خُدا تو ایک ہے“۔
سورج کی کِرنیں گھر کے دریچے سے داخل ہوتے بٹ جاتیں ہیں۔
یہ تنوع جو اَنگوروں کے گُچّھے میں پایا جاتا ہے ؛
یہ انگوروں سے بنے رس میں کہاں ہے۔
اُس کے لئے جو خدا کی روشنی میں زندہ ہے،
اِس فانی جسم کا مٹ جانا نِعمَت ہے۔
اُس کے بارے میں، بُرا بھلا کچھ مت کہو،
کیونکہ وہ خیروشر سے پَرے جا چکا ہے۔
اپنی آنکھیں خُدا پرلگاؤ اور جو پوشیدہ ہے اس کی بابت مت بولو،
شاید وہ تمہاری آنکھوں میں اِک نئی روشنی بھر دے۔
یہ تَصَوُّر تو جسمانی آنکھوں کی بصارت میں ہے،
کہ پوشیدہ اور چھپی ہوئی چیزیں وجود نہیں رکھتیں۔
لیکن جب آنکھ خُدا کی روشنی کی سمت لگائی جائے،
توایسی روشنی کے آگے کون سی چیزیں چھپی رہ سکتیں ہیں؟
حالانکہ سب روشنیاں اِلٰہی روشنی سے نکلتی ہیں،
مت کہو کے یہ سب روشنیاں ”خُدا کا نور ہیں“ ؛
یہ ابدی روشنی ہے جو خُدا کا نور ہے،
عارضی بینائی تو محض فانی جسم کا وصف ہے۔
اے خُدا تُو ہی ہے جو کَشْف کا فضل عطا فرماتا ہے،
اِس تَخَیّْل کا طائر آرْزُو کے پَر لئے تیری طرف اُڑتا آتا ہے۔


