اے حمید سے وابستہ یادیں

اے حمید صاحب سے وابستہ یادوں کا خوشگوار سلسلہ ہمیشہ کچھ نا کچھ تحریر کرنے پے اکساتا ہے۔ لڑکپن میں ان کی کہانیوں سے متاثر ہو کر انہیں متعدد خط لکھے۔ جن میں محبت کے اظہار کے ساتھ ساتھ ان سے معصومانہ سوال بھی پوچھے۔ وہ وقتاً فوقتاً ان خطوط کا جواب بھی دیا کرتے تھے۔ آج انتیس اپریل کو اے حمید صاحب کی برسی پر انہی کے لکھے دو جواب قارئین کی نذر کر رہا ہوں۔ پہلا خط عزیزم

Read more

یاترا ” ٹلہ جوگیاں“

اس سے پہلے کہ ٹلہ جوگیاں کی یادیں کہیں لاشعور میں چلی جائیں اور پھر غور کرنے پر ہی یاد آئیں سوچا کچھ نا کچھ اس سیاحت پر لکھ لینا چاہیے۔ ان یادوں کو محفوظ کرلینا چاہیے۔ اندازہ نہیں تھا کے ٹلہ کی یاترا زندگی کی حسین اور مشکل ترین یاترا ثابت ہوگی۔ مشکل اس معنوں میں کہ ایک عرصہ سے ہائکنگ جیسی مفید سرگرمی سے دور ہوں لہذا اس کے بعد اگلے چند دن تک تھکاوٹ سے جسم میں

Read more

موت کیا ہے؟

کیا آپ نے کبھی سنجیدگی سے سوچا ہے کے آپ کسی بھی گھڑی مر سکتے ہیں؟ ایک لمحہ میں زندگی کی ساری رنگین روشنیاں بجھ سکتیں ہیں؟

دنیا میں روزانہ سینکڑوں ہزاروں لوگ کیڑے مکوڑوں کی طرح مرتے ہیں۔ سر پے جوں تک نہیں رینگتی مگر جیسے ہی کوئی اپنا رخصت ہو تو لگتا ہے غم کے سارے پہاڑ ہم پر ٹوٹ پڑے۔ ساری مصیبت ہم پر آ پڑی۔ اسے دیکھ خود اپنی موت بھی یاد آنے لگتی ہے۔ قبر کو دیکھ ایک بار جسم کانپ جاتا ہے۔ آپ خود کو قبر میں لیٹے، پتھر کی سیلوں اور منوں مٹی کے نیچے تصور کرنے لگتے ہیں۔

Read more

قلعہ روات، مانکیالہ کی توپ اور ساگری مندر

یہ جانتے ہوئے بھی کہ کرونا وائرس اپنے زوروں پر ہے اور ایسے میں باہر گھومنا مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسلام آباد سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں سیدھا روات کے بے ہنگم بس سٹاپ پر اترا۔ اب اسے بیوقوفی کہا جائے یا پاگل پن یہ معلوم نہیں؟ ایک لمبے عرصے بعد اندر کا آوارہ گرد جاگا تو سوچے سمجھے بغیر نکل پڑا۔ بس سٹاپ پر تھوڑے انتظار کے بعد مبشر جو کولیگ بھی ہیں اور دوست بھی ساگری گاؤں

Read more

خوشبو کا احساس اور پھولوں کا عرفان زندہ رکھنے والا شخص

اے حمید صاحب کا ایک اردو ڈائجسٹ کو دیا ہوا انٹرویو جس کا نام اور تاریخ وغیرہ تو یاد نہیں ہاں اندازہ ہے کہ دو دہائی پہلے کا ہو سکتا ہے۔ جب ڈائجسٹ پڑھا کرتا تھا تو ایک دن انٹرویو نظر سے گزرا تو ڈائجسٹ سے صفحات کاٹ کر الگ محفوظ کر لیے۔ یوں تو اس میں اے حمید صاحب نے خاصی مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے مگر اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی ، جیسا تھا ویسا ہی لکھ رہا ہوں۔ انتیس اپریل ان کی برسی پر یہ انٹرویو ان کے چاہنے والوں کی نذر۔

Read more

اے حمید ”ایک رومان ایک نوسٹلجیا“

انتیس اپریل کو اے حمید صاحب کی برسی ہے- اُن کی یاد میں ایک مختصر تحریر۔ اسلام آباد شریف میں جب بھی گہرے کالے بادل چھاتے ہیں تو اُنھیں دیکھتے ہی ہمیشہ کی طرح دل و دماغ میں اے حمید صاحب کی یاد کے بادل بھی منڈلانے لگتے ہیں۔ نوجوانی کے دنوں میں جو کچھ پڑھا جو کچھ دیکھا غرض جو بھی تجربہ ہوا۔ اُس نے شخصیت پر گہرا اثر ڈالا۔ اُس وقت لکھنے والوں میں صرف اے حمید صاحب

Read more

ہماری موت ابدیت سے ہمارا بیاہ ہے۔ رومی کی ایک نظم کا نثری ترجمہ

ہماری موت ابدیت سے ہمارا بیْاہ ہے۔ایک انگریز فلسفی سر فرانسس بیکن نے کہا تھا کے ”مرنا اتنا ہی فطری ہے جتنا کے پیدا ہونا۔ “مرزا غالب صاحب بھی فرما گئے ہیں کے ”موت کا ایک دن معین ہے“ اب موت کا دن معین تو ہے پر یہ معین دن کب آنے والا ہے؟ موت کب کس گھڑی یا لحمے ایک ناگہانی آفت کی طرح نازل ہو گی کوئی نہیں جانتا؟

Read more

پرسنل ہائیجین کے بارے میں چند باتیں اور میرے ذاتی تجربات

آفس میں میرے ایک کولیگ نے مجھ سے پوچھا؟ کیا پاکستانی سکولوں میں بھی ذاتی حفظان صحت کے متعلق پڑھایا جاتا ہے؟ میں نے مسکرا کر پوچھا کیوں؟ کیا ہوا؟ اُس نے جواب تو نا دیا مگر اس کے پاس سے ہو کر گئے ایک دوسرے کولیگ کی طرف اشارہ کر کے ناک چڑھا دی پھر مجھ سے دوبارہ پوچھا؟ میں نے کہا ہاں یار کیوں نہیں یہ تو عام فہم کی بات ہے اس پر تو ہر جگہ عمل

Read more

’’آ فائن بیلنس‘‘ ایمرجینسی کے دور کی کہانی

کچھ دن پہلے بڑی ہی عمدہ اور دل چسپ کتاب ہاتھ لگی۔ لکھنے والے روہنتوں مستری ہیں۔ مستری کینیڈین لکھاری ہے۔ پیدا تو وہ ہندوستان میں ایک پارسی گھرانے میں ہوئے، مگر بعد ازاں کینیڈا ہجرت کر گئے۔ ان کا یہ ناول ’’آ فائن بیلنس‘‘ 1995ء میں شایع ہوا۔ کینیڈین ادبی ایوارڈ گِلر اپنے نام کیا اور مشہور ادبی ایوارڈ بکر پرائز کے لیے شارٹ لسٹ ہوئے۔ اس ناول کے علاوہ مستری متعدد کتابوں کا مصنف ہیں۔ جن میں کچھ کتابوں کے مخلتف زبانوں میں تراجم اورکچھ کو فلمایا بھی جا چکا ہے۔ مستری کی زیادہ تر کہانیاں ہندوستان کی معاشرتی، معاشی اور سیاسی زندگی کا احاطہ کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ پارسیوں کی مذہبی زندگی اور ان کے رسم ورواج اور اقدار وغیرہ کی بھی کہیں کہیں جھلک نظر آتی ہے۔ مختصرا یہ کہ ان کی بہت سی کہانیاں ہندی ناسٹلیجیا کے گرد گھومتی ہیں۔

Read more

نعیم کی اپنے دادا سے پہلی ملاقات

نعیم کو شروع سے ہی ہسپتال جانے میں ایک انجانا خوف محسوس ہوتا تھا۔ کبھی کسی بیماری یا مجبوری کے تحت جانا بھی پڑ جاتا تو وہاں سارا وقت انتہائی اضطراب کی حالت میں گزرتا۔ سردیوں کا موسم دم توڑ رہا تھا اور بہار کی آمد آمد تھی۔ انہی دنوں کی بات ہے جب نعیم کو اپنے دادا جی کے ساتھ ہسپتال کی ہوا کھانی پڑی اور اُن کی تیماداری کے لئے کچھ دن ہسپتال میں رکنا پڑا۔ اُس کے دادا جی کی عمر تقریبا نوے برس کے قریب تھی انتہائی ضعیف ہونے کی وجہ سے جسم کے کا ماس ڈھیلا اور لٹک چکا تھا اور ایک عجیب بڑھاپے کی باس دیتا تھا۔

Read more