ہماری موت ابدیت سے ہمارا بیاہ ہے۔ رومی کی ایک نظم کا نثری ترجمہ

ہماری موت ابدیت سے ہمارا بیْاہ ہے۔ایک انگریز فلسفی سر فرانسس بیکن نے کہا تھا کے ”مرنا اتنا ہی فطری ہے جتنا کے پیدا ہونا۔ “مرزا غالب صاحب بھی فرما گئے ہیں کے ”موت کا ایک دن معین ہے“ اب موت کا دن معین تو ہے پر یہ معین دن کب آنے والا ہے؟ موت کب کس گھڑی یا لحمے ایک ناگہانی آفت کی طرح نازل ہو گی کوئی نہیں جانتا؟

Read more

پرسنل ہائیجین کے بارے میں چند باتیں اور میرے ذاتی تجربات

آفس میں میرے ایک کولیگ نے مجھ سے پوچھا؟ کیا پاکستانی سکولوں میں بھی ذاتی حفظان صحت کے متعلق پڑھایا جاتا ہے؟ میں نے مسکرا کر پوچھا کیوں؟ کیا ہوا؟ اُس نے جواب تو نا دیا مگر اس کے پاس سے ہو کر گئے ایک دوسرے کولیگ کی طرف اشارہ کر کے ناک چڑھا دی…

Read more

’’آ فائن بیلنس‘‘ ایمرجینسی کے دور کی کہانی

کچھ دن پہلے بڑی ہی عمدہ اور دل چسپ کتاب ہاتھ لگی۔ لکھنے والے روہنتوں مستری ہیں۔ مستری کینیڈین لکھاری ہے۔ پیدا تو وہ ہندوستان میں ایک پارسی گھرانے میں ہوئے، مگر بعد ازاں کینیڈا ہجرت کر گئے۔ ان کا یہ ناول ’’آ فائن بیلنس‘‘ 1995ء میں شایع ہوا۔ کینیڈین ادبی ایوارڈ گِلر اپنے نام کیا اور مشہور ادبی ایوارڈ بکر پرائز کے لیے شارٹ لسٹ ہوئے۔ اس ناول کے علاوہ مستری متعدد کتابوں کا مصنف ہیں۔ جن میں کچھ کتابوں کے مخلتف زبانوں میں تراجم اورکچھ کو فلمایا بھی جا چکا ہے۔ مستری کی زیادہ تر کہانیاں ہندوستان کی معاشرتی، معاشی اور سیاسی زندگی کا احاطہ کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ پارسیوں کی مذہبی زندگی اور ان کے رسم ورواج اور اقدار وغیرہ کی بھی کہیں کہیں جھلک نظر آتی ہے۔ مختصرا یہ کہ ان کی بہت سی کہانیاں ہندی ناسٹلیجیا کے گرد گھومتی ہیں۔

Read more

نعیم کی اپنے دادا سے پہلی ملاقات

نعیم کو شروع سے ہی ہسپتال جانے میں ایک انجانا خوف محسوس ہوتا تھا۔ کبھی کسی بیماری یا مجبوری کے تحت جانا بھی پڑ جاتا تو وہاں سارا وقت انتہائی اضطراب کی حالت میں گزرتا۔ سردیوں کا موسم دم توڑ رہا تھا اور بہار کی آمد آمد تھی۔ انہی دنوں کی بات ہے جب نعیم کو اپنے دادا جی کے ساتھ ہسپتال کی ہوا کھانی پڑی اور اُن کی تیماداری کے لئے کچھ دن ہسپتال میں رکنا پڑا۔ اُس کے دادا جی کی عمر تقریبا نوے برس کے قریب تھی انتہائی ضعیف ہونے کی وجہ سے جسم کے کا ماس ڈھیلا اور لٹک چکا تھا اور ایک عجیب بڑھاپے کی باس دیتا تھا۔

Read more