انسان، سماج اور معاش
معاش، انسان اور سماج کا مادی چہرہ ہے۔ جس طرح روپے کے رُخِ زَرد پر انسانی خون لگا ہوا ہے۔ بعینہٖ سماج کا مادی چہرہ بھی اسی خون سے لت پت ہے۔ زر انسان کی وہ تخلیق ہے جو خود انسان پر بھاری پڑ رہی ہے۔ انسانی سماج، رسوم و رواج، دین و دھرم، اخلاق و فلسفہ غرض کوئی شے زرکی دسترس سے آزاد نہیں۔ اس لیے آج کے اس عہد ِسائنس و ٹیکنالوجی میں بھی اقتصادیات کا علم رموز حیات اورسماجی تحرک کو سمجھنے اور برتنے کے لیے ناگزیر ہے۔
مذکورہ بالا تناظر میں ممتاز دانشور افتخار بھٹہ کی کتاب ”انسان سماج اور معاش“ انسانی مسائل کی گتھیوں کا حل پیش کرتی ہوتی کتاب درحقیقت سماجی و معاشی شعور کی انسان دوست بلکہ غریب دوست روشن خیال تشریح ہے۔ افتخار بھٹہ ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں ہی ترقی پسند اور انسان دوست شخصیت کا تعارف اور پذیرائی حاصل کی ہے۔ فکری طور پر فعال اور متحرک علمی و عملی شخصیت ہونے کے ناطے علم پرور لوگ ان کے دیوانے ہیں۔
سیاسی و نظریاتی فکر کے تناظر میں بھی ان کے چاہنے والوں کی تعداد کم نہیں۔ وہ ہمہ جہت اور ہر دم متحرک ہستی ہیں۔ ان کی کثیر جہتی شخصیت اور کثیر رخی سرگرمیوں نے اس دانشور شخصیت کی تعمیر میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ جہد مسلسل، حقیقت پسندانہ فکر، سائنسی منطق کا حامل شعور اور مثبت تحرک نے ان کی ذات کو فرد سے بلند کرکے ایک انجمن بنا دیا ہے۔ وہ فکری بصیرت، قلمی ریاضت، ادب شناسی اور خوش اخلاقی کی وجہ سے مقامی اور قومی منظر نامے پر سخنوروں کی بستی گجرات کا معتبر حوالہ بن چکے ہیں۔
وہ گجرات کی فکری وادبی میراث کے حقیقی وارث ہیں اور علمی و نظری محفلوں کی جان بھی۔ میرے لیے افتخار بھٹہ کی شخصیت کے سارے پہلو لائق احترام ہیں لیکن میں جس وجہ سے برادرم افتخار بھٹہ کی شخصیت کے سحر کا اسیر ہوں وہ یہ ہے کہ ان کی حیات ِمتحرک کے سارے پہلو اپنی اپنی جگہ مگر ان کے ہر پہلو کی روح ان کا انسان دوست ہونا ہے۔ میں نے با رہا مشاہدہ کیا ہے، میری رائے میں ان کے لیے زندگی کے ہر حوالے میں انسانیت پہلا رشتہ ہے۔ اسی شرف نے انہیں ہمیشہ نئی دنیا اور نئے انداز فکر سے روشناس کروایا ہے۔ افتخار بھٹہ کی انسان دوستی میرے لیے قابل تحسین ہی نہیں ہم جیسوں کے لیے لائق تقلید بھی ہے۔
جب تک انسانوں کا رشتہ سماج اور اس کے مختلف عوامل سے قائم رہے گا اس وقت تک ذہن و قلم بھی ایک دوسرے سے علیحٰدہ نہیں ہو سکیں گے۔ زندگی کے پیچیدہ مسائل کو سمجھنے کے لیے محنت و استقلال کی ضرورت ہے۔ روشن خیال قلمکار کے لیے لازم ہے کہ وہ سماج کی ترقی اور تنزلی کے راز کو سمجھنے کی کوشش کرے اور تاریخی طاقتوں کے رُخ کو پہچاننے کی صلاحیت پید اکرے۔ اسے سماج کی ساخت اور اس کے ہر جزو کی خصوصیات سے واقفیت حاصل ہو۔ یہ آگاہی جتنی گہری ہو گی لکھنے والے کے قلم میں اتنی ہی گہرائی اور انفرادیت نمایاں ہو گی۔
بھٹہ صاحب کی تحریریں سوچ کی دستک کی حامل ہوتی ہیں یہ اپنے ہم عصر روشن خیال ترقی پسندوں کے دقیق اسلوب سے منفرد اور الگ تحریریں ہیں۔ ان کی انفرادیت یہ ہے کہ بھٹہ صاحب مشکل اور ادق اقتصادی اصطلاحات کی بجائے اپنا موقف عام فہم اور آسان زبان میں بیان کرتے ہیں۔ پاکستانی سماج کی طبقاتی ساخت، معاشی حرکیات، سماجی ارتقاء ان کی مثبت اور منفی جہتیں، پیداواری نظام میں انسان کی متاثر ہوتی شکلیں اور ایسے ہی مسائل ان کے موضوعات کا محور ہیں۔
افتخار بھٹہ صاحب کی انسان دوستی کا ہمارے سماج اور ہماری معیشت سے گہرا تعلق ہے ان کی تحریریں انسانیت سے عاری زوال پذیر سماج اور انسان دشمن سرمایہ دارانہ معیشت کی برہنہ تصویر کشی ہے۔ ستر سال سے زائد عرصہ کے حامل پاکستانی سماج میں شاید ہی کوئی انسان یا پاکستانی شہری فخر سے سر اونچا کرکے، اس عرصے میں آنے اور جانے والی درجنوں جمہوری و غیر جمہوری حکومتوں کے کسی کارنامے کو فخر سے بیان کر سکے۔ کارنامہ، جس نے اس سماج کے انسانوں کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں پیدا کیں ہوں، کارنامہ، جس نے من حیث القوم ہمارے تشخص، ہمارے کردار اور ہماری ہستی کو اجاگر کیا ہو۔ اگر ہم بطور انسان اس سماج و معاش کی غیر انسانی روش پر شرمندہ نہیں تو شاید خوشی بھی محسوس نہیں کرتے۔ ہم یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ اب پیٹھ پرسے قمیض اٹھا کر سماجی کوڑوں اور معاشی کوڑھ کے زخم دکھانے کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ معاشی اور سماجی بگاڑنے انسان کے جسم پر قمیض رہنے ہی نہیں دی۔
میں کئی سالوں سے افتخار بھٹہ صاحب کی تحریروں کا قاری اور ان کی تقریروں کا سامع ہوں۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے ان سے جانا کہ ایسے ملک میں جہاں نہ سماج ہے نہ معاش، نہ ترقی ہے نہ خوش حالی وہاں انسان سماج اور معاش کے لفظوں کی گونج نئے خیالات، اطلاعات اور تصورات کا فروغ صرف ایک اداس کر دینے والا تجربہ بن کر رہ جاتی ہے۔ بھٹہ صاحب نے کمال مہارت سے بتایا ہے کہ جس ترقی کی وسیع پیمانے پر تشہیر کی جاتی ہے اس کی حقیقی تصویر بہت بھیانک ہے۔
اعداد وشمار کی مدد سے دکھائی جانے والی سماجی تبدیلیوں کی حقیقت، بڑے پیمانے پر کی جانے والی وہ فریب کاری ہے جس کا پردہ چاک کرنا قومی فریضہ ہے۔ بھٹہ صاحب کا تجزیہ درست ہے کہ ہماری نام نہاد ترقی کے نتائج بہت کم مثبت ہوئے۔ معاشی ترقی روزگار کے نئے وسائل پیدا کرنے کا ذریعہ بننی چاہیے تھی لیکن ملک میں بے ردزگاری میں اضافہ ہوتا رہا۔ ملک میں ناہموار معاشی ترقی نے سماج کے ثقافتی تشخص کو بہت نقصان پہنچایا۔
اس نے جمہوری اورشخصی آزادیوں کی ضمانت فراہم کرنے کی بجائے انہیں پامال کیا۔ بھٹہ صاحب کی کتاب کا ورق ورق یہ پیغام دیتا ہے کہ ہماری نام نہاد معاشی ترقی اپنے جوہر میں عوام دشمن ثابت ہوئی۔ یہ غیر منطقی ترقی زمینی وسائل کا خاتمہ کر رہی ہے، اس نے سماج کو برباد کرکے رکھ دیا ہے اور انسان کا مستقبل یہاں شدید خطرے سے دو چار ہو گیا ہے۔ اس کتاب کا معاشی پہلو اپنی جگہ مگر کئی مضامین میں بھٹہ صاحب نے عدم برداشت، بدامنی اور قنوطی فکر کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھی بات کی ہے۔ ان کی انسانی فکر کا حاصل یہ ہے کہ مصنوعی سماج اورمصنوعی معاش نے ہمیں حقیقی انسانی المیے سے دو چار کر دیا ہے۔ درد مند دل رکھنے والے بھٹہ صاحب کے لفظ پکا ر پکار کر کہہ رہے ہیں ہمارے ہاں آدمی گھٹ گئے ہیں اور سائے بڑھ گئے ہیں۔
کئی مضامین میں دانشور افتخار بھٹہ ایک عملی صوفی کے طور پر نمودار ہوتے ہیں اور ہمیں یاددلاتے ہیں کہ ترقی انسانوں کی داخلی اور روحانی ثروت مندی کی ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے دو وقت کی روٹی، ایک چھت، دوا کی شیشی، کتاب و قلم اور تن ڈھانپنے کے لیے کپڑوں کو ممکن بنا کر ہی پائیدار کہلا سکتی ہے۔ بھٹہ صاحب نے معاشی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں تعلیم اور تحقیق کے مسائل پر بھی خوب لکھا ہے پھر حاصل مطالعہ کے طور پر ایک مضمون کو یہ عنوان دیا ہے کہ ”بند دماغ کب کھلیں گے“۔
1936 میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی بنیاد کے موقع پر بزرگ ادیب پریم چند نے صدارتی خطبہ کا اختتام یہ کہہ کر کیا تھا کہ ”اب اور زیادہ سونا موت کی علامت ہو گی۔ “ اسی کانفرنس میں کہا گیا تھا کہ ہماری کسوٹی پر وہ ادب کھرا اترے گا جس میں تفکر، آزادی کا جذبہ، حسن کا جوہر، تعمیر کی روح اور زندگی کی حقیقتوں کی روشنی ہو۔ حاضرین! افتخار بھٹہ کی کتاب کا حرف حرف مذکورہ کانفرنس کے اعلامیے کے مطابق ہے۔ حج و عمرہ کی سعادت اپنی جگہ مگربھٹہ صاحب اندر سے آج بھی سچے اور سُچے ترقی پسند قلمکار ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ زندگی کی جیتی جاگتی تصویریں رقم کرنے کے لیے انہیں زندگی کا بہت نزدیک سے مطالعہ کرنا پڑا۔
آج کے بے معنی لفظی تاویلات کے پیدا کردہ اندھیروں میں افتخار بھٹہ کے کالموں نے ترقی پسندانہ اور حقیقت پسندانہ تجزیے کی قندیل روشن کر رکھی ہے۔ ترقی پسندی کے کوئی اصول و ضوابط نہیں ہوا کرتے۔ یہ تو شعور و ادراک کی کوکھ سے جنم لیتی ہے اور شعور و ادراک اپنے عہد کی معرفت سے حاصل ہوتا ہے۔ افتخار بھٹہ صاحب نے بھی یہ معرفت زمانے سے کشید کی۔


