کوئٹہ کے ہزارہ ایسے ہی لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج صبح ساڑھے سات بجے کے قریب کوئٹہ کے علاقہ ہزار گنجی کی سبزی منڈی میں ایک دھماکہ ہوتا ہے جس میں 20 افراد شہید ہو جاتے ہیں اور کئی زخمی ہو جاتے ہیں۔ ڈی آئی جی کوئٹہ عبد الرزاق چیمہ کے مطابق دھماکے میں ریموٹ کنٹرول بم کا استعمال کیا گیا اور اس میں شہید اور زخمی ہونے والے تمام افراد کا تعلق کوئٹہ کی ہزارہ برادری سے ہے۔ جن کے 55 افراد کو 11 گاڑیوں میں پولیس اور فرنٹیر کانسٹیبلری کی بھاری سیکورٹی میں معمول کے مطابق ہزارہ ٹاون سے ہزار گنجی کے بازار میں سبزیاں اور پھل خریدنے کے لیے لایا گیا اور وہاں پر دھماکہ ہو گیا۔

ڈی آئی جی صاحب اس واقعہ پر اپنی بے بسی کا اظہار یہ کہہ کر کرتے ہیں کہ ”پولیس موجود ہے، ایف سی موجود ہے مگر پھر بھی اگر کوئی دکان میں بم رکھ دے تو وہ کیا کر سکتے ہیں“۔ اس کے ساتھ وہ کوئٹہ سیف سٹی پراجیکٹ میں تاخیر اور شہر میں سیکورٹی کیمروں کی کمی کا جواز بھی پیش کر دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں اس طرح کے واقعات کے بعد سکیورٹی اداروں کی طرف سے عموماً ً اسی قسم کے بیانات ہی سننے کو ملتے ہیں۔

کوئٹہ کی ہزارہ برادری کو جس کا تعلق شیعہ مسلک سے ہے، پہلی بار نشانہ نہیں بنایا گیا۔ اس سے قبل متعدد مرتبہ اس کمیونٹی کے افراد کو خود کش حملوں، بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ قومی ادارہ برائے انسانی حقوق کے مطابق 2012 سے اب تک مختلف واقعات میں ہزارہ برادری کے 509 افراد شہید اور 627 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی ترجمان فضیلہ عالیانی کے مطابق ہزارہ برادری کے لوگ اس طرح واقعات کی وجہ سے خوف کے سائے میں جی ریے ہیں۔ ان کی روز مرہ زندگی کے معاملات جیسے کہ تعلیم اور کاروبار بری طرح سے متاثر ہیں اور ان کی نقل و حرکت بہت محدود ہے۔ فضیلہ کے مطابق اس وقت ہزارہ برادری کے لوگوں کی حفاظت کے لیے فرنٹیر کور کی تیرہ پلاٹون مامور ہیں۔ مگر اس کے باوجود بھی اس طرح کے واقعات رونما ہو جاتے ہیں جس کی مثال آج کا واقعہ ہے۔

اس سے پہلے جتنے بھی واقعات میں جب ہزارہ برادری کو نشانہ بنایا گیا تو انھوں نے شہید ہونے والوں کی میتوں کو سڑک پر رکھ کر متعدد دفعہ احتجاج کیا کہ ان کے خلاف ان کے مسلک کی بنیاد پر ظلم کرنے والوں پر ریاست کی طرف سے کوئی ایکشن لیا جائے، مگر ہر دفعہ ان کو سوائے جھوٹی تسلیوں کے کچھ نہیں ملا۔ اور ریاست نہ صرف ان کو انصاف دینے میں ناکام رہی بلکہ اس برادری کو تحفظ بھی فراہم نہیں کر سکی۔ اس ساری صورتِحال سے مایوس ہو کر اس برادری کے لوگوں کے پاس اپنی جان بچانے کے لیے ایک ہی راستہ بچا تھا کہ وہ یہ ملک چھوڑ دیں اور کسی دوسرے ملک میں سکونت اختیار کر لیں۔

چنانچہ ہزارہ برادری کے لوگوں نے ملک چھوڑ کر باہر کے ملکوں میں جانا شروع کر دیا۔ اور 1999 سے اب تک اس برادری کے 70 ہزار سے زائد لوگ آسٹریلیا، انڈونیشیا، ملائیشیا اور یورپ کے کئی ملکوں میں مستقل سکونت اختیار کر چکے ہیں۔ ان میں سے 50 ہزار لوگ آسٹریلیا میں مقیم ہیں اور باقی بیس ہزار دوسرے ملکوں میں مقیم ہیں۔ ان لوگوں کی اس ہجرت میں اضافہ 2012 کے بعد ہوا۔ مگر یہاں بھی سب کے لیے آسانیاں نہیں تھیں۔ کیونکہ ان میں سے جو تو پڑھے لکھے اور معاشی طور پر مستحکم تھے وہ قانونی طور پر دوسرے ملکوں میں چلے گئے مگر جن کے پاس وسائل کی کمی تھی ان کو باہر جانے کے لیے غیر قانونی راستوں کا سہارا لینا پڑا۔

جس میں ان کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور کئی لوگوں کو اپنی زندگیوں سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔ ہزارہ کالم نگار حسن رضا چنگیزی کے مطابق آٹھ سو سے زائد ہزارہ برادری کے افراد کو غیر قانونی طریقوں سے باہر کے ملکوں میں جانے کی وجہ سے اپنی جان گنوانی پڑی۔ جس میں سب سے زیادہ تعداد انڈونیشیا جاتے ہوئے کشتی الٹنے اور ڈوبنے کے واقعات میں جاں بحق ہونے والوں کی ہے۔

کیسی ستم ظریفی ہے کہ ہزارہ برادری کے بیچارے لوگ اگر یہاں رکتے ہیں تو ان کی جان کو خطرہ اور اگر یہاں سے جاتے ہیں تو اپنی جان سے جانے کا خدشہ۔ کاش بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی بجائے یہ لوگ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں رہتے ہوتے تو ان کے یہ حالات نہ ہوتے۔ تب شاید ان کو ریاستِ پاکستان کی طرف سے بھی تحفظ ملتا اور اس طرح کا ظلم ہونے کی صورت ناصرف انصاف ملتا بلکہ میڈیا سمیت ہر جگہ ان کے لیے آواز بھی اٹھائی جاتی۔ مگر چونکہ وہ اب کوئٹہ میں رہتے ہیں تو نہ تو ریاست کو ان کی کوئی فکر ہے اور نہ ہی بہت زیادہ لوگ ان کے لیے اپنی آواز اٹھائیں گے۔ اور یہ بیچارے اسی طرح لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •