تم ہزارہ لوگ ایک ہی دفعہ کیوں نہیں مر جاتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پھر وہی خبر، پھر ایک اور دھماکہ، پھر چند لاشیں، پھر وہی رونا دھونا، وہی سب کچھ پھر.

یار تنگ آچکے ہیں ہم.

کوئی نئى بات کرو

ویک اینڈ مت خراب کرو

کیا کریں ہم؟ کیا کر سکتے ہیں ہم؟

تھک گئے ہیں ہم تم لوگوں کی کہانیاں سن سن کر، بیزار ہیں ہم تمہارے احتجاج سے. نہیں سننا چاہتے اب ہم.

کتنے دھماکے ہوچکے، کتنی دفعہ ہو چکے، کتنے لاشے اٹھ چکے، اب تو یہ معمول کا حصہ لگتا ہے

کوئٹہ، ہزارے اور نسل کشی۔

دیکھو، تم لوگ تاریخ تو پڑھتے ہی ہو گے. معلوم ہے نا یہودیوں کی نسل کشی کیسے ہوئی. ارے بابا، مت سمجھو کہ وہ زمانہ اور تھا۔ مرنے اور مارنے کے لئے کوئی زمانہ نہیں ہوتا۔ تو تاریخ سے سبق پکڑو اور جان بچانے کے لیے بھاگو، کس سوچ میں ہو۔ چلے بھی جاؤ بھئی، ہجرت کر ڈالو۔

آخر شروع دن سے تم یہاں تو نہ رہتے تھے، یہاں بھی تم زمانے کے کسی زبردست کے قہر سے ہی بچ کے پہنچے تھے نا اور پھر اس زمین کو اپنا مان لیا تھا۔

مگر اب تم جان لو کہ نہیں ہے یہ زمین اپنی اور نہیں ہیں یہ لوگ اپنے۔ دیکھا تو تھا تم نے ہچھلی مرتبہ، جب اسی لاشے شدید سردی میں سڑک پہ رکھے تھے اور تین دن تک نہ دفنایا تھا۔ کیا ملا تمہیں؟

انصاف؟ ہمدردی؟ تسلیاں؟

نہیں، کچھ نہیں، کہ سب کو معلوم تھا یہ پھر ہو گا۔

ایک بات بتاؤں تمہیں، مذہب کے نام پہ کاٹنا اور کٹنا، کچھ نیا نہیں تاریخ میں۔ اختلاف رائے کی سزا صرف موت ہوتی ہے۔ یا تو ہمارے رستے چلو یا پھر مرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ کربلا اسی کو تو کہتے ہیں اور کربلا دہراتے دہراتے تمہیں یہ سبق تو یاد ہونا چاہئے۔

اور سنو، کیوں نہیں بدل لیتے اپنا عقیدہ۔ کیا فرق پڑتا ہے اگر منہ زبانی ہی دوسروں کے ساتھ مل جاؤ۔ جان تو بچے گی، خوف و ہراس جو زندگی کا حصہ ہے اس سے تو نکلو گے۔ اور جو مالک ہے جس نے یہاں اُتارا ہے، وہ دلوں کے بھید خوب جانتا ہے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم نماز کیسے پڑھتے ہو، کس مسجد میں پڑھتے ہو، کس کے ساتھ پڑھتے ہواور ان حالات میں تو پڑھتے بھی ہو کہ نہیں۔

اپنی اسلامی تاریخ اٹھا کے اموی اور عباسی دور دیکھ لو۔ اپنے سے مختلف نقطہ نظر کا یہی حشر ہوا کرتا تھا۔ تبھی لوگوں نے تقیہ کرنا سیکھا۔ اب تم بھی کچھ سبق سیکھو۔ جان بچاؤ جان۔ پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے۔

اور اگر یہ قبول نہیں تو ایک اجتماعی خود کشی ہی کا پروگرام بنا ڈالو۔ دیکھو بار بار تمہیں بھی تکلیف اور ہماراجمعہ بھی خراب۔ سو جو کل ہونا ہے اور جس میں تمہیں باری باری مرنا ہے تو یار ہمت پکڑو اور اپنا اور اپنے بچوں کا ایک ہی دفعہ خاتمہ کر دو۔ ہم بھی سکون کا سانس لے سکیں گے۔

ابھی کچھ دن پہلے ہم بہت ناراض تھے، سوشل میڈیا ابل رہا تھا ناراضگی اور احتجاج کے پیغامات اور تقریروں سے جب ایک نیوزی لینڈر نے ہماری جمعے کی نماز خراب کی، ان کافروں کے ہم نے خوب لتے لئے۔ بےچاروں نے خوب معافی تلافی کی۔

مگر تم کسی خوش فہمی میں نہ رہو کہ وطن عزیز میں ایسے کئی جمعے گزرے۔ جہاں نیوزی لینڈ سے کہیں زیادہ لاشے گرے مکر اپنے یہا ں ایمان کو گزند مشکل سے پہنچتی ہے۔ ایمان بچانے کے لئے ہم عموماً کان ناک گلا لپیٹ لیتے ہیں۔ اب ہمارا تو خانگی معاملہ ٹھہرا کہ مرنے والے بھی مسلمان اور مارنے والے بھی مسلمان، یہ تو گوارا ہے۔ پر ایک کافر ہمیں بھون ڈالے، ان احمقوں کی یہ مجال۔

سو اب چونکہ یہ دیسی سا معاملہ ہے تو اتنا شور مچانے کا کیا فائدہ۔ نہ بھئی، کوئی فارورڈڈ پیغام نہیں، کوئی ملک میں پشیمانی اور غم کی لہر نہیں، کسی کے دل میں تمہارے پاس پہنچنے کی ہڑک نہیں، کسی کے پاس پیچھے رہ جانے والوں کے لئے دو بول نہیں۔ ہمارے دل اتنے بھی نازک نہیں کہ ہم کاروبار دنیا ہی لپیٹ دیں۔

بتایا تو ہے کہ صدیوں سے تمہارے ساتھ بسنے والے تھک چکے ہیں تمہاری رام کہانی سے۔ اب نہ اتنا وقت ہے اور نہ اتنی ہمدردی کہ تمہارے ساتھ جا کھڑے ہوں۔ دوسرے صوبوں کے لئے تم ایک خبر ہو، بس ایک معمول کی خبر۔ دھماکہ ہوا، کچھ مر گئے۔ کوئی بات نہیں سب نے مرنا ہے اور شاید اس طرح سے بڑھتی ہوئی آبادی ہی ذرا کم ہو۔

اور ہمارے حکمران جیسنڈا کی طرح فارغ تھوڑا ہیں کہ دوڑ پڑیں تمہیں گلے لگانے، تمہارے آنسو پونچھنے۔ فراغت بھی نہیں اور نہ ہی کوئی فائدہ۔ ہاں جب فائدہ تھا تو پونچھے تھے نا آنسو یاد کرو۔ اب بار بار تو نہیں ہوتا نا۔

ویسے جیسنڈا کے دل میں جو یار لوگوں نے ایمان کی شمع روشن کی ہے اور اذان سن کے وہ جس تبدیلی قلب سے گزر رہی ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ تمہارے آنسو پونچھنے اور تسلی دینے جہاز پکڑے اور پہنچ جائے۔ ایک تو اس پہ نئی نئی گزری ہے، دل ابھی رقیق القلب ہے سو غم کی اس گھڑی میں اس کا آنا بنتا ہے۔

ابھی اسے جنت میں داخلے کا ٹکٹ کمانا ہے اور ہم تو پیدائشی بخشے ہوئے ہیں، سو ہمیں کیا غم؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>