سڑک زنانہ یا مردانہ نہیں ہوتی

آج ہم نے زور زور سے گاڑی کا ہارن بجایا اور کئی منٹ تک بجاتے ہی چلے گئے۔ ایک ایسی جگہ پہ جہاں دور دور تک ہارن کی آواز سنائی نہیں دیتی بلکہ ہارن بجانا بد اخلاقی میں شمار ہوتا ہے۔ یہ کارنامہ کرنے کے بعد ہمیں کچھ کمینی سی خوشی محسوس ہوئی کہ ہم…

Read more

سن یاس؟ غم نہ کر، زندگی پڑی ہے ابھی

زندگی میں کوئی دل چسپی نہیں رہی! بات کرنے کو جی نہیں چاہتا! دل چاہتا ہے روتی رہوں! نیند نہیں آتی! رات سوتے میں آنکھ کھل جاتی ہے!پسینے میں بھیگ جاتی ہوں اور دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو جاتی ہے! جسم میں تھکاوٹ اور درد رہتا ہے! شوہر کا لمس اچھا نہیں لگتا! بے…

Read more

سبز پاسپورٹ کی بڑھتی ہوئی عزت کی گواہی

ہم سب کے محبوب وزیر اعظم کا کمال یہ ہے کہ جب بھی منہ کھولتے ہیں ، پھول جھڑتے ہیں اور ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ ان لولوئے گلفام کو کیسے سمیٹیں۔ جی یہ چاہتا ہے کہ کاش وہ وہی عمران خان رہتے جو کرکٹ کےمیدان میں تیز تیز دوڑتے تھے، مسکرانا نہیں جانتے تھے…

Read more

واہت تونا کا آرٹ: پاؤں کی جوتی سے منہ پر جوتی تک

گو کہ ہمیں خبریں سننے کا قطعی کوئی شوق نہیں لیکن پچھلے دنوں اس قدر شور و غوغا تھا کہ ہمیں کان دھرنا ہی پڑے۔ سنا ہے کوئی وزیر مشیر ٹی وی پہ آئے اور اپنی زنبیل سے جوتے برامد کرکے میز پہ پٹخ دیے۔ اینکر اور ساتھی تو محظوظ ہوئے ہی، اہل پاکستان کی…

Read more

14 فروری: ہم نے محبت کو کیسا جانا؟

"یہ محبت کیا ہوتی ہے؟" ہم گھر کے آنگن میں کھیل رہے تھے جب آپا نے آواز دے کے بلایا اور سوال داغ دیا۔ ہم سوچ میں گم ہو گئے۔ کم سنی تھی مگر کتابوں اور فلموں کی لت پڑ چکی تھی۔بات کہنے میں ہچکچاہٹ بھی نہیں تھی، سو پٹ سے بولے، " وہی لڑکی…

Read more

عورت ہی عورت کی دشمن کیسے ہوتی ہے؟

شادی کی ایک تقریب تھی! ہماری نشست کے قریب والی میز پہ کچھ ادھیڑ عمر خواتین آپس میں اپنے بچوں کی شادیوں اور اس سے پیدا ہونے والی صورت حال پہ گفتگو فرما رہی تھیں۔ آوازیں بہت اونچی تھیں سو بغیر کسی دقت کے کان تک پہنچ رہی تھیں۔ " میں نے تو اسد سے…

Read more

کراچی میں نومولود بچیوں کا قبرستان اور پدر سری غنیم کا پیام

"کیا پدرسری ، پدرسری کی رٹ لگا رکھی ہے، سنگ باری ہو رہی ہے، الزام و دشنام کی برسات الگ ہے۔ چھوڑو، یہ ٹیڑھے میڑھے الفاظ جو ہر دوسرے روز گھسیٹتی ہو ۔ تمہاری اپنے پیشے میں اچھی عزت ہے، اسی کو نبھاؤ" کسی مہربان نے مفت مشورہ دیا ہے! اب کیا کہوں کہ یہ…

Read more

آج سات فروری ہے!

ہم شاید اپنے آپ کو الف لیلہ کی شہرزاد سمجھے بیٹھے ہیں کہ داستان در داستان گھڑے چلے جا رہے ہیں۔ بخدا ہم قطعی کسی مقتل کی دہلیز پہ موجود نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ہر دن کی مناسبت سے کوئی نہ کوئی بات در دل پہ دستک دیتی ہے اور ہم سوچتے ہیں…

Read more

لکھنے والی انگلی لکھتی ہے اور آگے بڑھ جاتی ہے

داستانوں میں ہوا کرتا تھا کہ بادشاہ سلامت جہاں پناہ کے من میں ایک خیال سر اٹھاتا، جس کے گرد سوال بنا جاتا اور جواب ڈھونڈنے کے لئے سلطنت کے طول وعرض میں منادی کرا دی جاتی۔ خطیر انعام وکرام کا وعدہ ہوتا سو بہت سے متوالے سر پہ کفن باندھ کے میدان عمل میں…

Read more

محبت کے پانیوں پر پرواز کرتے پرندے

حسین چہرہ، معصومیت و دلکشی، دل فریب مسکراہٹ اور چمکتی آنکھیں! برابر میں جیون ساتھی، ہاتھ تھامے، مردانه وجاہت کا نمونہ ، بات بہ بات ہنستا ہوا! دونوں کو دیکھ کے محسوس ہوتا تھا کہ ایک دوسرے کے لئے بنے ہیں، چاند سورج کی جوڑی تھی۔ ہمارے دل سے ایک آہ نکلی، کاش ایسا نہ…

Read more