ماسک کیوں پہنا جائے؟

تم ماسک کیوں پہنتی ہو؟ ہم سے سوال کیا گیا۔
کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ مجھے بار بار کووڈ ہو اور پھر لانگ کووڈ۔ ہم نے جواب دیا۔
کیا تم نے ویکسین نہیں لگوائی؟ پھر سوال۔
ہم نے فائزر کے تین انجکشن بھی لگوائے ہیں اور ماڈرنا کے بھی۔ ہمارا جواب۔
پھر تو تم محفوظ ہو گئیں نا۔
نہیں، وائرس بار بار اپنی شکل بدل کر حملہ کر رہا ہے۔ ہم نے کہا
تو بھئی اب یہ فلو جیسا ہو گیا نا۔ روٹین کی بات۔ جواب ملا۔

Read more

فیمنسٹ عورتو، عقل کے ناخن لو!

اپنے جیسی کا حشر دیکھ کر ہوش ٹھکانے آئے کہ نہیں؟ ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا، وقت ہے بگڑی تگڑی عورتو، توبہ تلا کرو اور پدرسری کے راستے کو فوراً اختیار کرو۔ تمہیں توبہ کرنے کا ایک موقع دیا گیا ہے ، تاکہ تم اس انجام سے بچ سکو جو حال ہی میں ایک فنکارہ کا ہوا۔ کیا تم نہیں جانتیں کہ ہمارے سائے میں رہنے والیوں کو ایک پورا پیکج ملتا ہے جس میں باعزت ٹھہرائے جانے سے لے

Read more

کیا آپ ڈینگی وائرس، ہیپاٹائٹس سی وائرس، چیچک وائرس اور ایڈز وائرس کو مانتے ہیں؟

عالمی وبا کووڈ کے بعد بہت سی کہانیاں زبان زد عام ہوئیں۔ کچھ کے مطابق کووڈ ایک سازش تھی، جس کے تحت بے شمار انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ کچھ کے نزدیک کووڈ وائرس اور فلو میں کوئی خاص فرق نہیں۔ کچھ نے کووڈ ویکسین کو ان تمام بیماریوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جو کووڈ کے بعد دیکھنے میں آئیں، آ رہی ہیں اور جن میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ان میں سر فہرست ہارٹ اٹیک اور کینسر ہیں۔

ہم آپ کو ایک تحقیق سنانا چاہتے ہیں لیکن اس سے پہلے کچھ بدنام زمانہ وائرسز کے بارے میں بات کر لیں۔

Read more

ڈاکٹروں کی سیاست!

ڈاکٹری کا شعبہ ویسا ہی ہے جیسے وطن عزیز کے باقی سب شعبے۔ انتظامی اور تکنیکی امور میں تو گڑبڑ ہے ہی مگر ڈاکٹروں کے بیچ سفارش، فیورٹزم، دھینگا مشتی، جونیئرز ابیوز، سینئیرز کی آمریت اور بہت کچھ شامل ہے۔ ہم مشاہدات کی نہیں ان تجربات کی بات کر رہے ہیں جس کے بعد ہم نے یہ پلان بنایا کہ بس بہت ہو گئی۔ ٹیچنگ ہسپتال کے ہر وارڈ میں ایک بادشاہ ہوتا ہے جسے پروفیسر کہتے ہیں، اس کے

Read more

لال گولی، نیلی گولی، پستول کی گولی، انسل اور ثنا!

”مجرم ثناء یوسف سے بار بار رابطہ کرتا رہا لیکن ثناء یوسف انکار کرتی رہی۔ اس سے قبل ملزم ثناء یوسف کے گھر آیا لیکن آٹھ گھنٹوں تک انتظار کے باوجود ملاقات نہ ہو سکی۔ 29 مئی کو ثناء کی سالگرہ کے روز بھی ملاقات کی کوشش کی گئی لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ وقوعہ کے روز ملزم نے ملاقات کی کوشش کی لیکن ناکامی کی صورت میں اس نے گھر میں گھسنے کی منصوبہ بندی بنائی اور پھر

Read more

تھی خبر گرم کہ اُڑیں گے ہمارے پُرزے

ہم نے بچپن سے زندگی کچھ ایسی نٹ کھٹ سی گزاری تھی کہ نہ کبھی شادی کا خیال آیا اور نہ ہی بچے کا شوق پالا۔ بلکہ صاف پوچھیے تو ہمیں بچے بالکل اچھے نہیں لگتے تھے (یہ بات ہمارے بچے بھی جانتے ہیں ) ۔ جونہی کسی کا بچہ رونا دھونا شروع کرتا ہماری پیشانی پہ بل پڑ جاتے، گو مُوت کے آثار دیکھ کر ہم چھی چھی کرتے ہوئے ناک آنکھیں بند کر لیتے، ممکن ہوتا تو جائے

Read more

لات نہیں گھٹنا مارنا سیکھ لو

نئی نئی شادی کے دن، ہم اور ہمارے صاحب دونوں فلمیں دیکھنے کے شوقین۔ کبھی ٹی وی تو کبھی وی سی آر۔ عموماً تو فلم کا دورانیہ اچھا ہی گزرتا، مصیبت یعنی ”وختا“ تب پڑتا جب فلم میں یکایک کوئی ریپ سین آ جاتا۔ چیختی چلاتی لڑکی، منتیں کرتی، واسطے دیتی، ادھرادھر بھاگتی۔ پیچھے پیچھے خوفناک صورت مرد، لپک کر راستہ روکتا، پھر اپنی ہوس کا شکار بناتا۔ یہ دیکھ کر ہمارا رنگ پیلا پڑ جاتا، دانت کچکچاتے، مٹھیاں بھینچتے،

Read more

جوش ملیح آبادی، ڈاکٹر رشید جہاں اور آج کی اداکارائیں

”اور تو اور عورتوں کی آوازیں اور ان کا وزن بھی پردہ نشیں تھا۔ یعنی کوئی بی بی اس زور سے نہیں بولتی تھی کہ اس کی آواز مردانے میں جائے اور جب کوئی عورت پالکی میں سوار ہوتی تھی تو پتھر کا ٹکڑا یا سل پالکی میں رکھ دیا جاتا تھا کہ کہاروں کو اس کے اصل جسم کا اندازہ نہ ہو سکے اور بیبیاں تو بیبیاں مامائیں، اصیلیں اور لونڈیاں تک پردے کی پابند تھیں۔ زنانے میں آنے

Read more

امی کی سلائی فیکٹری

اسی کی دہائی آج سے بہت مختلف تھی، نہ ڈیزائنرز کی بہار تھی اور نہ ہی چیزوں کی بہتات۔ نہ زندگی ایک عالمی گاؤں میں تبدیل ہوئی تھی کہ گاؤں دیہات میں بیٹھے ہوئے بھی سب کو علم ہوتا کہ کورین کاسمیٹکس میں کیا نیا ہے اور کیسا ہے؟ دنیا تو دور کی بات، پاکستانی برینڈز بھی خال خال ہی نظر آتے۔ ایسے قحط میں ایک شوقین لڑکی میڈیکل کالج جا پہنچی جہاں دنیا بھر سے لوگ پڑھنے آئے تھے۔

Read more

شرلاک ہومز کی پیچ دار گتھی سلجھائیے!

لیبر روم سے فون : تین ہفتے پہلے ڈلیوری ہوئی تھی، کوئی پیچیدگی نہیں ہوئی تھی۔ دو دن ہسپتال رہنے کے بعد گھر بھیج دیا تھا۔ تین ہفتے وہ ٹھیک رہی اور آج صبح ویجائنا سے بلیڈنگ شروع ہوئی۔ پہلے ہلکی ہلکی اور دوپہر کے بعد بڑے بڑے کلاٹس ( لوتھڑے ) ۔ ہمارے پاس پہنچی تو بلڈپریشر لوئر سائیڈ پہ تھا، رنگت انتہائی پیلی، ہیموگلوبن چیک کروایا، سات نکلا۔ ڈاکٹر نے ہسٹری بتائی۔ بخار؟ ہم نے پوچھا۔ نہیں ہے۔

Read more

لڑکیوں کو شادی کے خواب کیوں دکھائے جائیں؟

”پرسوں نا میری خالہ آئیں اور شام کو پاس بٹھا کر میرے ہاتھ میں انگوٹھی ڈال دی۔ میری امی نے شکر ادا کیا“ ”کل تائی اماں ہمارے گھر آئیں اور میرے سر پہ دوپٹہ ڈالا۔ امی ابا اتنے فکر مند تھے کہ وہ اتنی دیر کیوں کر رہی ہیں؟“ ”پھوپھی نے ہاتھ پہ پیسے رکھے اور ساتھ میں مٹھائی کا ٹوکرا۔ امی کے وظیفے کام آ ہی گئے“ ”آج کل روزانہ ماسی آتی ہے ہمارے گھر، ہاتھ میں ڈھیروں تصویریں

Read more

بیٹیوں کے سنگدل والدین!

جب اوّل و آخر ہدف ہی شادی ہے تو کیا ضرورت ہے کتابوں میں سر کھپانے کی؟ اور اگر اچھے رشتے کی تلاش میں ڈگری لے ہی لی ہے تو نوکری کیوں کی جائے، منہ کی رونق چلی گئی تو کون پسند کرے گا؟ لیجیے آ گئی بلی تھیلے سے باہر! جی چاہا کہ اس کے جواب میں وہ سب کہا جائے جو وقتاً فوقتاً کان میں پڑتا رہتا ہے۔ ایک تقریب میں ایک خاتون دوسری خاتون سے۔ ” بہن

Read more

پی آئی ڈی : ایک موذی بیماری!

پی آئی ڈی : ( pelvic Inflammatory Disease) ڈاکٹر صاحب مجھے گندا پانی آتا ہے۔ بہت تنگ ہوں۔ یہ جملہ گو کہ نامکمل ہے کہ سیاق سباق کے بغیر ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ جب بھی بولا جاتا ہے، کہنے والی اور سننے والی دونوں سمجھ جاتی ہیں کہ اس کے معنی کیا ہیں؟ حالانکہ آپ دیکھیے کہ یہ بات نہیں بتائی گئی کہ گندا پانی کہاں سے آتا ہے اور اس سے مراد کیا ہے؟ خواتین کی

Read more

ویجائنا کا علاج کیسے کرنا ہے؟

گزشتہ ہفتے ہم بے ویجائنا کی بیماری کی بات کی۔ ویجائنا کی مشکلات میں سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ اس کے آس پاس پیشاب اور پاخانے کے خروج کے راستے ہیں اور دونوں سے نکلنے والا فضلہ جرثوموں سے لدا ہوتا ہے۔ حوائج سے فراغت کے بعد اگر چہ دونوں جگہ کو دھویا جاتا ہے لیکن جرثوموں کی کچھ نہ کچھ تعداد ویجائنا میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ یہ جرثومے کے حملے کی ایک وجہ

Read more

قبل از وقت بچے کی پیدائش : ویجائنا بیمار ہے

بچے کی تھیلی ساتویں مہینے میں پھٹ گئی! بچہ آٹھویں مہینے میں پیدا ہونے کے بعد دو دن بعد چل بسا! ساڑھے چھ مہینے کا بچہ ہے اور بچے دانی کا منہ کھل گیا ہے، کیا کریں؟ بتیس ہفتے کا بچہ پیدا ہوا مگر بچ نہ سکا! ایسے بہت سے سوالات اکثر ہم سے پوچھے جاتے ہیں۔ تشویش کے ساتھ ساتھ وجہ جاننے پر بھی اصرار ہوتا ہے۔ اگرچہ زیادہ تر لوگ ڈاکٹر کے زیر علاج ہوتے ہیں مگر کسی

Read more

امریکی ویزا، ایڈولیسنیس اور چودہ سالہ پاکستانی امریکن ٹک ٹاکر لڑکی کا قتل

پچھلے ہفتے بہت سی باتیں ہوئیں اور سب ہی سنانے کو جی چاہتا ہے۔ امریکہ جو ہمارا محبوب بھی ہے اور دشمن جاں بھی، جہاں پہنچنے کو ہر کسی کا جی چاہتا ہے مگر گالی بھی اسی کو دی جاتی ہے۔ عجیب محبت و نفرت کا رشتہ ہے۔ پچیس تیس برس پہلے پاکستانی عوام ان ممالک میں شامل تھے جو ویزا لاٹری میں درخواست ڈال سکتے تھے۔ سچ پوچھیے تو لاٹری وغیرہ پہ یقین کچھ کم ہی تھا کہ ہمارا

Read more

جگن کاظم، پہلے شوہر کا تشدد بڑی جلدی بھلا دیا آپ نے!

فیمنزم کو برا بھلا کہہ کر اور فیمنسٹ عورتوں / مردوں کو کچرا قرار دے کر خود کو بی بی بھولی بھالی اور گھر کے مرد کو آئیڈیل قرار دینے والی عورتوں کی ہمارے معاشرے میں کمی نہیں۔

وجہ ڈھونڈی جائے تو پتا چلتا ہے کہ وہی احساس کمتری۔ اندر کہیں مردوں سے تھپکی لے کر سیدھی راہ پہ چلتی ستی ساوتری عورت کا ٹیگ لگوانے کی شدید خواہش۔ اس خواہش کو پورا تو ایسے ہی کیا جا سکتا ہے کہ اپنی ہی ہم صنف پہ کیچڑ اچھال کر معصومیت سے کہہ دیا جائے : داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔ ( مرد) ۔

Read more

تھیلی وقت سے پہلے کیوں پھٹ گئی؟

”چوبیس ہفتوں پہ پانی کی تھیلی پھٹ گئی۔ پانچ چھ ہفتے مسلسل پانی آتا رہا۔ تیس ہفتے پہ آنول پھٹ گئی۔ سیزیرین کر کے بچہ نکالا۔ دو دن زندہ رہا اور پھر واپس اللہ کے پاس۔ یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ بچہ کیوں نہیں بچ سکا؟ پانی کی تھیلی کیوں پھٹی؟ آنول کیوں پھٹی؟ ” آہ ہا۔ میری بچی۔ ایک ہی پیغام میں اتنے سوال۔ چلو کوشش کرتے ہیں کہ ایک ایک کر کے جواب دیں۔ بچے دانی میں جب

Read more

بچے کا سر بے ڈھب کیوں ہے؟

  پیڈز (اطفال) ڈیپارٹمنٹ سے فون تھا۔ ”کل رات ایک بچہ پیدا ہوا ہے، سر بہت سوجا ہوا ہے۔ اوزاری ڈیلیوری تھی، بچہ ٹھیک طرح سے دودھ نہیں پی رہا۔ ذرا دیکھ لیجیے گا کہ ڈیلیوری میں کوئی گڑبڑ تو نہیں ہوئی۔“ گائنی/آبسٹیٹرکس اور پیڈز کے شعبے ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوتے ہیں کہ حمل کے نو ماہ اور زچگی ہماری ذمہ داری اور زچگی کے بعد دنیا میں آنے والا بچہ ان کے سپرد۔ اگر کسی بچے

Read more

میرا یہ حال کیوں ہوا؟

تصور کیجیے کہ آپ ایک سرنگ میں ہیں اور آپ کو وقفے وقفے سے آکسیجن مل رہی ہے۔ جس وقفے میں آکسیجن نہیں ملتی، آپ کی طبیعت بگڑنے لگتی ہے۔ آکسیجن کی بحالی آپ کو پھر سے تازہ دم کرتی ہے۔ لیکن پھر آکسیجن نہ ملنے کا دورانیہ بڑھنے لگتا ہے، آپ کی سانس تنگ ہونے لگتی ہے، ذہن پہ غنودگی چھا رہی ہے۔ آپ سرنگ سے باہر نکلنا چاہتے ہیں جلد از جلد لیکن سرنگ کا راستہ کچھ ایسا

Read more

فرسٹ ائر فول: ایم بی بی ایس کہانی۔ قسط نمبر نو

تھی خبر گرم کہ غالب کے اُڑیں گے پرزے دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا مرزا غالب خوش نصیب نکلے کہ جو سنا تھا وہ ہوا نہیں۔ پر ہماری ایسی قسمت کہاں تھی؟ ہر طرف سے خبریں مل رہی تھیں کہ سینئر لڑکیاں اپنے ہتھیار تیز کر رہی ہیں۔ کسی بھی وقت دھاوا بولا جائے گا اور نئے پنچھیوں کو آٹے دال کا بھاؤ بتایا جائے گا۔ سب لڑکیاں اس ناگہانی کے تصور سے ہی سہمی بیٹھی

Read more

زچگی کے عمل کا دوسرا فریق: بچہ

ویجائنل ڈلیوری کو آئیڈیل مانتے اور سیزیرین پہ لعنت بھیجتے ہوئے بیشتر لوگ ایک بات بھول جاتے ہیں کہ ڈیلیوری کے اہم ترین فریقین میں عورت، گھر والوں اور ڈاکٹر کے علاوہ کوئی اور بھی ہے اور وہ ہے عورت کے بطن اور ویجائنا کے راستے دنیا میں پہلا قدم رکھنے والا بچہ۔ زچگی کے عمل میں عورت اور بچہ ایک ایسا سفر طے کرتے ہیں جس کا ہر پیچ و خم ایک اندھا موڑ ہے جس کے آگے کھائی

Read more

اگر بچہ ویجائنا سے باہر نہ نکل سکے تو؟

پچھلے کالم کے بعد کچھ نے کہا کہ ویجائنا تو بنی ہی اس لیے کہ بچہ وہاں سے نکلے۔ کچھ فرمانے لگے کہ فلاں بی بی نے دس بچے پیدا کیے، کچھ بھی نہ ہوا۔

مورکھو۔ جان لو کہ تمہارے گھر کی عورت وہ ہستی ہے جو تمہارے ساتھ پوری زندگی گزار جائے گی مگر تمہیں کانوں کان خبر نہ ہونے دے گی کہ کیسی گزری؟

عورت کو بولنا اور حق مانگنا سکھایا ہی نہیں گیا بلکہ گھٹی میں یہ ڈال دیا گیا ہے کہ خبردار، منہ بند رکھنا، زبان پہ شکوہ شکایت لائیں تو نہ آگے کی رہو گی نہ پیچھے کی۔ سو آگے نہ پیچھے کا خوف دل میں پالتے ہوئے زندگی کے دن کاٹتی ہے گن گن کر۔

Read more

بچہ پیدا کرنے کے لئے ویجائنا کٹوائیں یا پیٹ؟

ایک پیغام موصول ہوا۔

”میری نارمل ڈلیوری ہوئی، تیسرا بچہ تھا۔ ٹانکے تو لگے مگر شاید ٹھیک سے نہیں لگائے گئے۔ اب پاخانہ ویجائنا کے راستے آ رہا ہے۔ بتائیے کیا کریں؟“

کیا کہیں؟ کیسے کہیں کہ یہ نارمل زچگی کا تاوان ہے۔ لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنے؟

عالم یہ ہے کہ نارمل زچگی کیوں نہیں؟ نارمل زچگی ہونی چاہیے۔ کا وظیفہ ہر طرف پڑھا جا رہا ہے اور وہ لوگ بھی پڑھ رہے ہیں جنہیں گائنی کی الف بے کا بھی نہیں پتا۔

Read more

چھلاوہ حمل!

ڈاکٹر صاحب یہ میرا تیسرا چکر ہے ہسپتال کا۔ آخر آپ میرا علاج کیوں نہیں کرتے؟ مریضہ کا شکوہ۔ کر تو رہے ہیں۔ ڈاکٹر کا جواب۔ کس قسم کا علاج ہے یہ؟ میں آتی ہوں، خون نکالتے ہیں، الٹرا ساؤنڈ کرتے ہیں اور بس۔ دیکھیے آپ کا حمل ہے ہی ایسا۔ ڈاکٹر نے جواب دیا۔ کیسا؟ مریض چڑ کر بولی۔ ہممم۔ حمل ہوا ہے آپ کو مگر بچہ نہیں ہے۔ ڈاکٹر نے کان کھجاتے ہوئے کہا۔ ڈاکٹر۔ کس طرح کی

Read more

عصمت چغتائی کی ٹیڑھی لکیر میں ہم جنسیت، مساس اور نسائیت! پانچویں قسط

سوچیں! اگر یہ بچی بڑی ہو کر ویسی شمن نہ بنتی تو کیا بنتی؟ بچپن سے سب کی ڈانٹ پھٹکار سمیٹتی، نوکروں کے رحم وکرم پر پلتی، پیار کے دو شبد بھی جس کو مشکل سے میسر آتے۔ غصے، تنہائی، بے بسی، بے چارگی کی آگ میں جلتی ایک چھوٹی سی بچی۔ ”اس نے منہ پھیر لیا اور چھت پر لٹکے جالوں کو دیکھتی رہی جس میں نیم مردہ مکھیاں جھول رہی تھیں۔ اس پر پھر دورہ سا پڑ گیا۔

Read more

عصمت کی ٹیڑھی لکیر میں ہم جنسیت، مساس اور نسائیت: چوتھی قسط

شیر خوارگی میں شمن کو سولہ سترہ برس کی انا کے حوالے کیا گیا۔ انا شمن کو پال تو رہی تھی لیکن اپنی عمر کی وجہ سے اس میں دیکھ بھال کرنے اور بچی کی ضروریات کو سمجھ کر خیال رکھنے کی صلاحیت اور گنجائش یا کیپیسٹی نہیں تھی۔ وہ جس عمر میں ہے اس کے خود اپنے فطری تقاضے ہیں۔ یہ تقاضے خود ایک طاقت کے حامل ہوتے ہیں اور جسموں اور سوچوں کو ڈرائیو کرتے ہیں۔ اسی لیے

Read more

ابا کا حقہ!

ڈیوڑھی کا دروازہ کھلتا، سائیکل کی کھڑ کھڑ کی آواز آتی، باورچی خانے میں چولہے کے سامنے بیٹھی امی آواز دیتیں۔ پاتھیوں ( اپلے ) کو آگ لگا دو۔

وسیع و عرض صحن اینٹوں سے بنا تھا اور اس کے ایک کونے میں بیری کا درخت تھا۔ بیری کے درخت سے ذرا ہٹ کر ایک طرف مٹی کی انگیٹھی رکھی تھی۔ بیری کے دوسری طرف صحن کے کونے میں ایک چھوٹی سی کوٹھڑی تھی۔ کوٹھڑی کی چھت نیچی تھی اور وہاں صبح شام چڑیوں کا ایک جھنڈ باجرہ چگتے نظر آتا۔ باجرے کے ساتھ ایک پیالے میں پانی بھی رکھا ہوتا۔ ابا ہر شام کوٹھری کی دیوار کے ساتھ میز رکھتے، اس پہ چڑھ کر چھت پہ مٹھی بھر باجرہ بکھیرتے، پیالے کا بچا ہوا پانی پھینک کر تازہ پانی بھرتے۔

Read more

عصمت کی ٹیڑھی لکیر میں ہم جنسیت، مساس اور نسائیت: تیسری قسط

لیکن دیکھیے اسے کیا رنگ دیا گیا۔ شمن کو ویسی ہی ایک لڑکی سمجھا گیا جو اپنی ٹیچرز پر اپنی نوبلوغت کے جنسی جذبات انڈیلنے کی کوشش کرتی ہیں اور بعض اوقات ٹیچرز بھی اس کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔ بجائے یہ کہ مس چرن کو نفسیاتی معاملات کا ماہر قرار دیا جاتا جس نے تنہائی کی ماری ایک بچی کو بنیادی دھارے میں شامل کیا، مس چرن کو سکول سے نکال دیا گیا اور عسکری صاحب کو لگا کہ بات

Read more

عصمت کی ٹیڑھی لکیر , ہم جنسیت ، مساس اور نسائیت !قسط نمبر 2

اگر عسکری صاحب اردو ادب کے ان پچاس لاجواب صفحات کی لا جوابی کو کھول دیتے، بڑائی بیان کر دیتے تو ان کا کیا جاتا؟ لیکن شاید اُن کی منشا یہ نہیں تھی۔ اب میں یہ تو نہیں کہہ سکتی کہ ان میں یہ صلاحیت ہی نہیں تھی۔ ایک جملہ لکھنا تھا، لکھ دیا۔ اب لوگ پوچھتے رہیں اور عسکری صاحب کے پرچم بردار آنکھیں مٹکاتے رہیں، بات ادھوری رہ گئی اور ادھوری ہی رہے گی۔ لیکن خود عسکری صاحب

Read more

عصمت کی ٹیڑھی لکیر میں ہم جنسیت، مساس اور نسائیت! پہلی قسط

”اس ناول کے پہلے پچاس صفحے ایسے ہیں کہ ہمارا ادب ان کا جواب پیش نہیں کر سکتا۔“ (محمد حسن عسکری) ”جب میں نے ٹیڑھی لکیر لکھی اور شاہد احمد دہلوی کو بھیجا تو انہوں نے اسے حسن عسکری کو پڑھنے کے لیے دیا۔ انہوں نے مجھے یہ رائے پہنچوائی کہ اپنے ناول کی ہیروئن شمن کو لحاف زدہ بنا دوں۔“ (عصمت چغتائی ؛ کاغذی ہے پیراہن) ”جسم کے احتساب کا عصمت کے پاس ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ

Read more

حمل ہوا مگر بچہ کہاں ہے؟

”میری آخری ماہواری دو مہینے پہلے آئی تھی۔ دس دن سے ہلکی ہلکی بلیڈنگ ہو رہی ہے۔ پیشاب میں حمل کی موجودگی ظاہر ہو چکی، کیا میرا حمل ضائع ہو رہا ہے؟“

یہ تھی ہسٹری اور سوال جو ڈاکٹر سے پوچھا گیا۔ ڈاکٹر نے جھٹ الٹراساؤنڈ کی میز پہ لٹایا اور پیٹ میں جھانکنے کی کوشش کی۔ دو مہینے کا حمل لازمی رحم میں نظر آنا چاہیے، مگر مریضہ کا رحم خالی تھا۔

کیا ہو سکتا ہے؟
شاید اسقاط ہو چکا؟ یا شاید حمل بائیو کیمیکل تھا۔ پیشاب میں تو آ گیا مگر بچہ نہیں بنا۔

Read more

مراعات یافتہ عورتوں کی نوک جھونک!

آہ ہا۔ پیاری سہیلی کیا کہہ دیا؟ کہاں گئی وہ طاہرہ جو انیس سو پچانوے میں مری کی مال روڈ پہ قہقہے لگاتی چلتی تھی؟

سنو، ہنسی تو باقی ہے ابھی بھی مگر اب اس کی کھنکھناہٹ میں ان سب عورتوں کی آہ و بکا بھی لپٹی ہے جن سے ہم پچھلے تیس برس میں قریہ قریہ گھوم کر ملے اور ان کی ان کہی سنی۔ اور پھر ٹھان لی کہ اس آگ میں کودنا ہے، مجھے ہے حکم اذاں۔

تم نے کہا۔ دیکھو عورت کا مظلومیت نامہ اپنی جگہ مگر ہر عورت تو اس چکی میں نہیں پستی نا۔ ہم اور تم بھی تو ہیں مراعات یافتہ عورتیں۔ کیوں نہیں لکھتیں اپنے بارے میں اور ہمارے بارے میں؟

Read more

ہیما ٹوما در ہیماٹوما!

چھٹیوں کے بعد وارڈ پہنچے ہی تھے کہ اولے پڑے۔

”آپ کو ایک مریض دکھانا ہے۔ کل اس کی نارمل ڈلیوری ہوئی۔ ویجائنا میں دیا جانے والا کٹ یعنی epi کچھ زیادہ اندر تک چلا گیا تھا۔ کافی بلیڈنگ ہوئی۔ نرس اور ڈاکٹر نے مل جل کر سیا۔

دو تین گھنٹے بعد مریض نے سر چکرانے کی شکایت کی اور باتھ روم جانے پہ گرتے گرتے بچی۔ بلڈ پریشر کم تھا۔ معائنہ کرنے پہ علم ہوا کہ ویجائنا میں کلاٹس جمع ہیں اور ہیما ٹوما ( خون کا تالاب ) بن چکا ہے۔ ویجائنا کے کٹ یعنی Api کے اوپر والے حصے میں ویجائنا کی دیوار کی سلائی اکھڑی ہوئی ملی۔ ڈاکٹر کے لکھے نوٹس پڑھے تو علم ہوا کہ ویجائنا کے اوپری حصے تک مشکل سے ٹانکے لگائے گئے تھے۔ ہیمو گلوبن دس سے سات ہو چکا تھا۔

Read more

جہیز کی کہانی!

شادی کے بعد پہلا گھر شافی ہسپتال کی چھت پہ بنانے کا ارادہ تو کر لیا۔ لیکن سامنے ایک اور مشکل منہ کھولے کھڑی تھی۔ دیکھیے صاحب اگر ہماری کہانیوں میں ہر موڑ پہ ایک اور کہانی جھانکتی ہوئی نہ ملے ہو تو کیا خاک مزا آئے! بہت برسوں سے ہم نے یہ سوچ رکھا تھا کہ جب بھی شادی کا موقع آیا ہم روایتی قسم کا جہیز نہیں لیں گے۔ بات طے ہونے کے بعد جب ہم نے اس

Read more

میرا تن من نیلو نیل

مغل پورہ لاہور میں قتل ہونے والی انیقہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ چکی ہے۔ سر سے پاؤں تک جسم مضروب ہے۔ پڑھ کر دل دہل جاتا ہے کہ مرنے سے پہلے ہی انیقہ کا جسم بری طرح ٹوٹ پھوٹ چکا تھا۔ چکوال میں مرنے والی پروین کا جسم ضربات کی شدت سے نیلا اور پانی میں رہنے کی وجہ سے پھول چکا تھا۔ بھائی کے ہاتھوں تکیہ منہ پہ رکھ کر مرنے والی ارم کی زبان پھول کر

Read more

چلو چلو دینہ چلو۔ گلزار کا دینہ: قسط نمبر دو

گھر جاتے ہوئے ہم دونوں خاموش تھے۔ چپ چاپ گمُ سُم۔ کیا کریں؟ صبح شام کام کیسے کریں گے۔ ساتھ میں حمل۔ نئی نئی شادی۔ رہنے کے لیے تیسری منزل پہ بنا ایک کمرہ۔ لیکن تنخواہ دس ہزار، رہائش اور بلز فری۔ کتنی جلدی پیسے جمع ہو جائیں گے۔ کیا کریں؟ کیا کریں؟ امی سے پوچھیں کہ ابا سے؟ یا پھر آپا سے؟ اور کام؟ گائنی میں محض چھ ماہ ہاؤس جاب کیا ہے۔ گائنی کا ابتدائی کام وہ بھی

Read more

زچگی کا سفر : راستہ، بچہ اور درد! دوسری قسط

پیسنجر / بچہ : یہ دنیا کا واحد مسافر ہے جو سر کے بل سفر طے کرتا ہے اور وہ بھی اپنے بل بوتے پہ نہیں بلکہ کچھ بچے دانی کا دھکا اور کچھ ماں کی نیچے کی طرف دھکیلنے کی کوشش۔

اس سفر میں بچے کا جسم اور سر خاص پوزیشن میں رکھنے کی ضرورت ہے اور اگر بچہ ایسا نہ کر سکے یا ایسا نہ ہو سکے تو بچہ نیچے کی طرف نہیں کھسکتا باوجود اس بات کے کہ بچے دانی اور ماں مسلسل پریشر ڈال رہی ہوتی ہیں۔

بچے کی پوزیشن جاننے کے لیے کولہے کی ہڈی میں کچھ لینڈ مارک مقرر کیے گئے ہیں جو یونیورسل طور پہ طے ہیں ( پچھلے مضمون میں بتایا جا چکا ہے ) ۔ بچہ جب بھی ان لینڈ مارکس تک پہنچے، ڈاکٹر ایک چارٹ پہ پوزیشن کا نشان لگاتی ہے۔ بچے کے سر میں بھی مختلف نشان مقرر کیے گئے ہیں جنہیں ڈاکٹر ویجائنا میں میں دو انگلیوں کے ذریعے ٹٹول کر فیصلہ کرتی ہے کہ بات کہاں تک پہنچی؟

Read more

لمبازم کے پیروکار اور فیمی نازی

”کریپ (کچرا) تحریر ہوتی ہے آپ کی“ ۔ ہم ہنسے۔ فیمی نازی ہیں آپ۔ ہم اور ہنسے۔ سب حواری تھُو تُھو کر رہے ہیں۔ ہم نے ہنستے ہنستے پیٹ پکڑ لیا۔ پدرسری معاشرے میں اگر ایک عام مرد کو ہماری بات سمجھ نہ آئے اور وہ آگ بگولا ہو کر ہمیں مغلظات سے نوازے تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن تب کیا کریں جب دانشور اور ادیب کہلانے والے لوگ ہماری تحریر کو کریپ کہہ کر حملہ کریں۔ قطعی

Read more

زچگی کا سفر : مسافر، راستہ اور درد

( پہلا حصہ ) ہمارے ہاں زچگی کے عمل کو سمجھے بغیر ڈھیروں بچے پیدا کیے جاتے ہیں اور جہاں کوئی پیچیدگی ہوتی ہے وہاں کسی کو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ ہوا کیا؟ لوگ باگ ڈاکٹرز سے گلہ کرتے ہیں کہ بتاتے اور سمجھاتے نہیں۔ بات یہ ہے کہ کچھ بتانے اور سمجھانے کے لیے آپ کے پاس الف ب پ تک کا علم ہونا چاہیے تب ہی کوئی آپ کو بتا سکے گا نا کہ س ش کیا

Read more

وقت آ گیا ہے کہ رشتہ کرنے سے پہلے۔

وطن عزیز میں جب بھی کوئی عورت ماری جاتی ہے، خوب واویلا ہوتا ہے۔ آہ و بکا، غصہ، غم، سوال، انصاف کا تقاضا۔ دن گزرتے ہیں اور دھول بیٹھ جاتی ہے۔ سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے، زندگی کپڑے جھاڑ اُٹھ کھڑی ہوتی ہے اور وہی بے ڈھنگی چال چلنا شروع کر دیتی ہے تاوقتیکہ ایک اور مقتولہ کی تصویر سامنے آ جائے۔

سارہ انعام، نور مقدم، زہرہ، زارا، صدف۔ اب تو لگتا ہے کہ وہ دن دن نہیں ہو گا جس روز کسی عورت کا خون نہ بہایا جائے۔

روز و شب کے اس چکر میں کچھ نہیں بدلتا۔ کیوں؟

اس لیے کہ تبدیلی کے لیے جو عزم درکار ہے وہ ناپید ہے۔ لڑکیاں قتل ہو رہی ہیں، سسک سسک کر جی رہی ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ مقدر کا کھیل ہے اور مقدر انسان نہیں لکھتا۔

Read more

فہد مصطفیٰ تم تو ہم جیسے نکلے

”کبھی ہم کبھی تم“ میں مصطفیٰ کو بچے کی آمد سے پہلے گھر گاڑی کا بندوبست کرتے دیکھا تو ہمیں بھی بہت کچھ یاد آ گیا۔ غلط نہیں تھا مصطفیٰ۔ سرپھرے لوگ ایسا ہی سوچتے ہیں۔ ہماری شادی ہوئی، صاحب فوجی افسر اور ہم ڈاکٹر مگر دونوں پیدل۔ سواری کے لیے کبھی ٹیکسی پکڑتے کبھی ویگن۔ ادھار پہ موٹر سائیکل مل جاتی تو وارے نیارے ہو جاتے۔ مانگے کی موٹرسائیکل پہ بارش میں گھومنا کون بھول سکتا ہے؟ لیکن جناب

Read more

یہ ڈی اینڈ سی کس بلا کا نام ہے؟

عام سا لفظ۔ مخفف۔ اور عرف عام میں معنی بچے دانی کھول کر صفائی کرنا ہے۔ بچے دانی کی صفائی کیوں ہوتی ہے؟ کیوں کرنی چاہیے اور اس کا درست طریقہ کار کیا ہے؟ اکیسویں صدی میں اگر آپ کو یہ سب کچھ نہ پتہ چلے تو سمجھ لیجیے کہ آپ انیس سو ڈیڑھ میں رہ رہے ہیں۔ ڈی اینڈ سی انگریزی کے دو الفاظ کا مخفف ہے Dilatation and curettage۔ Dilatation سے مراد بچے دانی کے منہ کو کھولنا

Read more

شرجینہ کے بلڈ پریشر کا علاج کیا تھا؟

صاحب آپ نے کہا ڈرامے کو ڈرامہ ہی رہنے دیں، حقیقت نہ بنائیں۔ بجا فرمایا آپ نے! ایک سوال پوچھیں آپ سے؟ آپ کو وہی ڈرامے بھاتے ہیں نا جو زندگی سے قریب لگتے ہوں، جنہیں دیکھ کر آپ بے اختیار سوچیں۔ ارے یہ تو میں ہوں۔ یہ سب کچھ تو میرے ساتھ بھی ہوا تھا۔ ڈرامے کے کردار آپ کے گھر کے افراد بن جائیں۔ وہ آپ کی زندگی میں شامل ہو جائیں۔ ایسا ہو گا تو آپ ڈرامے

Read more

شرجینا کا بچہ کیسے ضائع ہوا؟

صاحبو۔ ہم ڈرامے نہیں دیکھتے مگر کبھی کبھار احباب ہمیں کسی نہ کسی ڈرامے کا حصہ ضرور بنا دیتے ہیں۔ مشہور شاعر سلمان حیدر نے لکھا کہ اللہ نہ کرے شرجینا کو کچھ ہو جائے ورنہ مصطفی کو میری بیوی اور ڈاکٹر طاہرہ کاظمی نہیں بخشیں گی۔ پڑھ کر ہم بے ساختہ ہنس دیے مگر پھر سوچا کہ کون ہیں یہ شرجینا اور مصطفی؟ ادھر ادھر پوچھنے کے بعد علم ہوا کہ ایک مشہور ڈرامے کے کردار ہیں اور عزیزی

Read more

ڈی آئی سی یا سی آئی ڈی؟

کچھ سمجھ نہیں آتا کیا کریں؟ فیمنزم پہ لکھنے بیٹھیں تو گائنی پیچھے رہ جاتی ہے۔ گائنی پہ قلم اُٹھائیں تو فکشن اور تنقیدی مضامین روٹھ جاتے ہیں۔ کیی کراں؟ منجی کتھے ڈھاواں؟ پچھلے دنوں طوفان برد و باراں نے لوگوں کو گھروں میں دبک جانے پہ مجبور کیا۔ ہم وہ بھی نہ کر سکے کہ طوفان اور بارش مریض کا لحاظ تو کرتا نہیں۔ کال آئی کہ قریبی ہسپتال سے ایک مریضہ آ رہی ہے سی ٹی جی انتہائی

Read more

ایک سو بارہ کی بڑھیا اور تیرہ کا چھوکرا

سوال پوچھا گیا کہ کیا ایک سو بارہ برس کا بزرگ تیرہ برس کی بچی سے بیاہ کر سکتا ہے؟ جواب ملا: مرد بلوغت سے لے کر قبر میں لیٹنے تک کسی بھی عورت سے بیاہ کر سکتا ہے۔ مطلب یہ کہ آپ کو کیا تکلیف ہے بھیا تیرہ برس کی لڑکی بلوغت پہ آ پہنچی اور ایک سو بارہ برس کا بڈھا اس کو حاملہ کر سکتا ہے۔ بس بات ختم۔ ہائیں۔ کیا واقعی لڑکی کا بیاہ اتنی سی

Read more

پلاؤ کھائیں گے احباب، فاتحہ ہو گی!

صاحبو، سوچ تو ہم عرصے سے رہے تھے کہ کیا ہو گا؟ بعد مرنے کے میرے کیا ہو گا؟ دل ناداں بہت کچھ کا تمنائی تھا جس میں پلاؤ اور زردہ سر فہرست تھے کہ دونوں ہمیں بہت پسند ہیں اور اس وقت تو نشہ ہو جاتا ہے جب ہم دونوں کو قورمے کے ساتھ ملا کر کھائیں ( چمچ کے ساتھ ) ۔ کئی لوگوں کی آنکھیں باہر نکل آتی ہیں اور زیرلب پینڈو کا لفظ بھی ہم سن

Read more

مرد: شوہر/ گاہک/ دلال؟

چونک گئے نا آپ عنوان دیکھ کر ۔ ایسے ہی ہم پہ بھی بجلی گری تھی جب اعلان ہوا کہ عورت کا مقام محض پراپرٹی ہونا ہے چاہیے ایک مرد کی ہو یا بہت سوں کی۔ پراپرٹی یعنی ملکیت یعنی بازار سے قابلِ خرید و فروخت کوئی شے یا چیز۔ یعنی بازاری! سنتے ہی دل پہ ہاتھ پڑا۔ کیا ہم۔ ۔ ۔ اور ہم سی بہت سی اور۔ ۔ ۔ بازار میں بکنے اور خریدی جانے والی جنس ہیں /

Read more

چھلا ہویا ویری!

کئی برس ہوئے بچے دانی کو جسم سے باہر لٹکے ہوئے۔ چلنا محال، کام کرنا مشکل اور ازدواجی تعلق کا تو نہ ہی پوچھیے۔ چالیس برس کی وہ خاتون ہمارے سامنے بیٹھی زار و قطار رو رہی تھیں۔ پیشاب بھی مشکل سے آتا ہے اور پاخانہ بھی۔ بچے دانی ویجائنا کے اندر ڈال کر پٹی باندھتی ہوں مگر کچھ ہی دیر میں پھر باہر۔ پچھلے برس ایک ڈاکٹر نے اندر چھلا ڈال دیا۔ چھلے سے بچے دانی کے منہ پہ

Read more

کیا غیر شادی شدہ عورت نفسیاتی مریضہ بن جاتی ہے؟

ہم نے یہ سوال پوچھا سوال فیس بک پہ، جواب ملاحظہ کیجیے۔ ”نفسیاتی مریض معاشرہ بنا دیتا ہے غیر شادی شدہ عورت کو“ ”عورت شادی نہ ہونے کے غم بالکل نفسیاتی مریض بن جاتی ہے“ ”ہمارے معاشرے میں یقیناً بن جاتی ہے کیونکہ اس کے پاس زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہوتا“ "I work in an institution and many women who are unmarried , most of them have various health issues . Physical need , emotional imbalance, the main culprit”.

Read more

سب مرد نہیں مگر ہمیشہ ایک مرد ہی!

بہتر سالہ نحیف عورت جو نانی / دادی بھی ہے لوگوں کے ہجوم میں عدالت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس عورت کو نوے بار ریپ کیا گیا ہے اور اعتراض کرنے والوں کے پاس کہنے کے لیے ان جملوں میں سے کوئی جملہ بھی نہیں ؛ اکیلی باہر کیوں گئی؟ رات دیر تک باہر کیوں رہی؟ ہنسی کیوں؟ مختصر لباس کیوں پہنا؟ سنسان جگہ کیوں گئی؟ اسے سوچنا چاہیے تھا وہ عورت ہے۔ احتیاط کرتی۔ مرد روبوٹ تو نہیں

Read more

تصور عورت، کیلا اور مسوجنی!

نئی نویلی دلہن اٹھلا اٹھلا کر ماضی کے جھروکوں سے جھانکتی کہانیاں سنا رہی ہے۔

ہمارے ہوسٹل کے سامنے ایک چھوٹا سا بازار تھا۔ تنگ سی سڑک پہ دو رویہ دکانیں اور بیچ میں لگی ریڑھیاں۔ ہم سب اسے گندا بازار کہتے تھے۔

جب گھر فون کرنا ہوتا تب گندے بازار میں لگا پی سی او کام آتا۔ بسنت میں پتنگیں اور ڈور خریدنے جاتے۔ موسمی پھل بھی وہیں سے خریدتے۔ مجھے کیلا پسند تھا وہ خریدتی۔ سلاد بنانے کے لیے کھیرے، مولیاں بھی۔

کیا؟ کیا چیز؟ دولہا نے چونک کر کہا۔
کیلے، کھیرے مولیاں اور گاجریں۔
کس لئے؟

کیا مطلب۔ کس لئے؟ ظاہر ہے سبزیاں سلاد بنا کر کھانے کے لیے اور پھل تو ویسے ہی صحت کے لئے اچھا ہوتا ہے۔ جب کھانا انتہائی بد ذائقہ ہوتا۔ دو تین لڑکیاں بھاگ کر جاتیں اور ریڑھی سے خرید کر لے آتیں۔

Read more

کہ ہر گرہ کی گرہ میں ہیں تین چار گرہ!

انیس سو چھیانوے میں گھومتے گھماتے اتفاق سے ہم نشتر ہسپتال جا پہنچے۔ وارڈ نمبر سولہ جوائن کر لیا۔ ہمیں کوئی نہیں جانتا تھا۔ ہم بھی بنا کسی دوست ادھر ادھر گھومتے رہتے۔ ایک دن آپریشن تھیٹر میں جب کچھ سینئر صاحبان آپریشن کر رہے تھے، کچھ سرجنز آفس میں بیٹھے تھے اور ہم چھوٹا بنے چائے پانی کا انتظام کر رہے تھے کہ سرجنز آفس کے سامنے سے گزر ہوا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا اور ایک خوش پوش صاحب

Read more

کھندوئی اور ڈنگے!

آپ ڈاکٹر ایکس کو جانتی ہیں؟
ہماری دوست کا سوال۔
بہت اچھی طرح۔ ہمارا جواب!
کیسی ہیں؟ کیسا کام کرتی ہیں؟ دوست کا استفسار۔
کھندوئی اور ڈنگے۔
وہ کیا ہوتا ہے؟ کراچی کی رہنے والی اہل زبان دوست منہ کھول کر ہمیں دیکھتی ہیں۔
ہاہائے تمہیں کھندوئی کا نہیں پتہ؟ ہم شرارت پہ اتر آتے ہیں۔
ایک تو آپ کے پاس اس قدر تشبیہات ہیں، تو ہم کیا کچھ سمجھیں؟
آنکھیں کھول کر دیکھنا سیکھو، سب کچھ خود بہ خود آ جائے گا۔
اچھا پہلے تو یہ بتائیے کہ کھندوئی اور ڈنگے کیا ہوتے ہیں اور پھر ڈاکٹر ایکس؟
آہ ہا کیا بتائیں؟ کیسے بتائیں؟
امی یاد آ گئیں۔

Read more

یہ کوئی عمر ہے سالگرہ منانے کی؟

ہمیں نہیں یاد کہ گھر میں کبھی کسی کی سالگرہ منائی جاتی تھی یا نہیں؟ لیکن یہ ضرور یاد ہے کہ فلمیں دیکھ دیکھ کر ہمارے ذہن میں یہ فتور آ گھسا کہ زندگی کے وہ دن ضائع جو روکھے پھیکے طریقے سے گزارے جائیں۔ ہر گزرتا ہوا دن ماضی اور دوبارہ کبھی نہیں آئے گا اور ہر آنے والا دن پردہ غیب میں، کون جانے آئے یا نہ آئے۔ سو زندگی وہی جو لمحہ موجود میں ہو اور گزاری

Read more

ریپ کا جن!

کہنے والوں نے کہا کہ مجھے جن چمٹ گیا ہے اور وہ بھی ریپ کا۔ ہائے میں مر گئی! جن چمٹ گیا اور وہ بھی ریپ کا۔ کہاں سے چمٹا؟ کیا میں گئی بال کھول کر شام ڈھلے مغرب کے وقت کسی گھنے چھتنار درخت کی جٹاؤں تلے؟ یا موتنے بیٹھ گئی کسی ایسی جگہ جہاں جن صاحب کا آرام بسیرا تھا۔ سو کر اُٹھے تو خود کو بھیگا پا کر نکل کھڑے ہوئے اس گستاخ کی تلاش میں اور

Read more

عورت کے قتل کا خطرہ، ہر وقت: فیمی سائیڈ!

پاکستان کے طوفانی دورے میں ہم نے باتیں کیں، بلا تھکان اور آپ نے سنیں۔ کچھ ہوئے متفق، کچھ نیوٹرل اور کچھ بیزار۔ سوالوں کا سامنا کیا اور جواب دینے کی کوشش کی۔ کچھ نے مان لیا کچھ نے سوچنے کی حامی بھر لی اور کچھ نے نفی میں سر ہلا کر مسترد کر دیا۔ کچھ نے کہا یہ مرد و عورت کا نہیں بلکہ انسانی مسئلہ ہے کہ مرد بھی عورت کی طرح پدرسری کے متاثرین میں شامل ہے۔ کچھ نے

Read more

بدکار/ ٹھرکی مرد کی بیوی کو کیا کرنا چاہیے؟

ایک ایسا نظام جہاں محض شبہے کی بنیاد اور غیرت کے نام پر مرد عورت کو قتل کر دیتا ہے اور پھر عدالت سے رہا بھی ہو جاتا ہے، وہاں یہ ایک سلگتا ہوا سوال ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں ازدواجی تعلقات میں امین رہنا مرد کی بے وقوفی سمجھی جاتی ہے اور عورت کو صبر و شکر کا درس دے کر اس کی ذات کو مٹی میں ملا دیا جاتا ہے۔ سو عورت کیا کرے؟ کسی بھی سوال کا

Read more

چکوال کی بائیس سالہ پروین جسے کوئی پناہ نہ دے سکا!

اس کی ایک آنکھ چھری کے وار سے نکال دی گئی تھی۔ ایک پستان کاٹ دیا گیا تھا۔ پیٹ پہ چھری کے چھ سات وار تھے اور انتڑیاں باہر لٹک رہی تھیں۔ دل کے مقام پر بھی چھری بھونکی گئی تھی۔ پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر کا کہنا ہے ”میں نے اپنی زندگی میں ان گنت پوسٹ مارٹم کیے ہیں مگر اس عورت کی لاش جیسی بربریت پہلے کبھی نہیں دیکھی“  (روزنامہ ڈان ؛ چار اگست ) ”ہمارا باپ مر

Read more

پکاسو کی گارنیکا (Guernica)!

رائنا صوفیہ ہمارے سامنے تھا، سپین کا نیشنل میوزیم! ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ ہمارے دوست احباب ہماری اس محبت پہ بہت حیران ہوتے ہیں جو ہم میوزیمز میں پہروں گھوم کر محسوس کرتے ہیں۔ پیسے خرچ کر کے پینٹنگز دیکھنا؟ کمال فضول خرچی ہے بھئی۔ اس سے اچھا ہے اس وقت میں کسی شاپنگ مال جا کر ان پیسوں کی شاپنگ کی جائے یا پھر اچھا سا کھانا۔ ہمارا یہ حال ہے کہ ہم یہ سن کر

Read more

اندلس اجنبی نہیں تھا!

کافی ہاؤس کی بوڑھیاں ؛ قسط نمبر چھ دوسرے دن علی الصبح آنکھ کھل گئی۔ دماغ بگڑا بیٹھا تھا کہ کل سے سرزمین سپین پہ آئی بیٹھی ہو اور ہلنے پہ تیار نہیں۔ کیا بستر پہ پاؤں پسارنے آئیں تھیں؟ دیکھتے نہیں کس قدر تھکاوٹ تھی۔ ہم نے گھرکا۔ کل کی شام تو تم نے گزار دی نا ایسے ہی۔ گلی میں جھانکتے اور نہ جانے کس کس کو یاد کرتے ہوئے۔ یہ نہ ہوا کہ باہر کا ایک چکر

Read more

مظلوم کون؟ خلیل الرحمن قمر یا آمنہ عروج؟

اصلیت سے واقف ہوتے ہوئے بھی اگر، مگر، لیکن، چونکہ، پھر بھی، وہ لڑکی۔ کا گیت گانے والوں کو دیکھ کر ہم خود کلامی کرتے ہوئے اپنے آپ سے ایک ہی سوال پوچھتے ہیں ؛ ”یہ کیسی ہمدردی ہے جو ایک شخص کے عورت کے خلاف شدید جارحانہ پن، متشدد الفاظ اور اسے ارزاں مخلوق سمجھنے کی رٹ لگائے ہوئے شخص کے لیے اس کے بھائی بندوں کے رگ و پے میں اتر آئی ہے“ چونکہ تشخیص کرنے کے مرض

Read more

پک می گرلز، فیمنزم اور چیمنڈا انگوزی ادچی!

پدرسری نظام کے خلاف بات کی جائے تو بہت سے خواتین و حضرات جھنجھلا کر پوچھتے ہیں کہ ہم مرد حضرات کی مخالفت کا بیڑہ کیوں اٹھائے ہوئے ہیں؟ جبکہ ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ ہمارا فیمنزم کسی بھی صنف کی مخالفت کی بجائے ان رویوں کو مٹانے میں دلچسپی رکھتا ہے جس کی آڑ لے کر پدرسری نظام کا طاقتور مہرہ کمزور کا استحصال کرتا ہے۔ یہاں یہ بات دلچسپ ہے کہ چونکہ اس نظام سے بائی

Read more

بچہ کس سٹیشن پہ کھڑا ہے؟

آپ میں سے بے شمار لوگ شاکی رہتے ہیں کہ نو مہینے ڈاکٹر کو چیک کروایا، سب ٹھیک تھا۔ درد زہ شروع ہوئے تب بھی سب بھلا تھا۔ دس بارہ گھنٹے درد برداشت کرنے کے بعد ڈاکٹر نے سیزیرین کر دیا کہ بچہ نیچے نہیں آ رہا۔ یہ کیا بات ہوئی؟ نرا دھوکا۔ پیسے کمانے کے ہتھکنڈے۔

اگر ہم گائناکالوجسٹ نہ ہوتے تو ڈاکٹر کا جواب سن کر یہ ضرور سوچتے کہ کہاں کھڑا تھا بچہ جہاں سے نیچے نہیں آ رہا تھا؟

لیکن ہمیں تو اس کے پیچھے موجود کہانی کا خوب علم ہے سو جی چاہتا ہے کہ بچے کے کھڑی ہونے کی کہانی آپ کو بھی آپ بھی سنائیں۔

نو ماہ کے حمل میں سب اچھا کی گردان اگر کی جاتی ہے تو وہ ماں اور بچے کی صحت کے متعلق ہوتی ہے، زچگی کے عمل کے لئے ہر گز نہیں۔ ماں اور بچے کا وزن، بچے کے گرد پانی، آنول نال کی پوزیشن اور بچے کی پوزیشن، بلڈ پریشر اور شوگر کے مسائل، بچے کے دل کی دھڑکن۔ یہ ہیں طبعی حمل کے مسائل اور اگر کوئی اور مسئلہ نمودار ہو جائے تو وہ بھی۔

Read more

ساحل عدیم کی بہن اور خلیل الرحمن قمر کی بیٹی!

حملے کا انداز تو بہت پرانا ہے۔
فلاں کو دیکھو، دوسروں کو وعظ کرتا ہے اور اپنی بیٹی ایسی۔
فلاں کو دیکھو، عورت کے پردے پہ درس دیتا ہے اور اپنی بہن کھلے سر۔

سچ پوچھیے تو اس انداز میں طعنہ دینے والوں میں اور ونی کرنے والوں میں ہمیں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ پہلا گروہ سمجھتا ہے کہ یہ مرد ناکارہ ہے گھر کی عورت کو قابو نہیں کر سکا تو اور کیا کرے گا؟ دوسرا گروہ سمجھتا ہے کہ مرد کی خطا معاف کروانی ہو تو گھر کی عورت دشمن کو ہدیہ کر دو۔

یعنی کچھ بھی ہو، مرد کی وحشت کا تاوان عورت کو ہی ادا کرنا ہو گا۔

ان خود ساختہ دانشوران اور سپیکرز سے ہمارا اختلاف چاہے آسمان تک ہو لیکن ہم یہ ہر گز نہیں چاہیں گے کہ ان کی شخصیت کی کجی اور ذہنی مغالطوں کو ان کے گھر کی عورت کے سر منڈھا جائے۔

Read more

تشدد مت چھپائیے!

میرا شوہر جب بھی چیختا ہے، میں چپ ہو جاتی ہوں۔ جب انہیں غصہ آئے میں دوسرے کمرے میں چلی جاتی ہوں۔ میں ایسا کوئی کام نہیں کرتی جس سے انہیں غصہ آ جائے۔ گھر میں سکون رکھنا ہو تو پھر ان کے موڈ کے مطابق ہی چلنا چاہیے۔ کیا فائدہ بحث کرنے کا؟ وہ ناراض ہوں گے، گھر میں تلخی بڑھے گی اور بچے بھی افسردہ ہوں گے۔ اگر انہیں جواب دو تو وہ تھپڑ مارنے پہ اتر آتے

Read more

آخری آپریشن!

ہم چوبیس مئی کو آپا کو چھوڑ کر لاہور سدھار چکے تھے۔ جہاں داخلے کی خوشی تھی وہاں رہ رہ کر آپا کا خیال آتا تھا کہ ہماری اور آپا کی بچپن سے ہی بہت بنتی تھی اور دس برس کی چھوٹائی بڑائی کے باوجود ہم بڑی چھوٹی بہن سے زیادہ غم خوار سہیلیاں زیادہ تھے۔

اور اب بیمار و لاغر آپا اکیلی رہ گئی تھیں۔
ابا کا لکھا ہوا پہلا خط جب ہمیں ملا تو اس میں آپا کا ذکر یوں تھا ؛

”رات آپ کے جانے کے بعد عزیزی فاطمہ کبری بہت روئی۔ تمہاری امی جان اور میں نے اسے بہت دلاسا دیا اور کہا کہ آپ گرمیوں کی چھٹیوں میں گھر آ ہی جائیں گی انشا اللہ۔

Read more

بریانی، اُبلے انڈے اور تنقیدی شعور

امی یاد ہے آپ کو جب ہم مختلف تہواروں پہ ہونے والی دعوتوں میں جایا کرتے تھے۔ ہماری بیٹی چہک رہی تھی۔ ہاں بالکل۔ کیا دن تھے وہ بھی۔ خواب ہوئے اب تو۔ ہم نے اداس ہوتے ہوئے کہا۔ مزے کی بات بتاؤں؟ بتاؤ۔ کبھی کبھار ایسی دعوت بھی ہوتی تھی جہاں بہت مزیدار بریانی بنی ہوتی تھی مگر۔ ۔ ۔ مگر کیا؟ خوب لوازمات والی بریانی کے اوپر ابلے ہوئے انڈوں کی سجاوٹ۔ اف۔ بریانی بے چاری کا کنیا

Read more

دوسری سٹیج کی ناکامی!

سب جانتے ہیں سیزیرین سے ہونے والی زچگی۔ لیکن کیا ہر سیزیرین ایک جیسا ہوتا ہے؟
توبہ کریں جی۔ اتنا سہل ہوتا تو چھوٹے چھوٹے میڈیکل سینٹرز پہ بیٹھے ڈاکٹرز کے پسینے کیسے چھوٹتے؟

ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ زچگی کے تین مراحل ہوتے ہیں جنہیں ڈاکٹری زبان میں فرسٹ سٹیج، سیکنڈ سٹیج اور تھرڈ سٹیج کہا جاتا ہے۔

پہلی سٹیج میں درد زہ شروع ہوتا ہے اور بچے دانی کا منہ کھلنا شروع ہوتا ہے۔ یہ سٹیج آٹھ سے دس گھنٹے پہ محیط ہوتی ہے۔ پہلی سٹیج سے دوسری سٹیج میں جانے کی نشانی یہ ہے کہ بچے دانی کا منہ دس سینٹی میٹر کھل جاتا ہے۔ اس مرحلے کو ڈاکٹر ”فلی ہونا“ پکارتے ہیں۔

دوسری سٹیج میں جب مریضہ فلی ہو جاتی ہے تب اسے زور لگانے کا کہا جاتا ہے۔ کچھ خواتین پہلی سٹیج میں ہی زور لگانا شروع کر دیتی ہیں کہ شاید زچگی جلدی ہو جائے گی۔ لیکن یہ غلط پریکٹس ہے کہ بچے دانی کا منہ ہی مکمل طور پہ نہیں کھلا ہوتا اور ایسا کرنے سے بچے دانی کے منہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Read more

میں اور میڈوسا ہنستے ہیں!

دنیا میں پچاس برس گزارنے کے بعد جب میں کسی حد تک کچھ باتوں کو تھوڑا بہت سمجھنے لگی تو میں نے محسوس کیا کہ میں بھی لکھ سکتی ہوں۔ اپنی یادوں کے بارے میں۔ اُن یادوں کے حوالے سے جن میں ایک عورت تھی۔ ایک عورت جس کے پاس مخصوص اور مختلف یادیں تھیں۔ ایک منفرد ماضی تھا۔

لکھنے سے مجھے لگا کہ میرا حال میرے ماضی سے الگ ہو رہا ہے۔ اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایک عورت تھی جس نے لکھنا شروع کیا اور اس نے محسوس کیا کہ وہ اپنی یادوں کے بارے میں لکھ سکتی ہے کیوں کہ ان یادوں میں ایک عورت تھی جو اس سے ملتی جلتی تھی، شباہت میں بھی اور حالات میں بھی۔ وہ عورت مجھ سے باتیں کرتی تھی اور مجھے اپنے بارے میں بتاتی تھی اور جو بھی وہ مجھے اپنے بارے میں بتاتی تھی مجھے لگتا تھا کہ وہ سب بہت جانا پہچانا، بہت دیکھا دیکھا اور بہت بیتا برتا سا ہے۔

اس نے مجھے بتایا اُسے اُس کے جسم سے نکال دیا گیا ہے اور اب وہ بے جسم ہے۔ اس نے کہا باڈی لسBodyless، تو تم سمجھتی ہی ہو گی لیکن میرا یہ بے جسمی پن یا باڈی لسنیس (Body lessness) بھوتوں پریتوں والا یا آواگوون اور روحوں والا نہیں، حقیقی ہے، بالکل حقیقی۔ تم مجھے چھو کر دیکھ سکتی ہو۔

Read more

ہوسٹل میں پہلا دن!

ایک طویل کمرہ جس میں دونوں اطراف آٹھ دس چارپائیاں بچھی ہوئیں اور ہر چارپائی پہ ایک لڑکی اداس بیٹھی حیران پریشان نظروں سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔ کہاں آ گئی میں؟ یہاں۔ یہاں رہوں گی میں اگلے پانچ برس؟ امی ابا گئے، بہن بھائی بھی چلے گئے۔ ہائے میرا گھر۔

کبھی کبھی کوئی سسکی خاموشی کا سینہ چیرتے ہوئے سنائی دیتی اور کبھی کوئی اپنے آنسو دوسروں سے چھپا کر پونچھتی نظر آتی۔ وہ سب اجنبی تھیں ایک دوسرے کے لیے اور یہ ماحول اجنبی تھا ان سب کے لیے۔ وہ پاکستان کے مختلف شہروں سے آئی تھیں۔ گوجرانوالہ، سیالکوٹ، کراچی، کوئٹہ، راولپنڈی، سرگودھا، آزاد کشمیر، گلگت۔ کون سا شہر تھا جس نے اس ہوسٹل کو آباد کرنے میں اپنا حصہ نہیں ڈالا تھا۔

بڑے شہروں کی رہنے والیاں اپنے شوخ و شنگ اور با اعتماد انداز سے پہچانی جاتی تھیں اور چھوٹے شہروں سے آنے والی جھینپی، شرمائی اور جلد گھبرا جانے والی۔ چاروں طرف اجنبیت اس قدر گمبھیر تھی کہ ذرا سی جان پہچان ڈوبتے کو تنکے کا سہارا بن جاتی۔

Read more

مردانگی، خواہشات اور بڑھاپا

وٹرنری ڈاکٹر تو ہم ہیں نہیں کہ گھوڑے کا حال احوال جانیں مگر وہ زبان زد عام محاورہ تو آپ سب نے سن ہی رکھا ہو گا نا۔ مرد اور گھوڑا کبھی۔ ۔ ۔ جی جناب اس محاورے کی بنیاد نہ جانے خوش فہمی کے کس غبارے پہ رکھی گئی ہے؟ اور گھوڑے غریب کو اس میں کیوں شامل کیا گیا یہ بھی علم نہیں؟ خیر پوچھیں گے بھئی کسی دن وٹرنری ڈاکٹر سے۔ تو جناب، یار لوگ اس کو

Read more

ازدواجی تعلق؛ راحت یا مشقت؟

میری بیوی کہتی ہے۔ میں نہانے جا رہی ہوں۔ اگر کچھ؟ افوہ۔ میری والی تو تیل لگا کر پوچھتی ہے۔ آج تیل لگایا ہوا ہے، بعد میں نہانا ہے۔ کوئی ارادہ؟ لاحول ولا قوۃ۔ میری بیوی کہتی ہے، گھر کی صفائی کی ہے، پسینہ بہت آیا ہے۔ کپڑے بدلنے ہیں۔ ابھی بتا دیں۔ ورنہ پھر پاک ہونا پڑے گا۔ میری بیوی کا تو انتظام ہی انوکھا ہے۔ علیحدہ چادر۔ کپڑے۔ گرم پانی۔ میری بیوی کو تو عین کلائمکس پہ یاد

Read more

ایک سو تیرہواں مریض!

”ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ سے کال آئی ہے۔

بتیس ہفتے کی حاملہ عورت پیٹ درد کے ساتھ آئی ہے، بلڈ پریشر کم ہو رہا ہے۔ بچے کے دل کی دھڑکن ٹھیک ہے۔ درد، درد زہ نہیں۔ ریڈیالوجسٹ نے الٹرا ساؤنڈ کی رپورٹ پہ لکھا ہے کہ جگر کے گرد بہت سا پانی جمع ہے۔ شاید جگر کا کوئی مسئلہ ہے۔ کیا کریں؟ گائنی کا مسئلہ تو نہیں لگ رہا ہمیں۔

بلڈ پریشر کتنا ہے؟ ہم نے پوچھا
اسی بٹہ پچاس۔ جواب ملا۔
نبض؟
ایک سو بیس سے ایک سو پینتیس تک۔
ویجائنا سے کوئی بلیڈنگ؟
نہیں، کچھ نہیں۔
پیٹ کو چیک کرتے ہوئے کوئی اشارہ؟
پیٹ کافی اکڑا ہوا ہے، جہاں ہاتھ لگاؤ، مریضہ اچھل پڑتی ہے۔

Read more

کچھ کمزور مردوں کی کہانی؛ جوائے لینڈ!

جوائے لینڈ بنی، ریلیز ہونے سے پہلے ہی پابندی کی زد میں آ گئی۔ سب چونک اٹھے کہ اب کیا کر دیا سرمد سلطان نے؟ زندگی تماشا کے بعد بھی چین نہیں آیا اسے؟ پتہ چلا کہ نہیں، اب کے یہ بھاری پتھر صائم صادق نے اٹھایا ہے لکھنے اور ڈائریکٹ کرنے کے لیے، سرمد سلطان بھی ہیں لیکن پشت پہ۔ کیا ہوا بھئی؟ کیا ہے جوائے لینڈ میں؟ ایک تصویر نظر آئی جس میں دوپٹّہ لہراتی حسینہ سکوٹر چلا

Read more

اودے اودے نیلے نیلے پیلے پیلے پیراہن!

گیٹ پہ رکشا رکا۔ ہم اترے، سامان اتارا گیا اور ہم نے ادھر ادھر نظر اٹھا کر دیکھا۔ گیٹ کھلا ہوا تھا۔ باوردی چوکیدار ایک طرف کھڑا تھا اور چاروں طرف لڑکیاں ہی لڑکیاں۔ رنگ، خوشبو، آوازیں، قہقہے، پرمسرت چہرے۔

ہمیں لگا اقبال نے انہیں دیکھ کر ہی وہ مشہور عالم شعر کہا ہو گا۔ اودے اودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے پیراہن۔

ہم نے فوراً اپنی طرف نگاہ کی۔ کانسی رنگ جو پہن کر چلے تھے کہیں نہیں تھا۔ راہ کے گردوغبار نے کپڑوں کو ایک ملگجے روپ میں ڈھال دیا تھا۔ ہائے ہائے یہ سب کیا سمجھیں گی، کون ہے اتنی گندی سندی لڑکی؟

Read more

پدرسری نظام کا سب سے خطرناک مہرہ ؛ بھائی!

یہ بات جب ہم نے کہیں پڑھی تھی تو حیرت سے سوچا تھا۔ واقعی؟ کیا ماں جایا؟

حالات و واقعات نے بتایا کہ جب غیرت نامی گدلی پٹی ماں جائے کی آنکھوں پر بندھتی ہے تو اسے کچھ ٹھیک سے نظر نہیں آتا۔

قندیل بلوچ کے بھائی نے آدھی رات کو بے سدھ سوئی ہوئی کے منہ پہ تکیہ رکھا تو اسے بھول گیا کہ تکیے کے نیچے تڑپنے والی ماں جائی ہے۔

حال ہی میں بہن کی گردن اپنے ہاتھوں سے گھونٹ کر موت کے سپرد کرنے کے بعد سکون و اطمینان سے پانی پینے والا بھی بھائی ہی تھا۔

کیوں کرتے ہیں ایسا یہ بھائی؟ جن کے ساتھ ایک آنگن میں کھیل کود کر بڑے ہوتے ہیں انہی کی سانسیں چھین لیتے ہیں۔

Read more

چوبیس مئی، 1984

چوبیس مئی، 1984۔ ٹیکسی چلی، گھر پیچھے رہ گیا اور وہ مہربان چہرے بھی جن کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں اور چہروں پہ مسکراہٹ تھی۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ احباب کو خیال آئے کہ ہم اس جدائی پہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیے ہوں گے اور بھائی ٹیکسی میں چپ کروانے کی کوشش میں ہلکان ہوتا ہو گا۔ یقین جانیے ایسا کچھ نہیں ہوا۔ چپ کروانے کی نوبت تو تب آتی اگر ہم۔ سب گھر والے جانتے تھے کہ

Read more

چالیس برس پہلے کا مئی اور ڈاکیہ!

نہ جانے قسمت مہربان تھی یا ڈاکیہ کہ ایک خط وہاں پہنچ ہی گیا جہاں اسے دس دن پہلے پہنچنا چاہیے تھا۔
تئیس مئی، 1984۔

ہم لکھ چکے ہیں میڈیکل کالج میں داخلے کی خبر تو فروری کے آخیر میں ہی مل چکی تھی اور یہ بھی کہ ہر طرف سے مبارکبادیاں مل رہی تھیں۔

رشتے دار، محلے دار، سہیلیاں، کلاس فیلو۔ کوئی نہ کوئی آتا رہتا۔ مبارک باد کے ساتھ یہ جملہ۔ ہمیں تو پہلے ہی پتہ تھا۔ ہم منہ کھول کر دیکھتے، ہائیں۔ انہیں کیسے پتہ تھا؟ امتحانوں سے تو ہم گزرے اور پھر بھی ہمیں پتہ نہیں تھا۔

اگلا جملہ کچھ یوں ہوتا۔ ہائے اب یہ چلی جائے گی۔ پانچ برس۔ اتنا طویل عرصہ؟ امی اداس لہجے میں کہتیں۔ خیر صلا۔ گزر جائے گا یہ وقت۔ پتہ بھی نہیں چلے گا۔ آپا بھی اداسی سے مسکرا دیتیں۔ اور ہم۔ ہم جوش سے کہتے۔ کون سا سات سمندر جا رہی ہوں میں کہ پھر آہی نہ سکوں؟

Read more

بیگانی شادی میں کون ہے دیوانہ!

میڈیا میں خبر آتی ہے ؛ تقریباً ڈیڑھ کروڑ عورتیں شادی کے انتظار میں بوڑھی ہو رہی ہیں۔ ہائے بے چاری عورتیں! ہمیں ایسا لگا کہ کسی دکان کے شیلف میں پڑی ہیں بے چاری سب کی سب۔ باسی سبزی کی طرح۔ کب آئے کوئی خریدار اور اُن کا ختم ہو انتظار! اس خبر میں بہت کچھ ایسا تھا جو زیرلب کہا گیا۔ غیر شادی شدہ عورت کو بے کس اور بے چاری کا ٹیگ اور احساس کمتری کا چولا

Read more

ڈلیوری تو نارمل تھی مگر!

آپا ایک مہینہ ہسپتال رہ کر گھر آ گئیں لیکن یہ وہ آپا نہیں تھیں۔ وہ بدل چکی تھیں ایک نحیف و نزار عورت کے روپ میں اور پیٹ کے ساتھ لٹکی ہوئی ایک تھیلی ہمہ وقت ساتھ تھی جس میں پاخانہ جمع ہوتا رہتا تھا۔

یہ تو ہم بتا ہی چکے ہیں کہ اوزاری زچگی کی وجہ سے ویجائنا اور بڑی آنت میں زخم بنے جنہیں ڈاکٹر نے اناڑی پن سے سی کر گھر بھیج دیا۔ لیکن شاید پھٹنے والی جگہ بہت زیادہ تھی اور تکنیکی طور پہ ٹھیک سے سلائی بھی نہیں ہوئی تھی سو ٹھیک طریقے سے جڑ نہ سکی اور ٹانکے بار بار ٹوٹتے رہے۔ ٹانکے ٹوٹنے کی وجہ سے زخم پھر سے کھل جاتا اور خون نکلنا شروع ہو جاتا۔

بے تحاشا خون کی بوتلیں، ان گنت دوائیاں اور تین آپریشنز کے بعد ڈاکٹرز نے فیصلہ کیا کہ ان کی پاخانے والی نالی میں سوراخ بنا کر اسے پیٹ سے باہر لٹکا دیا جائے۔ اس آپریشن کو کلاسٹومی کہتے ہیں۔ اس میں پاخانہ مقعد سے خارج ہونے کی بجائے پیٹ سے نکلی ہوئی بڑی آنت سے نکل کر پلاسٹک کے ایک بیگ میں جمع ہوتا رہتا ہے۔ جب بیگ بھر جائے تو اسے اتار کر دوسرا بیگ لگایا جاتا ہے۔

Read more

کیا ڈاکٹر کو سیزیرین ہسٹریکٹمی کرنی آتی ہے؟

جلدی آئیں۔ مریضہ کی زچگی ہوئی تھی تین چار گھنٹے پہلے۔ بہت جلدی ڈلیور ہو گئی تھی۔ شک ہوا تھا کہ بچے دانی کا منہ کچھ پھٹ گیا ہے۔ دیکھ کر ٹانکے بھی لگا دیے تھے۔ لیکن مریضہ کی بلیڈنگ نہیں رک رہی۔

چلی گاڑی ہماری اس طرف۔ جہاں ایک عورت زندگی اور موت کے بیچ کھڑی تھی۔

مریضہ کو بے ہوشی دی جا چکی تھی۔ ویجائنا کا معائنہ کیا تو سب ٹھیک تھا لیکن خون مسلسل بہہ رہا تھا۔ اگلا قدم بچے دانی کا معائنہ تھا۔ بچے کی پیدائش کے بعد اگر بچے دانی ڈھیلی پڑ جائے تب بھی خون بہتا رہتا ہے اور اگر بچے دانی پھٹ جائے تب بھی۔

Read more

ماں یا ہومر کی کیمارہ؟

تم کون ہو؟ میں۔ میں۔ کیمارہ! کیمارہ؟ وہ میں ہوں، میں وہ ہوں! کیا مطلب؟ میں اس کے اندر، وہ میرے اندر۔ ! وہ۔ ؟ وہ کون؟ وہ۔ جس نے مجھے جنم دیا۔ اور تم کس کے اندر؟ جسے میں نے جنم دیا۔ ایک عورت یا تین؟ ایک کے اندر دو۔ سو کل ہوئیں تین۔ ایک دوسرے سے بنی! ایک دوسرے کے اندر بسی۔ ! ہومر کہتا ہے تم کیمارہ ( Chimera) ہو۔ ! ہاں میں کیمارہ ہوں۔ شیر کا

Read more

ایک آدم اور ایک حوا

پنڈورا باکس کھل گیا بھئی! سب کچھ نکل آیا باہر۔ تاویلات، دعوے، محبت، پھر محبت، رنجش، ناراضگی، اور امید! یونانی دیوتاؤں نے بی بی پینڈورا کو جو باکس پکڑایا تھا تاکید بھی کی تھی ساتھ کہ بی بی کھولنا مت! لیکن بی بی کیا کرتی، کھول بیٹھی۔ نہ جانے اچھا ہوا یا برا لیکن حقیقت کھل گئی ساری کی ساری! پدرسری نظام کی حقیقت! وہ جو دعویٰ کرتا ہے کہ مرد کا گزارہ نہیں ایک عورت سے۔ مرد کو چھوٹ

Read more

مرد کی دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی کیا کرے؟

مانا کہ شرعی اجازت ہے مرد صاحبان کو کہ جب چاہئیں لائیں دوسری، تیسری اور چوتھی بھی۔

لیکن کیا یہ سب کرنا اتنا ہی آسان ہے جتنا نظر آتا ہے یا سمجھا جاتا ہے۔ اس معاملے کو ایک ایسے لینز سے دیکھا جا سکتا ہے جو پدرسری نظام کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

مرد اور عورت جب ایک گھر کی بنیاد رکھتے ہیں تو پہلا تصور یہ ہے کہ دونوں کے بیچ انسیت تو ہو گی ہی۔ محبت کا نام ہم نہیں لیتے کہ محبت کے معیار پہ پورا اترنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

انسیت کے ساتھ ساتھ اس رشتے کی بنیادی اکائی یہ بھی ہے کہ دونوں اس رشتے سے مخلص ہوں۔
کس حد تک اور کیوں؟

Read more

آپریشن پہ آپریشن

وہ رات اس گھر کے باسیوں کے لیے قیامت تھی۔ ابا مصلے پر بیٹھے تھے اور امی نومولود کو سنبھال رہی تھیں۔ گھر کی بڑی بیٹی ”زہرہ نرسنگ ہوم“ کی آپریشن ٹیبل پر لیٹی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی تھی۔ آپریشن تھیٹر سے باہر داماد اور منجھلا بیٹا بدحواس کھڑے تھے اور ”زہرہ نرسنگ ہوم“ کے ایک چھوٹے کمرے میں بیٹھی اس لڑکی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ماجرا کیا ہے؟ زچگی اور اس سے جڑی

Read more

اگر عورت بچہ نہ پیدا کرے تو؟

اگر عورت بچہ نہ پیدا کرے تو؟ سیدھا سا سوال ہے اور اتنا ہی سادہ جواب: دنیا میں لوگ نہیں ہوں گے۔ کون لوگ؟ لوگ۔ پوری دنیا کے لوگ۔ دنیا کی رونق لوگ۔ دنیا کا کاروبار چلانے والے لوگ۔ جو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی توپوں کا چارہ۔ جنگوں کی خوراک۔ اچھا اور کیا کچھ کرتے ہیں؟ کارخانوں میں دن رات کام کرتے۔ دیہاڑی پر سڑکیں کوٹنے۔ فصلیں اگانے اور کاٹنے والے۔ جہاز اڑانے والے۔ سرحدوں کا تحفظ کرنے والے۔

Read more

واہ استاد مارکیز، تم تو اپنے نکلے!

شام کا وقت، تنہائی، ہاتھ میں کافی کا مگ اور کہانیوں کی کتاب پڑھتے ہوئے اگر ہم بے اختیار اچھل پڑیں تو ارد گرد والے یقیناً سوچیں گے کہ بڑھیا کا دماغ چل گیا!

اور ہم زور زور سے ہنستے ہوئے کہیں گے۔ واہ استاد مارکیز کیا تمہیں الہام ہوا تھا کہ ویجائنل لاک کا انکشاف ہمیں کیسا رسوا کرے گا سو تم پہلے سے ہی اس کا انتظام کر گئے۔

کہاں ساؤتھ امریکہ کا نوبل انعام یافتہ ادیب اور کہاں پاکستان کی یہ لکھاری۔ گستاخ اکھیاں کتھے جا لڑیاں؟

صاحب فکشن اور نان فکشن کے بیچ کھچی لکیر اس قدر نادیدہ اور باریک ہے کہ زندگی کے تلخ سچ کو اسے پار کر کے کہانی بننے میں کچھ دیر نہیں لگتی۔

آخر کہانی ہے کیا؟

Read more

کل داخلہ، پرسوں آپریشن!

فائل پہ کچھ لکھتے ہوئے سر اٹھائے بغیر ڈاکٹر نے اپنی کرخت آواز میں کہا۔ کل داخل ہو جانا، پرسوں سیزیرین کریں گے۔

چلیں جی اگلا مریض۔ اور سامنے بیٹھی جواں سال لڑکی پوچھ ہی نہ سکی کہ کیوں؟ ایسا بھی نہیں تھا کہ لڑکی ان پڑھ جاہل تھی۔ لارنس کالج میں پڑھانے والی کو ڈاکٹر نے موقع ہی نہیں دیا کہ وہ سوال کرتی۔

یہ ہماری آپا تھیں۔

ہم ایف ایس سی کے بعد سکول میں پڑھا رہے تھے۔ میڈیکل کالج میں داخلے کا پروانہ بھی مل چکا تھا بس انتظار تھا اس خط کا کہ کلاسز کب شروع ہونی ہیں۔

Read more

زنانہ مشت زنی (؟) اور لذت کوشی

کل فیس بک پہ بنت حوا کے نام ایک بھاشن پڑھنے کو ملا جو کسی حکیم جالینوس نے ڈاکٹر کے نام سے لکھا تھا۔ ”مشت زنی (masturbation) کی وجہ سے لڑکیوں کے سیکس ہارمونز بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں جو کہ آج کل لڑکیوں میں بانجھ پن کی ایک بڑی وجہ ہے۔ شادی کے بعد ایسی لڑکیوں میں یا تو حمل نہیں ٹھہر پاتا یا بار بار حمل ضائع ہو جاتا ہے۔ ٹیسٹ سارے کلیئر ہوتے ہیں۔ بعد میں جب

Read more

صدیق عالم: زندگی اور موت کی پیشگوئی کرنے والا کہانی کار!

کہانی کا آغاز اگر اس جملے سے ہو کہ مجھے ایک خط ملا جس میں یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ ایک ماہ بعد میری موت واقع ہو جائے گی تو بتائیے آپ کہانی پڑھنے کی خواہش کریں گے یا بیزاری سے کتاب ایک طرف رکھتے ہوئے کہیں گے کیا بے سروپا بات ہے؟ مگر کیا کیجئے کہ ہمیں تو اس ایک جملے نے کسی ہشت پا کی طرح جکڑ لیا اور ہمارے پاس یہ گنجائش ہی نہ رہی

Read more

کیسے بچ گئی؟

کیا ڈاکٹر سدرہ کی طرح میرا باپ مجھے کنپٹی پہ گولی مار کے ہلاک کر سکتا ہے؟
نہیں بھئی، سب باپ ایسے تو نہیں ہوتے۔
کیا ماریہ کی طرح باپ کی موجودگی میں میرا بھائی گلا گھونٹ کر مجھے قتل کر سکتا ہے؟
افف، جاہل لوگوں سے اپنا مقابلہ نہ کرو۔
کیا سوات کے بھرے پرے بازار میں میرا شوہر میرے کم سن بیٹے کی موجودگی میں مجھے گولی مار سکتا ہے؟
دیکھو، ایسا روز تو نہیں ہوتا نا۔
کیا نور مقدم کی طرح میرا گلا کاٹا جا سکتا ہے؟

Read more

حوصلہ کر حوصلہ!

یہ لڑکی۔ دھی ہے میری۔ مجھے پیاری نہیں کیا؟ مجھے دیکھ میں منہ موڑے اطمینان سے بیٹھا ہوں۔ پیاس بجھا رہا ہوں۔ بولنے کی ضرورت نہیں۔ پھر کیا ہوا؟ باپ بھائیوں کو ایسی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ حوصلہ کر حوصلہ۔ حوصلہ! یہ تین لفظ چارپائی پہ پڑی اس زندگی کی قیمت ہیں جو باپ بانٹ رہا ہے۔ ایک چھوٹا سا کمرہ۔ چھ چارپائیاں، تین ایک قطار میں ساتھ ساتھ، بیچ میں ایک ہاتھ کا فاصلہ بھی نہیں اور بقیہ تین

Read more

چمونا رائٹر یا چمونی رائٹر؟

ارے انہیں کیسے پتہ چلا؟ کہتے ہوئے ہنس ہنس کے جب ہم بے حال ہو چکے تب ارد گرد بیٹھی سہیلیوں نے پوچھا کہ کیا پڑھ لیا آپ نے جو ہنسی نہیں رک رہی۔

چمونا۔ کہتے ہوئے ہم پھر ہنس پڑے۔
چمونا؟ وہ کیا ہوتا ہے؟
کراچی کی رہنے والی سہیلی نے حیرت سے پوچھا۔
تمہیں چمونے کا نہیں پتہ۔ ہم نے اچھل کر کہا۔
نہیں۔ وہ معصومیت سے بولی۔
کیا تمہیں کبھی چمونوں سے پالا نہیں پڑا۔ ہم مزید حیرت سے بولے۔
اس نے نفی میں سر ہلایا۔

Read more

میڈرڈ کی گلی!

میڈرڈ جانے والی فلائٹ تھی تو انٹر نیشنل مگر جہاز باوا آدم کے زمانے کا تھا۔ چھوٹی چھوٹی سیٹیں اور فون چارج کرنے کا انتظام ہی نہیں۔

ہم کھڑکی کی سائیڈ پر تھے اور ہمارے ساتھ ایک ادھیڑ عمر جوڑا بیٹھا تھا جو امریکہ سے چھٹیاں گزارنے یورپ آیا تھا۔

ہلکی پھلکی گپ شپ ہوئی۔ ہم تھوڑی دیر اونگھے اور لیجیے میڈرڈ آ پہنچا۔

جہاز سے نکلے، فون دیکھا تو بند۔ اوہ بیٹری تو جواب دے گئی۔ ہم بیٹری چارجر گھر بھول آئے تھے، جہاز میں چارجنگ ساکٹ نہیں تھی۔ یعنی غریبی میں آٹا گیلا۔

Read more

ویجائنا میں رسولی!

نشتر ہسپتال پہنچ کر ہمارا وہی حال ہوا جو کھل جا سم سم کے بعد علی بابا کا ہوا۔ ہمارے سامنے نہ جانے کیا کچھ کھل گیا۔

صبح صبح وارڈ میں راؤنڈ ہوتا اور پھر پروفیسر عطا اللہ خان کے ساتھ او پی ڈی کی طرف چل پڑتے۔ وہ وہاں جا کر ایک بڑی میز کے پیچھے بچھی کرسی پر بیٹھ جاتے اور ہم سامنے بنے چار کیوبیکلز میں گھس جاتے۔

باہر ہال میں دور دراز گاؤں دیہات کی عورتیں ہاتھ میں پرچی تھامے قطار لگائے بیٹھی ہوتیں۔ او پی ڈی کی ماسی ان کو ایک ایک کر کے کیوبیکلز میں بھیجتی جاتیں۔

Read more

ہیماٹوما بن گیا۔ جلدی آئیے!

جی چاہتا ہے آج آپ کو ڈاکٹری کی دنیا کا ایک اور لفظ سکھائیں جو اردو میں مناسب طور پہ ترجمہ نہیں کیا جا سکتا، شاید اس لیے آپ کو ڈاکٹر اس کے متعلق سمجھا بھی نہیں پاتے۔ کچھ دن گزرے نصف شب کا وقت تھا کہ فون کی گھنٹی بجی۔ فون کی گھنٹی بجنا شاید آپ کے لیے انہونی نہ ہو مگر ہمارے لیے ہے کہ نصف شب اگر فون بجے تو لازما ایمرجنسی کال ہی ہو گی۔ ”

Read more

بے جسم عورتیں!

شادی ہوئی، جنسی تعلق بنا، حمل اور پھر زچگی۔ بچہ سب کے سامنے!

جیسے چڑا لایا دال کا دانا، چڑیا لائی چاول کا دانہ، دونوں نے مل کر پکائی اور مزے مزے سے کھائی۔ کہانی ختم، پیسہ ہضم۔

کاش عورت مرد کی کہانی بھی اتنی آسان ہوتی۔ مرد لایا سپرم، عورت لائی انڈا، بچہ بنا۔
کاش بچہ اتنی آسانی سے بنتا۔

بچہ پیٹ میں بننے کی کہانی بہت پیچیدہ ہے۔ وہ بچہ جو ایک سپرم اور ایک انڈے سے بننا شروع ہوا ہے۔ اس کی ہڈیاں، گوشت، بال ناخن، آنکھیں، دل، معدہ، انتڑیاں، دماغ نو ماہ میں بنتا ہے اور جانتے ہیں کہاں بنتا ہے؟

Read more

صدیق عالم؛ زندگی اور موت کی پیشگوئی کرنے والا کہانی کار!

کہانی کا آغاز اگر اس جملے سے ہو کہ مجھے ایک خط ملا جس میں یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ ایک ماہ بعد میری موت واقع ہو جائے گی تو بتائیے آپ کہانی پڑھنے کی خواہش کریں گے یا بیزاری سے کتاب ایک طرف رکھتے ہوئے کہیں گے کیا بے سروپا بات ہے؟ مگر کیا کیجئے کہ ہمیں تو اس ایک جملے نے کسی ہشت پا کی طرح جکڑ لیا اور ہمارے پاس یہ گنجائش ہی نہ رہی

Read more