وبا زدہ نیویارک میں مقیم بیٹی کا خط

اماں! فضا میں موت رقص کر رہی ہے، چہرے پہ مکروہ ہنسی سجائے، دانت نکوسے زندگی پر جھپٹنے کی کمینی خوشی موت کے بھیانک ہیولے میں چھپائے نہیں چھپتی۔ جان لیوا موسیقی کی آواز تیز ہوتی ہے، وہ گھومتی ہے تیز اور تیز، چاروں طرف۔ سرد ہوائیں چلتی ہیں، انسان پتھر کا ہو رہا ہے،…

Read more

ایک طبیب کی حکایت: کیمیا گر سے مسیحائی تک

کورونا کے ہر طرف چرچے سن کے کہیں آپ اوبھ تو نہیں گئے ؟ ہمارا تو کچھ ایسا ہی عالم ہے۔ مریض دیکھتے دیکھتے بے اختیار سوچے جاتے ہیں کہ آفت کی گھڑی میں دل بہلنے کا کچھ تو سامان ہونا چاہئے، امید کا الاؤ روشن رہنا چاہیے۔ بالکل اسی طرح جیسے تاریک راتوں میں…

Read more

پاکستان میں ڈاکٹر اور طبی عملہ: لاٹھی چارج سے سیلوٹ تک

آنسو گیس کے گولے پھٹ رہے تھے، فضا میں پھیلی گیس آنکھوں، ناک اور حلق میں گھستی تھی۔ آنکھوں سے پانی بہہ بہہ کے سامنے کے منظر کو دھندلاتا تھا۔ کھانسی تھی کہ رکتی نہ تھی، ہر سانس جسم پہ قرض بنا جاتا تھا۔ آنسو گیس ک چھاؤں میں لاٹھیاں برس رہی تھیں۔ برسانے والے…

Read more

مفتی منیب کا طنبورہ

ابتلا کا دور ہو، اپنوں سے دوریاں ہو، تو دل متضاد سی کیفیات کا شکار رہتا ہے۔ جہاں دیس سے آنے والی خبر دکھ دیتی ہے کہ امراء کے لئے اپنی زندگی کا معنی مختلف اور غریب کی کٹیا میں جلنے والے چراغ سے کچھ سروکار نہیں۔ غریب کی زندگی محل میں لگنے والی موری…

Read more

اک عشق کا غم آفت اور۔۔۔ پھر کورونا کے خود ساختہ طبیب

روم جل رہا تھا، آگ کی لپٹیں آسمان کو پہنچ رہی تھیں اور رومن شہنشاہ نیرو کی بانسری مدھر تانیں بکھیر رہی تھی۔ اب کیا کہیے کہ ہمیں بانسری کی لے ہمیشہ رگ جاں سے بہت قریب محسوس ہوئی یوں جیسے جیون کی رمزیں کھولتی یہ کوک ہمیں کہیں اور، کہیں دور لے جاتی ہو۔…

Read more

حاکمیت مردوں کی ہے تو عورت ریپ کیوں ہوتی ہے؟

23 مارچ ہے۔ ٹھیک 80 برس پہلے ہندوستان کے مسلمانوں نے تقسیم کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ مطالبہ تسلیم ہو گیا، دو ملک وجود میں آ گئے لیکن اس تقسیم کے اسکرین پلے سے آج تک لہو ٹپک رہا ہے۔ لہو جو شریانوں کو کاٹ کے بہایا جاتا ہے۔ لہو جو عزتوں کی ہولی کھیل…

Read more

دیوار: محبت کرنے والی آنکھ کی بے بسی ہے

ژاں پال سارتر کی کہانی دیوار پڑھی ہے آپ نے؟ برا نہیں مانیے گا۔ میں نے آپ سے گلزار کی فلم غالب دیکھنے کی تصدیق نہیں چاہی۔ میں بھی آپ ہی کی طرح نیم خواندہ ہم وطن ہوں۔ مجھے خود ساختہ شاعر بن کے اپنی ہی شاعری کا بے معنی پیش لفظ لکھنا نہیں آتا۔…

Read more

پیرس کی ایک بھیگی رات، اور اجنبی گھر

گہری نیند تھی، پر آنکھ کھل گئی۔ فضا میں جلترنگ کا شور تھا جو روح کی گہرائیوں میں اتر رہا تھا۔ کمرے میں بہت ہلکی روشنی تھی اور چھت پہ بنی ہوئی شیشے کی کھڑکی پہ ساز بج رہا تھا۔ سارے کے سارے سر۔ بہت لطف انگیز کیفیت تھی، دل چاہ رہا تھا وقت کا سمے تھم جائے۔ کچھ مہینے پہلے کی بات ہے، بڑی بیٹی نے ذکر کیا کہ اس کو اپنے ماسٹرز کے سلسلے میں کچھ دنوں کے لئے پیرس جانا ہو گا۔ ہم کافی سال پہلے بچوں کے ساتھ وہاں جا چکے تھے۔ چونکہ چھوٹی بیٹی اس وقت بچی تھی اس لئے فورا مچل گئی کہ اس کو بھی بہن کے ساتھ جانا ہے۔

اب مچلنے کی باری تھی ہمارے دل ناداں کی، کہ دل ڈھونڈتا تھا فرصت کے رات دن۔ چھٹی کا جدول دیکھا تو پتہ چلا کہ ہم بھی دل کی مان سکتے ہیں سو طے یہ پایا کہ ہم تینوں ماں بیٹیاں پیرس یاترا کو نکلیں گی۔ صاحب اور صاحب زادہ، دونوں گھر ٹھہرنے کے لئے تیار تھے۔

Read more

قبولہ شریف کے گدی نشین کا کینڈی کرش معجزہ

تکبر، رعونت، بے نیازی، بے حسی اور سنگدلی کی جیتی جاگتی تصویر! مسند پہ اپنے آپ کو دیوتا سمجھ کے براجمان، اپنے جیسوں سے ہی اپنے ہاتھ اور پاؤں پر بوسوں کی بارش، سجدہ ریزی، اور ان کے خون پسینے سے کمائے ہوئے سکوں کی نذرانے کے طور پہ وصولی۔  ایسی شان بے نیازی کہ…

Read more