سٹیفن ہاکنگ کیسے زندہ رہا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زمانے بدلتے رہے انسان اپنی معاشرتی اور انفرادی زندگی کے حوالے سے اپنے نظریا ت کو تبدیل کرتا رہا اور ہر نیا دن گزرے کل سے بہتر اور زندگی کے لئے زیادہ واضح تصور لے کر آتا رہا ہے۔ جس نے انفرادی زندگی اور اسی طرح پورے معاشرے پر ان مٹ اثرات مرتب کیے۔ سب سے زیادہ متاثر کن وقت وہ آتا ہے جب دانش اور تکریم کا تاج عالموں، فلسفیوں اور سائنسدانوں کے سر جا سجا۔ سر آئزک نیوٹن، البرٹ آئن سٹائن اور پھر سٹیفن ہاکنگ تاریخ انسانی کی دانش کی علامات قرار پائیں۔

ان تین اور انہیں کے قبیلے کے اور کئی سینکڑوں لوگوں میں ایک وجہ مشترک تھی اور وہ تھی سائنس (جیسے ”سائنس۔ “ مغرب کی ہی رہائشی ہو باقی دنیا کی آب و ہوا اسے راس نہیں آتی ) موجودہ دور کا عظیم سائنسدان سٹیفن ہاکنگ جس کی وفات نے ایک عالم کو دکھی کر دیا اور اپنی گراں قدر سائنسی خدمات سے آنے والے زمانوں تک مستقل حوالہ بن گئے۔

سٹیفن ہاکنگ کی وجہ شہرت صرف سائنس ہی نہ تھی بلکہ ان کی زندگی ایک انتہائی خطرناک مرض ALS (موٹر نیوران ) سے فاتحانہ جنگ لڑتے ہوئے بسر ہوئی۔ اکیس سال کی عمر میں انہیں ڈاکٹر وں نے یہ بری خبر سنائی کہ اسے ایک ایسا موضی مرض لاحق ہو گیا ہے کہ جس کی وجہ سے وہ مزید دو یا تین سال تک زندہ رہ سکے گا! یہ خبر ایک نوجوان کے لئے کسی قیامت سے کم نہ تھی۔ جو کائنات کے سربستہ رازوں کو آشکار کرنے کے خواب دیکھ رہا ہو۔

کسی ایسے لمحے کے بارے میں تصور کریں کہ جب ڈاکٹر آکر یہ خبر دے کہ ٓپ کی زندگی محض دو چار سال ہے اور اس وقت آپ کی عمر صرف اکیس یا بائیس سال ہو، کچھ اس طرح کی کیفیت ہو گی کہ ہر لمحہ یہ محسوس ہو گا کہ موت ہماری رگوں میں ہماری نسوں میں پھیلتی چلی جارہی ہے، بے یقینی نے بدن کے اندرجالے بنا لئے ہیں، آنکھیں پتھرا سی جائیں گی، ہاتھ سُن ہوجائیں گے اور دماغ کی حالت کچھ ایسی ہو جائے گی کہ جیسے زبردست دھند چھا جائے اور قریب کی چیز بھی نظر نہ آسکے۔

آپ کی خواہشیں، آپ کے منصوبے اور محبتیں ایک ایک پل آپ کے قلب کو مسلتا ہوا اور روح کو ریزہ ریزہ کرتے گزرے گا۔ مگر اس موقع پر نوجوان ہاکنگ کچھ اس طرح سوچ رہا تھا۔ ”میں اس لحاظ سے بھی خوش قسمت رہا کہ میں نے اپنے لئے نظریاتی طبعیات (Theoretical Physics) کا انتخاب کیا کیونکہ یہ ساری کی ساری ذہن کے اندر ہوتی ہے۔ اس لئے میری معذوری سنگین محتاجی نہیں بنی“ A Brief History of Time by S۔ Hawking) ) سائنسدان ہاکنگ نے سائنس کی دنیا میں جو ہلچل مچائی اس کا تو ایک عالم گواہ ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر متاثر کن عمل جو اس عظیم انسان سے وابستہ تھا اس کا وہ حوصلہ، ہمت خواب دیکھنے کی وہ لا زوال عادت درحقیقت وہ مقصد تھا کہ جس نے اس کے جسم میں پلتے خوفناک موت کے سیاہ عفریت کو اپنے ارادوں اور مقصد کے چمکتے سورج کی روشنی سے چندھیا کر رکھ دیا۔ یہ عفریت اس کی سانس کی ڈور کو نہ توڑ سکا اس کے ذہن رسا کی روشنیوں کو مدہم نہ کر سکا۔ خواہ اس کی ٹانگیں بے جان، ہاتھ بے سدھ، جسم ایک مردہ حالت میں اور گردن لڑھک گئی تھی اور کبھی اپنی عام حالت میں نہ آسکی لیکن اس کے علم و فکر کی سانسیں ایسی زندہ رہیں کہ جب تک سائنس ہے اس کا نام زندہ و جاوید رہے گا۔

وہ کون سی ایسی دوا تھی، وہ کون سا ایسا آب حیات تھا، وہ کیسا اور کس قسم کا علاج تھا جس نے ایک مرتے ہوئے آدمی کو ناصرف زندہ رکھا بلکہ باقی انسانوں کے لئے مثال بنا دیا؟ ذرا سوچیں ایک آدمی کو زندہ رہنے کے لئے کن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے سب سے پہلے اچھی صحت، کسی قسم کی کوئی خطرنا ک معزوری نہ ہو، اچھی اور صحت بخش غذا، بیماری

سے شفا حاصل کرنے کے لئے اچھی ادویات، مہلک مرض نہ ہو، بہتر آب و ہوا، اور کم ازکم بنیادی ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کرنے کے لئے ضروری معاشی وسائل وغیرہ وغیرہ۔ یقین جانیئے ان سب کے بغیر بھی یعنی اگر اچھی صحت نہ ہو، خطرناک معزوری ہو، صحت بخش غذا نہ ہو، بیماری میں ادویا ت نہ ملیں، آب وہوا درست نہ ہو، معاشی وسائل نہ ہوں تو بھی انسان زندہ رہ سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کا زندگی میں کوئی مقصد نہ ہو تویقین جانیے وہ زندہ رہنے کا تصور نہیں کر سکتا یا شاید اس کے جسم میں جان تو ہو سکتی ہے مگر زندگی نہیں۔

مقصد عمل کی زبر دست تحریک پیدا کرتا ہے۔ اور یہی تحریک اسے زندہ رہنے اور آگے بڑھنے کے لئے بے پناہ توانائی فراہم کرتی ہے۔ جیسے ماؤزے تنگ ہزاروں کلومیٹر کا انتہائی دشوار گزار راستہ طے کرتے ہیں اور اپنی افیون میں ڈوبی قوم کو عظمتوں کی شاہر اہ پر لاکھڑا کرتے ہیں۔ نیلسن منڈیلا، دہائیوں کی قید سے چمکتا چاند بن کر نکلتے ہیں اور افریقہ کو منور کر دیتے ہیں۔ ابراہم لنکن غلاموں کو انسانوں کا درجہ دلوانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اسی طرح تھامس ایڈیسن، مادام کیوری، رائٹ برادران، گراہم بیل اور اسی طرح مختلف شعبہ ہائے زندگی کی دوسری عظیم شخصیات۔

لیکن ہاکنگ کی مثال اس لئے لازوال ہے کہ جب جسم مفلوج ہوجائے، وہ چل پھر نہ سکے، وہ دوڑ نہ سکے، اپنے ہاتھوں سے کھانا نہ کھا سکے، لکھ نہ سکے، اپنی آواز میں بات نہ کر سکے اور یہاں تک کہ اپنی گردن کو بھی ذرا سی جنبش نہ دے سکے لیکن ہمت، حوصلہ اور مقصد کی عظمت کا مقام وہ ہے کہ موت ہاتھ باندھے کھڑی رہتی ہے اور سٹیفن ہاکنگ امر ہو جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •