میرے آقا ﷺ

571 ؁ء بتکدہ عرب ہے، کعبہ کے اندر اور ارد گرد سینکڑوں بت رکھے ہیں زیارت کرنے والے چڑھاوے چڑھار ہے ہیں، جانوروں کی قربانیاں دی جارہی ہیں، برہنہ طواف ہورہا ہے، لڑکیوں کو زندہ دفنایا جارہا ہے، نہ ختم ہونے والی دشمنیوں کے نتیجے میں کئی کئی سال تک جنگیں برپا ہیں، جوختم ہونے کا نام نہیں لیتیں، غلامی اپنی بدترین شکل میں نافذ العمل ہے، بڑا اور چھوٹا ہونا اپنی ذات پات کے حوالے سے طے پاتا ہے، جھوٹ معاشرے میں رچ بس چکا ہے، منافقت طرہ امتیاز اور ذہانت کا معیار سمجھا جاتا ہے، راستے میں کاروانوں کو لوٹ لیا جاتا ہے، بتوں کو بنیاد بنا کر کاروبار حکومت چلا یا جا رہا ہے۔

Read more

او آئی سی، بھارت اور اسرائیل

12 اگست 1969 ؁ء کو مسجد اقصیٰ میں آگ لگادی جاتی ہے۔ اس واقع سے مسجد اقصیٰ (قبلہ اول) کا بہت زیادہ نقصان ہوا تقریباً ساڑھے آٹھ سو سال پرانی مسجد جس کے ساتھ مسلمانان عالم کی روحانی و ابستگی تھی۔ اُس کا۔ ”منبر“ اور لکڑی سے تعمیر کیا گیا حصہ جل کر خاکستر ہو جاتا ہے اس سے سارے عالم اسلام میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ اور زبردست اشتعال پھیل گیا۔ یروشلم کے ایک سابقہ مفتی امین الحسینی نے اسے یہودی حرکت اور سازش قرار دیا۔اور اس سلسلے میں اسلامی ممالک کے سربراہوں کا اجلاس بلانے کی اپیل کی جو اسی سال 25 ستمبر کو مراکش کے شہر رباط میں منعقد ہوا جس میں 24 اسلامی ممالک کے نمائندوں نے جن میں اکثریت سربراہان مملکت کی تھی شرکت کی

Read more

سٹیفن ہاکنگ کیسے زندہ رہا؟

زمانے بدلتے رہے انسان اپنی معاشرتی اور انفرادی زندگی کے حوالے سے اپنے نظریا ت کو تبدیل کرتا رہا اور ہر نیا دن گزرے کل سے بہتر اور زندگی کے لئے زیادہ واضح تصور لے کر آتا رہا ہے۔ جس نے انفرادی زندگی اور اسی طرح پورے معاشرے پر ان مٹ اثرات مرتب کیے۔ سب…

Read more

موت کے سودا گر

روزانہ ہزاروں لوگ لا چاری کے عالم میں موت کا شکار ہوجا تے۔ متعدد لوگ کھلی ہوا میں آکر اپنی آخر ی سانسیں لیتے جبکہ بہت سے دیگر اپنے گھر وں کے اندر ہی جان دے دیتے اور پڑوسیوں کو لاش کی بدبو سے موت کی خبر ملتی، پورا شہر مُردوں سے بھر پڑا تھا۔ لوگ لاشوں کو محض اس خوف کے مارے گھروں سے باہر نکال کر دروازوں کے سامنے رکھ دیتے کہ کہیں اُن کے گلنے سڑنے سے اُنہیں بھی مرض نہ لگ جا ئیں۔ بلخصوص صبح کے وقت گھر سے باہر نکلنے والوں کواپنے ارد گرد بے شمار لاشیں نظر آتی تھی تب وہ جاکر تابوت لاتے اور کچھ کو تختے پر ہی ڈال دیتے ایک تابوت میں دو تین لاشیں ہوتی بس ایک مرتبہ ہی ایک تابوت میں ایک لاش دیکھی نہ ہی یہ دیکھا جاتا کہ کس تابوت میں شوہر اور بیوی، دو یا تین بھائی، باپ اور بیٹا وغیرہ ہیں۔ معاملات یہاں تک پہنچے کے لوگ لاشوں کو اس طرح دیکھتے جیسے آج کل مردہ بکر یوں کو دیکھ جا تاہے۔

یہ سولہویں صدی کے اٹلی کے شہر وینس کا منظر ہے۔ اور کم و بیش پورے ملک اور براعظم میں کچھ اسی طرح کے شب و روز تھے۔ یہ وہ وقت ہے جب یورپ میں طاعون کی وبا پھیلی جس نے سارے براعظم کواپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس وبا کو ”کالی موت“ کے نام سے تاریخ میں جانا جا تاہے۔ لا کھو ں لوگ اس بیماری کا شکار ہو کر موت کے گھاٹ اتر گئے اور کم و پیش دس سال تک اس دہشت کا راج رہا۔

Read more