بیچارہ سٹیون اور دھوکے باز انسٹرکٹر

سٹیون کا تعارف اس موقع پر بے محل نہ ہو گا، درمیانہ قد، ابھری ہوئی آنکھیں، سانولا رنگ اور دبلے پتلے جسم کا مالک سٹیون اپنے روزمرہ کام کو انتہائی دیانتداری سے انجام دینا اس کا بہترین تعارف تھا۔ اگر اسے آپ کوئی بات بتائیں یا کوئی واقعہ بیان کریں تو وہ بغیر کسی شک و شبہ کے اسے سچ ہی تسلیم کرے گا، یہ تصور کرنا کہ کوئی جھوٹ بھی بول سکتا ہے سٹیون کے لئے نا ممکن تھا۔

Read more

سچن ٹنڈولکر نے شعیب اختر کو کیسے پہچانا؟

نوے کی دہائی میں موجود پاکستان کرکٹ ٹیم اگر جنہیں یاد ہے، تو یقیناً وہ لوگ اس ٹیم کو تاریخ کرکٹ کی شاید پہلے نمبر کی ٹیم مانتے ہوں گے، اور یہ خیال غلط بھی نہیں، اس میں کھیلنے والا ہر پاکستانی کھلاڑی لیجنڈ کرکٹر تھا اوپننگ جوڑے سے لے کر گیارہویں کھلاڑی تک سارے کے سارے اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ سعید انور، عامر سہیل، شاہد آفریدی، انضمام الحق، یوسف یوحنا، یونس خان، راشد لطیف، معین خان، وقار یونس

Read more

کرنل سینڈرز اور ہمارے محدود دائرے

ان چالیس سالوں میں صرف اتنا فرق پڑا ہے کہ اس کی کالی داڑھی روئی کی طرح سفید ریش میں تبدیل ہو چکی ہے ، سامنے کے دو دانت بھی ٹوٹ چکے ہیں۔ بات کرتے ہوئے یا جب وہ زور لگا کر نعرہ بلند کرتا ہے کہ ”چھولے لے لو“ ، ”مصالحے دار چھولے“ تو تلفظ چھولے کے بجائے ”تھولے“ ادا ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ سے لنگڑا کر چلتا تھا اور اسی وجہ سے اس کا نام ”منڈو“ مشہور ہو

Read more

نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

یہ کرونا کی دنیا ہے، اس میں ہم سانس لے نہیں رہے بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اس کا انتظام یا بندوبست کر رہے ہوں۔ ہر آدمی دوسرے سے خوف زدہ ہے، اس نے انسانوں کی ایک بڑی اکثریت کو تقریباًمفلوج کر کے رکھ چھوڑا ہے، اوراب یہ کسی جسمانی مرض سے کہیں بڑھ کر نفسیاتی عارضہ بن کر سامنے آیا ہے جس نے ایک عالم گیر اذیت ناک صورتحال کو جنم دیا ہے۔ پاکستان میں حالات دگر

Read more

کورونا وائرس اور بھوک کا آتش فشاں

روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والا مزدور جب صبحِ بیدار ہو تا ہے اس کا پہلا خیال ”دعا“ ہوتا ہے۔ یا رب العالمین آج اپنے خزانے سے مجھے رزق عطا فرما۔ ایک دن کی خوراک کے حصول درمیان وسوسے، موسم، حالات اور بیماریوں کا افریت، طلوعِ ہوتے سورج کے ساتھ ساتھ اپنا پھن نکالے اس کے خیال اس کی روح میں وحشت بھرتا چلا جاتا ہے لیکن امید اسے لڑ نے کے لیے پھر تیار کر دیتی ہے۔ ننھے

Read more

سلطان محمد فاتح

جنگیں، محاصرے، ہزاروں لاکھوں لوگوں کی ہلاکتیں، قتل وغارت، شہروں کونذرآتش کر دینا، قیدوبندکی مشکلات، باندیاں ا ورغلام بنا دینا، تہذیبوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا، بارود کی بو، ڈرٹی (Dirty) بم کے دھماکے کی گونج، بادشاہوں کی اسیری، اوراسیروں کے بادشاہ بننے کے واقعات، مفتوحین کا عبرت ناک انجام، فاتحین کی جلالت وعظمت اور جنگی مہارتوں کی امثال ہماری تاریخ کا سب سے واضح اوراہم باب ہے۔ قدیم اورعظیم شہروں کے درمیان ایک بہت بڑی مماثلت پائی جاتی

Read more

میرے آقا ﷺ

571 ؁ء بتکدہ عرب ہے، کعبہ کے اندر اور ارد گرد سینکڑوں بت رکھے ہیں زیارت کرنے والے چڑھاوے چڑھار ہے ہیں، جانوروں کی قربانیاں دی جارہی ہیں، برہنہ طواف ہورہا ہے، لڑکیوں کو زندہ دفنایا جارہا ہے، نہ ختم ہونے والی دشمنیوں کے نتیجے میں کئی کئی سال تک جنگیں برپا ہیں، جوختم ہونے کا نام نہیں لیتیں، غلامی اپنی بدترین شکل میں نافذ العمل ہے، بڑا اور چھوٹا ہونا اپنی ذات پات کے حوالے سے طے پاتا ہے، جھوٹ معاشرے میں رچ بس چکا ہے، منافقت طرہ امتیاز اور ذہانت کا معیار سمجھا جاتا ہے، راستے میں کاروانوں کو لوٹ لیا جاتا ہے، بتوں کو بنیاد بنا کر کاروبار حکومت چلا یا جا رہا ہے۔

Read more

او آئی سی، بھارت اور اسرائیل

12 اگست 1969 ؁ء کو مسجد اقصیٰ میں آگ لگادی جاتی ہے۔ اس واقع سے مسجد اقصیٰ (قبلہ اول) کا بہت زیادہ نقصان ہوا تقریباً ساڑھے آٹھ سو سال پرانی مسجد جس کے ساتھ مسلمانان عالم کی روحانی و ابستگی تھی۔ اُس کا۔ ”منبر“ اور لکڑی سے تعمیر کیا گیا حصہ جل کر خاکستر ہو جاتا ہے اس سے سارے عالم اسلام میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ اور زبردست اشتعال پھیل گیا۔ یروشلم کے ایک سابقہ مفتی امین الحسینی نے اسے یہودی حرکت اور سازش قرار دیا۔اور اس سلسلے میں اسلامی ممالک کے سربراہوں کا اجلاس بلانے کی اپیل کی جو اسی سال 25 ستمبر کو مراکش کے شہر رباط میں منعقد ہوا جس میں 24 اسلامی ممالک کے نمائندوں نے جن میں اکثریت سربراہان مملکت کی تھی شرکت کی

Read more

سٹیفن ہاکنگ کیسے زندہ رہا؟

زمانے بدلتے رہے انسان اپنی معاشرتی اور انفرادی زندگی کے حوالے سے اپنے نظریا ت کو تبدیل کرتا رہا اور ہر نیا دن گزرے کل سے بہتر اور زندگی کے لئے زیادہ واضح تصور لے کر آتا رہا ہے۔ جس نے انفرادی زندگی اور اسی طرح پورے معاشرے پر ان مٹ اثرات مرتب کیے۔ سب سے زیادہ متاثر کن وقت وہ آتا ہے جب دانش اور تکریم کا تاج عالموں، فلسفیوں اور سائنسدانوں کے سر جا سجا۔ سر آئزک نیوٹن،

Read more

موت کے سودا گر

روزانہ ہزاروں لوگ لا چاری کے عالم میں موت کا شکار ہوجا تے۔ متعدد لوگ کھلی ہوا میں آکر اپنی آخر ی سانسیں لیتے جبکہ بہت سے دیگر اپنے گھر وں کے اندر ہی جان دے دیتے اور پڑوسیوں کو لاش کی بدبو سے موت کی خبر ملتی، پورا شہر مُردوں سے بھر پڑا تھا۔ لوگ لاشوں کو محض اس خوف کے مارے گھروں سے باہر نکال کر دروازوں کے سامنے رکھ دیتے کہ کہیں اُن کے گلنے سڑنے سے اُنہیں بھی مرض نہ لگ جا ئیں۔ بلخصوص صبح کے وقت گھر سے باہر نکلنے والوں کواپنے ارد گرد بے شمار لاشیں نظر آتی تھی تب وہ جاکر تابوت لاتے اور کچھ کو تختے پر ہی ڈال دیتے ایک تابوت میں دو تین لاشیں ہوتی بس ایک مرتبہ ہی ایک تابوت میں ایک لاش دیکھی نہ ہی یہ دیکھا جاتا کہ کس تابوت میں شوہر اور بیوی، دو یا تین بھائی، باپ اور بیٹا وغیرہ ہیں۔ معاملات یہاں تک پہنچے کے لوگ لاشوں کو اس طرح دیکھتے جیسے آج کل مردہ بکر یوں کو دیکھ جا تاہے۔

یہ سولہویں صدی کے اٹلی کے شہر وینس کا منظر ہے۔ اور کم و بیش پورے ملک اور براعظم میں کچھ اسی طرح کے شب و روز تھے۔ یہ وہ وقت ہے جب یورپ میں طاعون کی وبا پھیلی جس نے سارے براعظم کواپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس وبا کو ”کالی موت“ کے نام سے تاریخ میں جانا جا تاہے۔ لا کھو ں لوگ اس بیماری کا شکار ہو کر موت کے گھاٹ اتر گئے اور کم و پیش دس سال تک اس دہشت کا راج رہا۔

Read more