بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور موجودہ نظام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”وقت ہے اور کوئی کام نہیں بس مزہ لے رہا ہوں فرصت کا“ جون ایلیا کا مذکورہ شعر ہمارے ایک کامریڈ دوست اکثر کسی کے یہ کہنے پہ فرماتے ہیں کہ آج کل آپ کیا کر رہے ہیں، یہ شعر صرف ہمارے اس دوست کی نہیں بلکہ ہر اس نوجوان کی عکاسی کرتا ہے جو یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں اور کوئی کام نہ ہونے کے باعث بیروزگار بیٹھے ہیں۔

دنیا میں جو بھی ممالک ترقی یافتہ کے طور پر گنے جاتے ہیں، اگر ان کا مشاہدہ کیا جائے تو ان میں 25 سے 30 فیصد تک کردار نوجوانوں کا ہے، پاکستان میں نوجوانوں کی آبادی کا تناسب 50 فیصد سے بھی زائد ہے پر یہاں ترقی کا نام و نشان موجود نہیں، رواجی اور سماجی طور پر یہاں کا عام پڑھا لکھا نوجوان میرٹ اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے بگاڑ کا شکا ر ہے، ٹراٹسکی نے کہا تھا کہ نوجوان درخت کے پتوں کی مانند ہیں، جو کسی بھی طوفان آنے سے پہلے متحرک ہوجاتے ہیں، پر یہاں کا عام نوجوان بیروزگاری کے طوفان کے باعث خودکشیاں کر رہے ہیں یا پھر جرائم کی دنیا میں داخل ہوجاتے ہیں، مجموعی طور پر صورتحال یہ ہے کہ لوئر اور مڈل کلاس کا نوجوان صلاحیت ہونے کے باوجود بھی پیچھے رہ جاتا ہے اور الیٹ کلاس کا نوجوان اوباش ہونے کے باوجود پرچی کی بنیاد پر آگے نکل جاتا ہے۔

آمریکی جریدے دی ایٹلانٹک کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے صرف دس ممالک میں 2011 کے بیروزگاروں کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں، رپورٹ کے مطابق چین میں بیروزگاروں کی تعداد 306664076، بھارت میں 355747353، امریکا میں 100753706، انڈونیشیا میں 67382896 اور جاپان میں 50294189 تھا، صرف دس ممالک بیروزگاری کا تناسب آج سے 8 سال پہلے ایک ارب تھا جو اب مزید چار گنا بڑھ چکا ہے۔

پاکستان میں 60 فیصد پڑھا لکھا نوجوان طبقہ موجودہ صورتحال میں بیروزگار ہے یا پھر کوئی دوسرا کاروبار کرنے پر مجبور ہے، جبکہ 30 فیصد سے زائد نوجوان ایسے بھی ہیں جو تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود چوری، اغوا اور ڈاکوں کی وارداتوں میں گرفتار بھی ہوچکے ہیں، اسی طرح دی لینسٹ سائیکیٹری (The Lancet Psychiatry) کی طرف سے 63 ممالک میں 2000 سے 2015 تک کی گئی ریسرچ کے مطابق ہر پانچویں خودکشی میں سے ایک خودکشی کی وجہ بیروزگاری ہے، پاکستان میں بیروزگاری کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ یہاں پڑھا لکھا طبقہ جس مین اکثریت نوجوانوں کی ہے وہ پرائیوٹ نوکری سے زیادہ ترجیح سرکاری نوکری کو دیتے ہیں، صرف اتنا ہی نہیں بلکہ میں نے خود ایسے لڑکے بھی دیکھے ہیں جو سرکاری چوکیداری کے لئے اپنی تعلیمی قابلیت کو نظرانداز کردیتے ہیں، اگرچہ ملکی معاشی کمزوری اور میرٹ کی دجھیاں اڑنے کے باعث اس ملک سے سرکاری نوکری ملنے کے مواقع دن بہ دن کم ہوتے جارہے ہیں، اس لئے نوجوانوں کو نجی شعبوں یا پھر کسی ٹیکنیکل سائیڈ پر اپنی صلاحیتوں کو لگانا چاہیے۔

مسلسل نظرانداز ہونے اور سرکاری نوکریوں کے بھاری بھرکم چالان بھر بھر کر سر توڑ محنتیں اور کوششیں کرنے کے باوجود کوئی رسپانس نہ ملنے پر نوجوانوں میں تعلیمی مقابلہ بڑھنے کے بجائے انہیں حالات نے خود غرض بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آج کل ہر نوجوان تعلیم کی حاصلات فقط اچھا روزگار حاصل کرنے کے لئے کر رہا ہے جبکہ اس کے برعکس ترقی یافتہ ممالک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا واحد مقصد سماج میں ترقی و تبدیلی لانے کو سمجھا جاتا ہے، اگر میں یہ کہوں تو شاید غلط نہ ہوگا کہ کسی بھی نسل با بگاڑ حادثاتی نہیں ہوتا، اچھائی ہو یا برائی وہ اسے ورثے میں ملتی ہیں۔

ملک کی موجودہ صورتحال سے یہ صاف ظاہر ہے کہ یہاں کا نوجوان موجودہ ناقص نظام سے کافی حد تک مایوس ہوچکا ہے، اگر یہی صورتحال جاری رہی تو اس کے نتائج کافی بھیانک ثابت ہوسکتے ہیں، اس لئے موجودہ نظام کے لئے یہ ضروری ہے کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ لینا چاہیے یا پھر انہیں ایسے مواقع فراہم کیے جائیں جس سے اس ملک کی معاشی ترقی کے راستے ہموار ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •