بے روزگار نوجوان اور بھاری بھرکم چالان

”زندگی یا تو ایک خواب یا پہر ہوا کا جھونکا“ جو اتنا جلدی کٹ جاتی ہے کہ خواہشوں کو دبانا پڑتا ہے یا پہر مارنا پڑتا ہے۔ بہت ہی خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو زندگی میں ہی ہر خواب اور خواہش کی تکمیل ہوتے دیکھتے ہیں۔

پاکستان میں بیروزگاری کی شرح دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے، اس وقت 9.1 افراد بیروزگاری کی زندگی گذار رہے تاہم 2017 کی آدمشماری کے مطابق پاکستان کی آبادی کے 64 فیصد حصے کی عمر 30 سال سے کم ہے اور 70 فیصد کے قریب نوجوان پڑھے لکھے ہیں جبکہ کئی نوجوان بیروزگاری سے تنگ آکر اپنی زندگی کے دیے بجھانے پر مجبور ہو گئے ہیں اور کئی مسلسل بیروزگاری سے ذہنی مریض بن چکے ہیں۔

پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی بیروزگاری بہت بڑا چیلنج بن چکی ہے پر افسوس یہ ہے کہ کسی بھی حکومت نے اس سنجیدہ مسئلے کی طرف توجہ نہیں دی اور نہ ہی بیروزگار نوجوانوں کی دردمندانہ آواز کی طرف اپنے کان دھرے ہیں۔

Read more

سی ایس ایس کا بخار

آپ بچپن سے لے کر آج تک سردی کے بخار سے تو ضرور واقف ہوں گے، جس میں بندے کو تیز بخار کے ساتھ سردی بھی محسوس ہوتی ہے، چوں کہ آج کل دنیا ترقی کے مراحل طے کر چکی اور کر رہی ہے تو سیانوں نے بخار کی ایک نیا قسم بھی دریافت کر لی ہے جسے سی ایس ایس فیور (css fever) کہا جاتا ہے۔ سلیس اردو میں اگر اسے ”سی ایس ایس“ کا بخار کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ اب یہ دونوں بخار بہت ساری چیزوں کے حوالے سے ایک جیسے ہی ہیں۔

مثلاً:
سردی والے بخار میں بندے کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پوری دنیا کی سردی ایک طرف پر اسے جو سردی لگ رہی ہے وہ سب سے زیادہ ہے، اسی طرح سی ایس ایس کے بخار میں مبتلا آدمی کو سی ایس ایس کرتے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جو علم اس کے پاس وہ ساری دنیا میں کسی کے پاس نہیں۔

Read more

کیا پیپلزپارٹی میں فارورڈ بلاک بننے جا رہا ہے؟

ایف آئی اے کی جے آئی ٹی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد سندھ میں اپوزیشن کی جماعتوں نے حکومت پر سیاسی دباؤ تیز کردیا ہے، سندھ میں اس وقت سیاسی جوڑ توڑ اپنے عروج پر ہے، روٹھے رہنماؤں کو منانے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جبکہ وفاداریاں تبدیل کروانے کے لئے بھی آفرز ہو رہی ہیں، تاہم پی ٹی آئی کے رہنما اور رکن سندھ اسمبلی خرم شیرزمان کے بقول اس وقت 20 سے 22 سے درمیان ارکان سندھ اسمبلی پیپلزپارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے کے لیے تیار ہیں اور یہی ارکان حکومت کی تبدیلی میں ان کا ساتھ دیں گے۔ جبکہ اسی قسم کے اشارے جی ڈی اے اور ایم کیو ایم بھی دی رہی ہے تاہم جی ڈی اے اور ایم کیو ایم سمیت خود پی ٹی آئی کے ارکان نے گورنر راج کی مخالفت کی ہے۔

Read more