اماں کے فون سے لے کر بھارتی میڈیا تک: فیک نیوز کی جنگ

رات کا پہر، کراچی کی خاموش فضا  اور میں اپنے بستر پر نیم دراز، لیپ ٹاپ پر پاک بھارت کشیدگی کی تازہ ترین خبریں کھنگال رہا تھا۔ بھارتی میڈیا نے ایسی ”جنگی صورتحال“ تراشی ہوئی تھی جیسے پورے لاہور کو بندرگاہوں کا گڑھ بنا دیا گیا ہو، اور خبر دے دی کہ بھارتی فوج نے کراچی کی بندرگاہ پر قبضہ جما لیا ہے۔ میں ابھی ان ”نئی نویلی“ جنگی خبروں  پر قہقہے مار ہی رہا تھا کہ اماں کا فون

Read more

سوشل میڈیا: آزادی یا انارکی؟

  سوشل میڈیا نے دنیا کو جوڑنے اور ہر فرد کو آواز دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن آج یہ آزادی اور انارکی کے درمیان معلق نظر آتا ہے۔ جہاں یہ پلیٹ فارم دبے کچلے طبقے کو آواز دینے کا ذریعہ بنا، وہیں یہ غلط معلومات، افواہوں، بدتمیزی اور کردار کشی کا میدان بھی بن چکا ہے۔ ہر دوسرا شخص خود کو صحافی، نقاد اور دانشور سمجھ بیٹھا ہے، مگر تحقیق اور ذمہ داری کا عنصر ناپید ہو چکا ہے۔

Read more

حیدرآباد سے ٹھنڈی ہواؤں کا کوچ

  مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے کہ بچپن میں گرمیوں کے دنوں میں جب رات کے وقت بجلی جایا کرتی تھی تو ہم لوگ جاکر چھت پر سویا کرتے تھے اور اس وقت حیدرآباد کی ہواؤں کی کیا ہی بات تھی، پر لطف، تیز اور ٹھنڈی ہوائیں کسی ائر کنڈیشنر سے کم نہ تھیں، یہ بات بھی کوئی اتنی پرانی نہیں ہے غالباً آٹھ دس سال پہلے جب ہم رات کو سونے کے لیے بسترے بچھایا کرتے تھے

Read more

کچھ تو ہم سندھ والوں کے لیے بھی چھوڑ دو!

اسلام آباد میں ایک دوست کے پاس جانے کے لیے میں نے بائیکیا کا سفر کیا، چوں کہ سفر طویل تھا اس لیے راستے میں اس بائیکیا والے ڈرائیور سے غیر رسمی سلام دعا بھی ہوئی جس کے بعد اس نے میرے لہجے سے بھانپ لیا کہ میں سندھ سے ہوں تو اس نے سوال کیا کہ بھائی آپ سندھ کے کون سے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ میں حیدرآباد کا رہائشی ہوں، جس پر

Read more

سندھ یونیورسٹی کی ڈکٹیٹر انتظامیہ اور میٹرک فیل صحافی

سندھ یونیورسٹی اور صحافیوں کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ رہا ہے، جیسے مچھلی بغیر پانی نہیں رہ سکتی بالکل اسی طرح سندھ یونیورسٹی بغیر صحافیوں کی نہیں رہ سکتی۔ یہی وہ صحافی تھے جو سابق وائس چانسلر نظیر مغل کی ہٹ دھرمی کو اعلیٰ ایوان تک پہنچاتے تھے، یہی وہ میٹرک فیل صحافی ہیں جو اساتذہ کے ہر جائز مسائل کو اخبار کی زینت بنا کر حکمرانوں کی آنکھوں کے سامنے لاتے ہیں، اسی صحافیوں نے ہی بر

Read more

شعور اور سندھ کا نوجوان

سندھی زبان کے مایہ ناز شاعر شیخ ایاز نے سندھ کے نوجوانوں کے لیے ہی کہا تھا کہ ”تم ہی ہو جواب صدیوں کے سوال کے“ دنیا میں جن لوگوں نے محنت کی ہے ، انہوں نے پتھروں کو بھی پگھلا کر دکھایا ہے، جو لوگ ہمالیہ جیسے اونچے ارادے رکھتے ہیں ، ان کے لیے وقت کے مسائل، زندگی کے چیلنجز مٹی کی مانند ہوتے ہیں۔ جن لوگوں نے اپنی توانائی کو مثبت اور سیدھی راہ پر گامزن رکھا

Read more

بھٹو شہید : پاکستانی سیاست کا ایک لازوال کردار!

شہید ذوالفقار علی بھٹو فقط ایک نام نہیں پر ایک صدا، ایک پکار، ایک التجا ہے، ایک غم، ایک درد اور ایک آنسو ہے، جو آنکھوں کی پلکوں میں اٹک سا گیا ہے، جس کا جب بھی نام سامنے آتا ہے تو اندر میں بے بسی اور بے اعتمادی کا گہرا احساس ابھر آتا ہے، اور وہ بھاری سوال بھی ذہن میں امڈ آتا ہے کہ کیا کسی فرد کے ساتھ اتنا ظلم و جبر بھی ہو سکتا ہے؟ اور

Read more

اسمبلیاں اور ہمارے نمائندوں کی گالی گلوچ

ابراہم لنکن نے کہا تھا کہ سیاست عبادت کی طرح ہی مقدس کام ہے، آپ سیاست کے ذریعے ہی لوگوں کی خدمت کر سکتے ہیں، اور اس خدمت کی بدولت ہی لوگوں کی دعائیں حاصل کی جا سکتی ہیں، مگر ابراہم لنکن کے برعکس موجودہ دور میں لوگ لوٹ کھسوٹ، کرپشن، اقرباءپروری، اپنے حریفوں سے انتقام لینے کی خاطر ہی سیاست میں آتے ہیں۔ ہر 5 سال بعد اربوں کے خرچے سے انتخابات منعقد کیے جاتے جبکہ منتخب کردہ نمائندوں

Read more

خلیل الرحمٰن قمر کو کیا مسئلہ ہے؟

کوئی براہ راست ٹاک شو میں عورت کی شلوار اتارنے کی بات کرتا ہے تو کوئی عورت کو بھگوڑی کا لقب دے دیتا ہے، جس کی جب مرضی ہوتی ہے عورت کو بدکردار قرار دے دیتا ہے، جبکہ متعدد حضرات نے تو عورت کو محض جنسی ہوس مٹانے کا ذریعہ بھی کہا ہے، مگر اور تھوڑا آگے چلیے اب ایک براہ راست پروگرام میں خود ساختہ ڈرامہ نگار نے عورت کو تعنہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ”تیرے جسم میں

Read more

کیا ہم ڈرتے ہیں عورت کی آزادی سے؟

درحقیقت ہم عورت کی آزادی سے ڈرتے ہیں، ہم عورت کی آواز سے خوفزدہ ہیں، ہم ڈرتے ہیں عورت کے آئینی، شرعی و اخلاقی حقوق سے، ہمیں خوف ہے حوا کی بیٹیوں کے شعور سے، ہمیں ڈر ہے کہ کہیں کل وہ ہم حضرات سے آگے نہ نکل جائیں، ہمیں یہ بھی خوف ہے کہ کل کو وہ ہمارے کاندھوں سے کاندھا ہی نہ ملا لیں، جی ہاں! ہمیں شدید خوف ہے ان حوا کی بیٹیوں کی آزادی سے۔ پاکستان

Read more

کیا ہم ڈرتے ہیں عورت کی آزادی سے؟

درحقیقت ہم عورت کی آزادی سے ڈرتے ہیں، ہم عورت کی آواز سے خوفزدہ ہیں، ہم ڈرتے ہیں عورت کے آئینی، شرعی و اخلاقی حقوق سے، ہمیں خوف ہے حوا کی بیٹیوں کے شعور سے، ہمیں ڈر ہے کہ کہیں کل وہ ہم حضرات سے آگے نہ نکل جائیں، ہمیں یہ بھی خوف ہے کہ کل کو وہ ہمارے کاندھوں سے کاندھا ہی نہ ملا لیں، جی ہاں! ہمیں شدید خوف ہے ان حوا کی بیٹیوں کی آزادی سے۔ پاکستان

Read more

پینے کا صاف پانی مانگنے والا بھی اب غدار؟

صاف پانی مانگنے والا غدار ہے، کینٹین میں صاف ستھرا کھانا مانگنے والا بھی غدار ہے، بہتر طبعی سہولیات مانگنے والا بھی غدار ہے، فیسوں میں کمی کا مطالبہ کرنا بھی غداری کے زمرے میں آتا ہے، ٹرانسپورٹ کا بہتر نطام مانگنے والا ہر طالب علم غدار ہے، جی ہاں! ہر وہ طالب علم غدار ہے جو طلباء یونین کی بات کرے گا، ہر وہ طالب علم غدار ہے جو اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرے گا۔ یہ ہم کوئی

Read more

غیر نظریاتی سیاسی نوجوان!

اس بات میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ ہمارے ملک کے سیاسی نوجوانوں کی کثیر تعداد صرف ”ہش میں خوش“ ہے، وہ کسی کے ہش کرنے پر خوشی سے نہال ہوجاتے ہیں، اس بات پر مجھے دو مشہور کہاوتیں اکثر یاد آتی ہیں جیسے ”بیگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانہ“ یا پھر ”ڈھول بجے اور دوسو رکے ایسے کیسے ممکن ہے“ میری اس بات سے تو ہر وہ نظریاتی اور سیاسی سوچ رکھنے والا بندہ متفق ہوگا کہ آج

Read more

کامریڈ حیدر بخش جتوئی:سندھ کی کسان جدوجہد کا ہیرو

سندھ دھرتی ہمیشہ سے دلیر، بہادر، نڈر، با صلاحیت اور آدرشی انسانوں کو جنم دیتی رہی ہے، جنہوں نے اپنی عقل و دانش، جہد و مزاحمت سے دھرتی کے باسیوں کی عزت، آزادی اور خوش حالی کے لئے دن رات ایک کر دیے۔ ایسے ہی مہان اور متحرک انسانوں میں کامریڈ حیدر بخش جتوئی کا شمار بھی ہوتا ہے۔ حیدر بخش جتوئی ”جئے سندھ“ نعرے کے خالق، انقلابی ادیب، مصنف، قانون دان اور سیاستدان تھے۔

Read more

بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور موجودہ نظام

”وقت ہے اور کوئی کام نہیں بس مزہ لے رہا ہوں فرصت کا“ جون ایلیا کا مذکورہ شعر ہمارے ایک کامریڈ دوست اکثر کسی کے یہ کہنے پہ فرماتے ہیں کہ آج کل آپ کیا کر رہے ہیں، یہ شعر صرف ہمارے اس دوست کی نہیں بلکہ ہر اس نوجوان کی عکاسی کرتا ہے جو یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں اور کوئی کام نہ ہونے کے باعث بیروزگار بیٹھے ہیں۔ دنیا میں جو بھی ممالک ترقی یافتہ کے طور پر

Read more

بے روزگار نوجوان اور بھاری بھرکم چالان

”زندگی یا تو ایک خواب یا پہر ہوا کا جھونکا“ جو اتنا جلدی کٹ جاتی ہے کہ خواہشوں کو دبانا پڑتا ہے یا پہر مارنا پڑتا ہے۔ بہت ہی خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو زندگی میں ہی ہر خواب اور خواہش کی تکمیل ہوتے دیکھتے ہیں۔

پاکستان میں بیروزگاری کی شرح دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے، اس وقت 9.1 افراد بیروزگاری کی زندگی گذار رہے تاہم 2017 کی آدمشماری کے مطابق پاکستان کی آبادی کے 64 فیصد حصے کی عمر 30 سال سے کم ہے اور 70 فیصد کے قریب نوجوان پڑھے لکھے ہیں جبکہ کئی نوجوان بیروزگاری سے تنگ آکر اپنی زندگی کے دیے بجھانے پر مجبور ہو گئے ہیں اور کئی مسلسل بیروزگاری سے ذہنی مریض بن چکے ہیں۔

پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی بیروزگاری بہت بڑا چیلنج بن چکی ہے پر افسوس یہ ہے کہ کسی بھی حکومت نے اس سنجیدہ مسئلے کی طرف توجہ نہیں دی اور نہ ہی بیروزگار نوجوانوں کی دردمندانہ آواز کی طرف اپنے کان دھرے ہیں۔

Read more

سی ایس ایس کا بخار

آپ بچپن سے لے کر آج تک سردی کے بخار سے تو ضرور واقف ہوں گے، جس میں بندے کو تیز بخار کے ساتھ سردی بھی محسوس ہوتی ہے، چوں کہ آج کل دنیا ترقی کے مراحل طے کر چکی اور کر رہی ہے تو سیانوں نے بخار کی ایک نیا قسم بھی دریافت کر لی ہے جسے سی ایس ایس فیور (css fever) کہا جاتا ہے۔ سلیس اردو میں اگر اسے ”سی ایس ایس“ کا بخار کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ اب یہ دونوں بخار بہت ساری چیزوں کے حوالے سے ایک جیسے ہی ہیں۔

مثلاً:
سردی والے بخار میں بندے کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پوری دنیا کی سردی ایک طرف پر اسے جو سردی لگ رہی ہے وہ سب سے زیادہ ہے، اسی طرح سی ایس ایس کے بخار میں مبتلا آدمی کو سی ایس ایس کرتے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جو علم اس کے پاس وہ ساری دنیا میں کسی کے پاس نہیں۔

Read more

کیا پیپلزپارٹی میں فارورڈ بلاک بننے جا رہا ہے؟

ایف آئی اے کی جے آئی ٹی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد سندھ میں اپوزیشن کی جماعتوں نے حکومت پر سیاسی دباؤ تیز کردیا ہے، سندھ میں اس وقت سیاسی جوڑ توڑ اپنے عروج پر ہے، روٹھے رہنماؤں کو منانے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جبکہ وفاداریاں تبدیل کروانے کے لئے بھی آفرز ہو رہی ہیں، تاہم پی ٹی آئی کے رہنما اور رکن سندھ اسمبلی خرم شیرزمان کے بقول اس وقت 20 سے 22 سے درمیان ارکان سندھ اسمبلی پیپلزپارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے کے لیے تیار ہیں اور یہی ارکان حکومت کی تبدیلی میں ان کا ساتھ دیں گے۔ جبکہ اسی قسم کے اشارے جی ڈی اے اور ایم کیو ایم بھی دی رہی ہے تاہم جی ڈی اے اور ایم کیو ایم سمیت خود پی ٹی آئی کے ارکان نے گورنر راج کی مخالفت کی ہے۔

Read more