بلوچ نواب قبائلی سردار ہیں یا سیاستدان؟


اگر بلوچ قوم کا جائزہ لیا جائے کہ اس کمیونٹی میں سیاستدان زیادہ ہیں یا نواب اور سردار۔ معلوم ہوگا کہ جدید بلوچستان کی سیاست کے اولین قائد نواب یوسف عزیز مگسی، میر جعفر خان جمالی، میر عبدالعزیز کرد اور میر غوث بخش بزنجو ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچ رہنماٶں کے جتنے بڑے نام ہیں وہ بیشک خود کو سیاستدان کہلائیں لیکن وہ اصل میں نواب اور سردار ہی رہے ہیں۔ متوسط طبقہ سے ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، حبیب جالب بلوچ، میر حاصل خان بزنجو، رازق بگٹی اور ثنا بلوچ و دیگر چند رہنما سایستدان کے طور پر سامنے آئے۔ نواب نوروز خان زہری، نواب اکبر خان بگٹی، نواب خیر بخش مری، نواب محمد اسلم رئیسانی، نواب ثنااللّٰہ زہری، نواب امان اللّٰہ زہری، نواب ذوالفقار علی مگسی، سردار یار محمد رند اور سردار کمال خان بنگلزئی سیاستدان کہلانے کے باوجود حقیقی معنوں میں سیاستدان نہیں بن سکے ہیں بلکہ انہوں نے اپنے قول اور فعل سے خود کو ہمیشہ سیاستدان کے بجائے نواب اور سردار ہی ثابت کیا ہے۔ سردار عطإ اللّٰہ مینگل، میر ظفر اللّٰہ خان جمالی اور سردار اختر جان مینگل آدھا سردار اور آدھا سیاستدان ہیں۔ انہوں نے اپنے قول اور فعل سے ثابت کیا ہے کہ وہ سردار بھی ہیں اور سیاستدان بھی۔ کچھ خوشامدی قسم کے صحافی کالم نویس اور دانشور جو ہر دور میں اپنے مفادات حاصل کرتے رہتے ہیں۔ ایسے حضرات میں سے چند ایک نے آصف علی زرداری کو بھی اپنی تحریروں میں عظیم بلوچ ثابت کر دیا۔

جب آصف علی زرداری ملک کے صدر بنے تو اس قسم کے لکھاریوں نے پتہ نہیں کہاں سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر ان کا شجرہ نسب برآمد کر کے نہ صرف ان کو بلوچ قوم کا عظیم سپوت ثابت کیا بلکہ ان کو بزرگ اور درویش صفت بھی ثابت کر دیا ان کی بدولت ہی ہمیں معلوم ہوا کہ زرداری سندھی نہیں بلکہ بلوچ ہیں جس پر ہمیں اسی طرح خوشی ہوئی جس طرح جنرل پرویز مشرف کو صدر اور چیف ایگزیکٹو بننے پر ان کا شجر نسب تلاش کر کے بتایا کہ جنرل صاحب نہ صرف سید ہیں بلکہ وہ بہت بڑی بزرگ ہستی اور درویش کے پوتے ہیں جن کے آستانہ عالیہ سے لاکھوں لوگ اپنے دل کی مرادیں پا لیتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ جنرل مشرف نے اپنے عمل اور شوق و ذوق سے یہ ثابت کیا کہ وہ ایک طبلہ نواز ہیں اور ٹھمری بھی لگاتے ہیں اور انہوں نے اپنی آپ بیتی پر مشتمل کتاب میں یہ بھی انکشاف کیا کہ ان کی والدہ محترمہ رقص میں بڑی مہارت رکھتی ہیں اور برطانوی سرکار نے ان کو بھرپور پرفارمنس پر خصوصی ایوارڈز سے بھی نواز رکھا ہے۔

ان معزز لکھاریوں نے میر ظفراللّٰہ خان جمالی کو وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد یہ انکشاف کیا کہ میر صاحب مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے ذاتی محافظ بھی رہ چکے ہیں اور یہ کہ میر صاحب اپنی مثالی بہادری کی وجہ سے اپنے علاقے میں جبل خان کے طور پر مشہور ہیں۔ یعنی نہ صرف پہاڑ بلکہ پہاڑ خان۔ جب وہ اقتدار سے محروم ہوئے تو یہی لکھاری ان کو اللّٰہ میاں کی گائے ثابت کرنے میں اپنا قلم استعمال کرنے لگے۔ جب سیاہ فام رہنما اوبامہ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے تو اسی قسم کے لکھاری ان کو اوبامہ حسین کہہ کر مسلمان ثابت کرنے لگے جبکہ سردار لطیف کھوسہ جب پنجاب کے گورنر تھے تو انہوں نے جنوبی افریقہ کے صدر اور مشہور عالمی شخصیت نیلسن منڈیلا کے بارے میں یہ انکشاف کیا تھا کہ نیلسن منڈیلہ کھوسہ ہے۔ جس سے ان کی مراد منڈیلا کو کھوسہ بلوچ ثابت کرنا تھا۔ مطلب یہ کہ ہمیں افواہوں اور مفروضوں کی بجائے حقائق تلاش کرنے اور حقائق کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے۔

بعض بلوچ سیاستدانوں کا کچھ اہم مواقع پر ان کی رائے معلوم کرنے پر بھی پتہ چل جاتا ہے کہ وہ اپنے ظاہر اور باطن میں کس حد تک سیاستدان اور کہاں تک سردار ہیں۔ جب 12 اکتوبر 1999 کو آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کو اقتدار سے ہٹاکر جیل میں ڈال دیا اور خود اقتدار پر قابض ہو کر ملک کا چیف ایگزیکٹو بن گیا تو اس بارے میں بلوچستان کے 2 سابق وزرائے اعلیٰ اور سیاستدانوں سردار عطا ٕ اللّٰہ مینگل اور نواب اکبر خان بگٹی سے میں نے ٹیلیفون پر ملک کی سب سے بڑی نیوز ایجنسی کے لئے ان کا مٶقف معلوم کرنا چاہا۔ نواب بگٹی نے تو بلا جھجھک مجھے اپنا مٶقف دے دیا مگر سردار مینگل ہچکچا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں پارٹی مشاورت کے بغیر اس بارے میں اپنا مٶقف نہیں دینا چاہتا۔ لیکن میں نے ان سے اصرار کیا کہ وہ پارٹی یا ذاتی حیثیت میں اس اہم ترین اشو پر اپنا مٶقف ضرور دیں جس پر انہوں نے مجھے اپنا مٶقف دیا۔ اگلے روز اخبارات میں دونوں رہنماٶں کا مٶقف چھپ گیا۔ نواب بگٹی کی جمہوری وطن پارٹی میں تو خاموشی رہی مگر سردار مینگل کی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی میں اس حوالے سے 2 گروپ بن گئے۔ ایک گروپ سردار مینگل کے مٶقف کی تائید کر رہاتھا تو دوسرا اس کی مخالفت کر رہا تھا۔ اس دور میں سوشل میڈیا تو نہیں تھا اس لئے یہ ساری لڑائی اخبارات پر ہی لڑی جا رہی تھی۔ بلآخر سردار اختر جان مینگل نے دونوں گروپس کو اخبارات میں بیان بازی سے روک دیا اور اس کے حل کے لئے پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا اور اسی اجلاس میں جا کر معاملے کو رفع دفع کر لیا۔ اس سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بی این پی میں جمہوریت تھی اس لئے یہاں اپنی پارٹی کے رہبر کے مٶقف کی کھل کر مخالفت کی گئی اور پھر پارٹی کے صدر اختر جان نے اجلاس منعقد کر کر کے جمہوری طریقے سے تنازعہ ختم کیا۔ جبکہ اس کے برعکس نواب اکبر خان بگٹی جو کچھ بھی پارٹی حوالے سے بات کرتے تھے ان سے اختلاف کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی تھی۔ حالانکہ ان کی جماعت میں سردار یار محمد رند سردار فتح علی عمرانی و دیگر کئی سردار تھے۔ میں مسلسل 8 برس تک اخبارات میں نواب بگٹی کی خبریں اور مٶقف دیتا رہا لیکن کبھی کسی نے ان کی کسی بات سے اختلاف نہیں کیا۔ اگر کوئی دل میں اختلاف کرتا تو وہ خاموشی کے ساتھ پارٹی سے الگ ہو جاتا تھا جس طرح سردار یار محمد رند سردار فتح علی عمرانی اور خدائے نور خان وغیرہ۔ دلچسپ بات یہ کہ یہ لوگ پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کرتے وقت بھی نواب صاحب سے اختلاف نہیں بلکہ ان کا دل سے احترام اور نیک جذبات کا اظہار کرتے گئے۔ اس سے میں یہ سمجھ سکا کہ نہ صرف خود نواب صاحب بلکہ دوسرے لوگ اور حکمران طبقہ بھی نواب اکبر بگٹی کو سیاستدان کے بجائے پاکستان کا طاقتور ترین نواب ہی سمجھتا تھا۔ پھر یہ کہ ان کے صاحبزادے بھی سیاستدان کے بجائے اپنے قول اور فعل سے خود کو نوابزادہ ہی ثابت کرتے رہے اور سیاستدان نہ بن سکے۔ اس کا مجھے ذاتی مشاہدہ ہوا ہے۔

جب 26 اگست 2006 کو نواب اکبر خان بگٹی کا سانحہ پیش آیا تو ان کے دونوں فرزند نوابزادہ طلال اور نوابزادہ جمیل بگٹی کوئٹہ میں اپنے والد محترم کے ہاٶس میں قیام پذیر ہو گئے۔ لوگ تعزیت کے لئے ان کے پاس جانے لگے۔ میں بھی ان کے پاس تعزیت کے لئے گیا اور بعد میں ٹیلیفون پر ان دونوں کی خبریں دیتا رہا۔ ایک بار میرے سوال پر نوابزادہ طلال بگٹی نے کہا کہ اپنے شہید والد کے مقدمے کی پیروی میں کروں گا۔ جمیل سرکاری ملازم ہے وہ کراچی چلا جائے گا۔ میری یہ خبر شایع ہونے پر نوابزادہ جمیل مجھ سے اور اپنے بڑے بھائی نوابزادہ طلال سے ناراض ہو گیا اور وہ اسی روز بگٹی ہاٶس چھوڑ کر کراچی تو نہیں گیا البتہ کوئٹہ میں ہی اپنے بہنوئی سابق نگرانی وزیر اعلیٰ میر ہمایوں خان مری کے پاس چلا گیا اور آخر تک دونوں بھائیوں میں صلح نہیں ہو سکی۔ میری خبر پر دونوں بھائیوں کی ناراضی پر ممتاز صحافی محمد کاظم مینگل نے اپنے ایک تجزیہ میں اس کا ذکر کیا تھا۔ میں نے تو دونوں بھائیوں سے دوبارا تعلق نہیں رکھا لیکن میر ہمایوں مری آغا شاہد بگٹی میر امان اللّٰہ کنرانی اور میر ظہور خان کھوسو جہوری وطن پارٹی سے الگ ہو گئے تھے۔ انہوں نے سمجھا کہ پارٹی کو نوابزادگان اپنی مرضی سے چلائیں گے۔

اس وقت بلوچ سرداروں اور نوابوں میں صرف ظفراللّٰہ خان جمالی اور سردار اختر جان مینگل سیاستدان کا رول ادا کر رہے ہیں۔ باقی دوسرے نواب اور سردار سیاسی جاعتوں سے وابستہ ہونے کے باوجود خود کو نواب اور سردار ہی ثابت کر رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں بلوچ سرداروں میں سردار اختر جان کو بلوچستان کا با اثر سیاستدان سمجھا جا رہا ہے۔ جبکہ متوسط طبقہ سے نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور میر حاصل خان بزنجو بہتر سیاستدان کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماضی میں میر گل خان نصیر سیاستدان سے زیادہ ادیب شاعر اور دانشور کے طور پر مشہور ہوئے۔ بلوچ قوم میں سب سے با اثر خان آف قلات کو مانا جاتا ہے لیکن اس وقت خان آف قلات نہ بلوچ سردار اور نہ ہی سیاستدان کا کردار ادا کر رہا ہے۔ خان آف قلات میر سلیمان خان نے نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد بلوچ سرداروں کا جرگہ منعقد کر کے متحد ہو کر اپنے حقوق اور قومی بقا کے لئے مشترکہ جدوجہد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد جلد ہی وہ خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر کے لندن چلے گئے۔ وہ گوروں کے دیس میں اتنے مصروف اور مگن ہو گئے کہ کئی برس سے ان کا کوئی حال احوال نہیں ہے۔ اب تو بلوچستان کے عوام کو یاد بھی نہیں رہے ہیں کہ وہ کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ مجموعی طور پر بلوچ سرداروں کی اکثریت انگریز دور میں برٹش گورنمنٹ سے وظیفہ لیتی تھی اور قیام پاکستان کے بعد ان کی نئی نسل کی اکثریت اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر گامزن ہو کر نیا قبلہ متعین کر چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آسائش پسند بلوچ سردار نواب نوریز خان زہری اور پرنس عبدالکریم بلوچ کی طرح سخت جان نہیں بن سکتے اور نہ ہی وہ میر غوث بخش بزنجو کی طرح خالص اور درویش صفت سیاستدان بن سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS