جمی کارٹر کو نوبل کا امن انعام کیوں ملا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب تک میں نے جمی کارٹر کا 2002 کا نوبل امن کا خطاب نہیں پڑھا تھا مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ انہیں یہ انعام ایک صدر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک عام شہری کی حیثیت سے ملا تھا۔

جمی کارٹر 1924 میں امریکہ کی سٹیٹ جیورجیا میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کی تو 1946 میں نیول اکیڈمی میں کام کرنے لگے۔ اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے ساتھ ساتھ 1960 کی دہائی میں وہ عملی سیاست اور انسانی حقوق کی تحریک میں بھی شامل ہو گئے۔ پہلے وہ جیورجیا کے سینیٹر اور پھر گورنر بنے۔ 1977 میں انہوں نے ڈیموکریٹ پارٹی کی سیٹ پر صدارت کے انتخاب میں شرکت کی اور الیکشن جیت گئے۔ ان کی صدارت کا دور وہ دور تھا جب امریکہ ایران کے ہوسٹیج بحران کا شکار تھا۔

جمی کارٹر چار سال امریکہ کے صدر رہے۔ وائٹ ہاؤس سے رخصت ہونے کے بعد 1982 میں انہوں نے کارٹر سنٹر کی بنیاد ڈالی۔ اس سنٹر میں انہوں نے انسانی حقوق ’جمہوریت اور عالمی امن کی تحریک کو فروغ دیا۔ انہوں نے افریقہ کے غریب عوام کے دکھوں کو سکھوں میں بدلنے کی کوشش کی۔ جمی کارٹر کے کارٹر سنٹر کی انسانیت کی خدمات کے صلے میں انہیں 2002 میں نوبل کے امن انعام سے نوازا گیا۔ جمی کارٹر نے غریب اور بے گھر لوگوں کے لیے HABITAT FOR HUMANITY ادارہ بنایا جو غریبوں کے لیے گھر بناتا ہے تا کہ سب انسانوں کے سر پر ایک چھت ہو اور وہ موسم کی گرمی اور سردی سے بچ سکیں۔ جمی کارٹر نے دنیا کے مختلف ممالک میں غریبوں کی تعلیم اور صحت کے بارے میں بھی کارہائے نمایاں سرانجام دیے۔

جب میں نے جمی کارٹر کا نوبل انعام کا خطاب پڑھا تو مجھے ان کے زندگی اور امن کے بارے میں خیالات اور نظریات سے آگاہی ہوئی۔ وہ اپنے خطاب میں کہتے ہیں کہ جب میں امریکہ کا صدر اور امریکی افواج کا کمانڈر ان چیف بنا تو مجھے اندازہ ہوا کہ اگر روس ہم پر حملہ آور ہوتا ہے تو ہمارے پاس جوابی فوجی کارروائی کے لیے صرف تیس منٹ ہوں گے اور ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ایٹمی جنگ کا حصہ بنیں یا نہ بنیں۔ اس احساس کے بعد میں نے ان تمام ممالک کے رہنماؤں سے مکالمہ کیا جو جنگ کرنے کی بجائے کرہِ ارض کو پرامن بنانا چاہتے ہیں۔

جمی کارٹر غریبوں کی مدد کرنے کی عالمی تحریک میں شامل ہو گئے ہیں کیونکہ وہ بنگلہ دیش کے محمد یونس کی طرح جانتے ہیں کہ دنیا میں غربت کو ختم کیے بغیر امن نہیں لایا جا سکتا۔

جمی کارٹر کا کہنا ہے ہمیں پوری کوشش کرنی چاہیے کہ دنیا میں امیر اور غریب قوموں کے فرق کو کم کیا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو قومیں مالدار ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ دانا بھی ہیں۔ اگر کوئی قوم طاقتور ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کمزور ممالک پر حملہ کرے اور ان کے وسائل پر قبضہ کر لے۔

امریکہ کے جن دانشوروں نے عالمی امن میں اہم کردار ادا کیا ہے ان میں ایک CORDELL HULL تھے جنہوں نے ساری دنیا کے ممالک کو اقوامِ متحدہ بناناے کا مشورہ دیا تھا۔ ان دانشوروں اور سیاسی اور مذہبی رہنماؤں میں MARTIN LUTHER KING JRمارٹن لوتھر کنگ بھی شامل تھے جنہوں نے 1960 کی دہائی میں کالوں کے انسانی حقوق کی جنگ لڑی اور اس کے لیے قربانیان دیں۔ ان دانشوروں میں RALPH BUNCHE بھی شامل تھے جنہوں نے کہا تھا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے جنگ کرنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں کیونکہ تشدد تشدد کو بڑھاتا ہے کم نہیں کرتا۔ نفرت کا جواب محبت ہے مزید نفرت نہیں۔

جمی کارٹر کا موقف ہے کہ ہمیں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل کر کے اسرائیل اور فلسطین دو آزا د ممالک بنانے چائییں کیونکہ اس کے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ جمی کارٹر کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں یہودیوں ’عیسائیوں اور مسلمانوں کو مل جل کر رہنا چاہیے کیونکہ وہ سب ایک ہی باپ کی اولاد ہیں۔

جمی کارٹر نے اپنی سکول کی استانیMISS JULIA COLEMAN کا بڑے احترام سے ذکر کیا اور ان کا یہ قول بھی دہرایاWE MUST ADJUST TO CHANGING TIMES AND STILL HOLD ON TO UNCHANGING PRINCIPLES

جمی کارٹر نے اپنے خطاب میں مارٹن لوتھر کنگ کا بھی بڑے احترام سے ذکر کیا اور کہا کہ کنگ کا ایک خواب تھا کہ ایک دن غلاموں کے بچے اور غلاموں کے مالکوں کے بچے ایک ہی میز پر کھانا کھائیں گے۔ جمی کارٹر نے کہا کہ نوبل انعام کے دسترخوان پر مارٹن لوتھر کنگ اور جمی کارٹر جمع ہو گئے ہیں جو کنگ کی خواب کی ایک اعلیٰ تعبیر ہے۔

جمی کارٹر نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ ہمیں ساری دنیا میں انسانی حقوق کا احترام کرنا ہوگا کیونکہ اس کے بغیر دنیا میں دائمی امن قائم کرنا ناممکن ہے۔ ان کا موقف ہے کہ انصاف اور امن کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

جمی کارٹر نے جنگ کی نفسیات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ جنگ کو قائم کرنے کے لیے انسان اپنے دشمن کو اپنے تصور میں پہلے حیوان اور پھر شیطان بنا دیتے ہیں۔ ان سے ان کی انسانیت کھو لیتے ہیں۔ جمی کارٹر نے کہا کہ جب تک ہم اپنے دشمنوں کے بچوں سے اپنے بچوں کی طرح محبت نہیں کریں گے ہم دنیا میں امن قائم نہیں کر سکتے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ ہم اپنے دشمنوں کے بچوں کو قتل کر کے کیسے امن قائم کر سکتے ہیں۔ ؟

جمی کارٹر امریکہ کے واحد صدر ہیں جو وائٹ ہاؤس سے رخصت ہونے کے چالیس سال بعد بھی زندہ ہیں اور ساری دنیا میں انسانی حقوق اور امن کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ جمی کارٹر کے لیے دنیا کے امن کے پرستاروں کے دلوں میں بہت عزت اور احترام ہے۔ جمی کارٹر امریکہ کے سابق صدر ہی نہیں ایک ہمدرد سماجی کارکن اور ایک دانشور بھی ہیں جنہوں نے انسانی حقوق اور عالمی امن کے حوالے سے کئی کتابیں تخلیق کی ہیں۔ انہوں نے ساری دنیا کے بہت سے سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو غریب انسانوں کی خدمت کی تحریک دی ہے۔

۔ ۔ ۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 270 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail