تبدیلی سرکار کے سو دنوں کی ہیٹرک اور ہٹلر فوج کے موزے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تبدیلی سرکار کے سو دنوں کی ہیٹرک ہونے کو ہے لیکن پھر بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو معاشی محاذ پر مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے جبکہ ان کا دعوی تھا کہ وہ پہلے سو دنوں میں ملک کے حالات بدل دیں گے حالات تو کیا بدلنے تھے ان کی نا اہلی کی بدولت تبدیلی کی ایسی فضا چلی جس سے ملک میں مہنگائی کا گراف اونچا ہو رہا ہے اور کاروبار سمٹ رہا ہے۔ جس سے انہیں انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں کی تکمیل میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں کیونکہ حکومت ایک کروڑ ملازمتوں، اور پچاس لاکھ نئے گھروں کے وعدے اور کرپشن کے خاتمے کے دعوؤں کے ساتھ انتخابی میدان میں اتری تھی۔

لیکن اب جب ڈلیوری کے ٹائم پر کچھ بن نہیں پا رہا تو حکومت وزراء کے محکمے تبدیل کرنے کے شوشے چھوڑ رہی ہے یہ ایسے ہی ہے جیسے ہٹلر نے دوران جنگ فوجیوں کے موزے تبدیل کرنے کے مطالبے پر جو فوجیوں نے کئی روز سے پہنے ہوئے تھے حکم جاری کیا کہ سب فوجی اپنے اپنے موزے اتاریں فوجیوں نے نئے موزے ملنے کی خوشی میں فورا پرانے موزے اتار دیے تو انہیں نیا حکم ملا کہ دائیں پاٶں کے موزے کو بائیں اور بائیں پاٶں کے موزے کو دائیں پاٶں میں پہن لیں۔

میرے مطابق حکومت جن مسائل کا شکار ہے ان کا حل وزراء کے محکمے تبدیل کرنے سے ممکن نہیں کیونکہ معاشیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ معیشت سدھارنے کے بلند و بانگ دعوؤں کے برعکس موجودہ حکومت کے پاس حکمت عملی کا فقدان ہے۔

معاشیات کا اصول کہتا ہے کہ جب کوئی چیز مفت ملے یعنی اس کی کوئی قیمت نہ چکانی پڑے تو ہم اس مفت چیز کو غارت کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر فضا کو لے لیں ہم سب فضا کو آلودہ کرتے ہیں اور خصوصاً مینوفیکچرنگ کاپوریشنز کیونکہ فضا کی آلودگی کی انہیں کوئی قیمت ادا نہیں کرنا پڑتی یوں یہ مینو فیکچرنگ کمپنیاں فضا کو بے دریغ آلودہ کرتیں ہیں۔ لیکن اسی آلودگی پر اگر ٹیکس کی شکل میں قیمت مقرر کر دی جائے تو یہی کمپنیاں اپنا رویہ بدلنے پر مجبور ہو جائیں۔

یہی حال ہمارے کپتان کی حکومت کا بھی ہے اگر ان کی حماقتوں پر کوئی قیمت نا رکھی گئی تو یہ حماقتیں اور بڑھ جائیں گئی۔

سوال طلب امر یہ ہے کہ پھر آخر اس تبدیلی سرکار کی بیڈ گورنس پر کون سی قیمت لگائی جا سکتی ہے کہ قوم کی اس بیڈ گورنس کی آلودگی سے جان چھٹ جائے مجھ جیسے کم عقل لکھاریوں کے پاس اس کا حل صرف اور صرف یہی ہے کہ تبدیلی سرکار کی ہر حماقت کو سامنے لایا جائے اور غلطیوں کی نشاندہئی کی جائے تاکہ بیڈ گورنس کا شکار تبدیلی سرکار اپنی حکومت میں بہتری لا سکے اسی امید پر میرے بیشتر آرٹیکلز کا موضوع تنقیدی ہوتا یے۔

ہمارے ملک کا المیہ ہے کہ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ہم ملک میں حقیقی عوام کی ترجمان اور آئین پاکستان کی رو سے کوئی بھی حکومت معرض وجود میں نہیں لا سکے ہر بار اک نیا تجربہ اور اک نئے ڈھونگ سے حکومت قائم کی گئی لیکن صحیح معائنوں میں عوام کی ترجمانی اور ان کے مسائل کا تدارک کوئی بھی نہ کر سکا کیونکہ انہیں حکومت دلانے والوں کے مقاصد کچھ اور تھے اور جس نے بھی آقا کے سامنے آواز بلند کرنے کی کوشش کی اسے غدار اور کرپٹ کا سرٹیفکیٹ دے کر کھڈے لائن لگا دیا گیا یہی وجہ ہے کہ گدھا وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔

ویسے بھی تبدیلی سرکار کے بمشکل نو ماہ کی حکومت میں اس قدر گدھا پن ہو چکا کہ اب اگر سرکس کا رنگ ماسٹر پردہ گرانے کا سوچے تو بہتر ہے۔

مثال کے طور پر اک طرف پشاور میٹرو کو ہی لے لیں جو مکمل ہوتا تو کسی صورت نظر نہیں آتا لیکن نا اہلی کی وجہ سے اس کے بجٹ میں روز بروز اضافہ کیا ہوا ہے اور اس کا بجٹ سو ارب سے زائد کا ہو گیا ہے اب یہ ہوشربا تساہل اور بڑھتی قیمت کرپشن نہیں تو بھلا اور کیا ہے؟

دوسری طرف کے پی کے ہی میں جعلی طالبعلموں کے نام پر کروڑوں کا گھپلا سن کر تو تبدیلی کی بھی ایک دفعہ چیخیں نکل گئیں لیکن یہاں پی ٹی آئی کی اندھے تقلیدی برگیڈ کی بے شرمی کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی۔ یہ ایسی برگیڈ ہے جو بروقت بارشوں کا کریڈٹ خود کو دیتی ہے اور ژالہ باری اور طوفانی بارشوں کا کریڈٹ اپوزیشن کے کھاتے میں ڈالتی ہے۔

ریاست مدینہ کا راگ الاپنے والے ملک ریاض کے غاصبانہ قبضے پر نہ بولیں تو اس کی اربوں وجوہات گنوائیں جا سکتیں ہیں لیکن بنی گالہ اور حیات ٹاور کی ریگولرائیزیشن اور غریبوں کے گھروں اور کاروبار کی اکھاڑ بچھاڑ پر محمد عربی صلی للہ و علیہ وآلہ وسلم کا قول دل چیر جاتا ہے۔ کہ تم سے پہلے کی امتیں اس وجہ سے تباہ کر دی گئیں کہ وہ اپنے امیروں کو تو قانون سے بالا تصور کرتیں لیکن اپنے غریبوں پر قانون کا اطلاق کرتیں۔

بطور اک لکھاری کے میں سمجھتا ہوں کہ حقیقت میں ہماری ذمہ داری صرف برائی کی نشاندہی پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ ہماری اخلاقی، مذہبی اور معاشرتی ذمے داری ہے کہ ہم عملاً اس ظلم کے نظام کو بدل کر رکھ دیں۔ ہم نئے اور پرانے ڈونکی کنگز کو یکسر رد کر دیں اور اس ”تیرا لیڈر اور میرا لیڈر“ کی لایعنی بحث سے اوپر اٹھ کر دیکھیں ہمیں حقیقی تبدیلی کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھنا ہوگی ہماری قوم کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اور ہم ان تمام ڈونکی کنگز کو ایک طرف رکھ کر ایک نئی اور حقیقی عوامی تحریک کا آغاز کریں وگرنہ یہ سرکس تو نہ ختم ہونے والا بھیانک خواب ہے جو امیروں کو امیر تر بنائیگا اور غریبوں کی ہڈیاں تک چوس کر ڈکار تک نہیں لے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •