جدید دور کے ٹھگ اور تبدیلی سرکار کی چھنچھناتی چوڑیاں

پرانے وقتوں میں لوگوں کو بیوقوف بنا کر مال بٹورنے کے لیے ایک گروہ ہوا کرتا تھا اس گروہ سے وابستہ لوگ ٹھگ کہلاتے تھے،انہی ٹھگوں کا ایک واقعہ ہے کہ”ایک دیہاتی بکرا خرید کر اپنے گھر جا رہا تھا کہ چار ٹھگوں نے اسے دیکھ لیا اور ٹھگنے کا پروگرام بنایا۔ چاروں ٹھگ اس کے راستے پر کچھ فاصلے سے کھڑے ہو گئے۔ وہ دیہاتی کچھ آگے بڑھا تو پہلا ٹھگ اس سے آکر ملا اور بولا“ بھائی یہ کتا کہاں لے کر جارہے ہو؟ ”دیہاتی نے اسے گھور کر دیکھا اور بولا“ بیوقوف تجھے نظر نہیں آرہا کہ یہ بکرا ہے کتا نہیں ”۔ دیہاتی کچھ اور آگے بڑھا تو دوسرا ٹھگ ٹکرایا۔ اس نے کہا“ یار یہ کتا تو بڑا شاندار ہے کتنے کاخریدا؟

Read more

سابقہ حکمرانوں پر ملبہ ڈالنے کی بجاٸے ، عملیت پسند روڈ میپ متعارف کرواٸے

تبدیلی سرکار کے سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے اک انٹرویو ‏میں کہا کہ اگر وزارت خزانہ نہ چھوڑتا تو میں دماغی توازن کھونے کے دہانے پر تھا۔ سیاسی عدم استحکام کے ماحول میں معاشی اصلاحات متعارف کروانا ایک چیلنج ہے۔ اب بھلا ان خود ساختہ ارسطو اور پی ٹی آئی فیس سے کوئی پوچھے کہ نواز شریف کے دور میں آپ مستقل طور پر سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے اور بالاخر اس میں کامیاب بھی ہوئے آخر اسوقت آپ لوگوں کا ایجنڈا کیا تھا؟ پھر آپ نے اقتدار ملنے کے بعد کی کیا پلاننگ کی تھی؟

Read more

نواز شریف کی نا اہلی سے تبدیلی سرکار کی سابقہ نا اہل کابینہ تک

تبدیلی سرکار کے سابقہ وزراء کی نا اہلی، بدنظمی، مس پلاننگ اور وژن اور صلاحیت کے فقدان کی وجہ سے آٹھ ماہ میں ہی یہ صورتحال ہوگئی ہے کہ تبدیلی کو چاہنے اور لانے والوں کی چیخیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور صورتحال اتنی گھمبیر ہے کہ تبدیلی سرکار کے سینئر وزراء بھی نئے وزراء سے نا امید نظر آتے ہیں، اس کی صرف اور صرف اک وجہ ہے اور وہ تبدیلی سرکار کے وہ بلند و بانگ دعوے تھے جن کے خواب انہوں نے سلیکٹرز اور عوام کو دکھائے تھے کہ اقتدار میں آتے ہی وہ یہ کر دیں گے اور وہ کر دیں گے لیکن اقتدار ملتے ہی حقیقت اس کے برعکس نکلی اور کسی بھی شعبہ کی پلاننگ، وژن، منصوبہ بندی اور اہداف نہ ہونے کے سبب عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دب گئے ہیں اور نکلنے کی امید دور دور تک نظر نہیں آ رہی جس کی وجہ سے عوام اب اس ”انگلی“ اور اس کی سلیکشن کیطرف سوال اٹھا رہے ہیں جس ”انگلی“ کے اٹھنے کی امید تبدیلی سرکار نے دھرنے میں لگائی تھی۔ اب سوال یہ نہیں کہ نواز شریف نا اہل نہ ہوتے تو کیا پھر بھی الیکشن ہوتا اور پی ٹی آئی الیکشن جیت جاتی؟ بلکہ سوال یہ ہے کے نواز شریف کو نا اہل کر کے اب تک ہم نے کیا مثبت پایا؟

Read more

تبدیلی سرکار کے سو دنوں کی ہیٹرک اور ہٹلر فوج کے موزے

تبدیلی سرکار کے سو دنوں کی ہیٹرک ہونے کو ہے لیکن پھر بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو معاشی محاذ پر مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے جبکہ ان کا دعوی تھا کہ وہ پہلے سو دنوں میں ملک کے حالات بدل دیں گے حالات تو کیا بدلنے تھے ان کی…

Read more

کٹے، ککڑی، بکری اور چھابڑی کی سرکار

چینی کہاوت ہے کہ ”اگر کسی کا منصوبہ ایک سال کا ہے تو چاول کاشت کرے، اگر دس سالہ ہے تو درخت لگائے اور اگر منصوبہ سو سالہ ہے تو افراد سازی کرے“۔ افراد سازی کا کام درس گاہوں اور تعلیمی اداروں میں ممکن ہے جہاں جدید دور کی ضروریات کے مطابق علوم کی تعلیم…

Read more

بی جمالو سیاست اور نواز شریف کی نکھرتی شخصیت 

دوستو! مہذب ملکوں میں الیکشن سے پہلے سیاسی جماعتیں اپنا منشور عوام کے سامنے پیش کرتی ہیں اور ان کا تھنک ٹینک ہر محکمہ کی پلاننگ کرتا ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ کس کس طرح، کس کس محکمہ کو چلائیں گے اور کیسے اپنے منشور پر عمل در آمد کرکے ملک کو…

Read more

تبدیلی سرکار کے دعووں کے برعکس نواز، شہباز کی ابھرتی ہوئی شخصیت

اگر ”تبدیلی سرکار“ کی اب تک کی حکومت کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں جہاں اک طرف ہر روز اک نیا یوٹرن اور اک نئی نوید مزید رونے، دھونے، چیخنے چلانے کے ساتھ ساتھ صبر اور بس صبر کی ملتی ہے تو وہیں دوسری طرف نواز، شہباز کو کرپٹ اور غدار کہتی ”تبدیلی سرکار“ خود نواز، شہباز کا نیا اور شفاف چہرہ اور محب وطنی کی نئی داستان جانے انجانے میں عوام کے سامنے بے نقاب کر رہی ہے۔ جس کی تازہ مثال گزشتہ روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ”میرے کپتان“ نے انکشاف کیا کہ پٹرول اور گیس کے حوالہ سے قوم کو اگلے دو چار ہفتوں میں بڑی خوش خبری دینے جا رہے ہیں ”جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ“ کپتان ”کی عظیم خوشخبری بھی کرپٹ اور غدار نواز شریف کی مرہون منت ہی ہے۔

Read more

اسٹیبلیشمنٹ کے مقابلے میں مسلم لیگی ورکرز کی اصل ذمہ داری

الیکشن 2018 کے بعد سے مسلسل اسٹیبلیشمنٹ نے قائد محترم میاں محمد نواز شریف سے بار بار ڈیل اور ڈھیل کے لئے رابطہ کیا لیکن قائد محترم کے صاف انکار کے بعد اسٹیبلیشمنٹ اسوقت ڈبل گیم کھیل رہی ہے۔اک طرف پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف کو سہولیات دے کر کارکنان کو یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ خدانخواستہ میاں محمد شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف قائد محترم میاں محمد نواز شریف سے بالا بالا حکومت سے کوئی ڈیل یا ڈھیل کر چکے ہیں یا کسی این آر او کے متلاشی ہیں۔

Read more