تبدیلی سرکار کے سابقہ وزراء کی نا اہلی، بدنظمی، مس پلاننگ اور وژن اور صلاحیت کے فقدان کی وجہ سے آٹھ ماہ میں ہی یہ صورتحال ہوگئی ہے کہ تبدیلی کو چاہنے اور لانے والوں کی چیخیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور صورتحال اتنی گھمبیر ہے کہ تبدیلی سرکار کے سینئر وزراء بھی نئے وزراء سے نا امید نظر آتے ہیں، اس کی صرف اور صرف اک وجہ ہے اور وہ تبدیلی سرکار کے وہ بلند و بانگ دعوے تھے جن کے خواب انہوں نے سلیکٹرز اور عوام کو دکھائے تھے کہ اقتدار میں آتے ہی وہ یہ کر دیں گے اور وہ کر دیں گے لیکن اقتدار ملتے ہی حقیقت اس کے برعکس نکلی اور کسی بھی شعبہ کی پلاننگ، وژن، منصوبہ بندی اور اہداف نہ ہونے کے سبب عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دب گئے ہیں اور نکلنے کی امید دور دور تک نظر نہیں آ رہی جس کی وجہ سے عوام اب اس ”انگلی“ اور اس کی سلیکشن کیطرف سوال اٹھا رہے ہیں جس ”انگلی“ کے اٹھنے کی امید تبدیلی سرکار نے دھرنے میں لگائی تھی۔ اب سوال یہ نہیں کہ نواز شریف نا اہل نہ ہوتے تو کیا پھر بھی الیکشن ہوتا اور پی ٹی آئی الیکشن جیت جاتی؟ بلکہ سوال یہ ہے کے نواز شریف کو نا اہل کر کے اب تک ہم نے کیا مثبت پایا؟
Read more