دمشق کا ”گڈ فرائی ڈے“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوستوں، بالخصوص مسیحی احباب کو دمشق سے ”جمعۃ عظیمۃ“ یا ”گُڈ فرائی ڈے“ کی تاخیر سے مبارک باد۔ مسیحی عقائد کے مطابق یہ دن حضرت عیسی کے صلیب پر چڑھ کر انسانیت کے گناہوں کے کفّارے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ عید الفصح یا ایسٹر کا تہوار اس کے بعد والے اتوار کو پڑتا ہے۔ دوستوں کو یاد ہوگا کہ کرسمس کے موقع پر یہ خادم مختلف مسیحی فرقوں کے مابین مذہبی تہواروں کی تاریخ کے نزاع کو نظر انداز کر بیٹھا تھا اور دمشق قدیم کے سُونے کلیساوں کی بے سود سیر میں مصروف رہا۔

ہماری ایک پیاری سی شامی ہم کار ہیں رانین بی بی۔ تعلق کیتھولک مسیحی مذہب سے ہے۔ نام کے معنی ”گھنٹی کی آواز“ ہیں۔ احباب چاہیں تو انہیں ”بانگِ درا“ سمجھ سکتے ہیں۔ وہ کرسمس کے موقع پر ہمارے خجل ہونے کے قصے سے واقف تھیں چنانچہ جمعرات کو اطلاع کر دی تھی کہ اگر جمعۃ عظیمۃ کا تہوار دیکھنا ہو تو بتا دینا۔ یہ خادم جمعی کی سہ پہر کو اپنے افغان رفیق، مشتاق رحیم، صومالی ہم کار سمیرہ بی بی اور جاپانی دوست میناکو بی بی کے ہمراہ دمشق کے جدید اور مرفہ الحال علاقے ”قصور“ کی جانب روانہ ہوا۔

امسال موسمِ سرما جانے کا نام نہیں لے رہا اور بلاد الشام کا تمام علاقہ بے موسمی بارشوں اور سرد ہواوں کی لپیٹ میں ہے۔ ہم جیکٹوں اور کوٹوں میں لپٹے لپٹائے ”قصور“ میں واقع ”کنیسہ سیدہ“ پہنچے تو وہاں دمشق کے کیتھولک لوگوں کا جمِ غفیر، مع اہلِ خانہ، خُرد و کلاں موجود تھا۔ ان کے علاوہ لباس سے سنی اور شیعہ مسلمان دکھائی دیتے گھرانے بھی ہماری طرح تقریب کی سیر دیکھنے آئے ہوئے تھے۔ کلیسا کے اندر بہ زبان عربی عبادت جاری تھی۔

اگر کسی کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر پادری صاحب کا وعظ اسے سنوایا جاتا تو بالکل مسلمانوں کے خُطبہ جمعہ کا سا لحن اور انداز محسوس ہوتا۔ بھیڑ بھاڑ کے سبب ہم کلیسا کے اندر تو نہ جا پائے چنانچہ باہر کھڑے ہو کر وعظ کے اختتام اور روایتی جلوس کی برآمدگی کا انتظار کرتے رہے۔ دمشق میں موجودہ خانہ جنگی سے قبل مسیحی آبادی کا تناسب کوئی پندرہ فی صد کے قریب بتایا جاتا تھا۔ جنگ زدہ علاقوں سے اندرون و بیرون ملک نقل مکانی کے سبب اب یہ تناسب نصف کے قریب تک گر گیا ہے۔

سال بھر قبل تک قصور کا محلہ خانہ جنگی کی براہ راست زد پہ رہا اور مشرقی غوطہ سے باغیوں کے پھینکے گئے مارٹر گولوں سے یہاں بہت ہلاکتیں ہوئیں۔ ایک موقع پر اس کلیسا میں دورانِ عبادت مناجات پڑھتے ہوئے آٹھ کے قریب بچے بھی جان بحق ہوئے۔ سو یوں کہیے کہ سالوں بعد نسبتاً امن کی حالت میں پہلا گُڈ فرائی ڈے تھا، سو رونق دیدنی تھی۔

جلوس کی ترتیب دیکھ کر اس خادم کو اپنے بچپن کا کوئٹہ کا عاشورہ یاد آگیا۔ چاق و چوبند بچے بچیاں سکاوٹ کی وردی میں ملبوس ہجوم کو راستے سے ہٹانے کے فرض پر مامور تھے لیکن اہلِ شام کی روایتی خندہ پیشانی اور خوش اخلاقی کے ساتھ۔ صلیبوں کی شبیہوں اور مشعل برداروں کی صفوں کو دیکھ کر بھی اپنے ہاں کے تعزیہ و مشعل یاد آئے۔ سنا اور پڑھا ہے کہ لکھنو کا عاشورے کا جلوس نقاروں اور نفیریوں کے ساتھ برامد ہوتا ہے، سو یہاں بھی اس کا انتظام تھا اور نوجوان لڑکے لڑکیوں کا بینڈ، باجے، قرنے اور ڈھول لیے نہایت ترتیب سے دھنیں بجا رہا تھا۔

جلوس برامد ہوا تو تابوت کی شبیہہ کے بعد، آگے آگے سوریا کا قومی پرچم تھا اور اس کے بعد مذہبی علامات والے جھنڈے۔ موسیقی، سچ پوچھیں تو مذہبی سے زیادہ عسکری طرز کی لگی، جیسا کہ ماسکو کے سرخ چوک پر یوم مئی کے جلوس کی ہوتی ہے۔ نجانے یہ اس ملک کے اشتراکی نظام کا اثر ہے یا خانہ جنگی کے خلاف مقاومت کا اظہار کرنے کے لیے خصوصی طور پر التزام کیا گیا تھا۔ ہم کچھ دیر جلوس کے ہمراہ چلے اور بادلوں کے سبب ناکافی روشنی میں موبائل فون کے کیمروں سے تصویر کشی کی کوشش کرتے رہے، جس کے کچھ نمونے مضمون کے ہمراہ لف ہیں۔

ہمارے افغان رفیق مشتاق رحیم نے ایک دل چسپ مشاہدے کی جانب توجہ دلائی۔ ہم لوگ مانیں یا نہ مانیں، ہمارے معاشرے پر جات پات کا اثر ہماری اسلام سے زبانی کلامی وابستگی کے باوجود بہت گہرا ہے۔ ہمارے ہاں ہم وطن مذہبی اقلیت کو ”دوسرا“ سمجھنے کے سبب ان سے ایک مخصوص شباہت اور نازیبا القابات منسوب ہیں۔ اس کی جڑیں کچھ ہمارے ہاں سامراجی دور میں مسیحیت کی مخصوص جاتیوں میں ترویج کی تاریخ میں بھی پیوست ہیں۔ عرب دنیا مسیحیت کا مولد و منبع ہے، سو یہاں اس قسم کی نسلی تفریق معدوم ہے۔

مشتاق نے کئی چہروں اور لوگوں کے کان میں پڑنے والے ناموں کی جانب توجہ دلاتے ہوئے نشان دہی کی کہ اگر یہ لوگ خود نہ بتائیں تو ان کے نورانی چہروں اور مثلا سہیل، عبداللہ، مازن، ناصر، نجمہ، فادی، رانیہ جیسے ناموں اور عربی پر عبور کی بنیاد پر ہمیں اپنے پکّے مسلمان کے تصور کے عین مطابق نظر آئیں۔ جلوس کے اختتام پر ہم ٹھٹھرتے لیکن ایک بھرپور ثقافتی تجربے کے اثر سے سرشار، چشمِ تنگ کو کثرت نظارہ سے مزید وا کیے، قیام گاہ کو لوٹ آئے۔ اقبال کا قطعہ دیر تک ذہن میں گونجتا رہا۔

نہ افغانیم و نے ترک و تتاریم
چمن زادیم و از یک نوبہاریم

تمیز رنگ و بو برما حرام است
کہ ما پروردہ یک نوبہاریم

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •