عثمان قاضی کاسابلانکا کی جیل میں

کاسا بلانکا کے چینکی چائے کے ریستوران میں اس خادم نے سڑک کے رُخ باہر فٹ پاتھ پر دھری بہت سی میزوں میں سے ایک کا انتخاب کیا۔ طنجہ کے تجربے کی روشنی میں کاونٹر پر گزارش کر دی تھی کہ ”سکر خفیف“ یعنی چینی کم۔ ہمارے وطن میں مستونگ کی چائے مشہور ہے، جسے پیتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ گویا روح افزا کا گلاس بھر کے اس میں ایک چمچ چائے ملا دی گئی ہو۔ قبلہ والد صاحب بتاتے ہیں کہ گئے دنوں میں اس کی ہم زاد کراچی میں ”کھڑا چمچا چائے“ کے نام سے بکتی تھی، گویا اتنی چینی کہ اس میں چمچا کھڑا ہوجائے۔

Read more

کاسا بلانکا کی چند ساعتیں

طنجہ میں ہونے والا عرب ممالک کے نمائندوں کا اجتماع ختم ہوا تو ہم کاران میں سے کچھ واپس اپنے اپنے ٹھکانوں کی جانب لوٹ گئے تو کچھ نے ایک دو روز مراکش کو کھنگالنے کی ٹھانی۔ اس خادم کی اس اجتماع میں بطور قائم مقام سربراہ شرکت کا فیصلہ ذرا دیر سے ہوا تھا سو جاتے وقت تو کسی طرح بر وقت ٹکٹ کا انتظام ہوگیا تھا لیکن واپسی پر دو روز اضافی رکنا پڑا۔ پرواز سنیچر کی شام کو کاسا بلانکا سے بیروت آنی تھی سو سوچا کہ جا کر جبل الطارق کا قریب سے مشاہدہ کیا جائے۔

Read more

ابن بطوطہ کے مولد سے

کوئی چوبیس سال بعد دانے پانی کی کشش نے پھر سے بحر اوقیانوس کے کنارے پر لا پٹکا ہے۔ اس سے پہلے اس سمندر کی، جسے اہلِ عرب ”اطلس“ کے نام سے پکارتے ہیں، زیارت مغربی افریقہ کے سواحل پر ہوئی تھی۔ اس بار اس خادم کا ہفتے بھر کا قیام شمالی افریقہ کے ملک مراکش کے شہر طنجہ میں ہے۔ تقریب یہ ٹھہری کہ ایک مبتذل لطیفے کے مصداق اتفاق سے اپنے ادارے کی سوریا میں قیادت اس نالائق کے ناتواں کندھوں پر ہے اور طنجہ میں ہمارے ادارے کے ملکی سربراہوں کا ایک اجتماع ہے۔ اجتماع عرب ممالک میں ترقیاتی پالیسیوں اور درپیش بحرانات پر ہے، سو اس سے ہمارے قارئین کو کیا دلچسپی ہوگی۔ البتہ ایک اجنبی کی نظر سے جو عمومی مشاہدات گزرے ان میں دل چسپی کا کچھ سامان احباب کے لیے ضرور ہوگا۔

Read more

تحدیث نعمت — یاد یار مہربان

یہ خادم پہلے بھی یہ قصہ کسی نہ کسی رنگ میں سنا کر یاروں کو دق کرتا رہتا ہے، لیکن ”لذیذ بود حکایت دراز تر گفتم“، اس گلدستے کو ہر بار نئے ڈھنگ سے باندھنا بجائے خود دلچسپ کام ہے۔ اب جب کہ اس قصے میں ایک غم انگیز باب کا اضافہ ہوگیا ہے تو ارسطو سے منسوب منطق کی رو سے اس کی اثر پذیری اور گہرائی بڑھ گئی ہے۔ ایک پس ماندہ ملک کے پس ماندہ ترین صوبے سے تعلق کی بنا پر، دستیاب تعلیمی میدانوں میں اس خادم کو انجینیئرنگ کا انتخاب کرنا پڑا۔

پاکستان کی سب سے اچھی انجینیئرنگ یونیورسٹی میں، اس وقت میرٹ کے لحاظ سے سب سے اونچے شعبے یعنی برقیات میں داخلہ ہوا۔ پہلے ہی شش ماہے میں اندازہ ہوگیا کہ برقیاتی انجینیئرنگ پاکستان میں جس ڈھنگ سے پڑھائی جاتی ہے، وہ شاید ایمان بالغیب کی پختگی کے لیے تو کارگر ہوتا ہو، لیکن ایک اطلاقی شعبے کے لیے قطعی ناموزوں ہے۔ اس خادم کی دانست میں طرزِ آموزش کچھ اس طرز پر ترتیب دیا گیا تھا کہ کچھ باتوں پر ایمان بالغیب لا کر پھر باقی عمارت اوپر چڑھائی جاتی تھی۔ چنانچہ بقول علامہ اقبال خوگرِ پیکرِ محسوس ہونے کی رعایت سے جی اچاٹ ہوگیا۔ مارے باندھے ڈگری تو حاصل کر لی اور اچھے خاصے اعلی درجے میں، لیکن اس شعبے سے اباء کے سبب چندان عملی دست گاہ بہم نہ ہوپائی۔

Read more

جنگ کا چہرہ بدصورت ہوتا ہے

یکم جنوری سن انیس سو ترانوے کی بات ہے۔ یہ خادم یارِ عزیز اللہ بخش کے ہمراہ سبی کے دیہات میں دو ہفتے کے سرکاری قیام کے بعد واپس گھرلوٹ رہا تھا۔ اگرچہ دفتر کی جانب سے نئی نویلی ہائی لکس گاڑی مہیا تھی، لیکن جوش جوانی میں ترنگ اٹھی کہ درہ بولان کا حسین…

Read more

دمشق کا ”گڈ فرائی ڈے“

دوستوں، بالخصوص مسیحی احباب کو دمشق سے ”جمعۃ عظیمۃ“ یا ”گُڈ فرائی ڈے“ کی تاخیر سے مبارک باد۔ مسیحی عقائد کے مطابق یہ دن حضرت عیسی کے صلیب پر چڑھ کر انسانیت کے گناہوں کے کفّارے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ عید الفصح یا ایسٹر کا تہوار اس کے بعد والے اتوار کو پڑتا ہے۔ دوستوں کو یاد ہوگا کہ کرسمس کے موقع پر یہ خادم مختلف مسیحی فرقوں کے مابین مذہبی تہواروں کی تاریخ کے نزاع کو نظر انداز کر بیٹھا تھا اور دمشق قدیم کے سُونے کلیساوں کی بے سود سیر میں مصروف رہا۔

ہماری ایک پیاری سی شامی ہم کار ہیں رانین بی بی۔ تعلق کیتھولک مسیحی مذہب سے ہے۔ نام کے معنی ”گھنٹی کی آواز“ ہیں۔ احباب چاہیں تو انہیں ”بانگِ درا“ سمجھ سکتے ہیں۔ وہ کرسمس کے موقع پر ہمارے خجل ہونے کے قصے سے واقف تھیں چنانچہ جمعرات کو اطلاع کر دی تھی کہ اگر جمعۃ عظیمۃ کا تہوار دیکھنا ہو تو بتا دینا۔ یہ خادم جمعی کی سہ پہر کو اپنے افغان رفیق، مشتاق رحیم، صومالی ہم کار سمیرہ بی بی اور جاپانی دوست میناکو بی بی کے ہمراہ دمشق کے جدید اور مرفہ الحال علاقے ”قصور“ کی جانب روانہ ہوا۔

Read more

جبوتی اور گنی بساؤ کی جیو پولیٹیکل اہمیت

دوستانِ شیریں، پہلے ابن انشا کا ایک کبت ذرا سی ترمیم کے ساتھ سن لیجیے۔
اﺱ ”دیس“ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ، ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﮧ ﭘﺮﺩﮦ ﺭﮨﻨﮯ ﺩو۔ اس بات سے تم کو کیا لینا، تم ہم کو قصہ کہنے دو۔ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺳﻮﺩﺍ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ، ﺗﻢ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﻔﺎ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﯿﺎﮞ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﮭﺎ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ

یہ خادم بسلسلہ روزگار و تعلیم برِ اعظم انٹارکٹیکا اور برِ اعظم شمالی امریکہ کو چھوڑ کر چاروں کھونٹ گھوم چکا ہے۔ کہیں طویل کہیں مختصر قیام رہا۔ ایسے ایسے ملکوں میں جانا ہوا کہ ہمارے ہاں کسی نے نام بھی نہیں سُن رکھا۔ ایک بار کسی دوست نے پوچھا کہ بڑے دن سے غائب ہو، کہاں گئے تھے؟ عرض کیا، ذرا وانو واٹو گیا تھا۔ ذرا دیر سوچ کر بولے، ہے تو بھائی پھیرو کا ہم قافیہ، یہ بتاؤ کہ راستہ موٹر وے سے جاتا ہے یا جی ٹی روڈ سے؟

Read more

او آئی سی، اس کی رکنیت اور بھارت

گزشتہ دنوں متحدہ عرب امارات میں او آئی سی نامی تنظیم کے زیرِ اہتمام رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں، اس تنظیم کی پچاسوِیں سالگرہ کے موقع پر ایک بے نظیر اقدام کے طور پر بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج صاحبہ کو خصوصی مہمان کی حیثیت سے مدعو کیا گیا۔ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں اس اقدام پر پاکستان میں بحث کا ایک طوفان کھڑا ہوگیا اور پاکستان نے اس تقریب میں شرکت کے لیے، سابقہ روایات کے برعکس، وزیر خارجہ کے بجائے دفتر خارجہ کے افسران پر مشتمل ایک وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

کانفرنس میں کشمیر میں جاری بھارتی افواج کے ظلم کے خلاف مبینہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی لیکن کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والے رسمی اعلامیے میں بھارت کے خلاف کوئی ایک سطر تو کیا، تاریخ میں پہلی بار کشمیر کا ذکر ہی سرے سے غائب تھا۔ پاکستان میں کچھ احباب بھارتی وزیرِ خارجہ کی موجودگی میں مذمتی قرارداد منظور ہونے کو کامیابی قرار دے رہے ہیں تو کچھ مشترکہ اعلامیے میں کشمیر کی عدم موجودگی پر افسردہ ہیں۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری مباحثات کو دیکھنے سے اندازہ ہوا کہ اکثر پاکستانی اس تنظیم کی تاریخ، مقاصد حتی کہ اس بات سے بھی ناواقف ہیں کہ ”او آئی سی“ کن الفاظ کا مخفف ہے۔

Read more

بیروت سے ویلنٹائن ڈے بلکہ بزبانِ عربی ”عید الحب“ کی تہنیت

دوستوں کی خدمت میں بیروت سے ویلنٹائن ڈے بلکہ بزبانِ عربی ”عید الحب“ کی تہنیت۔ کچھ پیشہ ورانہ مصروفیات اور کچھ دمشق میں بی بی حیا الخیام کی عید الحب کی کارکردگیوں سے عدم رغبتی کے سبب یہ خادم اس دن سرحد پار لبنان آگیا۔ جیسا کہ گزشتہ مراسلے میں عرض کیا، یہ خادم ویلنٹائن ڈے کے بدیسی ہونے اور اس کے ایک عالمی کاروباری مظہر بن جانے سے بخوبی واقف ہونے کے باوجود اس معاملے میں بھی شخصی پسند کا قائل ہے۔ اس خادم کے نزدیک اس دن کے عید الحب ہونے کا سبب اس کا ہمارے محبوب شاعر فیض احمد فیض کی سالگرہ کے آس پاس ہونا ہے۔ بیروت نگارِ بزمِ جہاں کا فیض صاحب سے محبوبانہ تعلق ہر ”فیض یافتہ“ دوست کو معلوم ہے۔ خادم کا جن سے ویلنٹائن ڈے کا رشتہ ہے، ان میں سے کوئی قریب نہ تھا، سو سوچا کہ ”اگرچہ تنگ ہیں اوقات، سخت ہیں ایام۔ تمہارے نام سے شیریں ہے تلخی ایام“۔ گنگناتے ہوئے عید الحب کو یومِ فیض کے نام کیا جائے۔

Read more

دمشق کا ویلنٹائن ڈے اور یوم حیا

سوشل میڈیا کے احباب استاذی ظفر عمران اور عزیزم عدنان خان کاکڑ کے مابین لسانیاتی مباحث سے واقف ہوں گے۔ یہ خادم بھی کبھی اپنی نیم پُختہ معلومات کا بگھار اس میں شامل کرتا ہے۔ ظفر عمران صاحب اردو املا میں محترم شکیل عادل زادہ کے پیرو ہیں اور اس کے قائل ہیں کہ ممکنہ…

Read more