ایک جلا وطن کے نام خط – در زبانِ کوئٹہ

عثمان قاضی استاد گرامی ہیں۔ یہ تحریر انہوں نے دسمبر 2016ء کے پہلے ہفتے میں عنایت کی۔ درویش نے شوخ چشمی میں دو سطریں ٹانک دیں۔ استاد محترم کی تحریر اور درویش کی کوتاہ قلمی پر ٹھیک آٹھ برس گزر گءے۔ اب بتاءیے کہ آپ کی تاریخ شناسی کیا کہتی ہے؟ ***               *** عثمان قاضی مقبوضہ فرانس کے جنگلوں میں چھپا ایک یہودی ہے جو پولینڈ کے کے اس پرانے شناسا کو خط لکھتا

Read more

پاکستان کا مقبول ترین نظریہ اور استعمار کی نفسیات۔ ایک تاثر

پاکستان کا مقبول ترین نظریہ اور استعمار کی نفسیات۔ محترم اختر علی سید کی کتاب پر ایک تاثر اس بات کو فی الحال جانے دیجیے کہ اردو کی کمائی کھانے والے ادارے تکنیکی اصطلاحات کی معیار بندی سے اس قدر دور ہیں کہ ”تھیوری“ ، ”آئیڈیالوجی“ ، ”ہائپو تھیسس“ ، ”ازمپشن“ وغیرہ جیسی الگ الگ اصطلاحات کو ایک ہی لفظ ”نظریہ“ کے بھاری لٹھ سے ہانکا جاتا ہے۔ چنانچہ کچھ احباب نہایت تیقن سے فتوی دیتے پائے جاتے ہیں کہ

Read more

بشکک کی تشکیک و تحقیق اور طلبا کے حالات

احباب میں کون ہے جس نے حالیہ دنوں میں قرغزستان کے دارالحکومت بشکک کا ذکر نہیں سنا؟ یہ اعتراف کرنے میں کوئی باک نہیں کہ بشکک اس خادم کے پسندیدہ ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ کچھ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ یہ خادم اپنے ہم کاروں میں عادی مستعفی کے لقب سے مشہور ہے۔ سو سن دو ہزار دس میں بنگلادیش کی بقول شخصے ”پکی نوکری“ سے استعفی دے کر گھر بیٹھا تھا اور ارادہ تھا کہ

Read more

موت سے پہلے مرنے والا آدمی

صوفیا کے ہاں ایک قول بہت معروف ہے۔ ”موتوا، قبل ان تموتوا“ ۔ اس کا لفظی مطلب تو یہ ہے کہ موت سے پہلے ہی مر جاؤ۔ اہل تصوف کے ہاں اس کی گونا گوں تفاسیر کی جاتی ہیں، لیکن یقین کیجیے، میں نے ایسا آدمی دیکھ رکھا ہے جو اس قول کی چلتی پھرتی مثال تھا، اور اس کے بظاہر برعکس ایک اور مقولے کا بھی۔ ایک روز کسی، متشکک جاننے والے نے اس سے پوچھا، ”آپ کا حیات

Read more

پہلوان سخن سے بناکا گیت مالا اور ”ایکس“ تک‬

اردو شعر و ادب سے ذوق رکھنے والے احباب کے لیے شیخ امام بخش ناسخ ملقب بہ پہلوان سخن کا نام اجنبی نہ ہو گا۔ آپ اردو کے کلاسیکی شعراء میں اہم مقام کے حامل ہیں۔ اٹھارہویں صدی میں فیض آباد میں پیدا ہوئے اور انیسویں صدی میں لکھنو میں انتقال ہوا۔ ان کی سوانح سے پتا چلتا ہے کہ کسرتی بدن اور جسمانی ورزش کے شوق کے سبب فن پہلوانی میں اچھا خاصا درک رکھتے تھے۔ اردو شاعری کی

Read more

زلزلوں کی پیش گوئی کی سائنس

یہاں بھونچال بنیاد فصیل و در میں رہتے ہیں۔ زلزلوں کی پیش گوئی کی سائنس کل پاکستان کی تاریخ کی سب سے مہلک قدرتی آفت کو اٹھارہ سال گزر گئے۔ آٹھ اکتوبر سن دو ہزار پانچ کی صبح آزاد کشمیر اور اس سے ملحقہ شمال مغربی پاکستان کے شہروں اور دیہاتوں کو ریکٹر سکیل پر سات اعشاریہ چھے کی شدت کے زلزلے نے ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل کر دیا۔ پہلے ہی دن ہلاکتیں ستر ہزار سے زیادہ تھیں جن

Read more

بیروت سے ”کل عام و انتم بخیر“

دوستان گرامی کی خدمت میں عید الاضحی کی مبارک باد۔ بلاد الشام میں عید سعودی عرب میں یوم عرفہ کے اگلے دن یعنی اٹھائیس جون کو طے تھی۔ اس خادم کو بیروت میں کچھ سرکاری کام اور آگے کا سفر درپیش تھا، لہذا سوچا کہ ایک روز پہلے ہی دمشق سے کوچ کیا جائے تاکہ ڈرائیور بے چارے کو عید اپنے اہل خانہ کے ساتھ منانے کا موقع ملے۔ احباب کو خبر ہوگی کہ ڈھائی سال قبل اہل لبنان کے

Read more

ایک غیر قانونی تارک وطن سے مکالمہ

یہ خادم کہ اب انٹارکٹیکا کے سوا باقی چھے بر اعظم دیکھ چکا ہے، وانواٹو، ٹونگا اور جزائر سولومن تین ملکوں کو چھوڑ کر جہاں بھی گیا کسی نہ کسی پاکستانی سے ملاقات ہو گئی۔ برطانیہ وغیرہ تو خیر پاکستانیوں کے لیے دوسرے گھر کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن مثلاً فجی میں سب سے نیک نام ماہر امراض قلب، برازیل میں فورک لفٹر نامی گاڑی کے اہم ترین سپلائر، ہالینڈ میں سماجی علوم کے نمایاں استاد کو پاکستانی پا کر

Read more

زیڈال، صمد دادا بھائی، سیور ریفل۔ تین قصے، ایک ہی کہانی

پہلا قصہ، جو ایک ثقہ واقف حال کی زبانی سنا۔ ستر کی دہائی میں چند نوجوان امریکہ سے ایم بی اے کر کے لوٹے۔ ہمارے ہم عمر اور مزید معمر احباب کو یاد ہو گا کہ اس زمانے میں ایم بی اے میں داخلہ ملنا اور ڈگری حاصل کرنا قابلیت کی معراج سمجھا جاتا تھا اور ملک بھر میں دو یا تین ادارے یہ ڈگری کورس کروایا کرتے تھے جن میں داخلہ لینا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوا کرتا

Read more

شام میں رمضان کی حیرت

دوستان گرامی کی خدمت میں ایک بار پھر دمشق سے آداب۔ قارئین کرام کو علم ہو گا کہ یہ خادم کوئی سوا دو برس پہلے اس شہر خوبی کو الوداع کہہ کر نئی زمینوں، نئے آسمانوں کی سیر کو نکل پڑا تھا۔ کیا خبر تھی کہ قسّام ازل نے اب بھی کچھ دانہ پانی یہاں کا نصیب میں لکھ رکھا ہے۔ صورت حال یہ بنی کہ اس جنگ زدہ اور کچھ ممالک کی عائد کردہ یک طرفہ اقتصادی جکڑ بندیوں

Read more

سقوط ڈھاکہ یا بجوئے دیباش

ہم وطنان عزیز، اگر کوئی چودہ اگست کو آپ سے یہ کہتا سنائی دے کہ اس تاریخ کو ”سقوط ہند“ ہوا تھا تو آپ کو کیسا لگے گا؟ یقیناً اکثر اہل وطن اس سے اختلاف کریں گے اور ممکن ہے کہ کچھ تو باقاعدہ اشتعال میں آ کر پہلے ہندو کے مسلمان ہونے کی نامعلوم تاریخ سے اس روز کے تاریخی واقعہ کے ڈانڈے بلند بانگ، گرچہ بے مغز تقریر کے ذریعے ملانا شروع کر دیں۔ سو، بھائیو اور بہنو،

Read more

شہیدانِ صالح، پغمان اور ”لاندے“ کی ضیافت

یہ خادم مختصر چھٹی کے بعد کابل لوٹا تو اسے برف کی دبیز چادر تلے پایا۔ وطن عزیز کوئٹہ بے طرح یاد آیا جہاں اب برف باری شاذ ہو چکی ہے، اگرچہ اس سال قدرت کے مہربان ہونے کی خبر ہے۔ کابل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ”کابل بے زر باشد، بے برف نباشد“ ۔ اس سال بد قسمتی سے بے زری اور برف دونوں کابل پر نازل ہوئے ہیں۔ اس خادم کا ادارہ اور دیگر لوگ بے

Read more

بیا کہ بریم با مزار۔۔ دیارِ مولانا سے سلام

دوستان گرامی، شمالی افغانستان کے صوبے بلخ کے دار الحکومت مزار شریف سے آداب۔ اس شہر کی وجہ تسمیہ یہاں کے لوگوں کا دعوی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کا مدفن یہاں ہے۔ احباب واقف ہیں کہ ایسا ہی مضبوط دعوی عراق میں نجف اشرف کے باب میں بھی موجود ہے۔ سچ پوچھیں تو تاریخی مواد اس بارے میں خاصا غیر واضح ہے کہ حضرت علی کی شہادت کے بعد ان کے جسد خاکی پر کیا گزری۔ یوں بھی

Read more

ہرات کی بات

افغانستان کی عمومی زبوں حالی کا کچھ تذکرہ گزشتہ مراسلے میں ہوا تھا۔ ہمارے ادارے نے اقتصادی بحران کے خصوصاً غریب ترین طبقات پر اثرات کو کسی حد تک کم کرنے کی خاطر کچھ فوری اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ ان میں سر فہرست لوگوں کو روزانہ مزدوری فراہم کرنا ہے کہ کچھ رقم ان کی جیب میں آئے، منڈی میں موجود اشیائے صرف کی طلب میں کچھ اضافہ ہو اور معیشت کا رکا ہوا پہیہ ذرا رواں ہو پائے۔

Read more

احوال کابل۔ تنگ ہیں اوقات سخت ہیں آلام

کابل سے آداب۔ ہوا کچھ یوں کہ کہ پندرہ اگست کو افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد جو غیر یقینی کیفیت طاری ہوئی اس نے ایک ایسے سیاسی، اقتصادی اور ممکنہ طور پر انسانی بحران کو جنم دیا کہ جس کی نظیر دنیا نے سوویت یونین کی تحلیل کے وقت سے نہ دیکھی تھی۔ ہمارے ادارے کو اس خادم پر کچھ گمان ہے کہ ایسے حالات میں کچھ کارگزاری دکھا سکتا ہے، سو حکم صادر ہوا کہ میاں، اٹھاؤ

Read more

باٹا پور کا پل اور جنگ ستمبر کا پہلا ستارۂ جرات

پہلے کچھ اعتذار یا بہ زبان انگریزی ”ڈس کلیمر“ ۔ یہ خادم ہر قسم کے جنگ و جدل سے شدید اباء رکھتا ہے۔ سیاسی اور بشری حقوق کے حصول کے لیے عدم تشدد پر مبنی پر امن جدوجہد کو جہاد اکبر کے قریب سمجھتا ہے کہ اس میں نفس کشی کو شرط اولین پایا ہے۔ مزید یہ کہ اس خادم کی سوچی سمجھی رائے میں وطن پرستی جزو ایمان ہے لیکن وطن کو کوئی زمین کا بے جان ٹکڑا نہیں بلکہ جانوروں، پھول بوٹوں، ندیوں، پہاڑوں، صحراوں اور سب سے بڑھ کر اس میں بسنے والے تمام انسانوں کی زندگیوں اور زندہ امنگوں سے عبارت جانتا ہے۔

بد قسمتی سے حقیقت بر زمین ان آدرشوں سے ہٹ کر طاقت، اختیار اور وسائل پر قبضہ گیری کی کش مکش کا نمونہ پیش کرتی ہے۔ مزید بدقسمتی یہ کہ وطن عزیز کے مخصوص جغرافیائی محل وقوع اور پیچیدہ تاریخی پس منظر کے سبب جنگ ایک تلخ مستقل مظہر ہے۔ اس میں اس خادم کی ہم دردی اور مقدور بھر قلمی، زبانی اور عملی ہم قدمی ان لوگوں کے ساتھ ہے جو مسائل کا حل پر امن اور مہذب طریقوں سے نکالنے کے حامی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ فی الحال یہ خادم اس خیال کا حامل ہے کہ اگر جنگ مسلط ہوہی جائے تو اسے مکمل پیشہ ورانہ مہارت بروئے کار لا کر لڑنا ہر فوجی کا فرض ہے۔ اس حوالے سے اس خادم کو بچپن سے حربی حکمت عملی، جنگی مشقوں، داو پیچ اور مہارتوں سے طالب علمانہ دل چسپی رہی ہے۔

Read more

اسلام اور اقتصادیات۔ تبصرہ کتاب

ہمارے ہاں یہ نعرہ ہر طرف گونجتا رہتا ہے کہ ”اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے“ اور یہ مطالبہ بھی کہ ”ملک کے اقتصادی نظام کو اسلامی اصولوں کی بنیاد پر استوار کیا جائے“ ۔ عملی صورت حال البتہ یہ رہی ہے کہ یہ معاملات اکثر و بیشتر کھوکھلے نعروں تک محدود رہے۔ اس کا ایک سبب اصحاب منبر اور ماہرین اقتصادیات کے درمیان مکالمے کا نہ ہونا بھی ہے۔ عملی سطح پر جدید اقتصادی و مالیاتی نظام اور مذہبی تقاضوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی اگر کوئی کوشش نظر آتی ہے تو وہ بینکاری کے نظام کو ”مسلمان“ کرنے کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ محض انگریزی اصطلاحات کو عربی نام دینے کا کھیل ہے اور درحقیقت اسلامی اور غیر اسلامی بینکنگ میں کم از کم گاہکوں کو کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ اس تنقید کے صائب ہونے سے قطع نظر، یہ حقیقت ہے کہ علم اقتصادیات کا دائرہ پورے سماج میں ہونے والے ہر نوعیت کے لین دین کا احاطہ کرتا ہے اور کسی ایک چنیدہ شعبے مثلاً بینکاری پر کسی بھی اخلاقی یا مذہبی نظام اقدار کے نفاذ کو اس علم کے ماہرین اگر ظاہری لیپا پوتی قرار دیں تو بے جا نہ ہو گا۔

Read more

آصف فرخی: سنہری مونچھوں والا نوجوان

(آج ڈاکٹر آصف فرخی کی پہلی برسی ہے۔ 16 ستمبر 1959 کو پیدا ہونے والے ڈاکٹر آصف فرخی کا یکم جون 2020 کو انتقال ہوا تھا۔) نجانے سن ننانوے تھا یا دو ہزار، یہ خادم ایک پیشہ ورانہ کام کے سلسلے میں کراچی گیا تو حسبِ معمول سیدھے عزیزم حارث خلیق کے گھر جا کر بستر پٹکا۔ کچھ دیر بعد کچھ ادب دوست احباب تشریف لے آئے اور محفل جم گئی۔ یہ آصف اسلم فرخی سے رسمی ملاقاتوں کا نقطہ

Read more

عالمی موسمی تبدیلی پر امریکی اجلاس

گزشتہ ہفتے لیکن جو بائیڈن نے اپریل کے تیسرے ہفتے میں منعقد ہونے والے ایک بین الاقوامی ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کی دعوت صرف چند چنیدہ ممالک کو دینے کا اعلان کر کے ماحولیات سے متعلق حلقوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اجلاس کے اعلان کردہ مقاصد بظاہر خوش آئند ہیں۔ ان میں عالمی درجہ حرارت میں دو ہزار تیس تک کے اضافے کو ڈیڑھ درجے سنٹی گریڈ تک محدود کرنا، ماحول کی حفاظت اور روزگار کے مواقع کی فراہمی میں توازن پیدا کرنا، اور خطر پذیر ممالک کی ان تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں مدد کرنا اہم ہیں۔

اس پس منظر میں یہ بات حیرت ناک ہے کہ مدعو ممالک میں پاکستان کا نام شامل نہیں ہے۔ ہمارے ہاں، حسب معمول اس عدم دعوت کو سیاسی جگت بازی اور طعنہ زنی کے لیے استعمال کیے جانے کا آغاز کر دیا گیا۔

Read more

غلام رسول مہر بنام عاشق حسین بٹالوی

ہمارے وطن کی آزادی کی تاریخ کا سب سے خونچکاں باب تقسیم پنجاب و بنگال کا المیہ ہے جس میں لاکھوں جانیں، بے شمار عصمتیں اور کروڑوں کے مادی اثاثے انسان کی گروہی خون آشامی کے جنون کی بھینٹ چڑھ گئے۔ دو مذہبی گروہوں کے مابین، جو صدیوں سے ایک دوسرے کی ہمسائیگی میں رہ رہے تھے اور ان فسادات سے چند ماہ پیشتر تک ایک مضبوط سیاسی اتحاد میں منسلک تھے، اس درجے کی بربریت کا مظاہرہ آج تک

Read more

لغت غریب اور سردار علی ٹکر صاحب کا مشورہ

پاکستان سے تعلق رکھنے والے پشتو گلوکاروں میں جو شہرت سردار علی ٹکر صاحب کو نصیب ہوئی وہ اب تک کسی اور کے حصے میں نہ آ سکی۔ گزشتہ تین دہائیوں میں باچا خان کے صاحبزادے اور عہد ساز پشتو شاعر غنی خان کے نام اور ان کی شاعری کو، جس کا علم اس قبل صرف چند اہل ذوق تک محدود ہوا کرتا تھا، گھر گھر پہنچانے میں سردار علی ٹکر کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ میڈیا پر پشتو شعر و ادب کے بارے میں بالعموم اور غنی خان کی شخصیت اور فلسفہ حیات کے حوالے سے بالخصوص آگہی کو فروغ دینے میں بھی ٹکر صاحب متحرک رہے ہیں۔ ملالہ یوسف زئی کو امن کے نوبل انعام سے نوازے جانے کی رسمی تقریب میں ہمارے دوست بہروز خان کے لکھے گئے ولولہ انگیز نغمے کو ترنم سے پیش کرنے کی سعادت بھی سردار علی ٹکر کو حاصل ہوئی۔ اسی سبب پشتون حلقوں میں ٹکر صاحب کی رائے کو اچھی خاصی اہمیت دی جاتی ہے۔

Read more

بیروت، تو مر نہیں سکتا

ایک بار پھر بیروت سے آداب۔ احباب واقف ہیں کہ چند ہفتے قبل بیروت کو بندرگاہ پر لمبے عرصے سے ذخیرہ کیے گئے کیمیائی کھاد کے ایک ذخیرے میں ہونے والے دھماکے نے لرزا دیا تھا۔ اس دھماکے سے جغرافیائی اعتبار سے ایک محدود علاقے میں تباہی ہوئی لیکن مسئلہ یہ رہا کہ یہ علاقہ بیروت کے سیاحتی کاروبار کے دل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جمیزی نامی محلہ بیروت کی شبینہ گاہوں، ریستورانوں اور مے خانوں کا مرکز تھا اور

Read more

خستہ حالی بہ اندر دمشق

گزشتہ چند ہفتوں سے ملکی برامدات صفر کے قریب آنے، تیل اور گیس کے ٹرمینلز کو گنجائش سے کم استعمال کرنے، تارکین وطن کے آجر ممالک میں کورونا اور دیگر اسباب سے کساد بازاری کے سبب کی جانب سے رقوم کی ترسیل میں کمی اور موجود وسائل کو فوجی بجٹ میں جھونکنے کے سبب ملک میں توانائی کا شدید بحران ہے۔ احباب خاطر جمع رکھیں، یہ خادم شام کی بات کر رہا ہے، اگرچہ یہ گمان گزرنا بعید از قیاس نہیں کہ ”بات گویا یہیں کہیں کی ہے“ ۔ سو صورت حال یہ ہے کہ پٹرول پمپوں پر کئی کئی کلو میٹر لمبی گاڑیوں کی قطاریں نظر آتی ہیں اور پٹرول راشن کے حساب سے دیا جا رہا ہے۔ چند روز میں سردی شروع ہو جائے گی تو مائع گیس کا بحران بھی رونما ہونے کا اندیشہ ہے۔

حالت حرب اپنی جگہ لیکن ایک تو پہلے ہی اس ملک پر چند عالمی طاقتوں اور ان کے حلیفوں کی جانب سے تکلیف دہ اقتصادی پابندیاں عائد تھیں۔ جو تھوڑا بہت گزارا ہمسایہ لبنان اور کسی حد تک اردن سے تجارت کے سبب ہو رہا تھا، وہ بھی بند ہو چکا ہے۔ احباب کو علم ہوگا کہ سال گزشتہ کے آخری مہینوں میں لبنان میں نوجوان طبقے کو تبدیلی اور بد عنوانی کے خاتمے کا شدید شوق چڑھا تھا۔ کسی سیاسی سمت اور واضح اہداف کی عدم موجودگی کے باعث ان احتجاجی مظاہروں اور ہڑتالوں سے اور تو کچھ حاصل نہ ہوا البتہ سرمایہ کاروں کا اعتماد جڑ سے اکھڑ گیا۔ رہی سہی کسر کورونا نے پوری کردی۔

Read more

انسانوں اور مارخوروں کا عاشق نہ رہا

دنیا بھر کی ایکشن کمرشل فلموں کی کہانیوں کا بالعموم ایک مخصوص ڈھانچہ ہوتا ہے۔ اس میں ایک عدد ہیرو ہوتا ہے جو بیک وقت وجیہہ و شکیل، نرم دم گفتگو اور رزم حق و باطل میں فولاد ہوتا ہے۔ عشق مجازی کے معاملات میں سادگی کے باوجود سیانا ہوتا ہے، اور ان سب کے ساتھ اٹل اخلاقی معیارات پر بھی قائم ہوتا ہے۔ گویا فلم بین طبقے کی ان تمام تشنہ آرزووں کی تجسیم جو وہ خود میں پیدا کرنے کے شوقین لیکن انہیں حاصل کرنے سے لاچار ہوتے ہیں۔ فلم کی ابتدا ہی سے اسے غریب بڑھیا کی مدد کرتے اور ناکردہ گناہوں پر ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود خاموش دکھایا جاتا ہے۔

اس کے مقابلے میں ایک عدد ولن بھی ہوتا ہے جو بد وضع، بد اخلاق اور اخلاق کے مروجہ پیمانوں کی رو سے مجسم برائی ہوتا ہے۔ فلم میں اس کے داخلے کے ساتھ ہی اسے کوئی گھٹیا حرکت مثلاً راہ چلتے پھیری والے سے زبردستی پھل چھین کر کھاتے اور اگر کچھ نہ ہو تو کسی مسکین کتے کو بلاوجہ لاٹھی مارتے دکھایا جاتا ہے۔ سماجیات کی اصطلاح میں جہاں تک یہ خادم ترجمہ کر پایا ہے، ہیرو کو ”اپنا“ اور ولن کو ”غیر“ بنا کر پیش کرنا کہانی کو آگے چلانے کے لیے ضروری ہوتا ہے تاکہ آخر میں جب ”اپنا“ ، اپنے نسبتاً دھان پان تن و توش کے باوجود ”غیر“ کی پٹائی کرتا ہے تو تماشائی اچھل اچھل کر اسے داد دیتے ہیں۔ ایسے میں یہ بدیہی حقیقت بہ آسانی فراموش کروا دی جاتی ہے کہ کوئی بھی شخص یا طبقہ نہ تو سراپا خیر ہوتا ہے اور نہ ہی مجسم بدی۔

Read more

سر منصور کا بار

تمام پاکستانی دین دار گھرانوں کی طرح اور خصوصا مولویوں کے خاندان سے تعلق کے پیش نظر، ہوش سنبھالتے ہی والدین نے اس خادم کو ناظرہ قران پڑھوانے کی فکر کی۔ ایک مولوی صاحب کا تقرر کیا گیا کہ وہ گھر پر آ کر تعلیم دیں۔ مولوی صاحب اپنے طبقے کے اکثر افراد کے مانند تنک و خشک مزاج تھے چنانچہ دوسرے ہی روز کسی غلطی کی پاداش میں گال پر زور کا تھپڑ کھینچ مارا۔ والدہ محترمہ بیٹھک اور

Read more

کورونا کے سائے میں سفر۔۔ دمشق سے اسلام آباد

دوستان گرامی کی خدمت میں اس بار اسلام آباد سے آداب۔ اگرچہ کرونا کے زیرِ سایہ گزرتے شب و روز پر مزید لکھنے کا ارادہ نہیں تھا لیکن مرحوم – کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے یہ سابقہ لکھا ہے- آصف فرخی سے وعدہ تھا کہ ایک آخری باب قلم بند کیا جائے گا۔ اس یارِ مستعجل نے اس سے پہلے ہی گٹھڑی باندھ کر لاد چلنے کا فیصلہ کر لیا۔ تم کون سے تھے ایسے کھرے

Read more

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا مزار محفوظ ہے، شام سے عثمان قاضی کی تحقیق

”ہم سب“ کے عثمان قاضی اپنے دفتری فرائض کے سلسلے میں شام میں تعینات ہیں۔ سوشل میڈیا پر حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مزار کی بے حرمتی کی خبریں وائرل ہوئیں تو انہوں نے کئی ہفتے کی کوشش کے بعد عینی شاہدین کی مدد سے صورت حال کو جانا اور یہ خبر دی ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا مزار محفوظ ہے اور اس سلسلے میں چلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔ مکمل احوال اور مزار مبارک کی تازہ تصاویر اس خبر میں شامل ہیں۔

Read more

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا مزار مبارک شہید ہوا یا نہیں؟ شام سے عینی شہادت

عثمان قاضی صاحب ان دنوں اپنے دفتری فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں دمشق میں مقیم ہیں۔ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک خبر چلی کہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مزار مبارک کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں عثمان قاضی صاحب نے تحقیق کی اور عینی شاہدین کے بیانات کی بنیاد پر امت کو اصل معاملے سے آگاہ کرنے کی خاطر یہ تحریر لکھی ہے کہ مزار مبارک کو نقصان پہنچانے کی خبروں میں کتنا سچ ہے اور کتنا جھوٹ۔

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک پریشان کن خبر پھیلی ہوئی تھی کہ شام کے شمال مغربی صوبہ ادلب میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مزار مبارک کو منہدم کر کے ان کے جسد فانی کو وہاں سے چرا کر ان کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ اس ضمن میں کچھ دھندلی سی تصاویر اور ویڈیوز بھی گردش کرتی رہیں۔ اس قبیح حرکت کا الزام مسلمانوں کے ایک فرقہ پر لگا کر شرانگیزی کی بھی بھرپور کوشش کی گئی۔

میری شام میں موجودگی کی وجہ سے احباب اور اہل خانہ نے مجھ سے اس معاملے کی چھان بین کے لیے کہا لیکن شام کی سمت سے ادلب تک اب بھی امدادی کارکنان، خصوصاً غیر ملکیوں کی رسائی نہیں ہے چونکہ جنگ اب بھی جاری ہے اور علاقے میں بارودی سرنگوں کی موجودگی کا بھی واضح خطرہ ہے۔

بہت تگ و دو کے بعد کسی دوست کے توسط سے ایک حلبی بندے سے رابطہ کرنے میں کامیابی ہوئی جو اتفاق سے سنی ہے اور اس دستے کا حصہ تھا جو سب سے پہلے معرۃ النعمان میں داخل ہوا۔ خبر واحد تھی اور اس سے رازداری کا وعدہ کیا تھا لہذا اسے اس وقت سوشل میڈیا پر نہیں لگایا۔

Read more

ایام ”حجر“ اور شامیوں کا عقیدہ

دوستان گرامی، دمشق سے ایک بار پھر آداب عرض ہے۔ گزشتہ مراسلے میں ذکر ہوا تھا کہ شام میں کورونا کی وبا کے خطرے کے پیش نظر دفاتر، تعلیمی ادارے، عبادت گاہیں، سنیما، تھیٹر، ریستوران، قہوہ خانے، کتب خانے اور سامان خورد و نوش و دوا کی دکانوں کے سوا بازار بھی بند کر دیے گئے تھے۔ ملک بھر میں شام چھے سے صبح چھے تک کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔ رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی اس معمول میں نرمی کر کے کرفیو کا دورانیہ شام ساڑھے سات سے صبح چھے بجے تک کر دیا گیا۔

شاید ملک میں کورونا کے مریضوں کی سرکاری طور پر اعلان کردہ کم تعداد کے تناظر میں اور غالباً یہ سوچ کر کہ آخری عشرے کی برکات کا دائرہ مزید پھیلایا جائے، رفتہ رفتہ دیگر کاروباروں کو بھی کھلنے کی اجازت مل گئی اور عید کی خریداری اژدحام ہو گیا۔ بہر کیف، اہل دمشق تعلیم و تہذیب میں ہم سے برتر ہیں سو ویسے مناظر کہیں دیکھنے کو نہ ملے جو سوشل میڈیا پر پاکستان میں کپڑوں کی کچھ دکانوں پر دھکم پیل دکھا رہے تھے۔

Read more

اک ”حِجر“ جو ہم کو لاحق ہے

احباب کو گلہ رہتا ہے کہ یہ خادم اردو املا میں جزوی طور پر شکیل عادل زادہ صاحب اور برادرم ظفر عمران کے رنگ میں رنگتا جا رہا ہے۔ سو چونکیے مت۔ عنوان اطہر نفیس مرحوم کے مشہور مصرع میں سہوِ کتابت کا غماز نہیں ہے بلکہ ہماری عربی دانی اور ہیچ مدانی کے تازہ ترین پڑاؤ کا عکاس ہے۔

دیگر دنیا کے مانند سوریہ بھی کرونا کی وبا کی روک تھام کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے اثرات جھیل رہا ہے۔ اب تک یہاں سرکاری طور پر انیس افراد میں مرض کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے چار صحت یاب ہو چکے ہیں اور دو وفات پا گئے ہیں، لیکن جنگ کی افراتفری کے سبب پھیلاؤ کا درست اندازہ کسی کو نہیں ہے اور حکومتی عمل داری سے باہر کے علاقوں کی صورت حال تو مکمل طور پر پردہ اخفاء میں ہے۔ کھانے پینے، کریانہ اور اور ادویات کی دکانوں کے سوا تمام کاروبار اور سب تعلیمی ادارے، تھیٹر، سنیما، عوامی پارک، عبادت گاہیں تو پہلے ہی بند کر دیے گئے تھے۔ دو ہفتے سے ملک بھر میں شام چھے سے صبح چھے تک اور جمعہ اور سنیچر کو دوپہر بارہ سے اگلے روز صبح چھے بجے تک کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

Read more

وبا کے دنوں میں دمشق

جب اقوام متحدہ نے کورونا کو عالمی وبا یا ”پین ڈیمک“ قرار دیا تو یہ خادم چھٹی پر پاکستان گیا ہوا تھا۔ ہماری افسر اعلی ایک پیاری سی فلسطینی خاتون ہیں، محترمہ رملہ خالدی۔ انہوں نے ازراہ شفقت پیغام بھیجا کہ اگر پریشانی یا ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہو تو گھر بیٹھے حتی المقدور کام کرتے رہو یا چھٹی بڑھا لو۔ احباب جانتے ہیں کہ اس خادم کا کام ہی آفات کی روک تھام اور ان کے اثرات کے تدارک

Read more

اتا ترک کا سیکولرازم: ہے لائق تعزیر پہ الزام غلط ہے

میری ناقص رائے میں محترم ذیشان ہاشم نے اتا ترک کے سیکولرازم پر جس تنقیدی مقدمے کا بیڑا اٹھایا تھا، اسے چند کمزور مثالوں نے بلا وجہ کمزور کر دیا۔ ان کے ہدف تنقید بننے والے چند اقدامات یہ ہیں :
اس نے اپنا نام مصطفیٰ کمال پاشا سے بدل کر کمال اتاترک رکھا۔

اول تو یہ کہ صاحب مضمون کے بیان کردہ اصول کی رو سے یہ اس کا ذاتی فیصلہ، اس کے ذاتی نام کے بارے میں تھا، چنانچہ اس کا سیکولرازم کی تنقید سے تعلق نہیں بنتا۔ دوسرے یہ کہ تاریخی شواہد کی روشنی میں اس نے اپنا نام نہیں بدلا بلکہ ترکی کی پارلیمنٹ نے اسے اتا ترک (باباے ترک) کا خطاب دیا۔ یہ تو مغربی لکھاریوں کی مہربانی ہے کہ انہوں نے ”کمال“ کو اس کا ”سر نیم“ سمجھ کر اسے کمال اتا ترک لکھنا شروع کر دیا۔

Read more

مسلمانوں جیسے نام

قبلہ، یک پیری و صد عیب کی مصداق یہ نامراد امراض تو جاتے جاتے جائیں گے۔ آج پرانی ڈاک چھانٹ رہا تھا کہ قیام قرغزستان کے دوران مرشدی عارف وقار کا بھیجا ہوا ’نواے وقت‘ اخبار کا ایک تراشہ سامنے آ گیا۔ اس میں مضمون نگار نے کچھ ایسی منطق بھگاری تھی کہ اگر کسی کا نام ”جارج، چارلس، رام داس، کوہن، ایگنس، الزبتھ“ وغیرہ ہو تو سننے والے کو فوراً اس کے مذہب کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ یہ صراحت مضمون نگار نے نہیں کی کہ یہ اندازہ ہو جانے کے بعد وہ اس علم لدنی کو کس کام میں لائیں گے۔ دعوتی ذہن تو ان کی تحریر سے مترشح نہیں ہورہا تھا، شاید تصورات میں اپنی ایجاد بندہ قسم کی اسلامی مملکت قائم کر کے ان سے جزیہ وصولنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ خیر۔

Read more

موسیقی کی نظریاتی تطہیر — نشے سے جادو تک

اپنے دیگر ہم عمر احباب کے مانند اس خادم کا بھی لڑکپن ایسے دور میں گزرا ہے کہ ٹیلی ویژن کی سہولت ملک میں خال خال دستیاب تھی اور جہاں تھی بھی تو ایک ہی سرکاری چینل شام کے چند گھنٹوں تک نشریات دکھاتا تھا۔ غالبا سن اناسی کی بات ہے کہ پی ٹی وی پر ایک پروگرام ”چھوٹے شہر، بڑے مسائل“ کے نام سے آیا کرتا تھا۔ اس میں نشرکار، جسے نجانے کیوں آج کل بحری جہاز کے لنگر

Read more

کچھ احوال حلب کا

قصے کی ابتدا سن پچاس کی دہائی سے ہوتی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب دوسری جنگِ عظیم سے تباہ شدہ یورپ کو اپنی تعمیرِ نو کے لیے مزدوروں کی ضرورت تھی۔ مغربی جرمنی نے اپنے دروازے ترک ”مہمان مزدوروں“ کے لیے کھول دیے تو برطانیہ عظمی نے اپنی سابق نوآبادیوں، دولت مشترکہ سے لوگوں کو آنے کے لیے ترغیبات دینا شروع کر دیں۔ سو برِ صغیر پاک و ہند سے ہزاروں کی تعداد میں نوجوان لندن، بریڈ فورڈ، گلاسگو،

Read more

عمان کی ایک اداس سہ پہر۔ شہر خالی، کوچہ ویران

جیسا کہ چند پچھلی تحریروں میں اشارہ دیا گیا، دوستوں کو علم ہوگا کہ اس خادم کا رُخ بین الاقوامی اجتماعات میں شرکت کی غرض سے اکثر بیروت کی جانب رہتا ہے کہ ہمارے مستقر دمشق سے کوئی تین ساڑھے تین گھنٹے کی مسافت پر، ایک سرسبز پہاڑوں کے سلسلے سے گزرتے راستے کے ایک سرے پر، بحرِ متوسط کے کنارے آباد ہے۔ گزشتہ ماہ بھر سے البتہ، اہلِ لبنان کی ایک معتدبہ تعداد، جن میں اکثریت نوجوان طبقے کی

Read more

فیض صاحب کا ”لوٹس“

 بات ذرا نازک سی ہے چنانچہ اس سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ خادم فیض صاحب کی شاعری کا دیوانہ اور ان کے سیاسی آدرشوں کا حامی ہے۔ چاہے ساقی فاروقی صاحب فیض صاحب کے بارے میں جو کچھ بھی لکھتے رہے، بھلے عبدالعزیز خالد ان کے اشعار میں عروضی اور معنوی غلطیاں نکالتے رہے…. مرحوم اشفاق احمد سے منسوب ہے کہ کسی نے پوچھا کہ ”اشفاق صاحب، محبوب کسے کہتے ہیں؟“ اشفاق صاحب نے جواب دیا، ”جس کا

Read more

کچھ غزوہ ہند اور ریاست مدینہ کے بارے میں

دوست سناتے ہیں کہ وطن عزیز پر گزرے بہت سے پر آشوب ادوار میں سے کسی ایک دور میں، جب ہمہ مقتدر فوجی آمر اس قوم کو بزعم خود حقیقی جمہوریت کی راہ پر ڈالنے کے جتن کرتے ہوئے کندہ نا تراش مگر بظاہر بے ضرر لوگوں کو کم اہم عہدوں پر براجمان کر دیتے ہیں، ایسے ہی کسی چنیدہ گوہر صوبائی وزیر سے یار لوگوں نے ’چاند‘ تک سڑک بنوانے کے احکامات پر دستخط کروا لئے۔ اب بھلے کیسے

Read more

شام کے ”ذوی لیاقت“ افراد

دوستو، اس خادم کے خیال میں ہم پاکستانیوں کو اپنی تاریخ کے سبب ایک اہم فوقیت حاصل ہے جس کا ادراک ہم کم کم کر پاتے ہیں۔ احساس ہوتا ہے تو ملک سے باہر جا کر۔ مثلاً، اردو کی حروف شناسی یا کم از ناظرہ قران کی تعلیم ہم میں سے بہتوں نے پائی ہے۔ اس کا فائدہ عرب ممالک، ایران اور افغانستان اور کسی حد تک چین کے صوبہ سنکیانگ میں معلوم ہوتا ہے کہ مسافر کم از کم عمارتوں کے بورڈ اور سڑکوں کے نام پڑھ لیتا ہے اور چند الفاظ پر غور کرکے کچھ نہ کچھ مطلب بھی پا لیتا ہے۔

Read more

غلام رسول مہر بنام عاشق حسین بٹالوی

ہمارے وطن کی آزادی کی تاریخ کا سب سے خونچکاں باب تقسیم پنجاب و بنگال کا المیہ ہے جس میں لاکھوں جانیں، بے شمار عصمتیں اور کروڑوں کے مادی اثاثے انسان کی گروہی خون آشامی کے جنون کی بھینٹ چڑھ گئے۔ دو مذہبی گروہوں کے مابین، جو صدیوں سے ایک دوسرے کی ہمسائیگی میں رہ رہے تھے اور ان فسادات سے چند ماہ پیشتر تک ایک مضبوط سیاسی اتحاد میں منسلک تھے، اس درجے کی بربریت کا مظاہرہ آج تک

Read more

ایک نایاب تاریخی دستاویز: عاشق حسین بٹالوی بنام غلام رسول مہر

مرشدِ من، عثمان قاضی ان دنوں صاحب فراش ہیں ۔ یہی وجہ تھی کہ اب تک ’ہم سب‘ میں محفل آرا نہیں ہو سکے۔ طبیعت کسی قدر بحال ہونے پر ایک خاص لطف نامہ ارسال فرمایا ہے۔ لکھتے ہیں…. ”آداب۔ بستر علالت پر پڑا ’ہم سب‘کی روز افزونی دیکھ رہا ہوں اور رشک و فخر ہی ہے جو اس شدید بیماری کو یک گونہ گوارا بناے ہوئے ہے۔ آپ کا شذرہ دربارہ بٹالوی برادران نظر نواز ہوا۔ میں آغا بابر

Read more

عثمان قاضی کاسابلانکا کی جیل میں

کاسا بلانکا کے چینکی چائے کے ریستوران میں اس خادم نے سڑک کے رُخ باہر فٹ پاتھ پر دھری بہت سی میزوں میں سے ایک کا انتخاب کیا۔ طنجہ کے تجربے کی روشنی میں کاونٹر پر گزارش کر دی تھی کہ ”سکر خفیف“ یعنی چینی کم۔ ہمارے وطن میں مستونگ کی چائے مشہور ہے، جسے پیتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ گویا روح افزا کا گلاس بھر کے اس میں ایک چمچ چائے ملا دی گئی ہو۔ قبلہ والد صاحب بتاتے ہیں کہ گئے دنوں میں اس کی ہم زاد کراچی میں ”کھڑا چمچا چائے“ کے نام سے بکتی تھی، گویا اتنی چینی کہ اس میں چمچا کھڑا ہوجائے۔

Read more

کاسا بلانکا کی چند ساعتیں

طنجہ میں ہونے والا عرب ممالک کے نمائندوں کا اجتماع ختم ہوا تو ہم کاران میں سے کچھ واپس اپنے اپنے ٹھکانوں کی جانب لوٹ گئے تو کچھ نے ایک دو روز مراکش کو کھنگالنے کی ٹھانی۔ اس خادم کی اس اجتماع میں بطور قائم مقام سربراہ شرکت کا فیصلہ ذرا دیر سے ہوا تھا سو جاتے وقت تو کسی طرح بر وقت ٹکٹ کا انتظام ہوگیا تھا لیکن واپسی پر دو روز اضافی رکنا پڑا۔ پرواز سنیچر کی شام کو کاسا بلانکا سے بیروت آنی تھی سو سوچا کہ جا کر جبل الطارق کا قریب سے مشاہدہ کیا جائے۔

Read more

ابن بطوطہ کے مولد سے

کوئی چوبیس سال بعد دانے پانی کی کشش نے پھر سے بحر اوقیانوس کے کنارے پر لا پٹکا ہے۔ اس سے پہلے اس سمندر کی، جسے اہلِ عرب ”اطلس“ کے نام سے پکارتے ہیں، زیارت مغربی افریقہ کے سواحل پر ہوئی تھی۔ اس بار اس خادم کا ہفتے بھر کا قیام شمالی افریقہ کے ملک مراکش کے شہر طنجہ میں ہے۔ تقریب یہ ٹھہری کہ ایک مبتذل لطیفے کے مصداق اتفاق سے اپنے ادارے کی سوریا میں قیادت اس نالائق کے ناتواں کندھوں پر ہے اور طنجہ میں ہمارے ادارے کے ملکی سربراہوں کا ایک اجتماع ہے۔ اجتماع عرب ممالک میں ترقیاتی پالیسیوں اور درپیش بحرانات پر ہے، سو اس سے ہمارے قارئین کو کیا دلچسپی ہوگی۔ البتہ ایک اجنبی کی نظر سے جو عمومی مشاہدات گزرے ان میں دل چسپی کا کچھ سامان احباب کے لیے ضرور ہوگا۔

Read more

تحدیث نعمت — یاد یار مہربان

یہ خادم پہلے بھی یہ قصہ کسی نہ کسی رنگ میں سنا کر یاروں کو دق کرتا رہتا ہے، لیکن ”لذیذ بود حکایت دراز تر گفتم“، اس گلدستے کو ہر بار نئے ڈھنگ سے باندھنا بجائے خود دلچسپ کام ہے۔ اب جب کہ اس قصے میں ایک غم انگیز باب کا اضافہ ہوگیا ہے تو ارسطو سے منسوب منطق کی رو سے اس کی اثر پذیری اور گہرائی بڑھ گئی ہے۔ ایک پس ماندہ ملک کے پس ماندہ ترین صوبے سے تعلق کی بنا پر، دستیاب تعلیمی میدانوں میں اس خادم کو انجینیئرنگ کا انتخاب کرنا پڑا۔

پاکستان کی سب سے اچھی انجینیئرنگ یونیورسٹی میں، اس وقت میرٹ کے لحاظ سے سب سے اونچے شعبے یعنی برقیات میں داخلہ ہوا۔ پہلے ہی شش ماہے میں اندازہ ہوگیا کہ برقیاتی انجینیئرنگ پاکستان میں جس ڈھنگ سے پڑھائی جاتی ہے، وہ شاید ایمان بالغیب کی پختگی کے لیے تو کارگر ہوتا ہو، لیکن ایک اطلاقی شعبے کے لیے قطعی ناموزوں ہے۔ اس خادم کی دانست میں طرزِ آموزش کچھ اس طرز پر ترتیب دیا گیا تھا کہ کچھ باتوں پر ایمان بالغیب لا کر پھر باقی عمارت اوپر چڑھائی جاتی تھی۔ چنانچہ بقول علامہ اقبال خوگرِ پیکرِ محسوس ہونے کی رعایت سے جی اچاٹ ہوگیا۔ مارے باندھے ڈگری تو حاصل کر لی اور اچھے خاصے اعلی درجے میں، لیکن اس شعبے سے اباء کے سبب چندان عملی دست گاہ بہم نہ ہوپائی۔

Read more

جنگ کا چہرہ بدصورت ہوتا ہے

یکم جنوری سن انیس سو ترانوے کی بات ہے۔ یہ خادم یارِ عزیز اللہ بخش کے ہمراہ سبی کے دیہات میں دو ہفتے کے سرکاری قیام کے بعد واپس گھرلوٹ رہا تھا۔ اگرچہ دفتر کی جانب سے نئی نویلی ہائی لکس گاڑی مہیا تھی، لیکن جوش جوانی میں ترنگ اٹھی کہ درہ بولان کا حسین سفر موٹر سائیکل پر کیا جائے۔ سو دونوں نے پگڑیاں باندھیں اور علی الصبح عازم کوئٹہ ہوئے۔ رکتے رکاتے مچ کے قریب پہنچے تو ایک

Read more

دمشق کا ”گڈ فرائی ڈے“

دوستوں، بالخصوص مسیحی احباب کو دمشق سے ”جمعۃ عظیمۃ“ یا ”گُڈ فرائی ڈے“ کی تاخیر سے مبارک باد۔ مسیحی عقائد کے مطابق یہ دن حضرت عیسی کے صلیب پر چڑھ کر انسانیت کے گناہوں کے کفّارے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ عید الفصح یا ایسٹر کا تہوار اس کے بعد والے اتوار کو پڑتا ہے۔ دوستوں کو یاد ہوگا کہ کرسمس کے موقع پر یہ خادم مختلف مسیحی فرقوں کے مابین مذہبی تہواروں کی تاریخ کے نزاع کو نظر انداز کر بیٹھا تھا اور دمشق قدیم کے سُونے کلیساوں کی بے سود سیر میں مصروف رہا۔

ہماری ایک پیاری سی شامی ہم کار ہیں رانین بی بی۔ تعلق کیتھولک مسیحی مذہب سے ہے۔ نام کے معنی ”گھنٹی کی آواز“ ہیں۔ احباب چاہیں تو انہیں ”بانگِ درا“ سمجھ سکتے ہیں۔ وہ کرسمس کے موقع پر ہمارے خجل ہونے کے قصے سے واقف تھیں چنانچہ جمعرات کو اطلاع کر دی تھی کہ اگر جمعۃ عظیمۃ کا تہوار دیکھنا ہو تو بتا دینا۔ یہ خادم جمعی کی سہ پہر کو اپنے افغان رفیق، مشتاق رحیم، صومالی ہم کار سمیرہ بی بی اور جاپانی دوست میناکو بی بی کے ہمراہ دمشق کے جدید اور مرفہ الحال علاقے ”قصور“ کی جانب روانہ ہوا۔

Read more

جبوتی اور گنی بساؤ کی جیو پولیٹیکل اہمیت

دوستانِ شیریں، پہلے ابن انشا کا ایک کبت ذرا سی ترمیم کے ساتھ سن لیجیے۔
اﺱ ”دیس“ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ، ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﮧ ﭘﺮﺩﮦ ﺭﮨﻨﮯ ﺩو۔ اس بات سے تم کو کیا لینا، تم ہم کو قصہ کہنے دو۔ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺳﻮﺩﺍ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ، ﺗﻢ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﻔﺎ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﯿﺎﮞ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﮭﺎ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ

یہ خادم بسلسلہ روزگار و تعلیم برِ اعظم انٹارکٹیکا اور برِ اعظم شمالی امریکہ کو چھوڑ کر چاروں کھونٹ گھوم چکا ہے۔ کہیں طویل کہیں مختصر قیام رہا۔ ایسے ایسے ملکوں میں جانا ہوا کہ ہمارے ہاں کسی نے نام بھی نہیں سُن رکھا۔ ایک بار کسی دوست نے پوچھا کہ بڑے دن سے غائب ہو، کہاں گئے تھے؟ عرض کیا، ذرا وانو واٹو گیا تھا۔ ذرا دیر سوچ کر بولے، ہے تو بھائی پھیرو کا ہم قافیہ، یہ بتاؤ کہ راستہ موٹر وے سے جاتا ہے یا جی ٹی روڈ سے؟

Read more

او آئی سی، اس کی رکنیت اور بھارت

گزشتہ دنوں متحدہ عرب امارات میں او آئی سی نامی تنظیم کے زیرِ اہتمام رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں، اس تنظیم کی پچاسوِیں سالگرہ کے موقع پر ایک بے نظیر اقدام کے طور پر بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج صاحبہ کو خصوصی مہمان کی حیثیت سے مدعو کیا گیا۔ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں اس اقدام پر پاکستان میں بحث کا ایک طوفان کھڑا ہوگیا اور پاکستان نے اس تقریب میں شرکت کے لیے، سابقہ روایات کے برعکس، وزیر خارجہ کے بجائے دفتر خارجہ کے افسران پر مشتمل ایک وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

کانفرنس میں کشمیر میں جاری بھارتی افواج کے ظلم کے خلاف مبینہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی لیکن کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والے رسمی اعلامیے میں بھارت کے خلاف کوئی ایک سطر تو کیا، تاریخ میں پہلی بار کشمیر کا ذکر ہی سرے سے غائب تھا۔ پاکستان میں کچھ احباب بھارتی وزیرِ خارجہ کی موجودگی میں مذمتی قرارداد منظور ہونے کو کامیابی قرار دے رہے ہیں تو کچھ مشترکہ اعلامیے میں کشمیر کی عدم موجودگی پر افسردہ ہیں۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری مباحثات کو دیکھنے سے اندازہ ہوا کہ اکثر پاکستانی اس تنظیم کی تاریخ، مقاصد حتی کہ اس بات سے بھی ناواقف ہیں کہ ”او آئی سی“ کن الفاظ کا مخفف ہے۔

Read more

بیروت سے ویلنٹائن ڈے بلکہ بزبانِ عربی ”عید الحب“ کی تہنیت

دوستوں کی خدمت میں بیروت سے ویلنٹائن ڈے بلکہ بزبانِ عربی ”عید الحب“ کی تہنیت۔ کچھ پیشہ ورانہ مصروفیات اور کچھ دمشق میں بی بی حیا الخیام کی عید الحب کی کارکردگیوں سے عدم رغبتی کے سبب یہ خادم اس دن سرحد پار لبنان آگیا۔ جیسا کہ گزشتہ مراسلے میں عرض کیا، یہ خادم ویلنٹائن ڈے کے بدیسی ہونے اور اس کے ایک عالمی کاروباری مظہر بن جانے سے بخوبی واقف ہونے کے باوجود اس معاملے میں بھی شخصی پسند کا قائل ہے۔ اس خادم کے نزدیک اس دن کے عید الحب ہونے کا سبب اس کا ہمارے محبوب شاعر فیض احمد فیض کی سالگرہ کے آس پاس ہونا ہے۔ بیروت نگارِ بزمِ جہاں کا فیض صاحب سے محبوبانہ تعلق ہر ”فیض یافتہ“ دوست کو معلوم ہے۔ خادم کا جن سے ویلنٹائن ڈے کا رشتہ ہے، ان میں سے کوئی قریب نہ تھا، سو سوچا کہ ”اگرچہ تنگ ہیں اوقات، سخت ہیں ایام۔ تمہارے نام سے شیریں ہے تلخی ایام“۔ گنگناتے ہوئے عید الحب کو یومِ فیض کے نام کیا جائے۔

Read more

دمشق کا ویلنٹائن ڈے اور یوم حیا

سوشل میڈیا کے احباب استاذی ظفر عمران اور عزیزم عدنان خان کاکڑ کے مابین لسانیاتی مباحث سے واقف ہوں گے۔ یہ خادم بھی کبھی اپنی نیم پُختہ معلومات کا بگھار اس میں شامل کرتا ہے۔ ظفر عمران صاحب اردو املا میں محترم شکیل عادل زادہ کے پیرو ہیں اور اس کے قائل ہیں کہ ممکنہ حد تک الفاظ کو توڑ کر لکھنا چاہیئے کہ تلفظ اور قرات میں غلطی نہ ہو۔ یہ یوں یاد آیا کہ کئی سال گزرے جب

Read more

دمشق کا کرسمس اور قلم کا الم

دمشق سے ایک بار پھر، سالِ نو کے لیے نیک خواہشات کے ساتھ آداب عرض ہے۔ احوال یہ ہے کہ بلاد الشام ان دنوں شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں۔ پہاڑوں پر برف باری کا سلسلہ جاری ہے اور دمشق کو بیروت سے ملانے والی سڑک ہفتے میں کئی بار بند ہوتی رہتی ہے۔ موسم کی ناسازگاری کے باوجود زندہ دلانِ شام کا جمِ غفیر ہر طرف گرم کپڑوں، ٹوپیوں لبادوں میں ملفوف نظر آتا ہے۔ مساجد، کلیسے، طعام گاہیں،

Read more

اقبال کی مظلومیت

اس ملک میں مظلومیت کا دعویٰ بہت لوگ کرتے ہیں اور کچھ تو اس کے عوض مدت سے رائے دہندگان کے ووٹ بھی حاصل کرتے آئے ہیں۔ ہماری سوچی سمجھی رائے میں مظلومیت کا ایک پیمانہ یہ ہے کہ مظلوم شخص اپنے بارے میں کہی جانے والی بات کا کوئی جواب نہ دے پائے۔ یہ صفت بلا شبہ سب سے زیادہ گہرائی میں، مرحومین میں پائی جاتی ہے۔ اگر مرحومین عوام و خواص میں مشہور ہوں اور بالخصوص ان کی

Read more

یادش بخیریا اور صومالی عرفیتیں

انگریزی کے لفظ ”ناسٹیلجیا“ کا کوئی مناسب اردو متبادل ذہن میں نہیں ہے۔ محترم مشتاق احمد یوسفی صاحب نے اسے ”یادش بخیریا“ کا نام دیا تھا۔ جو تھوڑا بہت سوانحی ادب مختلف زبانوں میں پڑھنے کا موقع ملا ہے اس میں ”یادش بخیر“ کا تاثر غالب نظر آیا۔ محترم انتظار حسین مرحوم کی ”ڈبائی“، محترم قدرت اللہ شہاب کا ”چمکور“، فرینک میک کورٹ کا آئر لینڈ، یہ سب بظاہر معمولی مقامات ان کی تحریروں میں اسطورے کی شکل اختیار کر

Read more

کچھ مزید عربی دانی اور ہیچ مدانی۔۔

دوستانِ گرامی، دمشق سے ایک بار پھر آداب عرض ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں میں اہلِ خانہ کی سوریا آمد اور اسی دوران ایک شدید گھریلو صدمے سے گزرنے کے بعد مسافر ایک بار پھر بلاد الشام کے گلی کوچوں میں سرگرداں ہے۔ جیسا کہ احباب کو علم ہوگا، یہ ملک اشتراکیت اور عرب قوم پرستی کے معجون مرکّب "بعث” نامی نظریے کا دم بھرتا ہے۔ سو بہت سے ایسے نعرے جو ہماری جوانی کے زمانے میں وطن عزیز میں آج

Read more

عربوں کے — نام میں کیا رکھا ہے

ایک گزشتہ تعزیتی مضمون میں جمشید مارکر صاحب کے چھوٹے بھائی مینو چہر صاحب کی روایت بیان کی تھی کہ ان کا خاندانی نام ”مارکر“ یوں پڑا کہ وہ انگریزوں کو ریلوے لائن کی تعمیر کے دوران گدھوں کی رسد کا کاروبار کرتے تھے اور گدھوں کو داغنے، یا بہ زبان انگریزی ”مارک“ کرنے کے سبب مارکر کہلائے۔ اس خادم کی رائے میں یہ ان کی ایستادگی کردار اور محنت کشی پر استوار ماضی سے عدم محجوبیت کی دلیل ہے۔

Read more

دمشق کا باب صغیر – دفن ہوگا نہ کہیں اتنا خزانہ ہرگز

دمشقِ قدیم کی فصیل کے سات دروازے ہیں جو رومی دور بلکہ اس سے بھی پہلے سے چلے آ رہے ہیں۔ ان میں ایک دروازہ "باب صغیر” یا چھوٹا دروازہ کہلاتا ہے۔ کسی دور میں یہ شہر کی یہودی آبادی کا مسکن تھا۔ مرورِ زمانہ سے یہ محلّہ خرابے کی صورت اختیار کر گیا کہ اکثر یہودی نقل مکانی کر گئے۔ سنا جاتا ہے کہ دو تین گھرانوں کے بزرگ اب تک دمشق میں رہتے ہیں۔ ان کے دیگر اہلِ

Read more

شام کے معذور مجبور نہیں

سوریہ (شام) کے بحرِ متوسط کے ساحل سے آداب۔ یہ خادم تین روز سے اس حسین مقام پر ایک دفتری تربیتی اجتماع کے سلسلے میں موجود ہے۔ شہر کا عربی نام ”اللاذقیہ“ ہے مگر غالبا رومن ماضی کی یادگار کے طور پر ”لطاقیہ“ بھی کہلاتا ہے۔ یہ رواج بلاد الشام میں عام ہے چنانچہ لبنان کے شہر ”صیدہ“ اور ”جبیل“ علی الترتیب ”طِیر“ اور ”بیبلوس“ کے ناموں سے بھی جانے جاتے ہیں۔ یہ علاقہ جنگ کی تباہ کاریوں سے نسبتاً

Read more

جمشید مارکر صاحب بھی نہ رہے

یوسفی صاحب اور یارِ عزیز مظہر اقبال شیخ کی رحلت کا صدمہ ابھی تازہ تھا کہ جمشید مارکر صاحب کی سناؤنی آ گئی۔ کوئٹہ کا کون سا باشندہ ہوگا جو زرغون روڈ پر واقع ”مارکر ہاوس“ کے سحر میں مبتلا نہ رہا ہو۔ یہ عظیم الشان بنگلہ اپنے گیٹ پر لگے ”کتوں سے ہوشیار“ کے بورڈ اور دیوار کی سلاخوں اور درختوں کے پیچھے سے جھانکتے ”بُوٹ ہاوس“ کے سبب ہر گزرنے والے کے لیے اسرار و تحیّر کا ایک

Read more

ہماری عربی دانی اور ہیچ مدانی

دوستانِ گرامی، دمشق سے باسی عید مبارک۔ وہ یوں کہ یہاں دو خطبوں سے وابستہ توہم کا کوئی ذکر اذکار نہیں ہے اور نہ ہی رویتِ ہلال کمیٹی کے نام پر کوئی بے کار ادارہ۔ سو عید کا اعلان دمشق کے قاضی شرعی نے وزارت سائنس کی تصدیق پر جمعرات کی شام کو ہی کر دیا تھا۔ اندازہ ہو رہا ہے کہ دمشق میں عام دنوں میں نظر آنے والی ریل پیل ان اہل کاروں کی بدولت ہے جو رہتے

Read more

کعبے میں گڑے استوار مگر روادار بت۔۔۔۔

گزشتہ روز عزیزم مبشر علی زیدی نے شیعہ اور سنی دوستوں کے مابین افطاری کے وقت کے ضمن میں ہونے والے ایک مکالمے کو تیس لفظی کہانی کی شکل میں پیش کیا۔ اگلے روز استاذی حافظ صفوان چوہان نے کسی اثنا عشری صاحب کے عقد میں ایک سنّی خاتون کا استفسار اسی بارے میں فیس بُک کی زینت بنایا۔ استفتاء کی کتب میں فتاوی اکثر فرضی مکالمات و استفسارات کی شکل میں لکھے جاتے ہیں سو نجانے حافظ صاحب کا نقل کردہ مکالمہ واقعی انہیں موصول ہونے والے کسی استفسار پر مبنی ہے یا ایک دینی نکتہ سمجھانے کی خاطر یہ پیرایہ اختیار کیا گیا۔

Read more