عثمان قاضی صاحب ان دنوں اپنے دفتری فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں دمشق میں مقیم ہیں۔ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک خبر چلی کہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مزار مبارک کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں عثمان قاضی صاحب نے تحقیق کی اور عینی شاہدین کے بیانات کی بنیاد پر امت کو اصل معاملے سے آگاہ کرنے کی خاطر یہ تحریر لکھی ہے کہ مزار مبارک کو نقصان پہنچانے کی خبروں میں کتنا سچ ہے اور کتنا جھوٹ۔
گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک پریشان کن خبر پھیلی ہوئی تھی کہ شام کے شمال مغربی صوبہ ادلب میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مزار مبارک کو منہدم کر کے ان کے جسد فانی کو وہاں سے چرا کر ان کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ اس ضمن میں کچھ دھندلی سی تصاویر اور ویڈیوز بھی گردش کرتی رہیں۔ اس قبیح حرکت کا الزام مسلمانوں کے ایک فرقہ پر لگا کر شرانگیزی کی بھی بھرپور کوشش کی گئی۔
میری شام میں موجودگی کی وجہ سے احباب اور اہل خانہ نے مجھ سے اس معاملے کی چھان بین کے لیے کہا لیکن شام کی سمت سے ادلب تک اب بھی امدادی کارکنان، خصوصاً غیر ملکیوں کی رسائی نہیں ہے چونکہ جنگ اب بھی جاری ہے اور علاقے میں بارودی سرنگوں کی موجودگی کا بھی واضح خطرہ ہے۔
بہت تگ و دو کے بعد کسی دوست کے توسط سے ایک حلبی بندے سے رابطہ کرنے میں کامیابی ہوئی جو اتفاق سے سنی ہے اور اس دستے کا حصہ تھا جو سب سے پہلے معرۃ النعمان میں داخل ہوا۔ خبر واحد تھی اور اس سے رازداری کا وعدہ کیا تھا لہذا اسے اس وقت سوشل میڈیا پر نہیں لگایا۔
Read more