کچھ احوال حلب کا

قصے کی ابتدا سن پچاس کی دہائی سے ہوتی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب دوسری جنگِ عظیم سے تباہ شدہ یورپ کو اپنی تعمیرِ نو کے لیے مزدوروں کی ضرورت تھی۔ مغربی جرمنی نے اپنے دروازے ترک ”مہمان مزدوروں“ کے لیے کھول دیے تو برطانیہ عظمی نے اپنی سابق نوآبادیوں، دولت مشترکہ سے لوگوں…

Read more

عمان کی ایک اداس سہ پہر۔ شہر خالی، کوچہ ویران

جیسا کہ چند پچھلی تحریروں میں اشارہ دیا گیا، دوستوں کو علم ہوگا کہ اس خادم کا رُخ بین الاقوامی اجتماعات میں شرکت کی غرض سے اکثر بیروت کی جانب رہتا ہے کہ ہمارے مستقر دمشق سے کوئی تین ساڑھے تین گھنٹے کی مسافت پر، ایک سرسبز پہاڑوں کے سلسلے سے گزرتے راستے کے ایک…

Read more

فیض صاحب کا ”لوٹس“

 بات ذرا نازک سی ہے چنانچہ اس سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ خادم فیض صاحب کی شاعری کا دیوانہ اور ان کے سیاسی آدرشوں کا حامی ہے۔ چاہے ساقی فاروقی صاحب فیض صاحب کے بارے میں جو کچھ بھی لکھتے رہے، بھلے عبدالعزیز خالد ان کے اشعار میں عروضی اور معنوی غلطیاں نکالتے…

Read more

کچھ غزوہ ہند اور ریاست مدینہ کے بارے میں

دوست سناتے ہیں کہ وطن عزیز پر گزرے بہت سے پر آشوب ادوار میں سے کسی ایک دور میں، جب ہمہ مقتدر فوجی آمر اس قوم کو بزعم خود حقیقی جمہوریت کی راہ پر ڈالنے کے جتن کرتے ہوئے کندہ نا تراش مگر بظاہر بے ضرر لوگوں کو کم اہم عہدوں پر براجمان کر دیتے…

Read more

شام کے ”ذوی لیاقت“ افراد

دوستو، اس خادم کے خیال میں ہم پاکستانیوں کو اپنی تاریخ کے سبب ایک اہم فوقیت حاصل ہے جس کا ادراک ہم کم کم کر پاتے ہیں۔ احساس ہوتا ہے تو ملک سے باہر جا کر۔ مثلاً، اردو کی حروف شناسی یا کم از ناظرہ قران کی تعلیم ہم میں سے بہتوں نے پائی ہے۔ اس کا فائدہ عرب ممالک، ایران اور افغانستان اور کسی حد تک چین کے صوبہ سنکیانگ میں معلوم ہوتا ہے کہ مسافر کم از کم عمارتوں کے بورڈ اور سڑکوں کے نام پڑھ لیتا ہے اور چند الفاظ پر غور کرکے کچھ نہ کچھ مطلب بھی پا لیتا ہے۔

Read more

غلام رسول مہر بنام عاشق حسین بٹالوی

ہمارے وطن کی آزادی کی تاریخ کا سب سے خونچکاں باب تقسیم پنجاب و بنگال کا المیہ ہے جس میں لاکھوں جانیں، بے شمار عصمتیں اور کروڑوں کے مادی اثاثے انسان کی گروہی خون آشامی کے جنون کی بھینٹ چڑھ گئے۔ دو مذہبی گروہوں کے مابین، جو صدیوں سے ایک دوسرے کی ہمسائیگی میں رہ…

Read more

ایک نایاب تاریخی دستاویز: عاشق حسین بٹالوی بنام غلام رسول مہر

مرشدِ من، عثمان قاضی ان دنوں صاحب فراش ہیں ۔ یہی وجہ تھی کہ اب تک ’ہم سب‘ میں محفل آرا نہیں ہو سکے۔ طبیعت کسی قدر بحال ہونے پر ایک خاص لطف نامہ ارسال فرمایا ہے۔ لکھتے ہیں.... ”آداب۔ بستر علالت پر پڑا ’ہم سب‘کی روز افزونی دیکھ رہا ہوں اور رشک و فخر…

Read more

عثمان قاضی کاسابلانکا کی جیل میں

کاسا بلانکا کے چینکی چائے کے ریستوران میں اس خادم نے سڑک کے رُخ باہر فٹ پاتھ پر دھری بہت سی میزوں میں سے ایک کا انتخاب کیا۔ طنجہ کے تجربے کی روشنی میں کاونٹر پر گزارش کر دی تھی کہ ”سکر خفیف“ یعنی چینی کم۔ ہمارے وطن میں مستونگ کی چائے مشہور ہے، جسے پیتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ گویا روح افزا کا گلاس بھر کے اس میں ایک چمچ چائے ملا دی گئی ہو۔ قبلہ والد صاحب بتاتے ہیں کہ گئے دنوں میں اس کی ہم زاد کراچی میں ”کھڑا چمچا چائے“ کے نام سے بکتی تھی، گویا اتنی چینی کہ اس میں چمچا کھڑا ہوجائے۔

Read more

کاسا بلانکا کی چند ساعتیں

طنجہ میں ہونے والا عرب ممالک کے نمائندوں کا اجتماع ختم ہوا تو ہم کاران میں سے کچھ واپس اپنے اپنے ٹھکانوں کی جانب لوٹ گئے تو کچھ نے ایک دو روز مراکش کو کھنگالنے کی ٹھانی۔ اس خادم کی اس اجتماع میں بطور قائم مقام سربراہ شرکت کا فیصلہ ذرا دیر سے ہوا تھا سو جاتے وقت تو کسی طرح بر وقت ٹکٹ کا انتظام ہوگیا تھا لیکن واپسی پر دو روز اضافی رکنا پڑا۔ پرواز سنیچر کی شام کو کاسا بلانکا سے بیروت آنی تھی سو سوچا کہ جا کر جبل الطارق کا قریب سے مشاہدہ کیا جائے۔

Read more

ابن بطوطہ کے مولد سے

کوئی چوبیس سال بعد دانے پانی کی کشش نے پھر سے بحر اوقیانوس کے کنارے پر لا پٹکا ہے۔ اس سے پہلے اس سمندر کی، جسے اہلِ عرب ”اطلس“ کے نام سے پکارتے ہیں، زیارت مغربی افریقہ کے سواحل پر ہوئی تھی۔ اس بار اس خادم کا ہفتے بھر کا قیام شمالی افریقہ کے ملک مراکش کے شہر طنجہ میں ہے۔ تقریب یہ ٹھہری کہ ایک مبتذل لطیفے کے مصداق اتفاق سے اپنے ادارے کی سوریا میں قیادت اس نالائق کے ناتواں کندھوں پر ہے اور طنجہ میں ہمارے ادارے کے ملکی سربراہوں کا ایک اجتماع ہے۔ اجتماع عرب ممالک میں ترقیاتی پالیسیوں اور درپیش بحرانات پر ہے، سو اس سے ہمارے قارئین کو کیا دلچسپی ہوگی۔ البتہ ایک اجنبی کی نظر سے جو عمومی مشاہدات گزرے ان میں دل چسپی کا کچھ سامان احباب کے لیے ضرور ہوگا۔

Read more