جنگ کا چہرہ بدصورت ہوتا ہے

یکم جنوری سن انیس سو ترانوے کی بات ہے۔ یہ خادم یارِ عزیز اللہ بخش کے ہمراہ سبی کے دیہات میں دو ہفتے کے سرکاری قیام کے بعد واپس گھرلوٹ رہا تھا۔ اگرچہ دفتر کی جانب سے نئی نویلی ہائی لکس گاڑی مہیا تھی، لیکن جوش جوانی میں ترنگ اٹھی کہ درہ بولان کا حسین…

Read more

دمشق کا ”گڈ فرائی ڈے“

دوستوں، بالخصوص مسیحی احباب کو دمشق سے ”جمعۃ عظیمۃ“ یا ”گُڈ فرائی ڈے“ کی تاخیر سے مبارک باد۔ مسیحی عقائد کے مطابق یہ دن حضرت عیسی کے صلیب پر چڑھ کر انسانیت کے گناہوں کے کفّارے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ عید الفصح یا ایسٹر کا تہوار اس کے بعد والے اتوار کو پڑتا ہے۔ دوستوں کو یاد ہوگا کہ کرسمس کے موقع پر یہ خادم مختلف مسیحی فرقوں کے مابین مذہبی تہواروں کی تاریخ کے نزاع کو نظر انداز کر بیٹھا تھا اور دمشق قدیم کے سُونے کلیساوں کی بے سود سیر میں مصروف رہا۔

ہماری ایک پیاری سی شامی ہم کار ہیں رانین بی بی۔ تعلق کیتھولک مسیحی مذہب سے ہے۔ نام کے معنی ”گھنٹی کی آواز“ ہیں۔ احباب چاہیں تو انہیں ”بانگِ درا“ سمجھ سکتے ہیں۔ وہ کرسمس کے موقع پر ہمارے خجل ہونے کے قصے سے واقف تھیں چنانچہ جمعرات کو اطلاع کر دی تھی کہ اگر جمعۃ عظیمۃ کا تہوار دیکھنا ہو تو بتا دینا۔ یہ خادم جمعی کی سہ پہر کو اپنے افغان رفیق، مشتاق رحیم، صومالی ہم کار سمیرہ بی بی اور جاپانی دوست میناکو بی بی کے ہمراہ دمشق کے جدید اور مرفہ الحال علاقے ”قصور“ کی جانب روانہ ہوا۔

Read more

جبوتی اور گنی بساؤ کی جیو پولیٹیکل اہمیت

دوستانِ شیریں، پہلے ابن انشا کا ایک کبت ذرا سی ترمیم کے ساتھ سن لیجیے۔
اﺱ ”دیس“ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ، ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﮧ ﭘﺮﺩﮦ ﺭﮨﻨﮯ ﺩو۔ اس بات سے تم کو کیا لینا، تم ہم کو قصہ کہنے دو۔ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺳﻮﺩﺍ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ، ﺗﻢ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﻔﺎ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﯿﺎﮞ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﮭﺎ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ

یہ خادم بسلسلہ روزگار و تعلیم برِ اعظم انٹارکٹیکا اور برِ اعظم شمالی امریکہ کو چھوڑ کر چاروں کھونٹ گھوم چکا ہے۔ کہیں طویل کہیں مختصر قیام رہا۔ ایسے ایسے ملکوں میں جانا ہوا کہ ہمارے ہاں کسی نے نام بھی نہیں سُن رکھا۔ ایک بار کسی دوست نے پوچھا کہ بڑے دن سے غائب ہو، کہاں گئے تھے؟ عرض کیا، ذرا وانو واٹو گیا تھا۔ ذرا دیر سوچ کر بولے، ہے تو بھائی پھیرو کا ہم قافیہ، یہ بتاؤ کہ راستہ موٹر وے سے جاتا ہے یا جی ٹی روڈ سے؟

Read more

او آئی سی، اس کی رکنیت اور بھارت

گزشتہ دنوں متحدہ عرب امارات میں او آئی سی نامی تنظیم کے زیرِ اہتمام رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں، اس تنظیم کی پچاسوِیں سالگرہ کے موقع پر ایک بے نظیر اقدام کے طور پر بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج صاحبہ کو خصوصی مہمان کی حیثیت سے مدعو کیا گیا۔ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں اس اقدام پر پاکستان میں بحث کا ایک طوفان کھڑا ہوگیا اور پاکستان نے اس تقریب میں شرکت کے لیے، سابقہ روایات کے برعکس، وزیر خارجہ کے بجائے دفتر خارجہ کے افسران پر مشتمل ایک وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

کانفرنس میں کشمیر میں جاری بھارتی افواج کے ظلم کے خلاف مبینہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی لیکن کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والے رسمی اعلامیے میں بھارت کے خلاف کوئی ایک سطر تو کیا، تاریخ میں پہلی بار کشمیر کا ذکر ہی سرے سے غائب تھا۔ پاکستان میں کچھ احباب بھارتی وزیرِ خارجہ کی موجودگی میں مذمتی قرارداد منظور ہونے کو کامیابی قرار دے رہے ہیں تو کچھ مشترکہ اعلامیے میں کشمیر کی عدم موجودگی پر افسردہ ہیں۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری مباحثات کو دیکھنے سے اندازہ ہوا کہ اکثر پاکستانی اس تنظیم کی تاریخ، مقاصد حتی کہ اس بات سے بھی ناواقف ہیں کہ ”او آئی سی“ کن الفاظ کا مخفف ہے۔

Read more

بیروت سے ویلنٹائن ڈے بلکہ بزبانِ عربی ”عید الحب“ کی تہنیت

دوستوں کی خدمت میں بیروت سے ویلنٹائن ڈے بلکہ بزبانِ عربی ”عید الحب“ کی تہنیت۔ کچھ پیشہ ورانہ مصروفیات اور کچھ دمشق میں بی بی حیا الخیام کی عید الحب کی کارکردگیوں سے عدم رغبتی کے سبب یہ خادم اس دن سرحد پار لبنان آگیا۔ جیسا کہ گزشتہ مراسلے میں عرض کیا، یہ خادم ویلنٹائن ڈے کے بدیسی ہونے اور اس کے ایک عالمی کاروباری مظہر بن جانے سے بخوبی واقف ہونے کے باوجود اس معاملے میں بھی شخصی پسند کا قائل ہے۔ اس خادم کے نزدیک اس دن کے عید الحب ہونے کا سبب اس کا ہمارے محبوب شاعر فیض احمد فیض کی سالگرہ کے آس پاس ہونا ہے۔ بیروت نگارِ بزمِ جہاں کا فیض صاحب سے محبوبانہ تعلق ہر ”فیض یافتہ“ دوست کو معلوم ہے۔ خادم کا جن سے ویلنٹائن ڈے کا رشتہ ہے، ان میں سے کوئی قریب نہ تھا، سو سوچا کہ ”اگرچہ تنگ ہیں اوقات، سخت ہیں ایام۔ تمہارے نام سے شیریں ہے تلخی ایام“۔ گنگناتے ہوئے عید الحب کو یومِ فیض کے نام کیا جائے۔

Read more

دمشق کا ویلنٹائن ڈے اور یوم حیا

سوشل میڈیا کے احباب استاذی ظفر عمران اور عزیزم عدنان خان کاکڑ کے مابین لسانیاتی مباحث سے واقف ہوں گے۔ یہ خادم بھی کبھی اپنی نیم پُختہ معلومات کا بگھار اس میں شامل کرتا ہے۔ ظفر عمران صاحب اردو املا میں محترم شکیل عادل زادہ کے پیرو ہیں اور اس کے قائل ہیں کہ ممکنہ…

Read more

دمشق کا کرسمس اور قلم کا الم

دمشق سے ایک بار پھر، سالِ نو کے لیے نیک خواہشات کے ساتھ آداب عرض ہے۔ احوال یہ ہے کہ بلاد الشام ان دنوں شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں۔ پہاڑوں پر برف باری کا سلسلہ جاری ہے اور دمشق کو بیروت سے ملانے والی سڑک ہفتے میں کئی بار بند ہوتی رہتی ہے۔ موسم…

Read more

اقبال کی مظلومیت

اس ملک میں مظلومیت کا دعویٰ بہت لوگ کرتے ہیں اور کچھ تو اس کے عوض مدت سے رائے دہندگان کے ووٹ بھی حاصل کرتے آئے ہیں۔ ہماری سوچی سمجھی رائے میں مظلومیت کا ایک پیمانہ یہ ہے کہ مظلوم شخص اپنے بارے میں کہی جانے والی بات کا کوئی جواب نہ دے پائے۔ یہ…

Read more

یادش بخیریا اور صومالی عرفیتیں

انگریزی کے لفظ ”ناسٹیلجیا“ کا کوئی مناسب اردو متبادل ذہن میں نہیں ہے۔ محترم مشتاق احمد یوسفی صاحب نے اسے ”یادش بخیریا“ کا نام دیا تھا۔ جو تھوڑا بہت سوانحی ادب مختلف زبانوں میں پڑھنے کا موقع ملا ہے اس میں ”یادش بخیر“ کا تاثر غالب نظر آیا۔ محترم انتظار حسین مرحوم کی ”ڈبائی“، محترم…

Read more

کچھ مزید عربی دانی اور ہیچ مدانی۔۔

دوستانِ گرامی، دمشق سے ایک بار پھر آداب عرض ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں میں اہلِ خانہ کی سوریا آمد اور اسی دوران ایک شدید گھریلو صدمے سے گزرنے کے بعد مسافر ایک بار پھر بلاد الشام کے گلی کوچوں میں سرگرداں ہے۔ جیسا کہ احباب کو علم ہوگا، یہ ملک اشتراکیت اور عرب قوم پرستی…

Read more