وبا کے دنوں میں دمشق

جب اقوام متحدہ نے کورونا کو عالمی وبا یا ”پین ڈیمک“ قرار دیا تو یہ خادم چھٹی پر پاکستان گیا ہوا تھا۔ ہماری افسر اعلی ایک پیاری سی فلسطینی خاتون ہیں، محترمہ رملہ خالدی۔ انہوں نے ازراہ شفقت پیغام بھیجا کہ اگر پریشانی یا ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہو تو گھر بیٹھے حتی المقدور کام…

Read more

اتا ترک کا سیکولرازم: ہے لائق تعزیر پہ الزام غلط ہے

میری ناقص رائے میں محترم ذیشان ہاشم نے اتا ترک کے سیکولرازم پر جس تنقیدی مقدمے کا بیڑا اٹھایا تھا، اسے چند کمزور مثالوں نے بلا وجہ کمزور کر دیا۔ ان کے ہدف تنقید بننے والے چند اقدامات یہ ہیں :
اس نے اپنا نام مصطفیٰ کمال پاشا سے بدل کر کمال اتاترک رکھا۔

اول تو یہ کہ صاحب مضمون کے بیان کردہ اصول کی رو سے یہ اس کا ذاتی فیصلہ، اس کے ذاتی نام کے بارے میں تھا، چنانچہ اس کا سیکولرازم کی تنقید سے تعلق نہیں بنتا۔ دوسرے یہ کہ تاریخی شواہد کی روشنی میں اس نے اپنا نام نہیں بدلا بلکہ ترکی کی پارلیمنٹ نے اسے اتا ترک (باباے ترک) کا خطاب دیا۔ یہ تو مغربی لکھاریوں کی مہربانی ہے کہ انہوں نے ”کمال“ کو اس کا ”سر نیم“ سمجھ کر اسے کمال اتا ترک لکھنا شروع کر دیا۔

Read more

مسلمانوں جیسے نام

قبلہ، یک پیری و صد عیب کی مصداق یہ نامراد امراض تو جاتے جاتے جائیں گے۔ آج پرانی ڈاک چھانٹ رہا تھا کہ قیام قرغزستان کے دوران مرشدی عارف وقار کا بھیجا ہوا ’نواے وقت‘ اخبار کا ایک تراشہ سامنے آ گیا۔ اس میں مضمون نگار نے کچھ ایسی منطق بھگاری تھی کہ اگر کسی کا نام ”جارج، چارلس، رام داس، کوہن، ایگنس، الزبتھ“ وغیرہ ہو تو سننے والے کو فوراً اس کے مذہب کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ یہ صراحت مضمون نگار نے نہیں کی کہ یہ اندازہ ہو جانے کے بعد وہ اس علم لدنی کو کس کام میں لائیں گے۔ دعوتی ذہن تو ان کی تحریر سے مترشح نہیں ہورہا تھا، شاید تصورات میں اپنی ایجاد بندہ قسم کی اسلامی مملکت قائم کر کے ان سے جزیہ وصولنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ خیر۔

Read more

موسیقی کی نظریاتی تطہیر — نشے سے جادو تک

اپنے دیگر ہم عمر احباب کے مانند اس خادم کا بھی لڑکپن ایسے دور میں گزرا ہے کہ ٹیلی ویژن کی سہولت ملک میں خال خال دستیاب تھی اور جہاں تھی بھی تو ایک ہی سرکاری چینل شام کے چند گھنٹوں تک نشریات دکھاتا تھا۔ غالبا سن اناسی کی بات ہے کہ پی ٹی وی…

Read more

کچھ احوال حلب کا

قصے کی ابتدا سن پچاس کی دہائی سے ہوتی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب دوسری جنگِ عظیم سے تباہ شدہ یورپ کو اپنی تعمیرِ نو کے لیے مزدوروں کی ضرورت تھی۔ مغربی جرمنی نے اپنے دروازے ترک ”مہمان مزدوروں“ کے لیے کھول دیے تو برطانیہ عظمی نے اپنی سابق نوآبادیوں، دولت مشترکہ سے لوگوں…

Read more

عمان کی ایک اداس سہ پہر۔ شہر خالی، کوچہ ویران

جیسا کہ چند پچھلی تحریروں میں اشارہ دیا گیا، دوستوں کو علم ہوگا کہ اس خادم کا رُخ بین الاقوامی اجتماعات میں شرکت کی غرض سے اکثر بیروت کی جانب رہتا ہے کہ ہمارے مستقر دمشق سے کوئی تین ساڑھے تین گھنٹے کی مسافت پر، ایک سرسبز پہاڑوں کے سلسلے سے گزرتے راستے کے ایک…

Read more

فیض صاحب کا ”لوٹس“

 بات ذرا نازک سی ہے چنانچہ اس سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ خادم فیض صاحب کی شاعری کا دیوانہ اور ان کے سیاسی آدرشوں کا حامی ہے۔ چاہے ساقی فاروقی صاحب فیض صاحب کے بارے میں جو کچھ بھی لکھتے رہے، بھلے عبدالعزیز خالد ان کے اشعار میں عروضی اور معنوی غلطیاں نکالتے…

Read more

کچھ غزوہ ہند اور ریاست مدینہ کے بارے میں

دوست سناتے ہیں کہ وطن عزیز پر گزرے بہت سے پر آشوب ادوار میں سے کسی ایک دور میں، جب ہمہ مقتدر فوجی آمر اس قوم کو بزعم خود حقیقی جمہوریت کی راہ پر ڈالنے کے جتن کرتے ہوئے کندہ نا تراش مگر بظاہر بے ضرر لوگوں کو کم اہم عہدوں پر براجمان کر دیتے…

Read more

شام کے ”ذوی لیاقت“ افراد

دوستو، اس خادم کے خیال میں ہم پاکستانیوں کو اپنی تاریخ کے سبب ایک اہم فوقیت حاصل ہے جس کا ادراک ہم کم کم کر پاتے ہیں۔ احساس ہوتا ہے تو ملک سے باہر جا کر۔ مثلاً، اردو کی حروف شناسی یا کم از ناظرہ قران کی تعلیم ہم میں سے بہتوں نے پائی ہے۔ اس کا فائدہ عرب ممالک، ایران اور افغانستان اور کسی حد تک چین کے صوبہ سنکیانگ میں معلوم ہوتا ہے کہ مسافر کم از کم عمارتوں کے بورڈ اور سڑکوں کے نام پڑھ لیتا ہے اور چند الفاظ پر غور کرکے کچھ نہ کچھ مطلب بھی پا لیتا ہے۔

Read more

غلام رسول مہر بنام عاشق حسین بٹالوی

ہمارے وطن کی آزادی کی تاریخ کا سب سے خونچکاں باب تقسیم پنجاب و بنگال کا المیہ ہے جس میں لاکھوں جانیں، بے شمار عصمتیں اور کروڑوں کے مادی اثاثے انسان کی گروہی خون آشامی کے جنون کی بھینٹ چڑھ گئے۔ دو مذہبی گروہوں کے مابین، جو صدیوں سے ایک دوسرے کی ہمسائیگی میں رہ…

Read more