چھے سال کے آنسو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر ماڈل ٹاٶن کا قبرستان ہے۔ چھے سال پہلے میرے لئے بھی یہ ایک عام سا قبرستان تھا۔ گو کہ اس قبرستان میں ہمارے خاندان کی بہت سی قبریں ہیں مگر ان قبروں پر سال میں ایک آدھ بار معمول کے انداز میں فاتحہ خوانی کرنے کے بعد میں گھر لوٹ جاتی تھی۔ یہ قبرستان مجھ سے باتیں نہیں کرتا تھا اور نہ ہی اس کے درودیوار میرے رازدان تھے۔ پھر یوں ہوا کہ اس شہرِ خاموشاں میں ایک نئے مکین کا اضافہ ہو گیا۔

یہ مکین میرا بڑا بھائی یاسر تھا۔ اس کی تدفین کے بعد مجھے یوں لگا کہ جیسے میرا اپنا وجود بھی اس کی قبر کے ساتھ ہی اس قبرستان میں ٹھہر گیا ہو۔ اب اس قبرستان سے مجھے خوف نہیں آتا۔ اس سے میری دوستی ہو گئی ہے۔ یہ شاید میرے ساتھ نہیں ہے۔ وہ سب لوگ جن کے پیارے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ وہ سب لوگ اسی کیفیت سے گزرتے ہیں۔ قبرستان کے پاس پھول بیچنے والا ہمارے لئے اجنبی نہیں رہتا۔ گورکن ہمارے چہرے سے بہت اچھی طرح واقف ہو جاتا ہے۔

روزانہ آنے والے لوگ ہمارے معمولات سے باخبر ہو جاتے ہیں۔ کون سی نئی قبر ہے اور پرانی قبروں میں سے کون سی خستہ حال میں ہے۔ یہ سب باتیں ہمارے علم میں رہتی ہیں۔ قبروں کے پاس بیٹھ کر اپنے دکھ سکھ بانٹنے والے سب اپنے اپنے سے لگتے ہیں۔ اپنے پیارے کو مٹی کے ڈھیر کی شکل میں دیکھنا پہلی بار میں بہت تکلیف دیتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ ہم اس تکلیف کے عادی ہو جاتے ہیں۔ یہ تکلیف بھی ہمیں اپنی اپنی لگنے لگتی ہے۔ یوں جیسے اگر ہم اس تکلیف سے آزاد ہو گئے تو ہماری روح بھی آزاد ہو جاے گی۔

میرے بھائی کو اس دنیا سے گئے چھے برس ہونے کو آئے ہیں۔ چھے سال پہلے بھی میں نے اس کے جانے کے بعد ایک تحریر لکھی تھی۔ میں اس تحریر کو لکھتے ہوے ایک بہت مشکل کیفیت سے گزری تھی۔ مجھے لگا تھا کہ اب اس کے بارے میں کچھ لکھنا میرے لئے بہت آسان ہوگا۔ اور میں کوئی طویل تحریر لکھوں گی۔ اب آنسوٶں کی عمر بھی پختہ ہو چکی ہے مگر یہ بھی میری خام خیالی ہی تھی۔ آنسووں کی عمر کبھی پرانی نہیں ہوتی۔ آنسو چاہے ایک دن کے ہوں یا چاہے چھے سال کے۔ آنسو کبھی پرانے نہیں ہوتے۔ وہ ہر بار اسی شدت سے بہتے ہیں۔ غم کے کاغذات پر وقت کی گرد ضرور پڑ جاتی ہے مگر گرد اترنے میں بھی لمحے ہی لگتے ہیں اور غم پھر سے تازہ ہو جاتا ہے
ہم پھر انہی لمحوں میں جینے لگتے ہیں جن کی قید سے ہمیں مر کر ہی رہائی ملتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •