پنجرے میں بند قیدی کی موت

قاہرہ کے آسمانوں پر ستارے تو روز ہی نکلتے تھے اور روز ہی خلقِ خدا کو خالق کی نافرمانیوں میں مشغول دیکھ کر اُداسی سے واپس لوٹ جاتے تھے مگر اُس رات ستاروں کی آنکھوں میں صرف اُداسی کے رنگ نہیں تھے۔ اُن کی آنکھوں میں نمی تھی۔ دور دور تک آنسووٗں نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ آسمان کی رنگت سیاہی مائل تھی اور یوں لگتا تھا کہ جیسے یہ آسمان قہر کی صورت زمین والوں پر برس پڑے گا مگر ابھی اس کا حکم نہیں تھا اور ستاروں کو بھی اپنے آنسووٗں کو ضبط کرنا تھا۔

Read more

فضیلت بیگم کا ماہ رمضان

فضیلت بیگم کا تعلق معاشرے کے اس طبقے سے ہے جن کی کتابِ زیست کے رنگین ہونے کا دارومدار ماہ رمضان میں زکوة لینے سے مشروط ہے۔ زکوة لینے کا بزنس برسوں سے ان کے خاندان کی پہچان ہے۔ ماہ صیام کی آمد سے پہلے ہی فضلیت بیگم خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ مل کر باقاعدہ طور پر منصوبہ بندی کرتی ہیں کہ رمضان میں کن کن گھروں سے زکوة اکٹھی کرنی ہے۔ کون سی مساجد کے باہر بیٹھنا ہے اور کن ٹی وی چینلز کی سحروافطار کی ٹرانسمیشنز میں شرکت کرکے اپنا بینک بیلنس بڑھانا ہے۔

Read more

چھے سال کے آنسو

میرے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر ماڈل ٹاٶن کا قبرستان ہے۔ چھے سال پہلے میرے لئے بھی یہ ایک عام سا قبرستان تھا۔ گو کہ اس قبرستان میں ہمارے خاندان کی بہت سی قبریں ہیں مگر ان قبروں پر سال میں ایک آدھ بار معمول کے انداز میں فاتحہ خوانی کرنے کے بعد میں گھر لوٹ جاتی تھی۔ یہ قبرستان مجھ سے باتیں نہیں کرتا تھا اور نہ ہی اس کے درودیوار میرے رازدان تھے۔ پھر یوں ہوا کہ اس شہرِ خاموشاں میں ایک نئے مکین کا اضافہ ہو گیا۔

Read more

لائٹ ہاٶس یا پھر لائف بوٹ

کچھ کتابیں محض کتابیں نہیں ہوتیں یہ زندگی بچانے والے ہاتھ ہوتے ہیں۔ لائٹ ہاٶس کی مانند روشنی دکھانے والے مینار ہوتے ہیں یا پھر لائف بوٹس کہلانے والی وہ کشتیاں جن کا کام ہی ڈوبتے ہوے لوگوں کو کنارے پر لے جانا ہوتا ہے۔ صوفیہ کاشف کی کتاب گہر ہونے تک کا شمار بھی ایسی ہی کتابوں میں ہوتا ہے جو مایوسی کے اندھیروں میں روشنی کا کام کرتی ہیں۔ کتاب کا سرورق نہایت عمدہ ہے۔ کتاب کھول کر ابھی میں ایک متاثر کن پیش لفظ پڑھ کر فہرست کا جائزہ لے ہی رہی تھی کہ اچانک سے سڈنی شیلڈن میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اس دنیا میں لے جاتا ہے جہاں جگہ جگہ اس کے آنسو اور مسکراہٹیں بکھرئی ہوئی ہیں۔

Read more

کیا یہ بدن میرا تھا

میری ڈھیر ساری کتابوں کے اندر سے جھانکتی ایک کتاب دیگر کتابوں سے علحدہ اپنی دنیا میں مگن تھی کہ ایک روز اپنی تمام تر مصروفیات بالاطاق رکھ کر میں نے اس کتاب کو کھوجنے کا ارادہ کیا۔ کتاب کا عنوان کتاب کا تعارف تھا اور پھر سرورق سے بھی اندازہ ہو گیا کہ روایتی افسانوں سے ہٹ کر اس مجموعے میں کچھ مختلف پڑھنے کو ملے گا۔ کیا یہ بدن میرا تھا صبا ممتاز کے افسانوں پر مشتمل ایک گلدستہ پے۔ جسے پڑھنے کے بعد اندازہ ہو جاتا ہے کہ مصنفہ کا ادبی قد کاٹھ خاصا بلند ہے۔

Read more

جب برف سے ہم نے باتیں کیں

کچھ مناظر ہماری روح کو مُسکراہٹ بخش دیتے ہیں، ہماری آنکھوں میں رنگ بھر دیتے ہیں اور ہمارے دلوں کو سکون سے نوازتے ہیں۔ ان سکون بھرے رنگوں اور مسکراہٹوں کے ساتھ ہم زندگی کے بدصورت لمحوں کو بھی ہنس کر گزار لیتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی سکون میری روح میں بھی اُترا تھا جب…

Read more

کیونکہ میں بھی ایک استاد ہوں

چند روز پہلے رضا عابدی کا ایک کالم پڑھا تھا جس میں انہوں نے لندن میں بڑھتی ہوئی چاقو سے ہونے والی وارداتوں پر خاصی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اب میں سوچ رہی ہوں کہ ہو سکتا ہے کچھ عرصے بعد ایسی ہی ایک تحریر کوئی ہمارے ملک کے حوالے سے بھی لکھے۔ شاہ…

Read more

عینی کے لفظوں سے جُڑے چند خواب

کچھ کتابیں محض کتابیں نہیں ہوتیں علامتیں ہوتی ہیں۔ دوستی، تعلقات اور محبت بھری یہ علامتیں دیکھنے میں بہت خوبصورت لگتی ہیں۔ ایسی ہی ایک علامت ان دنوں میرے سرہانے بیٹھی مجھ سے سرگوشیوں میں رازونیاز کرتی رہتی ہے۔ مجھ سے کہتی ہے کہ میں اسے کھول کر اس کی خوشبو کو سمیٹ لوں۔ محبت سے گُندھی ہوئی اس تخلیق کا نام میرا اعتبار رکھنا ہے۔ قرۃالعین سکندر کی یہ کتاب محض کتاب نہیں ہے۔ یہ اُس کے خواب ہیں اور ان خوابوں سے لپٹی کچھ خوشبویئں ہیں جو کہانیوں کی شکل میں اُس نے صفحہ قرطاس پر منتقل کر دی ہیں۔

Read more

موت پر فیس بُک کا تصدیقی سرٹفکیٹ

چند دن پہلے کسی نے اپنی والدہ کے انتقال کے محض چند گھنٹوں بعد اُن کی موت کا اسٹیٹس لگایا تو ایک لمحے کو خیال آیا کہ اس شخص کا دل کتنا مضبوط ہے۔ بھلا کوئی اپنی ماں کو کھونے کے بعد فیس بُک استعمال کر سکتا ہے مگر پھر یہ سوچ کر میں نے اپنے دل کو تسلی دے دی کہ شاید یہ آج کل کے دور کا تقاضا ہے۔ کچھ دیر پہلے ہی کسی چینل پر اُس بدنصیب باپ کا انٹرویو چل رہا تھا جس کے پانچ چھوٹے بچے اور ایک بہن زہریلا کھانا کھانے سے موت کے منہ میں چلے گئے۔

میں جب بھی اُن بچوں کی تصاویر دیکھتی ہوں تو دل کٹ سا جاتا ہے۔ ضبط کے باوجود بھی میں آنکھوں میں آئی نمی کو روک نہیں پاتی۔ اپنے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے دفنانے کے بعد اُس شخص کی حالت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی مگر ریٹنگ بڑھانے کے لئے اُینکر اُس باپ کو کیمرے کے سامنے لے آیا، ایک بار پھر موت کہانی سُنی اور خوب داد سمیٹی۔ اُسے اس بات سے کیا غرض کہ وہ باپ اذیت کے کس مقام سے گزر رہا ہے۔ مجھے اُن رپورٹرز پر بہت رشک آتا ہے جو کسی جوان کے جنازئے پر بین ڈالتی ماں سے پوچھتے ہیں کہ آپ کیسا محسوس کر رہی ہیں۔

Read more

کیا آپ کو بھاوٗ تاوٗ کروانا آتا ہے

ہماری ایک ملنے والی آنٹی ہیں۔ ویسے تو اُن کی باغ و بہار شخصیت بہت سی خوبیوں سے آراستہ ہے مگر ایک خوبی ایسی ہے جس کے باعث وہ پورے خاندان میں ہردلعزیز ہیں۔ یہ آنٹی بھاوٗ تاوٗ کروانے میں ماہر ہیں۔ آپ ان کو اپنے ساتھ بازار لے جائیں اور انہیں ایک ٹاسک دے…

Read more