سالک ایک منفرد کتاب

لاہور انٹرنیشنل بک فیئر پر جہاں بہت سی کتب خریدیں وہیں کچھ کتابیں دوستوں کی طرف سے بھی ملیں۔ بہت دنوں سے انہی کتب میں سے ایک کتاب میری توجہ کی منتظر تھی، اس کتاب کا عنوان اور انتساب دونوں ہی چونکا دینے والے تھے۔ مصنف سے کسی حد تک تعارف تھا لیکن ان کی پہلی مکمل کتاب پڑھی ہے جس کے بعد خواہش ہوئی کہ مصنف کی مزید کتب پڑھی جائیں۔ خیر ایک روز میں نے سچ کی تلاش

Read more

شارجہ بنا کتابوں کا شہر

پبلشرز کانفرنس کے اختتام کے بعد اب مجھے شارجہ بک فیئر کو دریافت کرنا تھا۔ یہ بک فیئر دنیا کا دوسرا بڑا بک فیئر ہے اور میں نے اس کے آغاز سے قبل اس کی تیاریوں کو بھی دیکھا تھا۔ جس وسیع پیمانے پر اس کتابی میلے کی سجاوٹ جاری تھی۔ اسے دیکھ کر احساس ہو رہا تھا کہ ترقی یافتہ قومیں کس قدر محنت اور جانفشانی سے کسی بھی تقریب کو کامیاب بناتی ہیں۔ میری خواہش تھی کہ میں

Read more

احمد بشیر کے تعاقب میں

احمد بشیر صاحب سے میرا پہلا تعارف ممتاز مفتی نے کروایا تھا۔ مفتی جی کے علی پور ایلی سے لے کر الکھ نگر تک کے سفر میں احمد بشیر ان کے ساتھ ساتھ تھے۔ میں نے احمد بشیر کو نہیں پڑھا لیکن مفتی جی کی تحریروں میں ان کا تذکرہ ایسے ہی تھا جیسے وہ ہمارے ساتھ ساتھ ہوں۔ میرے ذہن میں ان کا بہت خوبصورت سا عکس بن گیا تھا۔ ایک ایسے نوجوان کا عکس جو روایتی معاشرتی بندشوں

Read more

سال نو، الخدمت اور فلسطین

عبدالحادی ایک فلسطینی بچہ ہے جو اسرائیل کی طرف سے ہونے والی حالیہ بمباری میں اپنے تمام اہل خانہ کو کھو چکا ہے۔ پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں عبدالحادی جیسے بہت سے بچے آسمان کی طرف اس امید سے دیکھ رہے تھے کہ کب آسمان سے ان کے حصے کا بم انہیں اپنی لپیٹ میں لے کر انہیں اسی جگہ پہنچا دے گا جہاں ان کے والدین اور دیگر دوست موجود ہیں۔ اسرائیل اور فلسطین

Read more

سال نو الخدمت اور فلسطین

عبدالحادی ایک فلسطینی بچہ ہے جو اسرائیل کی طرف سے ہونے والی حالیہ بمباری میں اپنے تمام اہل خانہ کو کھو چکا ہے۔ پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں عبدالحادی جیسے بہت سے بچے آسمان کی طرف اس امید سے دیکھ رہے تھے کہ کب آسمان سے ان کے حصے کا بم انہیں اپنی لپیٹ میں لے کر انہیں اسی جگہ پہنچا دے گا جہاں ان کے والدین اور دیگر دوست موجود ہیں۔ اسرائیل اور فلسطین

Read more

الخدمت کے روشن خوابوں کا سفر

دکھوں کی اس خیمہ بستی میں داخل ہوتے وقت میرے عجیب سے احساسات تھے مجھے لگتا تھا کہ جیسے ہی میرا وجود اس بستی کی مٹی سے آشنا ہو گا جیسے ہی میری آنکھیں جگہ جگہ پھیلے تباہی کے نشانات دیکھیں گی جیسے ہی میرے کانوں میں پانی کا وہی کھولتا ہوا شور سنائے دے گا جس نے لمحوں میں بستیاں اجاڑ دی تھیں۔ اس لمحے کے حصار میں آج بھی لوگ افسردہ اور خالی ہاتھ ہوں گے۔ ان بستیوں

Read more

الخدمت کے روشن خوابوں کا سفر

دکھوں کی اس خیمہ بستی میں داخل ہوتے وقت میرے عجیب سے احساسات تھے مجھے لگتا تھا کہ جیسے ہی میرا وجود اس بستی کی مٹی سے آشنا ہو گا جیسے ہی میری آنکھیں جگہ جگہ پھیلے تباہی کے نشانات دیکھیں گی جیسے ہی میرے کانوں میں پانی کا وہی کھولتا ہوا شور سنائے دے گا جس نے لمحوں میں بستیاں اجاڑ دی تھیں۔ اس لمحے کے حصار میں آج بھی لوگ افسردہ اور خالی ہاتھ ہوں گے۔ ان بستیوں میں

Read more

دیواری اشتہارات: شہر کی دیواروں کو گنجا کر دو

ان دنوں ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا بہت چرچا ہے لیکن کیا آپ نے وال مارکیٹنگ کا ہنر آزمایا ہے۔ ہمارے ایک ملنے والے میڈیکل کے امتحانات میں پے درپے ناکامیوں کے بعد بہت افسردہ تھے۔ ایک دن یونہی آوارہ گردی کرتے ہوئے شہر کی ایک دیوار پر نظر پڑی جہاں جنسی طاقت بڑھانے کی بہت سی ادویات کے سلوگن تھے۔ ان سلوگنز کو پڑھتے پڑھتے اس ناکام نوجوان کے ذہن میں ایک خیال نے سر اٹھایا اور اگلے چند دن میں

Read more

دوستوں کے درمیاں

مولانا رومی کا قول ہے کہ دوست وہ ہے جو تمہیں اس وقت پسند کرے جب تم کچھ بھی نہ ہو اور یہ بھی کہ دشمن ہمیشہ دماغ کے منتخب کرو اور دوست کردار کے، جبکہ شیخ سعدی کا کہنا ہے کہ دوست وہی ہے جو اپنے دوست کا ہاتھ اس کی پریشانی اور تنگی میں پکڑتا ہے۔ گو کہ موجودہ زمانے میں ایسے دوست خال خال ہی ملتے ہیں مگر جس کو مل جائیں وہ بلاشبہ دنیا کا خوش

Read more

ڈاکٹر عامر لیاقت سے بھگوڑا بننے تک کا سفر

یہ ان دنوں کی بات ہے جب عالم آن لائن جیو ٹی وی پر نیا نیا شروع ہوا تھا۔ شام کے اوقات میں محض آدھے گھنٹے کے لئے یہ پروگرام آتا اور فارمیٹ بھی روایتی ہی تھا جس میں مختلف دینی مسائل پر علمائے کرام سے رائے طلب کی جاتی لیکن اس پروگرام کے میزبان کا ہلکا پھلکا انداز پروگرام کی ریٹنگ کہاں سے کہاں لے گیا۔ مذہبی پروگرام لوگ کہاں اتنے شوق سے دیکھتے تھے لیکن اس نوجوان میزبان

Read more

میری آنٹی کا خالی کمرہ

میں یہ تحریر ایک خالی کمرے میں بیٹھ کر لکھ رہی ہوں لیکن یہ کمرہ ہمیشہ سے خالی نہیں تھا۔ اس کمرے میں ایک مکمل وجود سانس لیتا تھا۔ اس وجود کی تمام تر آہٹوں سے یہ کمرہ باخبر تھا۔ میری ممانی (آنٹی) کی تمام تر عبادتوں کے حصار میں ہر وقت رہنے والا یہ کمرہ اپنے مکین کی خاموشیوں کو سنتا تھا۔ ان کی تکلیفوں پر بین کرتا تھا اور ان کی مسکراہٹوں پر کئی خوشنما رنگوں میں گھر

Read more

شادی اور ذمہ داری کا کھیل

میرے لئے اس خبر میں حیران کن بات بس یہی تھی کہ ایک معاشی طور پر خود مختار خاتون نے زندگی کے راستوں کو چھوڑ کر موت کی راہ اپنا لی باقی مرنے سے پہلے تحریر چھوڑ دینا سب اب ایک روٹین کا قصہ لگتا ہے۔ مجھے یاد ہے زمانہ طالب علمی میں پہلی بار میں نے ایک ٹی وی ڈرامے میں ایک خاتون کو خود کشی کرتے دیکھا تھا۔ اس ڈرامے کا وہ منظر کتنی ہی دیر میری سماعتوں

Read more

خدا بخش کا پہلا آنسو

خدا بخش کو زندگی میں پہلی بار ڈھیر سارا رونا تب آیا جب اس کی ماں اچانک مر گئی۔ ماں کے مرنے پر رونے کا حکم نہیں تھا کیونکہ ابا جی نے سختی سے منع کر رکھا تھا کہ میت پر صرف عورتیں روتی ہیں۔ مرد دفنانے کے بعد گھر آ کر اطمینان سے کھانا کھاتے ہیں اور روزمرہ کی باتوں میں لگ جاتے ہیں۔ خدا بخش نے اس روز اپنے کتنے ہی آنسوؤں کو اپنے اندر دفن کر دیا

Read more

پاگل خانہ

”تم ذہنی طور پر اپاہج ہو چکے ہو“

صبح آٹھ بج کر چالیس منٹ پر نازنین نے فاروق سے یہ جملہ کہا تھا اور ٹھیک دس منٹ بعد فاروق اس جملے کا ہاتھ پکڑ کر اپاہج راستوں کی طرف چل پڑا تھا۔ فاروق جو غم حیات کی بے رنگ تصویر میں کچھ رنگ بھرنے کی کوشش میں گھر سے نکلنے کے لئے تیار کھڑا تھا۔ اس فقرے کے بعد اسے لگا وہ ایک بار پھر سے صفر ہو گیا ہے۔ ایسا نہیں تھا کہ نازنین نے پہلی بار اس جملے کا استعمال کیا تھا۔ نازنین کے ایسے بہت سے جملے روزانہ ہی چابک کی طرح فاروق کو لگتے تھے لیکن اس روز اس جملے کی چبھن اتنی شدید تھی کہ فاروق کا پورا وجود ناقابل بیان درد کی شدت سے کراہنے لگا تھا۔

Read more

دھویں میں گم ہوتی محبت

یونیورسٹی کا کیفے ٹیریا سورج سے اٹکھلیاں کرتی اس دوپہر میں کچی عمر کے نوجوانوں کی آوازوں سے گونج رہا تھا۔ نوجوان ٹولیوں کی شکل میں کیفے میں موجود صوفوں پر براجمان تھے۔ فضا میں سگریٹ کے دھویں کی مقدار بڑھتی جا رہی تھی۔ کیفے کے در و دیوار روز ہی یہ منظر دیکھتے تھے۔ آوارہ محبتوں کے عہد و پیمان اور سرگوشیوں میں کہے گئے محبت بھرے جملوں کی مہک ،قربتیں ،چاہتیں ،قہقہے ،آنسو،رنج و الم اور ہجر و

Read more

مستنصر حسین تارڑ اور اوس میں بھیگا لمحہ

ان دنوں لاہور کے آسمانوں پر بارشوں کے دھنک رنگ لمحوں کی قطار اتری ہوئی ہے۔ ایسے ہی ایک بھیگے لمحے میں میری آنکھوں کے سامنے وہ مناظر کسی فلم کی طرح چلنے لگے جب میں پہلی بار مستنصر سر سے ملی تھی۔ ماڈل ٹاؤن پارک کی وہ دھند میں لپٹی صبح میں کیسے بھول سکتی ہوں جب میرے قدم میری ایک آرزو کی تکمیل میں انہی راستوں کی طرف چل پڑے جہاں سے تارڑ سر گزرتے ہیں۔ کتنا بلند

Read more

ننھی چڑیا کی موت

ننھی چڑیا کی وہ پہلی اڑان نہیں تھی۔ مگر اس اڑان میں ڈھیر سارے خوف، پور پور اذیت اور میلوں تک پھیلی دہشت تھی۔ کرب ناک لمحوں نے پہلی بار چڑیا سے بہت طویل گفتگو کی تھی۔ اپنے گھروندے سے باہر نکل کر چڑیا نے فضا میں کچھ دیر کھل کر سانس لیا تاکہ اپنے اس خوف کو آزاد فضاوں کے سپرد کر سکے۔ لیکن خوف اور دہشت تو اس روز چڑیا کی سانسوں کے ساتھ ہی سفر کر رہے

Read more

وبا کے نام

ایک وقت تھا ہم انسان مل جل کر خوشیاں منایا کرتے تھے۔ ہمارے پاس ہنسی اور قہقہے وافر مقدار میں موجود تھے اور ہم ان کا بے دریغ استعمال کرتے تھے۔ ہم اپنے جذبوں کے اظہار کے معاملے میں خاصے امیر واقع ہوئے تھے۔ ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے زندگی کے عنوان سے حسین گیت گنگناتے تھے۔ ان دنوں تم دور کہیں آسمانوں پر موجود تھیں اور آنے والے لمحوں میں ہماری بے بسی کا سوچ کر تمہارے

Read more

مذاق

سوکینہ گو کہ اپنے سٹاپ کے انتظار میں تھی لیکن اب اس کی دلچسپی کا محور صرف وہی نابینا نوجوان تھا جس کے وجود سے اٹھتی دلفریب مہک مشام جاں کو معطر کیے جا رہی تھی۔ سورج کی کرنیں ابھی مکمل طور پر بیدار نہیں ہوئی تھیں۔ سوکینہ زندگی کی بھاگ دوڑ میں مصروف ایک سرکاری ادارے میں کئی سال سے سٹینو کی جاب کر رہی تھی۔ اسے اکثر یوں لگتا تھا کہ ٹائپ کرتے کرتے اس کا اپنا وجود بھی کسی کی انگلیوں تلے کچلا گیا ہے۔

Read more

عشق، عورت اور عنکبوت

یہ ناول مجھے پہاڑوں کی ایک ملکہ نے دیا تھا اور اس ناول کے اندر سے جھانکتی مصنفہ کی بہتے جھرنوں جیسی آنکھوں کا سامنا کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں تھا اور مصنفہ بھی وہ جو آپ کے لئے بہت قیمتی ہو جس کے وجود کے اندر سے صرف محبت اور وفا کی باس اٹھتی ہو۔ جو کسی ایک لمحے میں آپ کے دل کے بہت قریب ہو چکی ہو اور اس سے بڑی بد قسمتی کیا ہو گی کہ ایسی قیمتی اور پیاری دوست کے دلنشیں جملوں سے سجے گلستان میں جانے کا آپ کے پاس وقت نہ ہو ، سو ناول بھی آتے جاتے مجھے اپنے اندر اترنے کی دعوت دیتا رہا۔ جنوری کی ایک سرد رات میں بالآخر میرا وجود گل ارباب کے لفظوں سے سجے گلستان ’’عشق ،عورت اور عنکبوت‘‘ میں داخل ہو گیا۔

Read more

جنازے اٹھانے والے مرد

منظر خاصا تکلیف دہ ہے لیکن پچھلے چند دنوں سے میں روز یہ منظر دیکھتی آ رہی ہوں۔ میں خود کو دوسرے کاموں میں مصروف کر کے اس منظر سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتی ہوں لیکن یہ ہر روز یہ منظر پوری شدت سے میرے سامنے آ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ کوئٹہ شہر مجھے کتنا پیارا ہے یہ تو کوئی میرے دل سے پوچھے اور جب اس شہر کو کوئی نیا زخم ملتا ہے تو مجھے لگتا ہے

Read more

میرا پیغمبرﷺ عظیم تر ہے

کچھ عرصہ پہلے مستنصر حسین تارڑ کا ایک سفرنامہ ”غار حرا میں ایک رات“ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ویسے تو پورا سفرنامہ ہی عشق رسولﷺ میں ڈوبا ہوا ہے مگر کچھ پیراگراف پڑھ کر پڑھنے والے پر ایک عجیب سی روحانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ تارڑ صاحب لکھتے ہیں کہ غار حرا کے اندر بیٹھ کر نجانے ان کے من میں کیا سمائی۔ انہوں نے اپنی قمیض کی جیب سے ایک پین نکالا اور ایک بے خودی کے عالم

Read more

فیض والے بابا جی کا فیض

کچھ عرصہ پہلے میری ایک کزن، انڈیا سے آئی اور آتے ہی مجھے کہنے لگی، ”تم مجھے دربار لے جاؤ، میں فیض والے بابا جی کے پاس بیٹھ کر اپنے سارے آنسو بہا دینا چاہتی ہوں۔“ میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ مجھے اس کی بات سمجھ ہی نہیں آئی تھی۔

”کون سے دربار؟ اور کون سے فیض والے بابا جی؟ ادھر لاہور میں کوئی ایک دربار تھوڑی ہے!“

میرے حیرت میں ڈوبے اس سوال کے جواب میں، وہ کہنے لگی، ”باقی درباروں کا تو مجھے پتا نہیں، میں تو صرف فیض والے بابا جی کے دربار کو جانتی ہوں۔ تمہارے داتا صاحب اور ہمارے فیض والے بابا جی۔“

Read more

الزائمر ایک مرض یا پھر روگ

کچھ عرصہ پہلے الزائمر پر ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا ایک مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ اس مرض کے حوالے سے یہ خاصا معلوماتی مضمون تھا۔ اس وقت میرے گھر میں ایسا کوئی مریض موجود نہیں تھا اور میں ان مشکلات سے واقف نہیں تھی جو ان مریضوں کو اور ان کے ساتھ رہنے والوں کو پیش آتی ہیں۔ لیکن اب بہت کچھ بدل چکا ہے۔ اب یہ مرض دن رات مجھ سے ہم کلام ہوتا ہے۔ کہنے کو تو

Read more

آؤ کافر کافر کھیلیں

پچھلے دنوں ایک کتاب ”رموز کن فیکون“ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کتاب میں شامل مولانا رومی کی ایک حکایت مجھے بہت دلچسپ لگی۔ حکایت کچھ یوں تھی کہ ایک بار حضرت موسی کی نظر ایک چرواپے پر پڑی جو بھیڑ بکریاں چراتا ہوا باآواز بلند کہتا جا رہا تھا۔ ”اے میرے مالک،تو میرے پاس ہو تو میں تیری خدمت کروں ،تیری جوئیں نکالوں ،تیرا سر دھوؤں ،تیرے سر میں تیل لگاؤں ،رات کو سوتے وقت تیرے پاؤں دباؤں ،تیرے

Read more

ان بارشوں سے دوستی۔۔۔

ثمرین میری بہت اچھی دوست ہے وہ بہت سال سے سرجانی ٹاؤن کراچی کے علاقے میں رہائش پذیر ہے۔ میری اس دوست کو بارشیں بہت پسند تھیں لیکن پچھلے کچھ برسوں سے اس کا بارشوں سے پسندیدگی کا رشتہ بہت حد تک ناپسندیدگی میں بدل چکا ہے۔ ثمرین کے بقول برسات شروع ہونے سے قبل وہ شدید ڈیپریشن کا شکار ہو جاتی ہے اور یہی حال اس کے گھر کے دوسرے افراد کا ہوتا ہے۔ میری اس دوست کی اس

Read more

سر باری اور کنٹین کے عقب میں سایہ

کمرہ امتحان میں اگر مکمل نہیں تو کسی حد تک خاموشی ضرور تھی۔ سر باری گاہے بگاہے طلباء کے پرچوں پر نگاہ ڈالتے جا رہے تھے۔ ویسے بھی یہ کوئی بہت بڑے بچے نہیں تھے۔ یہ دوسری جماعت کے ننھے فرشتے تھے۔ جن کا اس روز حساب کا پرچہ تھا۔ حساب میں یا تو بچے بہت کمزور ہوتے ہیں یا پھر ان کی دلچسپی کا محور صرف حساب ہی ہوتا ہے۔ اس جماعت کے بچوں کی اکثریت حساب سے سخت

Read more

فلک زاہد کا "قدیم چرچ”

یہ ایک بھیگی ہوئی رات کا قصہ ہے جب میرا پورا علاقہ اندھیے میں ڈوبا ہوا تھا۔ میرے کمرے میں صرف ایمرجینسی لائٹ کی روشنی تھی۔ میرے موبائل اور کمپیوٹر کی بیٹری بھی بہت حد تک گر چکی تھی۔ گھر کے مکینوں کی اکثریت نیند کے ساتھ سفر پر تھی۔ مگر میں ٹیرس پر بیٹھی بارش کی آواز کے سحر میں گم تھی۔ ایسے میں میری نظر فلک کی کتاب ”قدیم چرچ“ پر پڑی اور مجھے لگا جیسے سرورق پر

Read more

کوچنگ اکیڈمی: تعلیمی ترقی کا شارٹ کٹ؟

کچھ دنوں پہلے کی بات ہے مجھے اپنی ایک دوست سے ملنے جانا تھا۔ جلدی پہنچنے کے لیے میں نے بہتر یہی سمجھا کہ شارٹ کٹ اختیار کیا جائے۔ ابھی میں نے کچھ فاصلہ طے ہی کیا تھا کہ ایک رہائشی عمارت کے سامنے مجھے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا جم غفیر نظر آیا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے شہر بھر کی ٹریفک نے ادھر ڈیرے ڈال دیے ہوں۔ میرے لیے یہ منظر خاصا حیران کن تھا کیونکہ اس راستے

Read more

خود ہی اپنا علاج کرنا، خطرۂ جاں

ہمارے ایک ملنے والے ہیں ان کو دوائیاں کھانے کی بیماری ہے وہ کڑوی سے کڑوی گولی مزیدار ٹافی کی طرح نگل جاتے ہیں اور خوش رہتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک ٹی وی ڈرامے میں ایک ایسے ہی کردار کو دیکھ کر مجھے کتنے ہی لوگ یاد آ گئے جنہیں دوائیاں کھانے کا شوق ہے۔

میرے ابا بھی ’شوقین ادویات‘ میں شامل ہیں ان کے پاس دواؤں کا ایک وسیع ذخیرہ رہتا ہے جس میں سے وہ اور ہمارے بہت سے قریبی عزیز فیض یاب ہوتے رہتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں ہر دوسرا شخص گولیاں کھانے کی بیماری میں مبتلا ہے۔ ذرا سا سر درد ہوا ڈسپرین پانی کے ساتھ نگل لی، تھکن محسوس ہوئی تو دو پیناڈول کھا لی۔ پیناڈول ہماری ’قومی دوا‘ بن گئی ہے۔

Read more

اور وبا گھر تک آ پہنچی

شیخ صاحب کو اپنی قوت مدافعت پر بہت ناز تھا۔ ان کے بیٹے کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تو مجبوراً انہیں بھی ٹیسٹ کروانا پڑا۔ حیران کن طور پر رپورٹ مثبت آئی اب شیخ صاحب حیران کہ انہیں کوئی علامات نہیں تو رپورٹ مثبت کیونکر آئی۔ دو لیبارٹریز سے ٹیسٹ کروایا لیکن دونوں کا رزلٹ مثبت آیا۔ غصے میں شیخ صاحب گھر سے نکلے اور مارکیٹ میں جا پہنچے اور خوب خریداری کی۔ گھر والوں نے بہت سمجھایا کہ انہیں

Read more

ہمیں کرونا نہیں ہو سکتا

چند ماہ پہلے کی بات ہے جن دنوں چائنا میں کرونا وائرس مکمل طور پر اپنے پنجے گاڑ چکا تھا۔ میری ایک دوست مجھے کہنے لگی یار ہم مسلمانوں کو تو کرونا نہیں ہو سکتا۔ میں نے بھی اس لمحے اس کی تائید کی۔ ہم سب کا مشترکہ خیال تھا کہ چائینیز چونکہ چھپکلی اور نجانے کیا کیا الم غلم کھاتے رہتے ہیں۔ اسی لئے انہیں کرونا ہوا ہے۔ وقت گزرا پتا چلا کرونا چین میں وقت گزارنے کے بعد

Read more

اداس لمحوں میں مسکراتی محبت

اداسی کو پہلی بار محبت نے کینسر کے ایک وارڈ میں دیکھا تھا جہاں سرطان کا زہر بدن میں لئے بہت سے مسافر شفا کے منتظر تھے۔ اداسی بھی انہی مسافروں کی مختصر سی قطار میں اپنے حصے کا درد اٹھاے خاموشیوں کے ساتھ ہمکلام تھی۔ مسافروں کے سرطان زدہ بدن زندگی کی جنگ لڑتے لڑتے اب تھکنے لگے تھے۔ طبیب نجانے کتنی ہی مشیینوں کے اندر سے ان کے زہریلے وجود کو گزارتے لیکن درد کم نہیں ہوتا تھا۔

Read more

گرم کھانے اور گمشدہ موزوں کی جنگ

میرا جسم میری مرضی جیسے مشہور سلوگن کو ابھی زیادہ وقت نہیں ہوا تھا کہ عورت مارچ کے شرکا اس برس ٕ اپنے مزید سلوگنز کے ساتھ میدان میں آ گئے ہیں۔ ایک بار کشور ناہید نے کہا تھا کہ عورت کے آگے نہ بڑھنے کی اصل وجہ مرد کی گرم روٹی ہے۔ دیکھا جاے تو گرم روٹی کی عادت تو خود عورت نے ہی مرد کو ڈالی ہے۔ اب جب مرد کی عادتیں خراب ہو چکی ہیں تو عورت

Read more

پانچ اگست دو ہزار انیس کا نوحہ

وہ پانچ اگست دو ہزار انیس کی ایک حبس زدہ دوپہر تھی۔ ایک ایسی دوپہر جب دنیا کے ایک حصے کو درد، اذیت اور آنسووں سے بھرا جا رہا تھا۔ انھیروں نے شہر بھر میں منادی کروا دی تھی کہ جہاں روشنیاں نظر آئیں انہیں فوری طور پر ضبط کر لیا جاے۔ قطار در قطار اندھیرے شہر میں بھیجے جا رہے تھے۔ روشنیوں کی رخصتی کا سفر جاری تھا۔ روتی، بلکتی اور سسکتی روشنیاں اب اندھیروں کی قید میں تھیں۔

Read more

یہ جو ماڈل ٹاون سے محبت ہے

کچھ دنوں پہلے معروف لکھاری آمنہ مفتی کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ویسے تو آمنہ کی تمام تر گفتگو بہت دلچسپ اور سننے سے تعلق رکھتی تھی مگر ماڈل ٹاون کے حوالے سے جب آمنہ نے یہ کہا کہ برسوں سے ماڈل ٹاون ایسا ہی ہے۔ یہاں کے درخت ’پھول‘ پودے اور موسم اتنے ہی خوبصورت ہیں جتنے ہجرت کے وقت تھے۔ انہیں دیکھ کر مجھے یہی لگا کہ وہ بھی میری طرح ماڈل ٹاون کی محبت کی

Read more

جنگل، خواب اور محبت کا قصہ

خواب اور محبت جب ایک ساتھ کسی جنگل میں اکٹھے ہو جائیں تو ایک بہت خوبصورت کتاب کن اکھیوں سے آپ کی طرف دیکھنے لگتی ہے۔ اپنے ڈھیر سارے آنسو اور مسکراہٹیں لے کر یہ میرے پہلو میں موجود ہے۔ میں اس کی مہک کے حصار میں ہوں۔ یونان کی دلکش فضاؤں کے قصے سناتا یہ ناول صباحت رفیق چیمہ کا من عشق دارم ہے۔ میں نے صباحت کو پہلی بار پڑھا ہے مگر اب لگتا ہے بہت بار پڑھوں

Read more

استنبول میں جاگتے میرے کچھ خواب

؛استنبول کیسا ہے؟ ؛ ؛ استنبول کی خوشبو کے کتنے رنگ ہیں؟ ؛ ؛ استنبول میں شام کے بعد کتنے ستارے زمین پر اُترتے ہیں؟ ؛ استنبول کے آسمان پرچاند کیسا دکھتا ہے یا پھر استنبول کی فضائیں آنے والوں کو کون کون سے محبت بھرے گیت سُناتی ہیں۔ میں یہ سب نہیں جانتی، مگر میں استنبول کی بارشوں کی مہک سے آشنا ہوں۔ میں اتنا جانتی ہوں کہ استنبول میں میرے کچھ خواب رہتے ہیں۔ میرے خوابوں کا شہر

Read more

وینٹی لیٹر پر پڑی یادیں

وہ آوارہ، بد مزاج اور تلخ قدموں کے ساتھ ایک بار پھر انہی لمحوں کے پاس تھی جن لمحوں کے ساتھ اس کی زندگی سانس لیتی تھی۔ بائیِس برس پہلے کا وہ ایک لمحہ جو اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ بھی تھا اور ساتھ ہی سب سے بدصورت لمحہ بھی وہی تھا۔ وہ اپنے سسکتے ہوے وجود کے ساتھ بھیگے ہوے اس سٹیشن پر موجود تھی۔ جہاں زندگی کی گاڑی کے آنے میں ابھی پورا ایک گھنٹہ

Read more

نمرتا کے خواب

رات کا جانے کون سا پہر تھا۔ نیند نمرتا کی پلکوں تلے آکر پھر سے اپنا راستہ بدل لیتی تھی۔ مسکان تھی کہ اس کے چہرے سے ایک لمحے کو جدا نہ ہوتی تھی۔ چھوٹے سے کمرے میں ڈھیر سارے ستارے اُتر آئے تھے۔ اب بھلا ستاروں کے ہوتے ہوئے آنکھیں بند ہو سکتی ہیں۔ کمرے میں بہت سے خواب بھی ان ستاروں کے ساتھ ہی خاموش کھڑے تھے۔ یہ کچی عمر کے شوخ رنگوں سے بھرے خواب تھے۔ یہ

Read more

عمران خان مجھے كیوں پسند ہیں؟

ان دنوں جب ہر طرف مہنگائی اور ٹیکسز کا طوفان آیا ہوا ہے۔ کپتان کے حق میں بولنے والے افراد اکثر محفل میں تنقید کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔ ہر طرف یہی سننے کو ملتاہے کہ کپتان نے سوائے مہنگائی کے قوم کو دیا کیا ہے اور یہ بات کسی حد تک ٹھیک بھی ہے۔ مگر مہنگائی کے پیچھے کی کہانی کوئی بھی سننے کو تیار نہیں ہوتا۔ میرے اپنے گھر میں مجھے کپتان کے دفاع میں بولنے پر اکثر

Read more

صدائے حق کا مسافر

یہی کوئی لگ بھگ دو مہینے پہلے کی بات ہے۔ آل پاکستان رائٹرز ویلفیر ایسوی اسیشن کے سنیر نائب صدر ایم ایم علی نے مجھے اپنی کتاب صدائے حق پڑھنے کے لئے دی۔ اس کتاب میں میرا ایک تبصرہ بھی شامل ہے۔ اس لئے کتاب کے متن سے کم و بیش میں واقف تھی مگر پوری کتاب پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ صدائے حق ایم ایم علی کے کالمز کا مجموعہ ہے۔ سنجیدہ قسم کے کالمز چونکہ میرے مزاج

Read more

سوات کے سات رنگ

یہ کوئی پہلی بار تو نہیں ہوا تھا میں تو اکثر خوابوں میں پہاڑوں کے ساتھ ہمکلام ہوتی ہوں۔ مگر اب کی بار یہ سلسلہ تھوڑا عجیب تھا۔ اب اکیلے پہاڑ مجھ سے ملنے نہیں آتے تھے۔ اب دریاوں کے گیت بھی سُنائی دینے لگے تھے۔ دریاوں کے ساتھ جُڑے پتھروں پر میں اپنے قدموں کے نشان دیکھنے لگی تھی۔ چشموں اور آبشاروں کے رنگوں سے میرا وجود رنگنے لگا تھا۔ میں ان پتھروں پر چلتی تھی۔ میں بادلوں کے

Read more

بارشوں میں بھیگتی لڑکی

اُسے بارشیں بہت پسند تھیں بلکہ نہیں پسند کا لفظ بہت معمولی ہے۔ اُسے تو بارشوں سے عشق تھا۔ کُن من کرتی ننھی ننھی بوندیں جب آسمان سے زمین پر اُترتی تھیں تو وہ بھی اُن کے ساتھ ہی بہتی چلی جاتی تھی۔ بارشیں گیت تھیں تو وہ اُن کی آواز تھی۔ بارشیں تال تھیں تو وہ اس تال پر محوِرقص تھی۔ بارشیں محبت تھیں تو وہ ایک محبوب جسے اپنی محبت کے ساتھ اپنے وجود کو امر کرنا تھا۔

Read more

پنجرے میں بند قیدی کی موت

قاہرہ کے آسمانوں پر ستارے تو روز ہی نکلتے تھے اور روز ہی خلقِ خدا کو خالق کی نافرمانیوں میں مشغول دیکھ کر اُداسی سے واپس لوٹ جاتے تھے مگر اُس رات ستاروں کی آنکھوں میں صرف اُداسی کے رنگ نہیں تھے۔ اُن کی آنکھوں میں نمی تھی۔ دور دور تک آنسووٗں نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ آسمان کی رنگت سیاہی مائل تھی اور یوں لگتا تھا کہ جیسے یہ آسمان قہر کی صورت زمین والوں پر برس پڑے گا مگر ابھی اس کا حکم نہیں تھا اور ستاروں کو بھی اپنے آنسووٗں کو ضبط کرنا تھا۔

Read more

فضیلت بیگم کا ماہ رمضان

فضیلت بیگم کا تعلق معاشرے کے اس طبقے سے ہے جن کی کتابِ زیست کے رنگین ہونے کا دارومدار ماہ رمضان میں زکوة لینے سے مشروط ہے۔ زکوة لینے کا بزنس برسوں سے ان کے خاندان کی پہچان ہے۔ ماہ صیام کی آمد سے پہلے ہی فضلیت بیگم خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ مل کر باقاعدہ طور پر منصوبہ بندی کرتی ہیں کہ رمضان میں کن کن گھروں سے زکوة اکٹھی کرنی ہے۔ کون سی مساجد کے باہر بیٹھنا ہے اور کن ٹی وی چینلز کی سحروافطار کی ٹرانسمیشنز میں شرکت کرکے اپنا بینک بیلنس بڑھانا ہے۔

Read more

چھے سال کے آنسو

میرے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر ماڈل ٹاٶن کا قبرستان ہے۔ چھے سال پہلے میرے لئے بھی یہ ایک عام سا قبرستان تھا۔ گو کہ اس قبرستان میں ہمارے خاندان کی بہت سی قبریں ہیں مگر ان قبروں پر سال میں ایک آدھ بار معمول کے انداز میں فاتحہ خوانی کرنے کے بعد میں گھر لوٹ جاتی تھی۔ یہ قبرستان مجھ سے باتیں نہیں کرتا تھا اور نہ ہی اس کے درودیوار میرے رازدان تھے۔ پھر یوں ہوا کہ اس شہرِ خاموشاں میں ایک نئے مکین کا اضافہ ہو گیا۔

Read more

لائٹ ہاٶس یا پھر لائف بوٹ

کچھ کتابیں محض کتابیں نہیں ہوتیں یہ زندگی بچانے والے ہاتھ ہوتے ہیں۔ لائٹ ہاٶس کی مانند روشنی دکھانے والے مینار ہوتے ہیں یا پھر لائف بوٹس کہلانے والی وہ کشتیاں جن کا کام ہی ڈوبتے ہوے لوگوں کو کنارے پر لے جانا ہوتا ہے۔ صوفیہ کاشف کی کتاب گہر ہونے تک کا شمار بھی ایسی ہی کتابوں میں ہوتا ہے جو مایوسی کے اندھیروں میں روشنی کا کام کرتی ہیں۔ کتاب کا سرورق نہایت عمدہ ہے۔ کتاب کھول کر ابھی میں ایک متاثر کن پیش لفظ پڑھ کر فہرست کا جائزہ لے ہی رہی تھی کہ اچانک سے سڈنی شیلڈن میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اس دنیا میں لے جاتا ہے جہاں جگہ جگہ اس کے آنسو اور مسکراہٹیں بکھرئی ہوئی ہیں۔

Read more

کیا یہ بدن میرا تھا

میری ڈھیر ساری کتابوں کے اندر سے جھانکتی ایک کتاب دیگر کتابوں سے علحدہ اپنی دنیا میں مگن تھی کہ ایک روز اپنی تمام تر مصروفیات بالاطاق رکھ کر میں نے اس کتاب کو کھوجنے کا ارادہ کیا۔ کتاب کا عنوان کتاب کا تعارف تھا اور پھر سرورق سے بھی اندازہ ہو گیا کہ روایتی افسانوں سے ہٹ کر اس مجموعے میں کچھ مختلف پڑھنے کو ملے گا۔ کیا یہ بدن میرا تھا صبا ممتاز کے افسانوں پر مشتمل ایک گلدستہ پے۔ جسے پڑھنے کے بعد اندازہ ہو جاتا ہے کہ مصنفہ کا ادبی قد کاٹھ خاصا بلند ہے۔

Read more

جب برف سے ہم نے باتیں کیں

کچھ مناظر ہماری روح کو مُسکراہٹ بخش دیتے ہیں، ہماری آنکھوں میں رنگ بھر دیتے ہیں اور ہمارے دلوں کو سکون سے نوازتے ہیں۔ ان سکون بھرے رنگوں اور مسکراہٹوں کے ساتھ ہم زندگی کے بدصورت لمحوں کو بھی ہنس کر گزار لیتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی سکون میری روح میں بھی اُترا تھا جب لکھاریوں کی ایک تنظیم اپوا سے جُڑے چند لکھاریوں نے سفید رنگوں سے بھری ایک وادی میں اپنے قدموں کو اُترنے کی دعوت دی۔ جنوری

Read more

کیونکہ میں بھی ایک استاد ہوں

چند روز پہلے رضا عابدی کا ایک کالم پڑھا تھا جس میں انہوں نے لندن میں بڑھتی ہوئی چاقو سے ہونے والی وارداتوں پر خاصی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اب میں سوچ رہی ہوں کہ ہو سکتا ہے کچھ عرصے بعد ایسی ہی ایک تحریر کوئی ہمارے ملک کے حوالے سے بھی لکھے۔ شاہ حسین اور خدیجہ کیس تو آپ کو یاد ہی ہوگا جس میں شاہ حسین نے خدیجہ پر چاقو کے وار کیے تھے۔ ابھی چند ماہ

Read more

عینی کے لفظوں سے جُڑے چند خواب

کچھ کتابیں محض کتابیں نہیں ہوتیں علامتیں ہوتی ہیں۔ دوستی، تعلقات اور محبت بھری یہ علامتیں دیکھنے میں بہت خوبصورت لگتی ہیں۔ ایسی ہی ایک علامت ان دنوں میرے سرہانے بیٹھی مجھ سے سرگوشیوں میں رازونیاز کرتی رہتی ہے۔ مجھ سے کہتی ہے کہ میں اسے کھول کر اس کی خوشبو کو سمیٹ لوں۔ محبت سے گُندھی ہوئی اس تخلیق کا نام میرا اعتبار رکھنا ہے۔ قرۃالعین سکندر کی یہ کتاب محض کتاب نہیں ہے۔ یہ اُس کے خواب ہیں اور ان خوابوں سے لپٹی کچھ خوشبویئں ہیں جو کہانیوں کی شکل میں اُس نے صفحہ قرطاس پر منتقل کر دی ہیں۔

Read more

موت پر فیس بُک کا تصدیقی سرٹفکیٹ

چند دن پہلے کسی نے اپنی والدہ کے انتقال کے محض چند گھنٹوں بعد اُن کی موت کا اسٹیٹس لگایا تو ایک لمحے کو خیال آیا کہ اس شخص کا دل کتنا مضبوط ہے۔ بھلا کوئی اپنی ماں کو کھونے کے بعد فیس بُک استعمال کر سکتا ہے مگر پھر یہ سوچ کر میں نے اپنے دل کو تسلی دے دی کہ شاید یہ آج کل کے دور کا تقاضا ہے۔ کچھ دیر پہلے ہی کسی چینل پر اُس بدنصیب باپ کا انٹرویو چل رہا تھا جس کے پانچ چھوٹے بچے اور ایک بہن زہریلا کھانا کھانے سے موت کے منہ میں چلے گئے۔

میں جب بھی اُن بچوں کی تصاویر دیکھتی ہوں تو دل کٹ سا جاتا ہے۔ ضبط کے باوجود بھی میں آنکھوں میں آئی نمی کو روک نہیں پاتی۔ اپنے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے دفنانے کے بعد اُس شخص کی حالت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی مگر ریٹنگ بڑھانے کے لئے اُینکر اُس باپ کو کیمرے کے سامنے لے آیا، ایک بار پھر موت کہانی سُنی اور خوب داد سمیٹی۔ اُسے اس بات سے کیا غرض کہ وہ باپ اذیت کے کس مقام سے گزر رہا ہے۔ مجھے اُن رپورٹرز پر بہت رشک آتا ہے جو کسی جوان کے جنازئے پر بین ڈالتی ماں سے پوچھتے ہیں کہ آپ کیسا محسوس کر رہی ہیں۔

Read more

کیا آپ کو بھاوٗ تاوٗ کروانا آتا ہے

ہماری ایک ملنے والی آنٹی ہیں۔ ویسے تو اُن کی باغ و بہار شخصیت بہت سی خوبیوں سے آراستہ ہے مگر ایک خوبی ایسی ہے جس کے باعث وہ پورے خاندان میں ہردلعزیز ہیں۔ یہ آنٹی بھاوٗ تاوٗ کروانے میں ماہر ہیں۔ آپ ان کو اپنے ساتھ بازار لے جائیں اور انہیں ایک ٹاسک دے دیں کہ آپ نے ہزار روپے والی چیز سو روپے میں لانی ہے بس پھر آنٹی اپنا کام شروع کر دیں گی اب چاہے اُنہیں

Read more

شادی مبارک

ان دنوں شادیوں کا سیزن اپنے عروج پر ہے یوں لگتا ہے جیسے نئے شادی شدہ جوڑوں کی بہار آ گئی ہو۔ جیسے ہی ویک اینڈ اپنی آمد کا اعلان کرتا ہے ساتھ ہی شادی کا بگل ہمیں ہر طرف سنائی دینے لگتا ہے۔ شام ہوتے ہی سڑکوں پر قطار در قطار براتیں اپنی خوشبوئیں بکھیرنا شروع کر دیتی ہیں۔ بیوٹی پارلرز میں سے نکلتی دلہنیں علحدٰہ اپنے جلوے دکھا رہی ہوتی ہیں غرض شادی کا منظر ہر طرف رقص

Read more

تیرے جانے کے بعد

چلو ایک لمحے کے لئے یہ تصور کر لیتے ہیں کہ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ دن آن پہنچا ہے جس روز ہماری آنکھوں کو تمہیں دیکھے بغیر ہی پہاڑ جیسے لمحے کاٹنے پڑیں گے، تمہاری خوشبو کو محسوسکیے بغیر ہی ہمیں ایک طویل دن گزارنا ہو گا۔ رنگوں سے خالی ان لمحوں میں میری پہہلی نظر تمہارے آفس کی طرف جاتی ہے جہاں تمہاری کُرسی تمہارے وجود کے بغیر ادھوری اور بے جان پڑی ہے۔ تمہاری میز کی دائیں

Read more

روحی بانو اور روبینہ پروین جیسے لوگوں کا المیہ

روحی بانو اور روبینہ پروین جیسے فنکاروں کے دکھ نے نہیں ہیں مگر نجانے کیوں مجھے ہر بار اُن کے آنسو اپنے اندر گرتے ہوے محسوس ہوتے ہیں۔ فاؤنٹین ہاوٗس یا پھر گلبرگ کی سڑکوں پر اپنی بے بسی کا ماتم مناتی روحی بانو ہو یا پھر چوبرجی جیسی معروف شاہراہ پر بے یارومددگار پڑی روبینہ پروین ہو، دونوں کا تعلق معاشرے کے ایک ایسے طبقے سے ہے جو حبس زدہ معاشرے میں زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مگر

Read more

ادب کے بڑے بڑے نام اور عمیرہ اور نمرہ احمد کی مخالفت

کچھ دنوں پہلے فیس بُک پر ایک پوسٹ دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک مرد لکھاری نے ایک خاتون لکھاری کی تحریری منظر کثی کے متعلق بڑے ظنزیہ انداز میں بات کی تھی مگر یہ کوئی واحد پوسٹ نہیں تھی، سوشل میڈیا پر خواتین لکھاریوں کے انداز تحریر کو لے کر منفی انداز کے تبصرئے اکژ میری نظر سے گزرتے ہی رہتے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر خواتین اتنا ہی بکواس لکھتی ہیں تو پھر اُن کے

Read more

کپتان کے ناراض ووٹرز

مس رفعت کا شمار میری اُن چند قریبی ملنے والی خواتین میں ہوتا ہے جو تحریک انصاف کی بہت جنونی انداز میں حمایت کرتی ہیں۔ ہم دوستوں کے سامنے جب بھی کوئی عمران خان کے حوالے سے کسی بھی قسم کی منفی بات کرتا ہم اُسے مس رفعت کے پاس بھیج کر مطمعن ہو جاتے کہ وہ اب اُسے کسی نہ کسی طرح کپتان کی حمایت کے لئے قائل کر ہی لیں گی۔ کپتان کے وزیراعظم بننے کے بعد بھی

Read more