ہم یہ تو کر سکتے ہیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک عرصہ قبل پاکستان کی معروف جامعہ میں بین الاقوامی شہرت کے حامل استاد تھے، سیاسیات میں پی ایچ ڈی کر رکھی تھی ان کا تحقیقی و علمی کام بھی قابل رشک تھا۔ اچانک کسی یورپی ملک میں سیٹل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ طلباء کو علم ہوا تو استفسار کیا کہ کیوں جا رہے ہیں۔ آپ جیسی شخصیات کو تو ملک میں رہ کر اس کی بہتری کے لئے کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان کو آپ جیسے لوگوں کی اشد ضرورت ہے۔ پروفیسر صاحب گویا ہوئے : ”اگر اگلے پچاس سال تک بہتری آنے کی کوئی مجھے ضمانت دے دے تو میں رکنے کے لئے تیار ہوں“ طلباء کے ساتھ ان کا یہ آخری مکالمہ تھا۔

پروفیسر صاحب چلے گئے۔ سال دو سال بعد طلباء بھی یونیورسٹی سے فارغ ہو کر اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہو گئے۔ وقت بیتتا رہا۔ اس واقعے کو کم و بیش بیس سال ہونے کو ہیں مگر حالات کا رونا جوں کا توں، مشرف دور کا ابتدائی زمانہ تھا، قوم کو بتایا گیا کہ ناگفتہ بہ حالات کے ذمہ دار کرپٹ اور نا اہل سیاسی قوتیں ہیں، انہیں ان کے انجام سے دوچار کرنا ہی پاکستان کے مسائل کا حل ہے۔ بدقسمتی سے پاکستانی قوم کو ہر بار احتساب، انقلاب، خوشحالی اور اسلام کے نام پر ہی چونا لگایا گیا۔

قوم کو سمجھتے سمجھتے دس سال لگ گئے اور مزید دس سال اس گند کو صاف کرتے کرتے۔ کوئی شک نہیں وقت کبھی کسی کا منتظر نہیں ٹھہرا، اسے تو بہرحال مقررہ رفتار سے بھاگے ہی جانا ہے۔ مگر ہم ایسی ”گھمن گیریوں“ میں ہیں کہ وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔ بہتری کے امکانات وعدوں دلاسوں سے زیادہ کچھ نہیں۔ ہم سب پوری شدومد سے ایک ہی راگ الاپتے آ رہے ہیں کہ ”نظام خراب ہے“ یہ نظام آخر کس بلا کا نام ہے؟ کیا ہم اس نظام کا حصہ نہیں ہیں؟ مزے کی بات یہ ہے کہ جب بھی کوئی نظام کی خرابی کی بات کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو خراب نظام کا حصہ سمجھتا ہے نہ ذمہ دار۔

میں پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی پرامید ہوں اور اس کی واحد وجہ معاشرتی سطح پر موجود احساس اور فکرمندی ہے جس میں ہر پاکستانی مبتلا ہے۔ یہ وہ چنگاری ہے جسے بالآخر ایک دن آلاؤبن کر پرانے بوسیدہ نظام کو خاکستر کرنا ہی ہے۔ ہم سب اسی نظام کے کل پرزے ہیں۔ جس طرح قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے بالکل اسی طرح فرد فرد نظام وجود میں آتا ہے۔ ہمارا مسئلہ اخلاقی نوعیت کا ہے یا پھر تربیت کا شدید فقدان۔ ہم حکمران چننے کے بعد ہر کام کی توقع انہی سے کیوں باندھ لیتے ہیں۔

بعض ماہرین سماجیات معاشرے کو ایک نامیاتی جسم سے تشبیہ دیتے ہیں۔ معاشرتی نظام ہو یا ریاستی نظام فرد ہی اس کی اکائی ہے۔ بہت ساری اکائیاں اگر اپنی اپنی جگہ احساس ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے درست کام شروع کردیں تو کیا بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی۔ ریاستی جبر کے تحت چاروناچار اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہونے کی بجائے اگر آزاد انسانوں کی سی روش اپنا لیں تو بعید نہیں کہ ہم ایک مثالی معاشرے میں رہ رہے ہوں۔

ہم پورے نظام میں سے کرپشن تو ختم نہیں کر سکتے مگر کیا ہم اپنے آپ سے یہ وعدہ نہیں کر سکتے کہ اپنی ذات کی حد تک کسی قسم کی کرپشن کا حصہ نہیں بنیں گے۔ ہم پورے ملک کو تو صاف ستھرا نہیں کرسکتے مگر کیا ہم اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ ہم گند ڈالنے والوں میں سے نہ ہوں بلکہ اپنے آس پاس کو حتیٰ المقدور صاف ستھرا رکھیں۔ ہم پورے نظام کا تو احتساب نہیں کر سکتے مگر کیا ہم اپنے گریبان میں بھی نہیں جھانک سکتے؟ ہم ہر کسی کو تو قانون پر عمل کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے مگر ہم یہ تو کر سکتے ہیں کہ اپنی ذات کی حد تک عہد کر لیں کہ کبھی بھی ملکی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرنی۔

ہم ہر کسی کو ٹریفک قوانین پر مجبور نہیں کر سکتے مگر اپنے آپ کو تو پابند کر سکتے ہیں۔ ہم ہر کسی کو اچھا اخلاق اپنانے پر مجبور نہیں کر سکتے مگر کیا خود بھی نہیں اپنا سکتے؟ پورے ملک کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا یقیناً ہمارے بس میں نہیں مگر ہم اپنے بچوں کو تعلیم و تربیت دے کر اچھے شہری و انسان تو بنا سکتے ہیں۔ ہم ٹیکس چوروں کے حوالے سے بے بس ہیں مگر اپنی ذات کی حد تک ہم ایمانداری سے واجبات ادا کر کے ملک و قوم کو مصائب سے نکال سکتے ہیں۔ ہم چوروں ڈاکوؤں کو منتخب ہونے سے تو نہیں روک سکتے مگر کیا ہم اپنی ذات کی حد تک یہ عہد نہیں کر سکتے کہ کسی ایسے بندے کو ووٹ نہیں دینا جس کا کردار مشکوک ہو اور وہ ملک قوم کے لئے کسی طور بھی فائدہ مند نہ ہو۔

ہم تبدیلی کی امید اوپر سے لگائے بیٹھے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہو سکتا معاشرتی و اجتمائی تبدیلی کا دارومدار انفرادی تبدیلی پر ہے۔ جب تک کلچر تبدیل نہیں ہوگا تبدیلی کے بلند وبانگ دعوے محض دعوے ہی رہیں گے۔ حکمران و اشرافیہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں ان کی تربیت بھی انہیں خطوط پر ہوئی ہے جن پر ہم سب کی۔ وہ بھی اسی کلچر کا حصہ ہیں جس کا ہم۔ معاشرتی بہتری کے لئے ہر فرد کو اپنا کردار نبھانا ہوگا۔ کوئی شک نہیں قوم میں موجود احساس کو سمت دینے کے لئے قیادت کا رول انتہائی اہمیت کا حامل ہے مگر محض قیادت کو یہ ذمہ داری سونپ کر بے فکر ہو جانے سے معاملات حل نہیں ہو پائیں گے۔

بنیادی سطح پر خوشگوار تبدیلی کی بنیاد کے لئے ہر فرد کے لئے اپنا کردار پہچاننا ضروری ہے۔ ریاست اور معاشرے کا سب سے بنیادی ادارہ خاندان ہے اور بہتری کی جانب بڑھنے کی خاطر خاندان کو اپنا کردار نبھانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ مناسب اور ضروری تربیت بہترین کردار ادا کر سکتے ہیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •