ہم یہ تو کر سکتے ہیں!

ایک عرصہ قبل پاکستان کی معروف جامعہ میں بین الاقوامی شہرت کے حامل استاد تھے، سیاسیات میں پی ایچ ڈی کر رکھی تھی ان کا تحقیقی و علمی کام بھی قابل رشک تھا۔ اچانک کسی یورپی ملک میں سیٹل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ طلباء کو علم ہوا تو استفسار کیا کہ کیوں جا رہے ہیں۔ آپ جیسی شخصیات کو تو ملک میں رہ کر اس کی بہتری کے لئے کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان کو آپ جیسے لوگوں کی اشد ضرورت ہے۔ پروفیسر صاحب گویا ہوئے : ”اگر اگلے پچاس سال تک بہتری آنے کی کوئی مجھے ضمانت دے دے تو میں رکنے کے لئے تیار ہوں“ طلباء کے ساتھ ان کا یہ آخری مکالمہ تھا۔

Read more

سانحہ نیوزی لینڈ۔ کچھ سیکھنے لائق

یہ دنیا ہے ہی جائے سانحات، سانحہ در سانحہ اس کا مقدر، آپ لاکھ اختلاف کریں لیکن اگر اپنی ذات کی گہرائی میں اتر کر بغور مشاہدہ کریں، اپنی عبادات، حسن اخلاق، ظاہری حلیہ، روز مرہ معمولات زندگی اور پھر پچیدہ تر سوچ پر غور کریں آپ کو یہ سمجھنے میں ذرا بھی دقت نہیں ہوگی کہ یہ انسان نامی جانور بنیادی طور پر خود غرض، لالچی اور جھگڑالو ہے، ہاں مگر اس کے اندر پوشیدہ اس گند کو مذاہب اور اخلاقیات نامی نظام نے ڈھانپ کر خوش نما بنا رکھا ہے۔

Read more

اس سے پہلے کہ زخم ناسور بن جائیں

ہم پوری ڈھٹائی سے مصر ہیں کہ ہم نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھنا، ہم بار بار انہی راستوں کا انتخاب کیوں کرنے سے باز نہیں آ رہے جن پر چل کر ہم ذلت کی گہری کھائیوں میں پہلے بھی گر چکے ہیں، میں اسے کوئی نام دینے سے قاصر ہوں، بے حسی کہوں، جھوٹی اناؤں کی قید یا پھر مجرمانہ غفلت، بہرحال جو بھی ہے ٹھیک نہیں ہے۔

ارسطو نے کہا تھا ”ریاست خاندانوں اور دیہاتوں کا ایسا مجموعہ ہے جو خوشیوں بھری زندگی حاصل کرنے کے لئے قائم کی جاتی ہے“ محض ارسطو ہی نہیں متعدد علمائے سیاست و معاشرت کا بھی ایسا ہی خیال رہا ہے، خیر اب ریاست محض خاندانوں اور دیہاتوں کا مجموعہ تو نہیں رہی، اس کا دائرہ کار اس سے کہیں آگے پروان چڑھ چکا ہے مگر ”خوشیوں بھری زندگی“ کی فراہمی ریاست کا اولین اور انتہائی مقصد ہے اسے کسی طور جھٹلایا نہیں جا سکتا۔

Read more

احسان کرتے جو تین گولیاں اور چلا دیتے

ایک تقریب میں مصروف ہونے باعث کافی دیر تک سوشل میڈیا نہیں دیکھا تھا۔ رات آٹھ بجے کے قریب دوست کا فون آیا تو اس نے ساہیوال واقعے سے متعلق آگاہ کیا، واقعے کی سنگینی، حساسیت اور بربریت کا اندازہ ہی نہ تھا۔ رات گئے موبائل کا ڈیٹا آن کیا تو دھڑا دھڑ وٹس ایپ،…

Read more

جابر عوام کے سامنے کلمہ حق کہنا مشکل ترین کام ہے

معروف دانشور اور ادیب عطا الحق قاسمی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا ”بے شک جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا مشکل کام ہے مگر جابر عوام کے سامنے کلمہ حق کہنا مشکل ترین کام ہے“ میٹھا میٹھا لکھنا، کہنا بہت آسان، کڑوا کہنے، لکھنے کی کوشش کی تو کڑواہٹ زدہ تھوکیں بارش بن کر نازل ہوں گی۔ آپ سیاستدانوں کے بے شک لتے لیتے رہیں کوئی مشکل نہ ممانعت، آپ ریاستی اداروں پر بھی جی بھر کر تنقید کریں مشکل تو ہو گی مگر کوئی اتنی بڑی بھی نہیں کہ آپ سہہ نہ سکیں۔

دل کا بوجھ ہلکا کرنا مقصود ہو اور آپ کو معاشرتی بہتری کے دورے پڑتے ہوں تو واپڈا، پولیس، تعلیم، صحت اور اس جیسے دیگر اداروں کے خلاف دل کی بھڑاس نکال لیں بیچارے کچھ نہیں کہیں گے، پھر بھی جی نہ بھرے تو بھلے حکومت کو صلواتیں سنا دیں کوئی مائنڈ نہیں کرے گا بلکہ آپ کو عوامی مسائل اجاگر کرنے کے صلے میں عوامی سطح پر بے باکی کی سند بھی عطا ہو جائے گی۔ مگر کبھی غلطی سے بھی رائے عامہ کے ساتھ پنگا لینے کی کوشش نہ کرنا خاص طور پر جب معاملہ مذہبی جذبات یا صدیوں میں پروان چڑھنے والی عظیم الشان روایات کا ہو بھلے مہذب دنیا اسے شک کی نظر سے دیکھتی ہو۔

Read more