پچھلا دروازہ اور دیگر نثر پارے
” پچھلا دروازہ“
آج بہت دنوں کے بعد خود سے گپ شپ کرنے کا موقعہ ملا۔ گفتگو نے شدت کا رنگ پکڑا اور ایک عجیب سا ہیجان پیدا ہو گیا۔ سوچا، کیا زندگی اسی کا نام ہے کہ ہم ذمیداریوں کے انبار تلے، حقوق وفرائض کی جنگ میں، خوشیوں کے تعاقب کرتے کرتے خود سے لا تعلقہوجائیں۔ وقت کی رو میں اتنا بہہ جائیں کہ خود کو ہی کہیں کھو بیٹھیں۔ پھر خیال آیا وقتا فوقتا اس بارے میں پہت کچھ کہا سنا جا چکا ہے مگر بات تو صرف عمل کرنے کی ہے جو ہم پہ ہی لاگو ہوتی ہے۔
ہر طرف جو نفسا نفسی پھیلی ہے وہ اور کچھ نہیں بلکہ ایک وبال جان ہے۔ ہوسپیسے کی، رُتبے کی، شہرت کی، برتری کی، انا کی، حتا کہ ظلم کی۔ ظلم جوہم اپنے ساتھ کرتے ہیں۔ کسی جلتی لکڑی کی طرح آگ کی بھٹی میں جیسے کسی نے پھینک دیا ہو۔ دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ سُلگ جائے۔ راکھ کا ڈھیر ہو اور ایک ہوا کے جھونکے سے بکھر کے فنا ہو جائے۔ پھرالزام بھی دوسروں کو دیتے ہیں۔ ہاں بھائی زمانہ ہی ایسا ہے 00000 کرے کوئی بھرے کوئی۔
بات کچھ لمبی ہو جاتی مگر میں نے گفتگو کاسلسلہ منقطع کرتے ہوئے خود سے سوال کر ہی لیا۔ اے خودی! یہ جوآج حساب کتاب کرنے بیٹھی ہو کچھ اندازہ بھی ہے کیا عمر ہو گئی؟ جواب ملا ہاں خوب معلوم ہے لیکن آج جو تم ساتھ آن ہی بیٹھی ہو توکیوں نہ کچھ کہہ سُن لیں بیتے دنوں کے معملات رفع دفع کر لیں۔ اسسے پہلے میں کچھ اور سوال کرتی جوابوں اور تعنوں کی تو جیسے بوچھاڑشروع ہو گئی۔ الفاظ کہاں دم لیتے یہی سوچ کہ میں نے چپ ٹھان لی۔ اور فائنلی! خاموشی دونوں طرف سے ہو گئی۔ اب میں یہاں اور وہوہاں۔ ناراض ہے مجھ سے کہتی ہے!
کیوں اوروں کے دُکھ پالیں ہیں
جب خود کے دل پہ چھالے ہیں
میں جیسے احساس کی بھٹی میں جل گئی۔ یہ کیا رنگ دکھا دیا میں اپنی محبت کا دروازہ دوسروں کے لئے کھلا رکھتی رہی۔ وہ دروازہ جو میری فطرت کی عکاسی کرتا، میری شناخت کی تصویر بنا ایسی تصویر جو ہمیشہ خوبصورت دکھانے کی تگ و دو میں میں لگی رہی اور یہ بھول گئی کہ ایک دروازہ اور بھی ہے جو پیچھے کی جانب کُھلتا ہے جس کا راستہ میرے دل کو جاتا ہے یہ دروازہ کیوں بند رکھتی ہوں۔ دوسروں سے محبت کرنا اچھی بات ہے لیکن بات تو سچ ہی ہے محبت تو وہ ہے جو خود سے بھی کیجائے اور بار ہا کی جائے۔
اس لئے آج میں نے وہ پچھلا دروازہ کھول دیا!
” محبت ہمجولی“
محبت ہمجولی جس کا ساتھ ازل سے ابد تک ہمارے ساتھ لکھ دیا گیاہے۔ یہ کسی نا کسی شکل میں اک کہانی کی طرح اپنی تو ہے لیکن اس کا نہ وجود ہے نہ تمدن بس گھر کر جاتی ہے ہمارے دلوں میں۔ آتی ہے چپکے سے دبے پاؤں اور کبھی زور شور سے۔ نہ دن دیکھتی ہے نہ رات، نہ عمر نہ ساخت بس پیچھے ہی پڑھ جاتی ہے۔ لاکھ دروازے بند کرو ضدیایسسی کے اللہ کی پناہ، بے تکلف اتنی کہ اپنا بنا کے ہی دم لے اورکبھی کبھی تو اس قدر من مانی کرتی ہے کہ کھینچ لے جاتی ہے کسی اورکے در پر بھیک مانگنے!
کھٹکھٹاتی ہے کنڈی۔ بار بار۔ کئی بار۔ ابدروازہ کھل جائے تو کچھ بھیک مل جائے لیکن ہمیشہ قسمت مہربان نہیں ہوتی۔ اُمید کی کرن اکثر رات کی چاندنی تک بن جاتی ہے۔ گرتے پڑتے گھر لوٹیں مگر نہیں۔ اس کو تو وہیں ڈیرا ڈالنا ہے۔ اب کون اسپگلی کو سمجھائے کہ انا کی زنگ سے اٹے بند دروازے کبھی نہیں کُھلتے۔ پکار، فریاد، آہ و زاری پھر ایک لامتناہی سلسلہ۔ منت سماجت کرو، گھرلاؤ تو کہیں بات بنے۔ مگر ان کی ادائیں تو۔ توبہ! سر چڑھ کے بولیں۔
اب کے سوچتی ہوں اس کو فارغ کروں۔ کیسا ساتھ نبھایا
ہے کہ روگ جی کو لگایا ہے۔
” ربط“
متعدد دفعہ فون کی گھنٹی بج کر آخرخاموش ہو گئی۔ ایکسناٹا اندھیرے کمرے میں کسی کی غیر موجودگی کا احساس دلا رہا تھا۔ شایدگھر پہ کوئی نہیں تھا۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر سب لوگ کہاں چلے گئے۔ یہ گھر تو ہمیشہ لوگوں سے کھچا کھچ بھرا رہتا تھا۔ گھر کے سربراہ رحمن صاحب گھر میں ہوں یا نا ہوں رشتے داروں اور محلے داروں کاتانتا بندھا ہی رہتا۔
رحمن صاحب بہت ہی قابل تعریف، مقبول اور اپنے علم و فہمی کی وجہ سے منظور نظر انسان رہے تھے۔ شوق اور ذوق بے پناہ زندگی کے تجربوں سے حاصل کیا تھا۔ بچے بوڑھے سب ہی گرویدہ معلوم ہوتے تھے۔ بہت کم عمری میں ہی دلوں پہ راج کر چکے تھے اور خاندان میں کبھی بھی کوئی مثال دینی پڑتی تو رحمن صاحب کی دانشمندی کا ہی ذکرآتا۔ خد و خال جہاں درمیانہ تھا وہیں دماغ قارون کا خزانہ تھا۔
لیکن آج اچھے وقت نے شاید آنکھ پھیر لی تھی کہ گھر میں ہُو کا عالم ہو گیا۔ بیل نے آخر بج بج کر چپ سادھنے کا سوچ لیا۔ وقت، شام کے لگ بھگ 5 بج رہے تھے۔ اک مدھم سی روشنی میں در و دیوار عجیب ہیبتناک محسوس ہو رہے تھے۔ نیلے رنگ کا پردہ جیسے رات کی تاریکی کیکہانی سُنا رہا ہو۔ رات اور وہ بھی اماوس کی۔
نا چاند تھا نا ستارے اور نا ہی کہکشاں۔ ہوا تو جیسے رستہ ہی بدل چُکیتھی۔ آج گلی میں شور و غل بھی سنائی نہیں دے رہا تھا جہاں رحمنصاحب کبھی گرمیوں کی دوپہر میں بچوں کو تلقین کرتے پائے جاتے تھے ”جاؤ بچو اپنے اپنے گھر کبھی سکون بھی لیا کرو“۔
رنگین آنکھیں، ٹھہرا ہوا رنگ، تیور میں دبدبا، ہلکی پھلکی چال ڈھال، اکثر ہلکے موتیا لباس میں خوشبو کا جھونکا محسوس ہوتے تھے۔ غرض یہ کہسراپا وقار تھے۔ لیکن آج مرحوم ہو چکے تھے۔ آہ! آخر انسان کی وہہی حقیقت۔ کیسے یک دم حقیقت سے خیال بن جاتا ہے۔
بد قسمتی سے ہم آنکھوں کے سامنے ہوتے ہوئے بھی اکثر ایک جیتے جاگتے انسان کو نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن جیسے ہی وہ آنکھوں سے اوجھل ہوتا ہے خیالوں کی پکڑ میں آ جاتا ہے اور دل اُس کو اپنے سے قریب کر لیتاُہے۔ پس جو لوگ ہماری زندگی کا حصہ ہیں خدارا! اُن کوکھُلی آنکھوں سے دیکھیں اور دل میں جگہ دیں تاکہ وہ ایک حقیقت ہی رہیں خیال نہ بنیں۔
جھوٹ! زندگی کا نصب العین۔
آج اچانک لمحہ فکریہ میں ہماری شخصیت کے اس پہلو پر کچھ لکھنے کو جی چاہا جو ایک تلخ حقیقت ہے۔ آج کل کے حالات کی ترجمان اوروقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ ویسے تو اس کا ساتھ بہت کم عمریسے ہی ہمارے وجود کے ساتھ جُڑ جاتا ہے لیکن اس کا احساس جبتک ہو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ نا جانے کب کس وقت یہ حسینساتھی آپ کے ساتھ اٹھکھیلیاں کرنے لگتا ہے۔ کہتا ہے چل تماشاکرتے ہیں۔ کسی کا تماشا بناتے ہیں۔ مزاح کی حس میں کبھی کبھی بہتسی چیزوں کا تماشا بن جاتا ہے۔ تماشا دوستی کا، کبھی خلوص اور کبھیاعتماد کا۔ ہنسی کے فوارے اور پھر خود کی پزیرائی کیا کیا رنگ لاتی ہے کہ قابل فخر ہونے کا گھیل شروع ہو جاتا ہے۔ کوئی کہے نہ کہے خود سے سرشار، بیباکی کی راہ پہ گامزن چل پڑتے ہیں اُس سمت جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔
جھوٹ۔ آخر یہ کس بلا کا نام ہے؟ کیا یہ عادت ہے، ضرورت ہے یا شوق؟
بہت سے الفاظ مل کر بھی شاید اُس چیز کو حسین گفتار کا جامہ نہیں پہناسکتے کیونکہ اس کا وجود ہی اتنا بھیانک ہوتا ہے۔ ہم میں رچتا بستا یہساتھی کہاں جائے کہ یہ عزیزم ہمارے بُرے وقت کا ساتھی ہے لیکنہمیں بد ترین وقت میں بھی یہ ہی دھکیلتاُہے۔ بلآخر ایک دن رخستی کاوقت آتا ہے، جب اپنے اور غیر سبھی آن بیٹھتے ہیں سرہانے۔ کبھی منت کبھی سماجت کہ اب تو پیچھا چھوڑ دو لیکن اس کو تو وہی ہنسی سوجھی ہوتی ہے اور اب کی بار تماشا ہم بنتے ہیں!


