شیریں عبادی، انسانی حقوق اور نوبل کا امن انعام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شیریں عبادی وہ پہلی ایرانی اور مسلمان خاتون ہیں جنہیں امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا اور ان کی انسانی حقوق کے حوالے سے خدمات کو سراہا گیا۔

شیریں عبادی 1947 میں ایران کے شہر ہمدان میں پیدا ہوئی تھیں۔ یہ وہی شہر ہے جہاں مشہور ایرانی طبیب اور دانشور بو علی سینا کا مزار ہے۔ شیریں عبادی کو شروع سے ہی انسانی حقوق میں دلچسپی تھی اس لیے انہوں نے تہران یونیورسٹی سے 1969 میں قانون میں ڈگری حاصل کی اور پہلے ایک وکیل اور پھر ایک جج کی حیثیت سے قوم کی خدمت کی۔

1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد بعض روایتی مولاناؤں نے اعتراض کیا کہ اسلامی مملکت میں ایک عورت جج نہیں بن سکتی۔ شیریں عبادی نے ایسی سوچ کی مخالفت کی اور اسلام میں عورتوں کے حقوق کی جنگ لڑی۔ شیریں عبادی نے ایک روشن خیال مسلم رہنما محمد خاتمی کی حمایت کی جو بعد میں ایران کے سیاسی منطر نامے میں کامیاب ہوئے۔

شیرین عبادی نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں انسانوں ’عورتوں اور بچوں کے حقوق کی جدوجہد کو تقویت دی۔ شیریں عبادی نے ان روشن خیال اور ترقی پسند دانشوروں کی بھی مدد کی جو ایران کی جابرانہ اور ظالمانہ حکومتوں کے زیرِ عتاب آئے۔

شیریں عبادی نے ان اخباروں اور رسالوں کے مدیروں کی بھی حمایت کی جنہیں ان کے باغیانہ خیالات کی وجہ سے سزائیں دی گئیں اور ان کی آوازیں محصور کر دی گئیں۔ شیریں عبادی کا موقف ہے کہ ایک جمہوری نظام قائم کرنے کے لیے حزبِ اختلاف کا فعال ہونا بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ حزبِ اختلاف جمہوریت کو آمریت میں بدلنے سے روکتا ہے۔

شیریں عبادی نے تمام عمر آزادیِ اظہار و گفتار کی پرجوش حمایت کی۔

شیرین عبادی نے 1994 میں SOCIETY FOR PROTECTING RIGHTS OF THE CHILD اور 2001 میں DEFENDERS OF HUMAN RIGHTS CENTER کی بنیاد رکھی اور پھر ان کی قیادت کی۔

شیرین عبادی نے اپنی 2003 کے امن کے نوبل انعام کے خطاب میں کھل کر کہا کہ ساری دنیا کے ملکوں اور حکومتوں کو انسانی حقوق کا احترام کرنا چاہیے اور دنیا سے بھوک اور افلاس کا خاتمہ کرنا چاہیے۔ شیریں عبادی نے افسوس کا اظہار کیا کہ اکیسویں صدی کی سائنس اور ٹکنالوجی ’سماجیات اور معاشیات کے علوم کی ترقی کے باوجود انسان دنیا سے بھوک‘ افلاس اور بیماری کو ختم نہیں کر سکے۔ انہوں نے بین الاقوامی شماریات کے حوالے دے کر بتایا کہ دنیا کی سات ارب کی آبادی میں سے ایک ارب سے زیادہ انسان بھوک اور افلاس سے دکھی ہیں کیونکہ ان کی روزانہ کی آمدنی ایک ڈالر سے کم ہے۔ دنیا کے پچاس ممالک جنگ اور فطری طوفانوں کی زد میں ہیں۔ صرف افریقہ میں ایڈز کی وجہ سے 22 ملین انسان مر چکے ہیں اور 13 ملین بچے یتیم ہو گئے ہیں۔

شیرین عبادی نے امریکی حکومت پر اعتراض کیا کہ اس نے 11 ستمبر 2001 کے حادثے کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کر کے تباہی و بربادی کا نیا باب رقم کیا اور مقدمہ چلائے بغیر ان گنت لوگوں کو گوتوناما بے کی جیل میں بھیج دیا۔

شیریں عبادی نے اقوامِ متحدہ کے ارکان پر بھی اعتراض کیا کہ وہ اپنی بعض قراردادوں پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور بعض کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں فلسطینیوں کے مسائل اور حقوق پر بھی اظہارِ خیال کیا۔

شیریں عبادی کا موقف ہے کہ اسلامی ممالک میں پدرسری نظام نے عورتوں کے حقوق کا استحصال کیا ہے اور پھر اپنے موقف کی حمایت میں مذہبی تاویلیں پیش کی ہیں۔

شیریں عبادی نے اپنے خطاب میں ساری دنیا کو بتایا کہ ایران کی ادبی تاریخ میں امن پسند شاعروں کی روایت موجود ہے۔ ایرانیوں نے حافظ ’رومی‘ عطار اور سعدی کی شاعری سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ انسانی حقوق اور امن کا پرچار کیا ہے کیونکہ ادبِ عالیہ ہمیں ایک بہتر اور پرامن انسان بننے کی ترغیب دیتا ہے۔

شیرین عبادی کا کہنا ہے کہ اسلامی تعلیمات کا آغاز ’اقرا‘ کے لفظ سے شروع ہوا تھا۔ اس نے ہمیشہ عورتوں اور مردوں کو تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب و تحریک دی۔ یہ پیغام آج کے دور میں زیادہ اہم ہے کیونکہ عہدِ حاضر میں انسانیت کو جنگ سے زیادہ تعلیم کی ضرورت ہے۔

نوبل انعام حاصل کرنے کے بعد شیریں عبادی کو بہت سی مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اپنے امن کے آدرشوں اور خوابوں کے لیے بہت سی قربانیاں دیں لیکن جب ان کی جان خطرے میں آ گئی تو وہ 2009 میں وہ لندن ہجرت کر گئیں۔ اسی سال ناروے کی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ تاریخ میں پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ کسی حکومت نے کسی فرد سے نوبل انعام لے لیا ہو کیونکہ شیریں عبادی سے ایرانی حکومت نے نوبل انعام چھین لیا ہے۔

شیرین عبادی کی دو کتابیں IRAN AWAKENING اور DEMOCRACY، HUMAN RIGHTS AND ISLAM IN MODERN IRAN بہت مقبول ہوئیں۔

شیرین عبادی کی شخصیت مسلمان عورتوں کے لیے ایک رول ماڈل ہے کیونکہ ان کی محنت اور ریاضت اور اپنے خوابوں اور آدرشوں کے لیے قربانیاں قابلِ تحسین بھی ہیں اور قابلِ تقلید بھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 251 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail