نیلی آنکھوں والی لڑکی


پہاڑوں پہ رہنے والے لڑکے کیا تم نے اس نیلی آنکھوں والی لڑکی کا ہاتھ تھامتے ہوئے اس سے پوچھا تھا کہ اسے جادو پہ یقین ہے۔

اگر تم نے اس سے یہ نیں پوچھا تھا تو تم اسے کیسے یقین دلاؤگے کہ اسکاٹ لینڈ کے آزادی پسند ولیم والیس کا قد آٹھ فیٹ ہے اور اس کا گھوڑا ہوا میں اڑتا ہے اور اس کی تلوار بہت زیادہ وزنی ہے۔

تم اسے کیسے یقین دلاؤ گے کہ جب ہر طرف گھیرا ڈال دیا جاچکا ہو اور آس پاس بندوقوں کی آنکھیں تمہارے سینے کی تاک میں ہوں تو اپنی پاس بچی ہوئی آخری گولی کو بندوق میں لوڈ کرکے اپنے ہی سینے پہ رکھ کر جاپانی لوک گیت ”ھارا کیری“ گایا جاتا ہے۔ اور آخری لفظ جو دل کی تاروں کو آخری اضطراب دے کر لبوں کو چھوتا ہوا گزرتا ہے وہ ”آزادی“ ہوتا ہے۔

کیا پہاڑوں پہ رہنے والے لڑکے تم نے اس سے نہیں پوچھا تھا کہ اگر تمہیں جادو پہ یقین نہیں ہے تو تمہیں میری باتوں کیسے یقین آئے گا۔ کیسے یہ تم قبول کروگے کہ ایک دیو پہاڑوں کے اندر قید ہے جو پہاڑ کے اندر سے پانی کے گھاٹ کو چلاتا ہے اور اس پانی کی بھاؤ سے پہاڑ پہ جنگلی پھول کھلتے ہیں۔

پہاڑوں پہ آنے والی راتوں میں یہ جنگلی پھول خوشبو بکھیرتے ہیں اس خوشبو پہ پرندے مست ہوکر اڑنے لگتے ہیں۔ ایسی راتوں میں پورب کی طرف سے پریاں اڑتی ہوئی طرف تبدیل کرتی ہیں۔ اور ان دنوں میں ہی مائیں اپنے بچوں کو ڈھانپ کر رکھتی ہیں کہ پریوں کہ نور کی لاٹ نوزائیدہ بچوں کو اپاہج نہ بنا دے۔

کیا تم نے اس نیلی آنکھوں والی لڑکی سے اجازت مانگی تھی کہ تم بھی اسے راتوں میں پہاڑ پہ سینے کھول کے سو کر آسمان تو تکتے رہوگے کہ شاید وہ پریاں تمہیں بھی طاقت بخش کے جائیں۔ تاکہ تم ”کالی رات“ کے ہنساچوں کا قبضہ ختم کرسکو۔

مگر وہ لڑکی شاید تمہیں اس کی اجازت نہ دے کیونکہ وہ تم سے پیار کرتی ہے۔ کسی اور پری کا تم پہ سایہ پڑے یہ اسے قبول نہ ہے۔ اگر تم نے اس سے جادو کا نہیں پوچھا تھا تو تم ایک کام کرتے اسے ایسی کسی رات میں پہاڑ پہ لے جاکر اسے ساز ندوں سے ”سروز“ سنواتے۔ اور اسے دکھاتے کہ وہ اپنے ”سرندہ“ سے ہواؤں کو کیسے گرہ لگاتے ہیں۔ اور روشنی کو چاروں طرف بکھیرتے ہیں اور پھر وہ ”اللہ توآہر“ کا نعرہ بلند کرتے تو نیلی آنکھوں والی لڑکی اپنے بال کھولنے لگتی اور تم اسے حیرت سے تکتے، مگر پہاڑوں پہ رہنے والے لڑکے اس لڑکی کی تو صرف ایک خواھش ہے۔

تم اس کے ساتھ بیٹھو اور وہ تمہیں پریوں کی کہانیاں سنائے اور پھر اس طرح دن گزرتے رہیں مگر لڑکے یاد رکھنا اس الف لیلیٰ کی شہزادی بننے نہیں دینا ورنہ وہ تمہیں گھر بٹھادے گی۔ اور ان کہانیوں کی ہر پیچیدگیاں تمہیں بھول بھلیوں کی طرح گم کردیں گی وہ کہانیاں پہاڑوں کے راستوں سے بھی زیادہ پر پیچ ہیں۔ وہ لڑکی تمھیں ایسی ہی کہانیاں سنائے گی۔ جن کو سن کر گدڑیے تپتی دوپہروں میں کسی درخت کے نیچے سوجاتے ہیں۔ ان کہانیوں میں سکون ہے۔

سانس لیتے ہوئی لمحے ہیں۔ درختوں کے پتوں کی موسیقی ہے۔ ہواؤں کی سرگوشی ہے۔ اور ایک لمحی کے بعد خاموشی ہے۔ اچانک کی خاموشی ”نیند“ جو دکھتے ہوئے بدن کو سکون دیتی ہے۔ مگر تم نیند صرف اس لئے کرتے ہو کہ آزادی کے خواب دیکھ سکو اور وہ خواب تمہیں سکون نہیں دیتے۔ وہ خواب تمہیں اور بے چین کرتے ہیں۔ اور پہاڑوں پہ رہنے والے لڑکے یہ بے چینی یہ اضطراب ہی تو تمہاری جمع پونجی ہے۔ یہ ہی تو تمہیں زندہ رکھتی ہے۔

بے حسی اور بے بسی سے اسی اضطراب نے ہی تو تمہیں نکالا ہے۔ یہ بے چینی اور اضطراب تو تمہیں جوانی میں نصیب ہوا ہے مگر میں جانتا ہوں آؤ تمہیں اس بوڑھے کی کہانی سناتا ہوں جب دکن کی ہوا چلی تھی اور جدائیوں کے موسم نے آکر بسیرا کیا تھا کالی رات میں ہی ”نوید“ دی گئی تھی۔ کہ اب دوست دوست نہیں رہیں ہیں پہلے پہلے اس بوڑھے کو تو اعتبار نہیں آیا اس نے قہوہ پیتے ہوئے سوچا کہ ایسے کیسے ہوسکتا ہے۔ اس کے دل میں یہ بھروسا تھا کہ نیا سال اس کے ”نام“ کی طرح طلوع ہوگا اور پھر بیٹھ کے سب تاروں کی باتیں کریں گے مگر ایسا نہ ہوا وہ بوڑھا سوچتا رہا۔

لیکن ایسا نہ ہوا تو اس بوڑھے کے دماغ میں ایک طوفان امد آیا۔ وہ کانپتے ہوئے ہاتھوں میں بندوق پکڑ کر آگیا تھا اور چلا اٹھا۔ ”باہر نکل باہر نکل“ اس کا پورا جسم غصے سے لرز رہا تھا اس کا سینا دھونکن کی طرف اوپر نیچے ہورہا تھا اور اس کے آنکھوں میں انگارے دہک رہے تھے وہ بوڑھا کالے نانگ کی طرح پھنکار رہا تھا اس وقت چوہے اپنے بلوں میں چھپ گئے۔

مگر پہاڑوں پہ رہنے والے لڑکے کہانی کا انت دھوکے پہ ہوا تھا۔

مگر بوڑھے کہ چہرے بہ جوانی کی چمک امڈ آئی تھی۔

کس بات سے ڈرتے ہو لوگو

ہر دن ہی مرتے ہو لوگو

ایسے مرنا ویسے مرنا

پھر اس مرنے سے کیا ڈرنا

ہاں اس کا جیون سپھل گیا

جو سینہ تان کے گزر گیا

پہاڑوں پہ رہنے والے لڑکے اگر تم اس نیلی آنکھوں والی لڑکی کی کہانی نہ سن پاتے تو کاش اس کے ساتھ سرور سنتے اور دیکھتے اس کی آنکھیں کس طرح نم ہوجاتی ہے اور وہ اپنے بالوں کو کھول کر کس طرح رات کا پیمانہ پیدا کرتی ہے۔ مگر لڑکے کاش! کہ تم ایسا کر پاتے یہ سر، ساز، آواز، خوشبو، خوبصورتی، روشنی، یہ ادا ہوا اور رقص پشاچوں کو پسند نہیں ہے۔ کیونکہ ان کے دماغوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جاتا ہے تاکہ وہ اندھے اور بہرے بن جائیں ان کے دانت اور ”ہاتھ  لمبے“ ہوتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ تم گیت کہو اور رقص کرو وہ چاہتے ہیں کہ تم قبول کرو کہ روشنی ایک بیکار چیز ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ تم قبول کرو کہ پہاڑوں کو پہاڑوں کو جلتے ہوئے گندھک سے خوبصورت بنایا جاسکتا ہے۔ پھول اور پرندے پہاڑوں کو گندہ کرتے ہیں اس لئے پہاڑوں کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کرنا چاہیے۔

وہ چاہتے ہیں کہ تم ضدی نہ بنو اور جھک جاؤ۔ اور وہ سب کچھ ان کو دے دو جو ”سرجنہار“ تمہیں اور صرف تمہیں بخشا ہے۔ اس کے بدلے میں تمہیں وہ سب کچھ دیں گے جو تمہیں جھکادے۔

کیونکہ انیں خوف ہے کہ تم ہاراکیری کا گیت گاتے ہو۔ اور اپنی زندگی کے مالک بن جاتے ہو۔ اور تم اپنی زندگی کو اپنے ہاتھوں میں لے کر گاتے ہو کہ ہم ان سے محبت کرتے ہیں جو پیدا ہی مرنے کے لئے ہوئے ہیں۔ تم نے ایاز کی شاعری پڑھ لی ہے۔

پھلا پھلا لفظ خدا کا

کن فیکون

شاعر، موسیقار، مصور

سب میں ایک ہی جوش جنون

کن فیکون

اور تم بھی اسی طرح خدائی کا دعویٰ کرتے ہو جو اندھوں اور بہروں کو پسند نہیں

یہ تو تم بھی جانتے ہو کہ بہروں کو شاعر کے شاعری، موسیقار کی موسیقی اور اندھوں کو مصور کی مصوری سے کیا غرض کیا کام۔ ان کو تو روشنی سے بھی ڈر لگتا ہے۔ لیکن وہ چاہتے ہیں کہ تم ضد چھوڑدو وہ آپ کے پرانے دوست ہیں وہ سربازار اس بات کا دعویٰ بھی کرتے ہیں اور یہ تم بھی جانتے ہو اور قبول کرتے ہو۔

ارجن ڈانگلے اچھوت کے الفاظ میں

ہم اس وقت بھی ان کے دوست تھے

جب مٹی کے برتن ہمارے گلوں میں لٹکے رہے ہوتے تھے

ہمارے پہلو میں جھاڑو بندھی ہوتی تھی۔

وہ چاہتے ہیں کہ یہ دوستی قائم و دائم رہے، مگر پہاڑوں پہ رہنے والے لڑکے تم بہت ہٹیلے بن گئے ہو تم پرانی دوستی کو بھلا بیٹھے ہو۔

تم تو نوجوان لڑکے ہو یہ پرانی دوستی تو اس بوڑھے نے بھی بھلا دی تھی۔ وہ ہر جگہ بتاتے ہیں کہ ہم نے اس بوڑھے کی سفید داڑھی کو ہاتھ نہیں لگایا تھا بلکہ بوڑھے کا دماغ چل گیا تھا وہ اپنے میان سے تلوار نکال کے کھڑا ہوگیا تھا کہ میری داڑھی کو کس نے ہاتھ لگایا۔ ویسے بھی اس بوڑھے کو سمجھ جانا چاہیے تھا اگر کسی نے اس کی سفید داڑھی کو ہاتھ لگایا تھا تو اس میں اتنا غصہ کرنے کی کیا ضرورت تھی خواہ مخواہ کا تماشا اچھا نہیں ہے۔

مگر وہ بوڑھا ایک نوجوان کا ہاتھ پکڑ کر پہاڑوں کی طرف چل نکلا اس بوڑھے نے کہا ”میں ویسے ہی مرنے والا ہوں، کیوں اب پہاڑوں کی چھاؤں میں مروں اس کو اپنے قلعے کی دیواریں مرنے کے لئے پسند نہیں آئی۔

یہ لہو بھگوئی آزادی

انسان میں بوئی آزادی

ہیٹھے کا مان بڑھاتی ہے

نربل کو ویر بناتی ہے

تدبیر کو یہ تقدیر کرے

تقدیر کو تدبیر کرے

کیا پیڑا کو گرماتی ہے

شیروں کے را ڑ مچاتی ہے

اور پیر چھڑا کے کڑیوں سے

جیسے دوجا جیون دے دے

پہاڑوں پہ رہنے والے لڑکے دو بوڑھوں کی کہانی میں نے تمہیں اس لئے سنائی کہ تمہیں اندازہ ہو کہ وہ بوڑھے بڑے اصول پسند تھے انہوں نے آسمان کی وسعت کا مول لگانے سے انکار کیا انہوں نے انکار کیا کہ وہ شفق کی لالی نہیں بیچیں گے۔ وہ سرور کے سر نہیں بیچیں گے انہوں نے کہا کہ دھرتی پہ بکھرتے ہوئے پتھر ان کے بڑے بھائی ہیں وہ دھواں ہوکر ان ہواؤں میں شمال ہونا پسند کریں گے مگر وہ سوداگر نہیں بنیں گے پہاڑوں پہ رہنے والے لڑکے وہ نیلی آنکھوں والی لڑکی کو رات کے اندھیرے میں اٹھاکر لے جانے کی سازش میں ہیں اب تمہیں اس نیلی آنکھوں والی لڑکی کو بتانا ہوگا کہ ہمیں جادو پہ یقین کرنا ہے۔

ہمیں یقین ہے کہ ”امید کی شہزادی“ سب کچھ دیکھ رہی ہے اور وہ ”آزادی کی شہزادی“ کو منا کر لے آئے گی۔

Facebook Comments HS