کراچی میں پانی کی طلب اور دریائے سندھ کی زندگی کا سوال

کراچی کی پانی کی ضروریات کے لیے، 1991 کے صوبوں کے درمیان پانی تقسیم معاہدے میں شہری اور صنعتی مقاصد کے لیے 1200 کیوسک پانی مختص کیا گیا تھا جس میں سے سندھ کے پانی کے حصے سے 1200 کیوسک پانی کراچی کو مہیا کیا جاتا ہے۔ جبکہ پانی معاہدے سے پہلے کراچی کے شہری مقاصد کے لئے 1988 میں صدر پاکستان نے 1200 کیوسک پانی پہلے سے مختص کیا تھا۔ اس حساب سے سندھ کو وہ پانی بھی ملنا

Read more

ملزمہ نتاشا کو سزا ملنی چاہیے

کارساز روڈ حادثے میں جاں بحق باپ بیٹی کے ورثاء نے ملزمہ نتاشا کو معاف کر دیا ہے۔ نیوز ہے کہ یہ معافی پانچ کروڑ روپے سے زیادہ رقم کے عوض ہوئی ہے۔ کارساز روڈ حادثہ، باپ بیٹی کی فوتگی، اور ورثاء کا کیس میں معافی نامہ قانون و انصاف کی سوال پر سوالیہ ہے! اگر دیکھا جائے تو روڈ حادثات میں زخمی ہونے اور مرنے والوں کے حوالے سے ویسے ہی قانونی چارہ جوئی انتہائی کمزور ہے۔ خود قانونی

Read more

شکتی کی کہانی، صنم ماروی کی کہانی

میرے شہر مورو سے آئی کچھ ویڈیوز نے میری آنکھیں نم کردی ہے۔ اگر آپ نے نانا پاٹیکر کی شکتی مووی نہیں دیکھی تو دیکھ لیں، طاقت، غیرت اور عورت کے گرد گھومتی اس کہانی میں جاگیردارانہ۔ قبائلی روایات، نسل۔ وارث۔ خون کی ہولی اس خاک اور خون کی ہولی میں لتھڑی اس کہانی کا جہاں پر اختتام ہے۔ وہاں سے اس اب کی نئی حقیقی کہانی کا موضوع شروع ہوتا ہے۔ صنم ماروی ایک بیٹی، جو اسی شکتی کی

Read more

سینوں میں چبھتے ہیں اجالے

ان تصویروں کو غور سے دیکھو، کہ یہ خوش شکل نوجوان کون ہیں؟ کیا آپ پہلی نظر میں پہچان پائے؟ نہیں نا۔ فہیم کمانڈو، نعیم شری، فاروق دادا اور صولت مرزا، کیا کبھی آپ نے ان کی گمشدہ کہانیوں کو کریدنے کی کوشش کی ہے ایسا کیا ہوا؟ پتہ نہیں اور کتنی تصویریں بھی گمشدہ ہیں۔ کس نے ایک ڈریکولا حیرت کھانی کا پلاٹ ترتیب دیا کہ یہ دلکش جوان ایک دم جلے اور پھر بجھا دیے گئے۔ کراچی کی

Read more

ہم اور سمندر

ہاتھوں میں پھول پکڑے سگنل پہ کھڑا ہوں مہنگی گاڑیوں میں دہلے اور صاف صاف لوگ۔ رات اتنی دیر سے بھی ہشاش بشاش ہنسی خوشی بے پرواہ سیدھے ہاتھ پر مڑ جاتے ہیں۔ اور پل سے آگے ”ہم“ آجاتے۔ ہم کون؟ پتہ نہیں! جب بھی میں پوچھتا ہوں کہ رحیم گدھا گاڑی والا کہاں سے آیا تھا؟ تو وہ منحوس شکل والا شخص گالیاں دینا شروع کرتا ہے۔ ’ابے چل نکل حرام خور لعنت ہے تیری شکل پر‘ اس کے

Read more

صدر کراچی کے ٹھگ

ہندوستان کے ٹھگ تو ایک پورا موضوع ہے۔ جنھوں نے ٹھگی کے ذریعے لوٹ مار کی اور نا جانے کتنے لوگوں کا خون کیا جن کی قبریں بھی نہ ملیں۔ انگریزوں نے ٹھگوں پر کس طرح قابو پایا یہ قصہ بھی تاریخ کا موضوع ہے۔ آج تک ضابطہ فوجداری کے کتاب میں ٹھگ لفظ کی معنی انڈین پروفیشنل ڈاکو ہے۔ سندھ میں دہلی اور بمبئی کے ٹھگوں کی کہانیاں قصے اور محاورے بڑے مشہور ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ انگریز خود بھی یہاں تاجروں کے روپ میں لٹیرے تھے اور پھر ہندستان پر قبضہ کر لیا۔

لیکن کون ہے اس شہر کراچی کا باشندہ جو یہ دعویٰ کرے کہ وہ کراچی میں صدر کے ٹھگوں سے بچ سکا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ ٹھگ قتل نہیں کرتے بلکہ ضرورت پڑنے پر ہاتھا پائی ضرور کرتے ہیں۔

Read more

ڈرگ روڈ کراچی پر بھٹکنے والی پراسرار دلہن کی کتھا

کراچی کے علاقے کارساز کے حوالے ساٹھ ستر کے دھائی کی ایک عوامی آسیب زدہ کھانی مشہور ہے۔ جس پر لکھا بھی گیا اور بھت سارے لوگوں نے اس کے حوالے سے اپنے تجربات بھی ایک دوسرے کو بتائے اور اس پر خوف اور روحانیت کی ایک پوری جھلک رہی۔ کہا جاتا ہے کہ کارساز شاہراہ فیصل یا ڈالمیہ روڈ پر سردیوں کی سنسان اور تاک راتوں میں ایک لڑکی دلھن کا سرخ یا سفید لباس پھں کر گھومتی ہے۔ اور

Read more

ایک کہانی جادوگروں کی۔

ایک دفعہ کہ ذکر ہے کہ ایک دیش میں دو بوڑھے جادوگر رہتے تھے۔ جنہوں نے بڑی محنت اور ریاضت سے طلسم ہوشربا سیکھا تھا جس سے وہ پتا لگا لیتے تھے کہ دیو اور بھوت دھرتی کے کس حصہ پر منڈلا رہے ہیں۔ تاکہ بھوتوں کی مدد سے جادو نگریاں قائم کی جائیں بالکل ایسی جادو نگر یاں جہاں پر کالے جادو کا خاتمہ ہو، تاکہ کوئی بھی کالے جادو کے زور پر کسی پر ظلم نہ کرتا ہو۔

Read more

نیلی آنکھوں والی لڑکی

پہاڑوں پہ رہنے والے لڑکے کیا تم نے اس نیلی آنکھوں والی لڑکی کا ہاتھ تھامتے ہوئے اس سے پوچھا تھا کہ اسے جادو پہ یقین ہے۔ اگر تم نے اس سے یہ نیں پوچھا تھا تو تم اسے کیسے یقین دلاؤگے کہ اسکاٹ لینڈ کے آزادی پسند ولیم والیس کا قد آٹھ فیٹ ہے اور اس کا گھوڑا ہوا میں اڑتا ہے اور اس کی تلوار بہت زیادہ وزنی ہے۔ تم اسے کیسے یقین دلاؤ گے کہ جب ہر

Read more

گمشدہ کہانیاں

کس شخص کا درد تمہیں بتائیں۔ سمجھائیں کیونکہ تم سے ہمارا رشتہ صرف درد دینے کا ہے۔ اور میرے وہ سب لوگ جن سے درد سہنے کا رشتہ ہے میں آج ان کی بات کروں گا۔ آج میں تمہیں بتاؤں گا کہ لوہے کی سلاخ سے پیٹے جانے کے باوجود ان کال کوٹھریوں میں شدید گرمی یا سردی میں بھی وہ کتنے خوبصورت خواب دیکھتے ہیں۔ وہ خواب اتنے خوبصورت ہوتے ہیں کہ وہ اپنے سارے درد بھلا دیتے ہیں۔ تم ان کو اپنی پوری طاقت سے پیٹتے ہو ان کے جسموں کو سگریٹوں سے جلاتے ہو۔ ان کے ناخن نکالتے ہو۔ پھران کو بتاتے ہو کہ یہ کتنی ”عظیم دیوار“ ہے اور ان کو سمجھاتے ہو کہ اس ”دیوار“ کی تمہیں تعظیم کرنی ہے۔ اور سینہ تان کے کہتے ہو کہ ہم اس دیوار کے داروغے ہیں۔ اور یہ خداداد دیوار کتنی مقدس ہے۔ اس دیوار کے اندر قید رہنا اور اپنی یاداشت کھو دینا کتنا اہم ہے۔

Read more