کھسرے کی سفارش


کچھ ہی دنوں بعد مجھے راولپنڈی رپورٹ کرنے کے احکامات موصول ہوئے تمام کاغذی کارروائی مکمل کرنے کے بعد میں گھر آیا گھر بتایا کہ میں نے صبح منگلا جانا ہے۔ بیگم نے ہلکی پھلکی انکوائری کی۔ میرا مشکوک ماضی ہونے باوجود منگلا جانے کی وجہ نہیں پوچھی، میں منگلا نہیں دینہ جا رہا تھا اور میری منزل پروین بجلی تھی۔ پہنچتے ہی پروین بجلی کا معلوم کیا کہ وہ کہاں مل سکتی ہے؟ تو ایک ریڑھی بان نے بتایا باؤ جی بازار میں کہیں کھڑا بھیک مانگ رہا ہو گا۔

دینہ بازار ایک سیدھی تنگ گلی میں واقع ہے اور پھر اس تنگ گلی کے دائیں بائیں بے شمار چھوٹی چھوٹی انسانی شریانوں کی طرح بکھری ہوئی بے شمار گلیوں میں سے پروین بجلی کو تلاش کرنا کیونکر ممکن تھا جہاں کھوئے سے کھوہ ٹکرا رہا ہو اس تنگ گلی میں دکانداروں کی تجاوزات نے اسے اور مشکل بنا دیا تھا میں نے اس بازار کا ایک ہی چکر لگایا تھا مجھے پروین بجلی انتہائی بھدے میک اپ میں نظر آئی میں نے آگے بڑھ کر سلام کیا اور بتایا کہ میں صرف آپ سے ملنے آیا ہوں۔ بسم اللہ  بسم اللہ بسم اللہ

میرا بازو پکڑے تیزی سے اس بھیڑ سے لے کر ایک تھرڈ کلاس ہوٹل میں آ گئی۔

میں نے پوچھا آپ کو کیسے معلوم ہوا تھا میں حج پر جاؤں گا؟

پروین نے کہا شاہ جی چھڈو انا گلاں نوں۔ ۔

میں نے کہا نہیں آپ کو بتانا پڑے گا

اس نے میرے لہجے سے ہی شاید اندازہ لگا لیا تھا یہ ٹلنے والا نہیں

کہنے لگی سیّد بادشاہ میں ترے نانے دی عاشق آں اور باوا جی تسی کوئی پہلے بندے نئیں میں تے کئیں نوں دس بیٹھی آں کوئی من دا ای۔ نئیں تساں پہلی واری میرے کول دسنڑ آئے او۔

یہ میری بات کا جواب نہیں تھا۔ لیکن میں چپ چاپ اس کی گفتگو سنتا رہا۔ میں نے پوچھا آپ کہاں سے ہو۔ کہنے لگی باوا جی روہتاس قلعے دا ناں پتا جے

میں نے کہا جی دیکھا بھی ہے میرا گاؤں اس قلعے میں ہے لیکن اب میرا سارا خاندان یو کے میں ہوتا ہے

چار بہن بھائی ہیں۔ میں جب پیدا ہوئی علاقے کے بڑے بزرگوں نے میرے والدین کو طعنہ دیتے ہوئے کہایہ تم پرعذاب الٰہی نازل ہوا ہے۔ اولاد تو دھی یا پتر ہوتی ہے۔ یہ کیا بے؟ نا دھی تے نا پتر؟ میری ماں کو میری دادی طعنے دیتی توں ہونڑ کھسرے جمے دیں؟ ہائے ساڈی قسمت لوگ کیا کہیں گے چوہدری کریم حسین کے گھر کھسرا جمایا؟ شاہ جی میری ماں میری جنت کو اپنے پرائے کے طعنے لے گئے اس نے سات سال مجھے بھوہڑ کی چھاؤں بن کر پالا پتا نہیں کیا راز تھا؟ اللہ نے میری ماں کی گود میں کوئی پھول کیوں نہیں کھلایا؟

میں نے سوچا اللہ تعالیٰ نا شکری کی دھوپ میں اولاد جیسی نعمت نہیں نازل فرماتا۔

ایک دن ابا نے دوسری شادی کر لی۔ میری ماں نے اس دن اللہ تعالیٰ سے مجھے گلے لگا کر بہت گلہ کیا۔

پھر ایک دن گھر میں شور مچا کہ چوہدرانی جی مبارکاں جے چوہدری کریم حسین کی نسل بچ گئی نکی چوہدرانی نوں رب پتر دیتا جے میری دادی بہت خوش تھی۔ دوسرے تیسرے دن میری ماں اور دادی کا آمنا سناما ہوا۔ دادی نے نا جانے کیا کیا میری ماں کو سنائیں کہ اس بہادر عورت نے ایک دفعہ مجھے اور ایک دفعہ اپنی ساس اور میری دادی کو دیکھا اور مجھے اٹھایا اور صحن کی کُھوئی (کنواں ) میں چھلانگ لگا دی۔ لوگ کہتے ہیں دادی نے شکر اے کہا اور تھوڑی دیر کے بعد شور مچا دیا ہائے میری نوں (بہو) ۔

لوگوں نے مجھے اور میری ماں کوکسی نا کسی طریقے سے باہر نکالا مگر بدقسمتی سے میں بچ گئی میری ماں مر گئی شاہ جی میں تے لوکاں دے ٹھڈیاں تے ہو گئی۔ وقت چلتا رہا اور مجھے ایک دن میری دادی دینہ شہر بشریٰ کھسرے کے ڈیرے پر پھینک گئی۔ زندگی میں پہلی دفعہ میری ماں کے علاوہ کسی نے پیار سے گلے لگایا۔ شاہ جی اس نے بالکل ماں کی طرح پیار دیا۔ مجھے ڈانس سکھایا۔ دنیا داری سکھائی لیکن میرے باپ اور سوتیلے بہن بھائیوں نے کبھی میری وت (خبر) نہیں لی سنا ہے میرا باپ انگلینڈ چلا گیا ہے اور سارے بہن بھائی بھی ایک روز فیروز نائی نے بتایا وڈی چوہدرانی بڑی بیمار ہے اور تجھے بہت یاد کرتی ہیں۔ میں نے گرو سے پوچھا کیا حکم ہے؟ گرو نے کہا جا پتر جا

میں گاؤں پہنچی تو دادی نے بستر ِ مرگ پر روتے ہوئے مجھے گلے لگایا اور معافیاں مانگنے لگی مجھے اس دن اپنی ماں کی نیلی لاش بہت یاد آئی میں خاموشی سے اٹھ کر گرو کے پاس واپس آ گئی۔ زندگی کی گاڑی چلتی رہی پھر ایک شادی کے فنکشن پر لڑائی ہو گئی، گولیاں چلیں اور ایک گولی میری ٹانگ پر آن لگی بہت علاج کرایا دم کرایا مگر ٹانگ تھوڑی سی چھوٹی ہو گئی میرا پہلے بھی کوئی نہیں تھا گرو جی اس دنیا میں نہیں رہے تھے بس مانگ تانگ کر گزرا کرتی ہوں بس وہ بھوکا نہیں رہنے  دیتا اب تو۔

بس ایک ہی خواہش ہے رب العزت مدینہ دیکھا دے۔ میں نے کہا میں جا رہا ہوں آپ کے لئے کیا لاؤں؟ کہنے لگی کچھ نہیں مرشد آقا نوں سلام کہنا مدینہ منورہ میں داخل ہوتے میری طرف سے اس دھرتی کا بوسہ لیجیے گا میں نے 2010 میں اپنا پہلا عمرہ پروین بجلی کے نام کیا اور یثرب کی سرزمین کو اس کا بوسہ بھی ویسے ہی دیا جیسے اس نے کہا تھا پروین بجلی کا پیغام رسولوں کے رسول کو پہنچا دیا۔

بہت دنوں بعد مجھے معلوم ہوا سعودی حکومت نے ہیجڑوں کے حج یا عمرہ کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ چند دن پہلے بھی عمرے کی سعادت سے فیض یاب ہوا ہوں وہاں میں نے آقا اور آقا زادی جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا سے شکوہ کیا یارسول اللہ یہ کیا بے؟ ایک کُھسرے کی بشارت پر مجھے حج کرا دیا اور تری اُمت نے کھسروں پر پابندی لگا دی؟ مجھے لگا کہ روضۂ رسول سے صدا آئی، امت نے میری اولاد کو نہیں چھوڑا تم کھسروں کو روتے ہو۔ لیکن میں نے کہا یا اللہ یہ تو۔ انصاف نہیں۔ اوووو یاد آیا۔ کھسروں کو میرے وطن کے والدین اپنی اولاد نہیں مانتے، وہ تری مخلوق کیوں کر ہو سکتی ہے؟

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2