کھسرے کی سفارش
میں نے سب سے زیادہ وقت منگلا کینٹ میں گزارا تقریباً 14 سال اسی کینٹ میں رہتے میری پوسٹنگ آپریشن ایریاز میں ہوتیں رہیں اور یہ کہاوت سچ ثابت ہوئی کہ منگلا کینٹ کسی فوجی کو کنٹونمنٹ میں زیادہ سے زیادہ تین ماہ برداشت کرتا ہے اور پھر۔ GPL منگلا کینٹ بالکل پنجاب اور آزاد کشمیر کے باڈر پر ایک خوبصورت چھوٹا سا کینٹ ہے۔ منگلا کی پسندیدگی کی دو وجوہات ہیں ایک تو کھڑی شریف بہت ہی قریب ہے جب بھی میاں محمد بخش صاحب کی سیف الملوک سننے کا من ہوا کھڑی شریف حاضر ہو گیا دوسری غلام حسین عرف پروین بجلی میں اسے سگ ِمحمد کہتا ہوں محمد پاک کا یہ کتا دینہ شہر میں رہتا ہے پروین سے میری پہلی ملاقات آپریشنل ایریا سوات میں جانے سے چند دن پہلے ہوئی اس کی عمر پچاس سال سے زیادہ یا لگ بھگ ہو گی۔
زنانہ کپڑے پہنے وہ سڑک کنارے بھیک مانگتی تھی میں پاس سے گزرا تو پروین نے صدا لگائی فوجی صاب وی روپئے (بیس روپے ) دے جا۔ میں نے اس کی صدا پر کوئی توجہ نہ دیتا ہوا آگے نکل گیا تو اس نے ذرا اونچی آواز میں کہا نانے دے روضے جائیں تے ایس نمانڑی دا وی سلام دیو باوا جی۔ ایک لمحے کے لئے میں نے سوچا یہ بیس روپے لینے کا کیا بھونڈا انداز ہے؟ میں نے اس کھسرے سے جان چھڑانے کا یہی آسان حل جانا کہ اسے کچھ پیسے دے ہی دوں۔
جیب میں ہاتھ ڈالا تو دس دس روپے کے پانچ نوٹ نکلے میں نے وہ پچاس روپے پروین کے حوالے کیے تو اس نے جواب مرشد تساں کولوں وی روپے ای لینے دا ای حکم اے۔ میں نے اس کی آنکھوں میں غور سے دیکھا تو دل نے کہا میثاق علی چپ چاپ یہاں سے چلتا بن۔ میں نے آگے بڑھنے کا سوچا ہی تو پھر اس کی آواز نے میرے قدموں کو گویا کسی نے کنکریٹ کے فٹ پاتھ میں گاڑ دیا ہو۔ فوجی صاب رسولاں دے پیش وا دی دی نوں آکھایں کہ اپنڑے آقا آگے میری سفارش کرنڑ کہ تسی ایس کُتی نوں بھل ای گئے؟ او۔ مجھے ابھی تک اس کی کوئی بات پلے نہیں پڑ رہی تھی۔
میں نے اسے کہا ”آپ کا نام کیا ہے؟
غلام حسین۔ لوکی پروین بجلی کہندے نے۔ میں نے کہا پروین میرا دُور دُور تک کوئی پروگرام نہیں ہے کہ میں نے عمرے یا حج پر جانا ہے؟
اور تو اور میرا تو پاسپورٹ بھی نہیں بنا۔ پروین نے کہا ناں کی اے تساں دا فوجی صاب؟ میں نام بتایا تو کہنے لگی پورا ناں؟ میں نے کہا سید میثاق علی جعفری
پروین یک دم جُھک گئی اور اس سے پہلے کہ میرے پاؤں چھوتی میں نے اس کے بازو پکڑ لیے اور کہا نہیں یہ مت کرو۔ میں بہت ہی گناہ گار ہوں کہنے لگی مرشد تسی میرے تے مرشد ای او ناں۔ اور یہ پاسپورٹ بننے میں کون سی دیر لگتی ہے۔ ؟ بس سد پنڑ دی دیر اے
میں وہاں سے چل پڑا کچھ دنوں بعد یہ مکالمہ بھول بھال گیا اور ہم سوات پہنچ گئے۔ مجھے مانسہرہ پہنچتے ہی حکم ملا کہ تم پوائنٹ پلاٹون کی کمانڈ کرو گے میری خوشی دیدنی تھی۔ طالبان بھی پوری تیاری سے ہمارے انتظار میں تھے دوسرے دن ہی ملک دشمن عناصر سے گھمسان کا رن پڑا اس قدر شدید مزاحمت کی توقع نہیں تھی۔ طالبان کے لڑنے کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ کس دشمن ملک کے تربیت یافتہ ہیں؟
البتہ افواج پاکستان کی حکمت عملی نے جب انہیں تھکا کر مارو کی پالیسی پر عمل کیا۔ ان کے پاؤں نہ ٹک سکے۔ ہم ایک اہم مقام حاصل کرنے کے بعد خوازہ خیلہ سے آگے بڑھنے لگے تو مدین کے مقام پر لوہے پل کے پاس ایک اور چھڑپ ہماری منتظر تھی یہاں لڑائی میں طالبان نے جنگ کا سب سے کار آمد طریقہ کار اچانک پن ( Surprise ) اپنایا اور دائیں طرف دریا سوات کے اُس پار سے ہم پر فائر کھول دیا۔ فائر اس قدر شدید تھا کہ کچھ دیر کے لئے مجھے سمجھ ہی نہیں رہی۔
میں پوائنٹ پلاٹوں میں تھا سارے فائر کا فوکس میری پلاٹوں ہی تھی یہاں پہلی دفعہ مجھے لگا کہ کمر ٹوٹنا کسے کہتے ہیں؟ میرا سب سے دلیر جوان سلیم موٹا ٹانگ پر گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔ میرے کمپنی کمانڈر نے کمال جرات سے طالبان کو پیچھے سے جا لیا اور انہیں بھاگنے پر مجبور کر دیا ہمارا ٹارگٹ سیاحتی مقام کالام تھا جو ہم نے فوج آ گئی ہے فوج آگئی ہے نعرے سے حاصل کر لیا مگر اس نعرے سے پہلے السیف (میری بٹالین) اپنے تین سپوتوں کی قربانی مادر وطن کے حضور پیش کر چکی تھی اور تیس زیادہ زخمی۔
کالام پہنچ کر ہمارے چھوٹے چھوٹے آپریشن جاری رہے اور اللہ کی مدد سے سوات میں امن ہوتا محسوس ہونے لگا۔
ایک رات میں اپنی پوسٹ پر لوڈو کھیل رہا تھا فیلڈ فون آپریٹر نے بتایا کہ کمپنی کمانڈر صاحب آپ سے بات کریں گے۔
میں نے لڑکوں سے کہا تیاری پھڑو آلو آیا جے (آلو ہمارا خود ساختہ کوڈ تھا جو آپریشن کے لئے مختص تھا)
میں نے آپرئٹر سے کہا بات کراؤ۔
کمپنی کمانڈر نے ہینڈ۔ سیٹ پکڑتے ہی کہا شاہ جی مبارک ہو۔
میں نے کہا سر جب میں یہاں کے لئے آیا تھا تو آپ کی بھابھی بالکل چنگی بھلی سی تے فیر کاہدی مبارک؟
دوسری طرف سے ایک قہقہہ سنائی دیا۔
نہیں یار اس سے بھی بڑی خوشخبری ہے۔
میں نے کہہ سر کسوٹی کسوٹی ناں کھیلیں سیدھا سیدھا بتائیں۔
دوسری جانب یک دم سنجیدگی چھا گئی۔
شاہ صاحب آپ حج کے لئے جا رہے ہیں
اب حیران ہونے کی میری باری تھی
۔ ہیں؟
اوپر سے حکم ملا کہ آپریشن میں آوٹ سٹینڈنگ پرفارمنس والے کا نام دیں۔ کرنل صاحب نے کسی سے پوچھا ہی نہیں اور آپ کا نام دے دیا تو ابھی آپ کے لئے حکم یہ ہے کہ پاسپورٹ ہیڈ کوارٹر میں جمع کرائیں۔
میں نے دل میں کہا کون سا پاسپورٹ؟ میرا تو قومی شناختی کارڈ بھی گھر پڑا ہے۔ پاسپورٹ تو بنا ہی نہیں ہے میں نے پاسپورٹ کے لفظ کو لمبا کیا تو دوسری طرف سے آواز آئی شاہ جی آپ رائیل گیسٹ ہوں گے پاسپورٹ کی فکر مت کریں، فوج خود بنوائے گی
مجھے فوراً پروین بجلی کے الفاظ یاد آ گئے پاسپورٹ بنتے کون سی دیر لگتی ہے؟
میں اچانک بے چین ہو گیا۔
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبایئے


