کالی بلی اور الٹا پائنچہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک انصاف کی حکومت ایک مشکل دوراہے پر کھڑی تھی۔ آٹھ ماہ میں اسے بہت ساری مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ مسائل کے گرداب میں پھنسی ہوئی حکومت کے لیے قطعی طور پر ان وزرا کو دوش نہیں دیا جا سکتا جنہیں حال ہی میں کابینہ میں ردوبدل کی وجہ سے اہم وزارتوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔ عوام بڑے سادہ اور بھولے ہیں جو موجودہ حکومت کے مسائل کو وزراء کی بری کارکردگی کا شاخسانہ سمجھتے ہیں۔ عوام کی بھی اس میں کوئی غلطی نہیں ہے کیونکہ ان بیچاروں کو عملیات اور روحانیت کی دنیا سے کیا لینا دینا جس نے موجودہ حکومت کو اقتدار میں لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

”درون خانہ ہنگامے ہیں کیا کیا“ اس تک عامیوں کی رسائی نہیں ہوتی۔ تحریک انصاف پر کچھ غیر مرئی قوتوں کے ساتھ ساتھ عملیات کی دنیا کی مقتدر قوتوں کا سایہ ہونے کا بھی بہت چرچا تھا کہ یہ حکومت عوام کے ووٹوں سے زیادہ روحانی قوتوں کے بل بوتے پر برسر اقتدار آئی ہے جس کے پس پردہ چلوں، عملیات اور مراقبوں کی انتھک محنت شامل ہے۔ جب عملیات ہی اسے برسراقتدار لائے تو حزب مخالف والوں نے بھی اس کا توڑ کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔

ہماری سیاسی قیادت ویسے بھی پیروں، فقیروں اور ان کے آستانوں کی باریابی کا شرف حاصل کرتی رہتی ہے۔ اس لیے تو انہوں نے بھی عملیات کے زور پر اقتدار میں آنے والوں کے لیے ”کالی بلی“ کے ہتھکنڈوں کا سہارا لیا۔ ہمارے معاشرے میں کالی بلی سے بہت سے بہت ساری نحوستیں منسوب ہیں کہ اگر کالی بلی کسی کا راستہ کاٹ لے تو پھر اس پر مشکلات اور تکلیفوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔ اگر کالی بلی راستہ کاٹ لے تو اچھا بھلا آدمی اچانک سے مصیبتوں کا شکار ہو جائے۔

حزب مخالف کی جماعتوں نے یہی حربہ آزمایا اور کچھ کالی بلیوں کو مختلف وزارتوں میں چھوڑ دیا کہ جیسے ہی وزیر نکلے اس کا رستہ کاٹ لے تاکہ اس کے برے دن شروع ہو جائیں۔ اب یہ وزارت خزانہ میں چھوڑی گئی کالی بلی کی کارستانی تھی کہ اس نے اسد عمر ایسے اقتصادی شہ دماغ کا ایسا رستہ کاٹا کہ اس کے سارے معاشی وژن اور پالیسیوں میں سے آٹھ ماہ میں ایسی ہوا نکلی کہ وہ کٹے ہوئے شہتیر کی طرح زمین بوس ہو گیا۔ ایک کالی بلی نے اس کا رستہ کیا کاٹا کہ اس کے سارے معاشی منصوبے تتر بتر ہو کر بکھر گئے۔

یہ ایک کالی بلی کی نحوست تھی کہ اس نے فواد چوہدری ایسے شخص کی گرم گفتاری اور شعلہ بیانی کو بھی اکارت کر دیا اور وہ آخر کار وزرات اطلاعات سے بے نیل مرام واپس ہو کر پاکستان میں غیر اہم سمجھی جانے والی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی پر قناعت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اگر آج میڈیا اور حکومت کے تعلقات خوشگوار نہیں تو اس کا الزام قطعی طور پر فواد چوہدری کو نہیں دیا جا سکتا کہ کالی بلی کی نحوست کے سامنے کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو سکتی۔

ایک کالی بلی نے عامر کیانی کا رستہ کاٹا تو انہیں وزارت صحت سے ہاتھ دھونے کے ساتھ ساتھ اربوں روپے کی بد عنوانی کا داغ بھی سہنا پڑا۔ ملک میں دواؤں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے پر کیانی صاحب کو الزام دینا بالکل جائز نہیں بنتا کیونکہ وزیر صاحب کالی بلی کے آسیب کا شکار ہو کر ان حکومتی اقدامات کو اٹھانے سے قاصر تھے جن کی بنا عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکتا تھا۔

اس کالی بلی کی نحوست سے تو شہر یار آفریدی ایسا لحیم شحیم شخص بھی نہ بچا جسے داخلہ ایسی قوت و اختیار والی وزارت سے رخصت ہونا پڑا۔ داخلی سلامتی کی صورتحال ابتر ہوئی اور بلوچستان دہشت گردوں کی مذموم کارروائی وں کا نشانہ بنا تو اس میں آفریدی سے زیادہ کالی بلی کی نحوست کو دخل تھا۔

کالی بلی نے ایک چکر وزارت پٹرولیم کا بھی لگایا اور غلام سرور خان کو ٹھکانے لگا دیا۔ غلام سرور کے دور وزارت میں اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا تو اسے ان کی نا اہلی ہو محمول نہ کیجیے کیونکہ کالی بلی نے پٹرولیم کی اہم وزارت میں ڈیرے لگا رکھے تھے اور اس کی نحوست سے کوئی تدبیر کارگر ثابت نہیں ہو رہی تھی اس لیے تو ابھی تک بیچ سمندر میں نکلنے والے ان تیل و گیس کے ذخائر کا بھی کچھ اتا پتا نہیں کہ جو اس ملک و قوم کی تقدیر بدلنے والے ہیں۔

اب جب حالات اتنے دگرگوں ہوں اور حزب مخالف کی جانب سے قصر اقتدار میں چھوڑی جانے والی کالی بلیوں کی نحوست چار سو سایہ فگن ہو تو یہ کیسے ممکن تھا کہ حکومت کی حمایت پر کمر بستہ ان غیر مرئی قوتوں اور عملیات و روحانیت کے میدان میں طاق طاقتوں کو چین آتا۔ یہ حکومت جو خدا جانے کتنے چلوں، مراقبوں اور عملیات کا فیض بن کر اس مملکت خداداد کے باسیوں کے مقدر بدلنے کے لیے قائم کی گئی اس لیے اسے یوں حزب اختلاف کی سازشوں اور ان کی کالی بلیوں کی نحوست کا شکار نہیں ہونے دینا بالکل منظور نہ تھا۔

حکومت کی حمایت پر کمر بستہ ماہرین عملیات نے اپنے روحانی علم اور قوت کو بروئے کار لاتے ہوئے کابینہ میں ردوبدل کے عمل کا ڈول ڈالا۔ اب کالی بلیوں کی نحوست کی توڑ نکالنے کے لیے ماہرین کی ہی خدمات حاصل کی گئیں۔ اب وزارتوں کے نازک اور گنجلک امور عامیوں کے ووٹ سے منتخب ہونے والے عام افراد کے ذریعے نہیں چلائے جائیں گے۔ یہ اب خواص کا کام ٹھہرا کہ وہ اب پٹرولیم کے امور دیکھیں۔ صحت کے شعبے میں ایک ماہر کی خدمات حاصل کر لی گئیں ہیں۔

وزارت خزانہ کو بھی ایک قابل اور جہاں دیدہ ماہر کی خدمات حاصل ہو چکی ہیں۔ اب ماہرین کی حکومت ہو گی جو کالی بلیوں کی نحوست کا توڑ جانتی ہے۔ اب خوشحالی کا دور دور ہوگا، اب گڈ گورننس اپنی معراج پر ہو گی۔ یہ ماہرین درجہ کمال کو پہنچے ہوئے افراد ہیں اور وہ کچھ کر ہی گزریں گے۔ یہ میرا گمان نہیں یقین ہے کیونکہ واقفان حال کہتے ہیں کہ آج جب خان اعظم بیدار ہوئے تو ان کی شلوار کا پائنچہ الٹا تھا۔ ہمارے گاؤں گوٹھوں میں کہا جاتا ہے کہ اگر صبح اٹھتے وقت آپ کی شلوار کا پائنچہ الٹا ہو تو اس دن آپ پر دولت ٹوٹ کو برسنے والی ہوتی ہے۔ بس اب ہمارے بھی دن پھرنے والے ہیں۔ بس اب ”ستے خیراں“ ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •