وزارتِ خزانہ کی فاختہ اور نیا نظام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزارتوں کی تبدیلی حالاتِ حاضرہ کے لحاظ سے پرانا موضوع ہو گیا ہے۔ وزرا کی تبدیلی، با الخصوص وزیر خزانہ اسد عمر کے استعفے سے میڈیا اور سوشل میڈیا کو رونقِ بازار لگائے رکھنے کا نیا سامان میسر آگیا۔ اتنا کچھ لکھا گیا اور ہر پہلو پر اتنی گفتگو ہو چکی ہے کہ نئی بات کی گنجائش کم ہی رہ گئی ہے۔ پھر بھی ایک لطیفہ آپ سے شئیر کر کے کچھ مختلف پہلو دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایک شخص کو یہ شکایت پیدا ہوئی کہ اس کی بیوی اونچا سننے لگی ہے۔ اس کے کئی دفعہ آواز دینے پر بھی کچن سے جواب نہیں آتا۔ اس نے سوچا کہ ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر کے پاس پہنچا اور مسئلہ بیان کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے پوچھا کہ اہلیہ کو کتنے فاصلے سے سنائی دیتا ہے۔ موصوف کے پاس اس کا کوئی واضح جواب نہیں تھا تو ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ گھر جا اور جا کر بیوی کوپہلے چالیس فٹ فاصلے سے آواز دو، اگر جواب نہ آئے تو پھر تیس فٹ کے فاصلے سے، پھر بھی جواب نہ آئے تو پھر بیس فٹ کے فاصلے سے، پھر دس فٹ کے فاصلے سے اور اگر پھر بھی جواب نہ آئے تو قریب جا کر آواز دینا۔

اس سے اندازہ ہو گا کہ اس کی سماعت کتنی کمزور ہے۔ اس شخص نے ایسا ہی کیا۔ گھر جا کر بیوی کو آواز دی، جواب ندارد، تیس فٹ، بیس فٹ اور پھر دس فٹ کے فاصلے سے آواز دی۔ جواب نہ آنے پر کچن میں اس کے بالکل قریب جا کر چلا کر آواز دی۔ بیوی جو پہلے ہی غصے سے بھری بیٹھی تھی، نے چلا کر کہا کہ کب سے آواز دے رہی ہوں، بہرے ہو گئے ہو کیا؟

تو صاحبو، کچھ ایسا ہی معاملہ وزرا کی تبدیلی کا ہوا ہے۔ ڈاکٹر کے کہنے پر وزیر تو بدل دیے، تیس فٹ قریب جا کر بھی بدل دیں گے، بیس فٹ اور دس فٹ کے فاصلے پر بھی یہی ہو گا، لیکن جب پانچ سالہ مدت پوری ہونے لے گی تو جس طرح مسئلہ اس شخص کی بیوی کی سماعت کا نہیں تھا، اسی طرح ہم پر آشکار ہو گا کہ مسئلہ وزیروں میں نہیں، اس بنیادی اپروچ میں ہے جس سے ہم ملک چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہر شخص جانتا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کی اچھی کارکردگی اور مثبت رائے عامہ کے لئے دو عہدے انتہائی اہم تھے، ایک مرکز میں وزیرخزانہ کا، دوسرا پنجاب میں وزارت اعلیٰ کا۔ بدقسمتی سے دونوں ہی غلط فیصلے ثابت ہوئے۔ تحریک انصاف کی حکومت بننے سے پہلے اگر کسی کی وزارت پکی تھی تو وہ اسد عمر تھے۔ حکومت پر تنقید کرنا آسان ترین کام ہوتا ہے، عملی طور پر جب خود منصب پر بیٹھیں تو پھر آٹے دال کا بھاؤ پتہ چلتا ہے۔ یہی اسد عمر کے ساتھ ہوا۔

رہے عثمان بزدار تو خاتونِ اول کی سفارش کب تک کارآمد رہتی ہے، یہ وقت ہی بتائے گا۔ شنید ہے کہ خاتونِ اول کا اپنا منصب چھنتے چھنتے رہ گیا، تو بزدار صاحب بھی آج گئے کہ کل گئے۔ خیر اسد عمر بنیادی طور پر ایک نفیس آدمی ہیں، ان کی نیت اور وطن سے محبت پر بھی شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن ایک کمپنی چلانے اور ملک چلانے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اگلے روز ایک صاحب سے اسی موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی، پوچھنے لگے معاشی مسائل کا حل کیا ہے؟

عرض کیا کہ اگر مجھے پتہ ہو کہ ملک کے معاشی مسائل کیسے حل ہونے ہیں، تو میں وزیرخزانہ ہوتا۔ اکثر ایسی تحریروں کے بعد قارئین کے ردعمل میں ایک چیز نمایاں ہوتی ہے کہ بھائی مسئلے کا حل بھی بتائیں۔ تو بھائیو ان مسئلوں کا حل تو میرے اور آپ کے پاس نہیں ہو سکتا۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ معیشت چلانے اور اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے معیشت کی اچھی تصویر کھینچنے کے جتنے حربے ہیں وہ ہم دیکھ چکے ہیں۔

ڈالر کی قیمت بڑھا کر درآمدات زیادہ دکھانے سے اگر معیشت کا پہیہ چلتا تو پیپلز پارٹی کا آخری دورِ حکومت سنہری ترین دور ہوتا۔ ایک طرف ڈالر کی قیمت میں اضافے سے درآمدات زیادہ بتائی جا رہی ہیں، دوسری طرف ملک میں کاروباری سرگرمیوں میں کمی سے درآمدات میں واضح کمی دیکھنے میں آئی۔ سرمایہ کار سرمایہ روک کر بیٹھے ہیں۔ ملک میں کاروباری سرگرمیوں میں کمی ہے، بیروزگاری بڑھ رہی ہے، مہنگائی کی شرح پہلی بار دہرے ہندسوں کے چھونے کے قریب ہے۔

اور اینگرو کے خلیل میاں تجارتی خسارے میں کمی کی فاختہ اڑاتے رہ گئے۔ امریکا سے واپسی پر موصوف نے دعویٰ کیا کہ آئی ایم ایف سے آٹھ ارب ڈالر کا پیکج فائنل ہو گیا ہے۔ وہاں جو سلوک ہمارے وزیرخزانہ کے ساتھ ہوا اور کسی سینئیر اہلکار نے ان سے ملنے کی زحمت بھی نہیں کی۔ موصوف کے واپس پہنچنے سے پہلے ہی آئی ایم ایف نے کسی بھی پیکج کے فائنل ہونے کی تردید کر دی۔ پتہ نہیں کیوں پی ٹی آئی کو لگتا ہے کہ ان کی پریس ریلیز کے علاوہ دنیا میں معلومات کا کوئی ذریعہ رہ نہیں گیا۔ بارہا غلط پریس ریلیزوں سے بیرونی دنیا میں اپنی بھد اڑوا چکے ہیں۔

فواد چوہدری کو ایم ڈی پی ٹی وی لے ڈوبا۔ بیچ بچاؤ کروانے والوں نے ایک طرف تو ایم ڈی پی ٹی وی تبدیل کر کے نعیم الحق کو چت کر دیا، اور فواد چوہدری کو وقتی ریلیف مل گیا، لیکن لڑائی میں آخری مکا نعیم الحق کا ہی ثابت ہوا۔ عامر کیانی کو ادویات میں اضافہ لے بیٹھا۔ غلام سرور خان کے بارے میں شروع دن سے عیاں تھا کہ وہ اس وزارت کے اہل نہیں۔ لیکن اب انہیں سزا کے طور پر ہوابازی کی وزارت دے دی گئی ہے۔ یہ وزارت بھی کب ان سے چلے گی۔

لیکن خیر سیاسی مجبوری ہے۔ آخر کو حکومت بھی تو چند ووٹوں کے بھرم سے قائم ہے۔ اپنے فواد چوہدری صاحب کو بھی سزا کے طور پر سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت دی گئی ہے۔ اس پورے ڈرامے میں لاٹری فردوس عاشق اعوان صاحبہ اور اعظم سواتی کی نکل آئی جو چپکے سے معززین میں شامل ہو گئے۔ کسی کو یاد نہ آیا کہ انہیں کس جرم میں معطل کیا گیا تھا اور سپریم کورٹ کی ان کے بارے میں کیا آبزرویشن تھی۔ خیر سے سرمایہ دار ہیں، پارٹی کو فنڈز فراہم کرتے ہیں۔ پیسہ آپ کے پاس ہو تو پھر جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ وفاقی کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ سے چار چھ مہینے کا مزید وقت مل گیا ہے۔ معیشت کی سادہ سے سادہ لفظوں میں صورتحال یہ ہے کہ اس سال ٹیکس وصولی میں ایک ہزار ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے۔ پاکستان کا کل بجٹ تقریباً ساڑھے پانچ ہزار ارب روپے کا ہے۔ حکومت اس وقت تقریباً 3700 ارب روپے کا اندرونی قرض لے چکی ہے۔ یعنی جتنی آپ کی آمدنی ہے اس کا دوتہائی سے زیادہ آپ قرض لے چکے ہیں۔ (یہ بیرونی قرضوں کے علاوہ ہے ) ۔

جون تک یہ قرض اور بھی بڑھ چکا ہو گا۔ پی ٹی آئی کی پوری معاشی حکمت عملی اس مفروضے پر قائم تھی کہ عمران خان کے آتے ہی بیرون ملک مقیم پاکستانی ڈالر کے انبار لگا دیں گے۔ چونکہ حقائق کی دنیا میں ایسا نہیں ہوتا تو راوی اس باب میں خاموش ہے۔ دوست ممالک سے ہوئے ایم او یو بھی ہوا ہوئے۔ اب آئی ایم ایف کے پیکج کے بغیر معیشت کا پہیہ چلنا مشکل ہے۔ امید ہے کہ حفیظ شیخ اگلے ایک ماہ میں آئی ایم ایف سے معاملات طے کر لیں گے۔

اب اتنے سارے وزیر بدلنے کے بعد بھی معاملات ٹھیک نہ ہوئے تو جو ڈاکٹر آپ کو لائے ہیں وہ بھی یہ ماننے پر مجبور ہو جائیں گے کہ مسئلہ وزیروں میں نہیں آپ کی اپروچ میں ہے۔ پھر علاج کرنا تو انہیں آتا ہے۔ پھر بھلے چھوٹی موٹی دوائیوں سے افاقہ ہو یا سرجری کر کے نیا ’نظام‘ فٹ کرنا پڑے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •