مرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"zafarمحترم جناب عامر خاکوانی صاحب! خاکسار کو یاد ہے ایک جگہ آپ رقمطراز تھے کہ آپ کا بیس سالہ صحافتی تجربہ ہے۔ یہ فقیر اس دشت کی سیاہی سے یکسر محروم ہے اس لئے آپ کو جواب دینا مبتدی کا منصب نہیں ہے۔ جناب فیض اللہ خان کی عشوہ طرازیوں کو آپ نے جس طرح تحسین سے نوازا ، اس پر چند سوال اٹھانے کی جرات کر بیٹھا۔ آپ نے تفصیلی جواب سے نواز کر خاکسار کے قد میں اضافہ کیا۔ اب بھی جواب نہ سمجھیں، سوال ہی سمجھ کر نظر شفقت عطا کیجیے۔

سوال سے پہلے مگر آپ کے شذرات کے آخری بجھتے مگر سلگتے شعلوں پر اگر اجازت ہو تو \”وہ اک نگہ جو بظاہر نگاہ سے کم ہے\”۔ آپ نے لکھا کہ خاکسار کے چند دلائل کمزور اور بچگانہ حد تک سادہ ہیں اور ساتھ میں آپ نے لکھا ’ کمال ہی کر دیا خان جی آپ نے۔ مبالغہ کی انتہا ہوتی ہے‘۔ جہاں تک بچگانہ کی بات ہے تو جب آپ نے صحافت میں قدم رکھا ہو گا اس وقت یہ خاکسار غالباً اٹھویں یا نویں جماعت کا طالبعلم رہا ہو گا اس لئے بچگانہ کو آپ کی سخن پردازی سمجھ کر سر تسلیم خم ہے۔ البتہ خان جی کا سابقہ اس خاکسار کو ٹھیٹ فیصل آبادی جگت لگی مگر ایک تو آپ کے بڑے پن کے خیال سے دل دو نیم ہوا چاہتا ہے اور دوسرے جیسے آپ کو شعر یاد نہیں رہتے اس فقیر کو جگت اور لطیفہ کبھی یاد نہیں رہتا اس لئے اس کو بھی ایک سرزنش سمجھ کر مضطر خیر آبادی کے اس مصرعہ ’ مرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا ‘ کی نذر کر دیتا ہوں۔

جہاں تک مبالغہ کی کھینچا تانی ہے اس پر کلام ہو سکتا ہے مگر تھوڑا حیرت زدہ ہوں کہ کل فیض اللہ خان کی پرکین گفتنی بھی آمادہ داد تھے اور آج وصی بابے کی حذرآرائی پر بھی لہلوٹ۔ خاکسار کو قوی امید ہے کہ اس دوئی میں بھی ضرور انٹا غفیل قسم کا اعتدال پوشیدہ ہو گا ورگرنہ تو ظالم مومن نے لکھا تھا ’لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا‘۔ آپ کی حیرت میری گزارشات پر بجا ہے۔ بعض باتوں پر سب کو ہی کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے۔ مجھے بھی ہوتی ہے جب آپ دائیں بازو کے لئے اسلامسٹ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں تو میرے ذہن میں طارق علی کی کتاب پر موجود بش کا داڑھی اور پگڑی زدہ چہرہ یاد آ جاتا ہے۔ آتے ہیں دلیل کی طرف۔ عرض کیا کہ خاکسار ایک مبتدی ہے اور اہل علم سے جانا ہے کہ تجزیاتی تحریر پردہ عنکبوت سے ڈھکا غار ہے۔ اس غار میں جھانکنے کے لئے کسی بزاخفش کی سر ہلائی ( آل از ویل) پر تکیہ کرنے سے بہتر ہے کہ حالات، واقعات، مشاہدات ، حقائق اور جغرافیائی سچائیوں کا ” بیرو میٹر“ لگا کر رائے قائم کی جائے۔ جیسے آپ نے فرمایا کہ آپ نے طنزاً کہا کہ پاکستانی ایجنسیاں قابل معافی نہیں وغیرہ وغیرہ (حالانکہ یہ خاکسار حقیقتاً سمجھتا ہے کہ ان کے کرشمات قابل معافی سہی لیکن ان کو معافی تو مانگ لینی چاہیے)۔ اسی طرح اس خاکسار نے بھی طنزاً لکھا کہ نوے کے عشرے کے افغانستان کے حالات میں اگر جہاد جائز تھا اور مسلمانوں کے خلاف جائز تھا تو آج کے پاکستان کے حالات میں ناجائز کیوں ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ خاکساروہاں رہتا ہے جہاں سے قندھار پہنچنے میں اتنا ہی وقت لگتا ہے جتنا وقت آپ کو اپنے دفتر سے انارکلی جاتے ہوئے لگتا ہے۔ افغان مہاجرین کے ساتھ اس خاکسار کا بچپن گزرا ہے۔ ایک ٹینس ریکیٹ یا ایک سپورٹس بائک خریدنے کے لئے تورخم جانا اس پٹی کے لوگوں کا معمول ہے۔ وہاں جو بیتی اس کے چشم دید لوگوں کے ساتھ زندگی بیتی۔ جس زمانے میں اصلی والے مجاہدین کی مدد پر دنیا کمربستہ تھی ہم این ایل سی کے پیلے ٹرکوں میں لفٹ لے کر سکول جاتے تھے۔ جن طالبان پر لاہور اور اسلام آباد سے قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں ان کو ان گنہگار کانوں نے مساجد اور مدارس میں نئی بھرتیوں کے لئے جوش خطابت دیتے خود سنا ہے۔ حد یہ ہے کہ امریکہ کے حملے کے بعد ہمارے گاﺅں کی خواتین نے طالبان کے لئے چندے میں اپنے زیورات اتارے کر دئے تھے اور یہ خاکسار جہاں ملازمت کرتا تھا اس ادارے کے ایک سیکیورٹی گارڈ کے بیٹے نے خودکش دھماکے میں اپنی جان دے دی۔ اس جغرافیائی قربت اور چشم دیدگی کے بعد خاکسار کو اتنی اجازت تو ملنی چاہیے کہ وہ قندھار کا نقشہ کھینچ سکے۔

چلیں اس راوی الاولون کو چھوڑ کر ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی شائع کردہ رپورٹ برائے افغانستان 1994 کو ایک نظر دیکھ لیجیے کہ قندھار میں پرانے مجاہدین کی جنگ کے باوجود زیادہ لوگ قتل ہوئے یا پھر پاکستان میں گزشتہ ایک عشرے میں زیادہ قتل ہوئے۔ حیرت یہ ہے کہ جہاد بدامنی کو جواز بنا کر شروع ہوتا ہے۔ چلیں اگر ایسا ہی ہے اور یہی سند جواز ہے کہ قندھار اور کابل میں بدامنی تھی تو بتایا جائے شمالی افغانستان میں مکمل امن کے باوجود وہاں جہاد کیوں شروع ہوا؟ مدعا کی طرف آتا ہوں۔ خاکسار کا مقدمہ یہ ہے کہ جس مذہبی بیانیے کو افغان طالبان کے لئے ٹھیک سمجھا گیا اور جہاد کے فتوے دلائے گئے عین اسی بنیاد پرپاکستانی طالبان نے ریاست کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے۔ انہی لوگوں میں سے چند نے ٹی ٹی پی کے جہاد کے لئے انہی الفاظ میں فتوے جاری کیئے۔

خاکسار اس فکری بعد پر حیرت زدہ ہے کہ ایک ہی بیانیے سے جنم لینے والا جہاد ایک جگہ ٹھیک اور دوسری جگہ غلط کیسے ہو سکتا ہے؟ جہاں تک آپ کے طالبان سے متعلق فکر کا تعلق ہے تو بصد ہزار احترام خاکسار اس کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ کیوں قاصر ہے وجوہات پیش کیے دیتا ہوں۔ درحقیقت پاک افغان طوطا چشمی کی تاریخ اتنا پامال موضوع ہے کہ قلم اٹھاتے ہوئے دل روتا ہے۔ جن لوگوں نے بھی قلم اٹھایا وہ واضح نہیں کر پائے کہ وہ کہنا کیا چاہتے ہیں۔ آپ نے اس موضوع پر بارھا قلم اٹھایا اورخاکسار آپ کا ایک مستقل قاری ہے۔ اب دیکھیے آپ کیا لکھتے ہیں۔ حوالہ یا دنہیں لیکن ’پاکستانی طالبان‘ جیسے کسی عنوان کے تحت آپ نے لکھا تھا ’پاکستانی طالبان اور افغانی طالبان کا فہم دین ایک جیسا ہے۔ اسلام کے ایک خاص بے لچک اور سخت گیر تعبیر و تشریح کے دونوں قائل ہیں‘۔

یہی وہ مدعا ہے جو خاکسار عرض کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ ایک خاص تعبیر و تشریح کے مسلح گروہ کو ایک ریاست میں بزور طاقت اقتدار پر قبضہ کا حق حاصل نہیں ہے مگر آپ ہی اس کو جہاد کہتے رہے ہیں۔ آپ ملا عمر کو مرد کوہستانی کا خطاب دیتے ہیں۔ آپ طالبان کو فریڈم فائٹرز لکھتے ہیں۔ آپ مگر پاکستانی طالبان کو دہشت گرد لکھتے ہیں۔ پھر آپ تیرہ اکتوبر 2012 کے کالم ’ ملالہ یوسف زئی پر حملہ کیوں کیا گیا‘ میں لکھتے ہیں۔ ’ طالبان (افغان) کی تحریک اصلاً جنگجو سرداروں یا وار لارڈز کے خلاف تھی۔ طالبان کی کامیابی کا پاکستان میں بھی نوٹس لیا گیا۔ نصیر اللہ بابر وزیر داخلہ تھے، انہوں نے ان طالبان کی حمایت کی، ممکن ہے کچھ اسلحہ یا مالی مدد بھی فراہم کی ہو۔ آئی ایس آئی کا اس میں اس حد تک ہی ہاتھ تھا‘۔ اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا، جب بلوچستان میں این ڈی ایس کی مداخلت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جب ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے پیچھے را اور این ڈی ایس کا ہاتھ دیکھا جاتا ہے تو یہ خاکسار سوچتا ہے کہ کہ کوئی جیتیندر سنگھ یا کوئی گلالی خان بھی تو ہاتھ میں بندوق تھامے وڈھ اور وزیرستان کی پہاڑوں میں جنگ نہیں لڑتے۔ اتنی ہی مدد کی جاتی ہے جتنی اس ’ممکن‘ میں کی گئی تھی۔

آگے چلتے ہیں۔ آپ بیس دسمبر 2012 کے کالم ’ پاکستانی طالبان چند اہم فکری مغالطے ‘ میں رقمطراز ہیں۔ ’ حقیقت یہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کا افغان طالبان سے کوئی لینا دینا نہیں۔ حکیم اللہ محسود اور ٹی ٹی پی کی موجودہ قیادت میں سے کوئی کبھی افغان طالبان کا حصہ رہا نہ ان کے ساتھ کبھی لڑا۔ نہ وہ افغان طالبان یا ملا عمر کی ڈسپلن کا حصہ رہے ہیں۔ ‘ خیال آیا کہ شاید بیت اللہ محسود کو آپ بھول گئے اور یہ بھی بھول گئے کہ 2004 میں نیک محمد کی موت کے بعد افغان طالبان کے پانچ سرکردہ لوگ جن میں ملا داد اللہ شامل تھے بیت اللہ محسود کو ملا عمر کا گورنر برائے محسود علاقہ مقرر کیا تھا۔ اور بیت اللہ نے علی الاعلان ملا عمر کی بعیت کی۔ اب تعلق اس کو بھی نہیں کہتے تو جانے کس کو کہتے ہیں۔

پاکستانی طالبان کی طرف آتے ہیں۔ ستمبر 2013 میں پشاور چرچ میں دھماکے بعد جند الحفصہ کی طرف سے ذمہ داری قبول کی گئی مگر آپ اپنے کالم ’آخری آپشن ہمیشہ باقی رہتا ہے‘ مورخہ اٹھائیس ستمبر میں زور دے کر اس معاملے سے عصمت اللہ معاویہ کو بری کرنے کی کوشش فرما رہے ہیں اور یہاں تک لکھتے ہیں کہ، ’ عصمت اللہ معاویہ مذاکرات کا اولین حامی تھا وہ اس کو وہ اس کو سبوتاژ کیوں کرے گا؟‘ ساتھ میں آپ نے فرمایا، ’ یہ سب بڑا معنی خیز ہے۔ جلد بازی میں کوئی فیصلہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے‘۔ حکیم اللہ کی موت پر آپ نے لکھا۔ ’ حکیم اللہ کی اپنی ایک شخصیت اور خاص طرز کا مزاج تھا۔ آسان لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ ان کے اپنے مثبت اور منفی پہلو تھے‘۔ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے حق میں آپ نے اوپر تلے کئی کالم لکھ ڈالے۔

ان باتوں پر خاکسار کو کوئی اعتراض نہیں ہے اگر آپ اپنے کالم ’ فیصلہ کن وار‘ مورخہ بیس دسمبر 2014 میں یہ نہ لکھتے ، ’ سب سے پہلے ہمیں یہ طے کر لینا چاہیے کہ ان دہشت گردوں کی کسی بھی قسم کی حمایت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان درندوں کی اصل قوت ہمارے سماج میں موجود ان کے فکری، نظریاتی حامی اور طرفدار ہیں‘۔ آگے چل کر آپ لکھتے ہیں۔ ’ دہشت گردی کو سپورٹ کرنے والوں کی ایک قسم وہ ہے جو اگر مگر، چونکہ چنانچہ اور مختلف عذر کے بنا پر قاتلوں اور دہشت گردوں کو سپورٹ کرتی ہے۔ ان کا بھی پوری قوت اور سختی سے محاسبہ اور محاکمہ کرنا چاہیے۔ اب سرخ لکیر کھینچی جا چکی ہے۔ دہشت گردوں کا کوئی حامی یا مخالف۔ درمیان میں منافقت کی جگہ نہیں رہی۔ ‘

جب آپ عصمت اللہ معاویہ کی ذمہ داری قبول کرنے کے باوجود اس میں سازش ڈھونڈھنے لگتے ہیں اور معاویہ کو بری الذمہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب آپ حکیم اللہ محسود کی شخصیت میں خاص طرز کی طرحداری اور مثبت پہلو تراشتے ہیں۔ جب آپ مذاکرات کے حق میں جی جان سے لکھتے ہیں اور پھر جب آپریشن ضرب عضب شروع ہوتا ہے تو آپ لکیر کھینچ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کا حامی یا مخالف تو خاکسار اتنا ہی کہہ سکتا ہے کہ یا مرشد! آ کی وا؟ بردارانہ عرض ہے کہ نہ آپ کی تضحیک مقصود ہے اور نہ وضاحت درکار ہے۔

عرض یہ ہے کہ جن خامیوں کا اظہار آپ نے آجکل افغان طالبان کے بارے شروع کیا ہے یہی بات ہم شروع سے کہتے رہے ہیں۔ جو چیز پاکستان میں پاکستانیوں کے لئے غلط ہے وہی افغانستان میں افغانوں کے لئے غلط ہے۔ جب آپ ’مزید مغالطے‘ مورخہ تیرہ اگست 2015 کے کالم میںیہ لکھتے ہیں، ’پاکستانی طالبان نے پچھلے کئی برسوں میں فورسز کے سینکڑوں ہزاروں جوان شہید کئے۔ آئی ایس آئی کے دفاتر پر حملے کئے۔ حتی کہ پنڈی کے ایک مسجد میں دہشت گردی کر ڈالی۔ ظاہر ہے، پاکستانی فورسز کے ان نام نہاد طالبان کے بارے میں کیا سوچ اور احساسات ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف حقانی نیٹ ورک افغان طالبان کا مرکزی حصہ اور اہم ترین جنگی گروپ ہے۔ اس گروپ کے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے ہیں۔ وجہ یہی رہی کہ وہ پاکستانی ریاست کے مخالف نہیں بلکہ جہاں موقع ملا مدد کے لئے تیار رہتے تھے۔ ‘ حضور والا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی خوشی اپنی جگہ مگر افغانیوں سے بھی کبھی پوچھیے کہ کابل میں والی بال میچ کے دوران پچاس معصوم انسانوں کے چیھتڑے ہوا میں اڑتے دیکھ کر ان کے کیا احساسات ہیں؟ بالکل یہی احساسات ہیں جو پشاور اے پی ایس کے بعد آپ کے تھے۔ دوسروں کے گھر میں کانٹوں کی آبیاری سے اپنے آنگن میں کبھی پھول نہیں کھلا کرتے۔ سلامت رہیے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 183 posts and counting.See all posts by zafarullah

Subscribe
Notify of
guest
17 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments