سب کے اپنے دُ کھ ہیں
جو لوگ کسی دوسرے کو کہتے ہیں۔ کہ میں تمھارا دُکھ سمجھ سکتا /سکتی ہوں۔ وہ سراسر غلط کہتے ہیں۔ جھوٹ بولتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی کسی کا دُکھ نہیں سمجھ سکتا۔ بھلا دُکھ کی جو کیفیت کسی مصبت زدہ پر نازل ہوتی ہے دوسرا دیکھنے، سننے والا کیسے محسوس کر سکتا ہے۔ جو شخص آگ میں جلتا ہے صرف وہی آگ کی تپش محسوس کر سکتا ہے۔ دوسرے دیکھنے والے تو اسے بچانے کی تدابیر کرسکتے ہیں۔ اسے جلتی آگ سے باہر نکال سکتے ہیں، دکھی ہو سکتے ہیں لیکن جلنے کی اذیت، آگ کی تپش نہیں محسوس کر سکتے۔
جسے آگ میں جلنے والا برداشت کرتا ہے۔ ائیر کنڈیشنر گاڑی میں بیٹھ کر کسی مزدور کا دکھ کیسے سمجھا جا سکتا ہے۔ یا پھر آگ برساتے سورج کے نیچے بیٹھ کر سیاہ تارکول کی سڑک بنانے کی خاطر زمین کو ہموار کرنے لئے بڑے بڑے پتھروں کو چھوٹے چھوٹے ٹکروں میں کوٹنے والے مزدوروں کی مجبوری مرسڈیز میں بیٹھ کر سفر کرنے والا کیسے محسوس کر سکتا ہے۔ یا کسی عالیشان بنگلے کے ٹیرس پر کھڑے ہوکر دور نظر آتی آسائشوں سے محروم جھونپڑی میں رہنے والوں کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھنا بہت آسان ہے۔
لیکن جھونپڑی میں رہ کر تکالیف برداشت کرنا اور بات ہے۔ کسی فاقہ زدہ انسان کو کھانا کھلا دینا، فائیو سٹار ہوٹل میں کھانا کھانے کے بعد ویٹر کو ٹِپ دینا، یا کسی شاپنگ مال سے نکلتے ہوئے اپنی طرف بڑھتے کسی بھکاری کی جانب خیرات کے چند سکے اچھال دینابہت آسان ہے۔ ہم کتنے ہی دردِ مند کیوں نہ ہو جایئں، دل میں کتنا ہی نرم گوشہ کیوں نہ رکھتے ہوں، کسی مصیبت میں پھنسے انسان کی تکلیف اس طرح محسوس نہیں کر سکتے جیسے تکلیف میں مبتلا انسان کرتا ہے۔
جیسے کہ کراچی کی فیکٹری میں جل جانے والے 250 افراد جب آگ میں جل کر لقمۂ اجل بن گئے۔ بحثیت قوم تو ہم نے یہ دکھ جھیلا تھا۔ ہر کوئی سوگوار تھا۔ ہر کوئی مجرم کو عبرتناک سزا دینا چاہتا تھا۔ بہت تکلیف ہوئی تھی، قلم تھا کہ لکھنے والوں کا ساتھ چھوڑ گیا تھا، دل تھا کہ غم کی تاب نہ لا تاتھا، ہر آنکھ اشکبار تھی۔ لیکن دکھ کی جس کیفیت میں متاثرہ خاندان مبتلا تھے ہم اس اذیت تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر تھے۔ باتیں، دعوے، تلقین کرنا بہت آسان کام ہے۔
اور سب سے آسان لفظ ”صبر کرو“ کہنا ہے۔ صبر کی بھٹی جس طرح سلگا کر انسان کو راکھ کر دیتی ہے یہ تو وہی انسان جانتا ہے جس پر گزرتی ہے۔ دل میں اٹھتیں درد کی ٹیسوں کو برداشت کرنا آسان نہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اس دنیا میں مجھ سے بڑا دکھی انسان کوئی نہیں۔ اور اتفاق سے ہر شخص کا اپنے بارے یہی خیال ہے۔ دکھ ہے کیا؟ کچھ لوگوں کے دکھ اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ انھیں لگتا ہے کہ وہ دکھوں کا ایک پہاڑ ہیں۔ جس میں سے دکھ کاٹتے جاؤ یہ پھر بڑھتے جایئں گے۔
البتہ دکھوں کی قسمیں الگ الگ ہوتی ہیں۔ لیکن ہر شخص کے لئے اس کے اپنے دکھ ہمالیہ کے پہاڑ اور دوسرے کے دکھ ایک چیونٹی جیسے ہوتے ہیں۔ کسی خاتون کا اس سے بڑا دکھ کیا ہوگا کہ اس کی دوست گل احمد اور بریزے لان کی سیل سے اکٹھے دس جوڑے خرید لائی۔ اور سیل ختم ہونے کو ہے لیکن وہ ابھی تک ایک جوڑا نہیں خرید پائی۔ یا پھر دکھ کی کیفیت کسی اس مرد سے پوچھ کر دیکھیں جس کے پڑوس میں موٹے، گنجے شیخ صاحب کی بیوی اتنی خوبصورت، نازک و دلکش ہے کہ اس موٹے کی قسمت پہ رشک کرتے بیگ صاحب ہمہ وقت اپنی قسمت پر اشک بہاتے رہتے ہیں۔ کہ اس گنجے کو اتنی حسین بیوی مل سکتی ہے تو مجھ میں کیا کمی تھی۔ اور ایسا سوچتے ہوئے وہ اپنی کالی رنگت، پھینی ناک اور باہر کو نکلتی توند کو بالکل فراموش کر دیتے ہیں۔ ساتھ والے حاجی صاحب بھی بڑے دکھی ہیں کہ اُن کی بیوی اُن کا ضرورت سے زیادہ خیال رکھتی ہیں جس کی وجہ سے انھیں گھرواپسی پر اپنے موبائل سے غیر اخلاقی مواد ڈیلیٹ اور اکثر و بیشتر موبائل کوڈ احتیاطی طور پر تبدیل کرنا پڑتا ہے۔
کالج ہاسٹل کے ایک چلبلے نوجوان کا دکھ بھی بہت بڑا ہے کہ اس کے روم میٹ کی ایک ساتھ دس گرل فرینڈ ہیں اور وہ سب پر جان چھڑکتا ہے۔ جبکہ وہ اپنی جان کو کسی حسینہ پر چھڑکنے کے لئے بے تاب ہے لیکن کوئی گرل تو اس کی فرینڈ ریکویسٹ بھی قبول نہیں کرتی۔ جبکہ اس کے جگری یار کا دکھ یہ ہے کہ جس کو کل تک جان جگر کہتا تھا اب وہی جگر بلکہ ”جگری“ جان پہ عذاب بن چکی ہے اور پیچھا نہیں چھوڑ رہی۔ فیکٹری کے ملازم کا دکھ کہ اسے تنخواہ وقت پہ نہیں ملتی۔ اور فیکٹری مالک کا دکھ کہ اسے پچھلے سال سے کم منافع ہوا۔
فلمسٹار میرا کا دکھ کہ اتنی بار شادی کرنے کے بعد بھی وہ ابھی تک غیر شادی شدہ ہیں۔ شہباز شریف صاحب تو دکھوں کے اس قدر اسیر لگتے ہیں کہ شاذ ہی ان کے لب کبھی مسکراہٹ سے آشنا ہوئے ہوں گے۔ اور اب تو پہلے سے بڑا دکھ ان کے ساتھ ہے کہ وہ اب عمران خاں کو وزیرِ اعظم کیسے کہیں گے۔ دکھ تو ریحام خاں کو بھی بہت ہوتا ہوگا جب وہ سوچتی ہوں گی کاش طلاق کی نوبت اتنی جلدی نہ آتی تو آج وہ صاحبِ کتاب ہونے کی بجائے صاحبِ عمرانِ ہوتیں تو خاتونِ اول ہونے کی حیثیت سے شاید ان کا فریج خالی نہ ہوتا۔
مولانا فضل الرحمٰن کے الیکشن ہارنے کے دکھ کیسے چھوٹا سمجھا جا سکتا ہے جبکہ مولانا صاحب تو پوری قوم سے توقع کر رہے ہیں کہ ان کے دکھ کو آئین میں لکھ دیا جائے۔ اور عوام ان کے دکھ کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر انھیں اسمبلی میں لے آئے۔ تو بس ہم سب کے اپنے اپنے دکھ ہیں۔ اور ہر شخص اپنے دکھوں کے ساتھ ہمالیہ کی چوٹی پر کھڑا ہے۔ سب کے اپنے دکھ ہیں۔ اور سب سے بڑے دکھ ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم نے دوسروں کے دکھوں کو محسوس کرنا چھوڑ دیا ہے۔ ہر شخص اپنی ذات میں قید ہو چکا ہے اور اپنی محرومیوں پر شکوہ کناں ہے۔ اسے دوسروں سے سروکار ہے نہ ہمدردی۔ اس تک کسی بھوکے کی فریاد پہنچتی ہے نہ اسے کسی تنگدست کی تنگی سمجھ آتی ہے۔ اس کے تو صرف اپنے دکھ ہیں۔ اور بے تحاشا دکھ ہیں۔


