ننھی شازیہ کی ماں اس کی بات سنتی تو وہ بچ سکتی تھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سپارہ ہاتھوں میں دبائے سر پر پھٹا ہوا دوپٹہ سنبھالے گرمیوں کی دوپہر میں وہ مدرسے کی جانب پسینے پسینے ہوئے رینگ رہی تھی۔ آج بھی اس نے اپنی اماں سے کہا تھا کہ اس کو بخار ہے اور وہ مدرسے نہیں جانا چاہتی تھی مگر اس کی ماں نے جوتی سے اس کو مار کر مدرسے کے لئے گھر سے نکال دیا تھا

سرکاری اسکول میں تیسری جماعت کی ہونہار طالبہ شازیہ مدرسے جاتے ہوئے اس طرح کیوں بلکتی ہے اس کی ماں نے کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہ کی اس کے نزدیک بچے کا باقاعدگی سے درسگاہ جانا اس کی تعلیم کے لئے سب سے ضروری امر تھا اسی وجہ سے اس نے کبھی بھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ اسکول کے لئے وقت سے پہلے تیار ہونے والی بچی کو مدرسے جاتے ہوئے کیوں موت آجاتی تھی

شازیہ جیسے ہی مدرسے میں داخل ہوئی اس کی نظر اس کے قاری پر پڑی جس کو دیکھتے ہی اس کے پیروں میں سے جان نکل گئی اس کو دیکھتے ہی قاری نے جو کہ خود بھی نوجوان ہی تھا شازیہ کو اپنے قریب والی جگہ خالی کر کے اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا

جس پر شازیہ نے ایک کمزور سا احتجاج کیا مگر اس احتجاج کی قاری صاحب کی نظر میں کوئی حیثیت نہ تھی اور اس کو ان کے گھٹنے کے ساتھ جڑ کر بیٹھنا پڑا۔ اس کے بیٹھتے ہی قاری صاحب نے اس کے سر سے لے کر کمر کے نیچے تک ہاتھ پھیرا اور اس کو قاعدہ کھول کر پڑھنے کا اشارہ کیا

اس کم عمری میں بھی قاری کی بدنظری کو محسوس کرتے ہوئے اس نے اپنے جسم کو اپنی پھٹی اوڑھنی سے چھپانے کی کوشش کی مگر پھر بھی اس کو محسوس ہوا کہ قاری کی نظریں اس کے جسم کے لباس سے پار ہو رہی ہیں

اچانک شازیہ بری طرح چونک گئی قاری نے مولا بخش سے اس کی چھاتی کو چھوا اور اس کو بازو سے پکڑ کر اپنی گود میں بٹھاتے ہوئے سبق سنانے کا حکم دیا اس نے خود کو اس کے چنگل سے نکالنے کی کوشش کی مگر اس کی ایک نہ چلی اور وہ قاری کی گود میں اس کی مضبوط بانہوں میں تھی

وہاں بیٹھے باقی بچوں نے جب سر اٹھا کر دیکھنے کی کوشش کی تو قاری نے زور سے چنگھاڑتے ہوئے سب کو ان کی نظریں سپارے تک محدود کرنے کا حکم جاری کیا

اس کے بعد سبق سنتے ہوئے بار بار قاری اس کے جسم کے نازک اعضا کو زور سے پکڑ کر مسلنے کی کوشش کرنے لگا اس کو بہت تکلیف ہوئی مگر قاری کی تیز ہوتی ہوئی سانسوں اور اس کی گردن کے قریب اس کی داڑھی کے بالوں کی چبھن اس کو آواز نکالنے نہیں دے رہی تھی

اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اچانک بڑے قاری صاحب کی آمد کی خبر نے اس کی جان خلاصی کی اور وہ بھاگ کر قاری سے دور جا بیٹھی اور اس کے بعد کا سارا وقت نازک حصوں میں درد کے سبب روتی رہی

گھر واپسی پر ہمیشہ کی طرح اس نے سپارے کو بری طرح پھینکا جس کے سبب روزانہ اس کو یہ سب برداشت کرنا پڑتا تھا جس پر اس کی اماں نے ایک بار پھر اس کی جوتے سے مار لگائی مگر اس کے باوجود وہ خود کو کسی بھی طرح اس کے احترام کے لئے خود کو قائل نہ کر سکی جس کے سبب اس کو یہ سب برداشت کرنا پڑتا تھا

شازیہ نے کئی بار کوشش کی کہ وہ اس سب کے بارے میں اپنی ماں کو بتا دے مگر اس کی ماں اس کی مدرسے کے حوالے سے کوئی بات سننے کو تیار نہ تھی وہ تو محبت اور عقیدت میں اتنی سر شار تھی کہ اس کے نزدیک تو شازیہ کو قاری صاحب کے پیر بھی دھو دھو کے پینے چاہیے تھے جو کہ اس کو قرآن کی تعلیم سے بغیر کوئی معاوضہ لئے فیض یاب کر رہا ہے

اس دن گرمی کچھ زیادہ ہی تھی سب لوگ اپنے گھروں میں دبک کر بیٹھے ہوئے تھے اور شازیہ نے بھی اس شدت کی گرمی کا عذر تراشتے ہوئے مدرسے سے چھٹی کی درخواست کی جس کو اس کی ماں نے مسترد کرتے ہوئے زبردستی اپنا پرانا دوپٹہ اوڑھاتے ہوئے شازیہ کے ہاتھ میں سپارہ تھماتے ہوئے گھر سے نکال کر دروازے کو اندر سے کنڈی لگا دی

شازیہ کافی دیر تک گھر کے دروازے کے پاس ہی سسکتی رہی اور جب ماں کا دل موم نہ ہوا تو مدرسے کی جانب روانہ ہو گئی

شازیہ کی ماں بار بار دروازے کی جانب دیکھ رہی تھی عام طور پر عصر کے وقت تک شازیہ مدرسے سے لوٹ آتی تھی مگر اس دن مغرب کا وقت آنے لگا تھا اور شازیہ کا کچھ اتا پتہ نہیں تھا آخر اس نے اپنا بوسیدہ برقعہ پہنا اور گلی میں شازیہ کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی آچ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ شازیہ کو چار چوٹ کی مار لگائے گی جو گھر آنے کے بجائے کھیل تماشوں میں لگ گئی

گلی میں بچوں سے پوچھا تو انہوں نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا اس کے قرم خود بخود مدرسے کی جانب بڑھ رہے تھے وہاں قاری صاحب سے جب دریافت کیا تو وہ ایک دم چونک گئے اور انہوں نے کہا کہ آج تو گرمی کی وجہ سے کوئی بھی بچہ نہیں آیا تھا

یہ کہہ کر وہ اس کے ساتھ ہی ہو لئے تاکہ شازیہ کو تلاش کر سکیں شازیہ کی ماں ان کی اس مہربانی کے سبب اور زیادہ موم ہو گئی اور ان کی دل سے معتقد ہو گئی جو اپنے سارے کام چھوڑ کر اس کے ساتھ شازیہ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے

مغرب کی نماز کے بعد مسجد میں شازیہ کی گم شدگی کا اعلان بھی کروا دیا گیا اس کی ماں کے دل کو ہول اٹھ رہے تھے برے برے خیالات بار بار اس کے دل میں آ رہے تھے جن کو وہ رد کر رہی تھی

وہ رات اس کی روتے اور جاگتے کٹی مگر شازیہ کا کہیں سے بھی پتہ نہیں چل سکا ایک دو محلے والوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے شازیہ کو مدرسے کی جانب جاتے دیکھا تھا مگر اس کے بعد اس کے ساتھ کیا ہوا کوئی نہیں جانتا تھا

اس ساری تلاش بسیار کو ایک ہفتہ گزر گیا اب تو اس کی ماں کی ساری امیدیں ختم ہوتی جا رہی تھیں۔ اچانک مسجد کے پانی میں پیدا ہونے والی بدبو نے سارے محلے کو پریشان کر دیا کیوں کہ سارا محلہ مسجد کے ٹینک سے پانی بھرتا تھا

علاقے کے معززین نے مسجد کے ٹینک کی صفائی کا ذمہ اٹھایا اور جب ٹنکی کھولی تو سامنے ہی شازیہ کی پھولی ہوئی لاش کوئی اور ہی کہانی سنا رہی تھی۔ اس کی لاش کو اگرچے پانی نے بری طرح خراب کر دیا تھا مگر اس کے باوجود اس کے جسم پر موجود زخموں کے نشانات جو کہانی بیان کر رہے تھے وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہ تھے

زیادتی کے بعد گلا گھونٹ کر معصوم شازیہ کا اس کے ہی دوپٹے سے گلا گھونٹ کر مار دینے والا بھیڑیا کون تھا اس کا نام لیتے ہوئے بھی شازیہ کے ماں باپ گھبرا رہے تھے۔ کچھ ان کے راستے کی رکاوٹ اس کی غریبی بھی تھی اور وہ خود کو تھانے کچہریوں کے چکروں سے بچانا چاہتے تھے اس لئے انہوں نے خاموشی کے ساتھ شازیہ کی لاش کو دفن کر دیا۔

معصوم شازیہ اور اس جیسی بہت ساری بچیاں بچ سکتی ہیں اگر ان کی مائیں ان کی ان کہی کو سمجھنے کے قابل ہو سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
امبرین سیٹھی کی دیگر تحریریں
امبرین سیٹھی کی دیگر تحریریں