ننھی شازیہ کی ماں اس کی بات سنتی تو وہ بچ سکتی تھی
سپارہ ہاتھوں میں دبائے سر پر پھٹا ہوا دوپٹہ سنبھالے گرمیوں کی دوپہر میں وہ مدرسے کی جانب پسینے پسینے ہوئے رینگ رہی تھی۔ آج بھی اس نے اپنی اماں سے کہا تھا کہ اس کو بخار ہے اور وہ مدرسے نہیں جانا چاہتی تھی مگر اس کی ماں نے جوتی سے اس کو مار کر مدرسے کے لئے گھر سے نکال دیا تھا۔
سرکاری اسکول میں تیسری جماعت کی ہونہار طالبہ شازیہ مدرسے جاتے ہوئے اس طرح کیوں بلکتی ہے اس کی ماں نے کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہ کی اس کے نزدیک بچے کا باقاعدگی سے درسگاہ جانا اس کی تعلیم کے لئے سب سے ضروری امر تھا اسی وجہ سے اس نے کبھی بھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ اسکول کے لئے وقت سے پہلے تیار ہونے والی بچی کو مدرسے جاتے ہوئے کیوں موت آجاتی تھی۔
Read more

